Revision 24193 of "وکشنری:Request an account" on pnbwiktionaryجوئیہ راجپوت : جوئیہ خاندان قبیلہ کے معروف سردار لونے خان اور اس کے دو بھائی بر اور وسیل اپنے ہزاروں اہل قبیلہ کے ساتھ 635ھ کے قریب بابا فرید رحمۃ اللہ کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوئے. بابا فرید نے لونے خان کو دعا دی، تو 12 فرزند ہوے اس کا بڑا بیٹا لکھو خاں سردار بنا، بیکانیر میں رنگ محل کا قلعہ بنوایا بیکانیر میں قصبہ لکھویرا بھی اسی کے نام سے منسوب ہے. اس کی اولاد کو لکھویرا کہا جاتا ہے جو ضلع بہاولنگر اور پاکپتن میں آباد ہیں. بعض جوئیے اپنے قبیلے کو عربی النسل کہتے ہیں مگر اصل میں جوئیہ قوم ہند کی ایک قدیم قوم ہے. ٹاڈ کے مطابق جوئیہ قوم سری کرشن جی کی اولاد ہے یہ قوم پہلے بھٹنیر، ناگور اور ہریانہ کے علاقہ میں حکمران تھی اب بھی بھی یہ قوم راجپوتانہ میں اور اس کے ملحقہ علاقے میں کافی تعداد میں آباد ہے. قیام پاکستان کے بعد یہ قبیلہ بیکانیر سے ہجرت کر کے زیادہ تر ریاست بہاولپور اور ضلع ساہیوال، عارف والا، پاکپتن میں آباد ہو گیا. ساتویں صدی ہجری میں جوئیوں کی بھٹی راجپوتوں سے بے شمار لڑائیاں ہوئیں، دسویں صدی ہجری میں راجپوتانہ کے جاٹ اور گدارے جوئیوں کے خلاف متحد ہو گئے ان لڑائیوں سے تنگ آکر دریائے گھاگرہ کے خشک ہونے کی بنا پر جوئیہ سردار نے دسویں صدی ہجری میں اپنے آبائی شہر رنگ محل کو خیر باد کہا اور دریائے ستلج کے گردونواح ایک نیا شہر سلیم گڑھ آباد کیا زبانی روایات کے مطابق سلیم گڑھ کا ابتدائی نام شہر فرید تھا. بعد میں نواب صادق محمد خان اول نے لکھویروں کے محاصل ادا نہ کرنے کی وجہ سے نواب فرید خان دوم اور ان کے بھائی معروف خان اور علی خان کے ساتھ جنگ کی. جس کی بنا پر جنوب میں بیکانیر کی سرحد تک اور شمال میں پاکپتن کی جاگیر تک نواب صادق محمد خان کا قبضہ ہو گیا، اور لکھویرا کی ریاست بہاولپور کی ریاست میں مدغم ہو گی. تاہم بعد ازیں شاہان عباسی نے لکھویروں کی ذاتی جاگیریں بحال کر دیں اور انہیں درباری اعزازات بھی دئیے. جنرل بخت خان جنگ (آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا سپہ سالار) بھی جوئیہ تھا یہ کوروپانڈوؤں کی نسل سے خیال کیے جاتے ہیں. راجپوتوں کے 36 شاہی خاندانوں میں شامل ہیں. ایک روایت کے مطابق راجہ پورس جس نے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا، جوئیہ راجپوت تھا. ملتان بار اور جنگل کے بادشاہ مشہور تھے. چونکہ سرسبز گھاس والے میدان کو جوہ کہا جاتا ہے. اسی جوہ کے مالک ہونے کی وجہ سے یہ جوھیہ اور جوئیہ مشہور ہوئے جو بابا فرید رحمۃ اللہ کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوئے. سندھ میں اس قوم کو جویو کہا جاتا ہے قدیم پنجاب میں یہ قوم اکثریت میں آباد ہے ملتان, مظفر گڑھ,ڈیرہ غازی خان, وہاڑی,بہاولپور,بہاولنگر,جھنگ,سرگودھا,شاہپور, میانوالی,بھکر,خوشاب,سیالکوٹ,گجرانوالہ,گجرات, نارووال,حافظ آباد, شخوپورہ ,قصور,لیہ,راجن پور,اوکاڑہ,پاکپتن,ساہیوال ,لاہور کے دیہاتی علاقوں وغیرہ میں اکثریت میں آباد ہے اور اس کے علاوہ بیکانیر راجھستان میں ان کے چھ سو دیہات آباد تھے اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں کافی تعداد میں آباد ہےہندوستان میں یہ لوگ حکومتی مملات میں عمل داخل رکھتے تھے اس کے علاوہ بلوچستان میں بھی یہ قوم اکثریت میں آباد ہے جوئیہ قوم کی آبادیاں: ضلع سرگودھا میں ٹھٹھ جوئیہ,چک155جوئیہ والا ضلع جھنگ میں جوئیہ آباد,چک نمبر164جوئیاں والا ضلع خوشاب میں جوئیہ, جوئیہ ٹاون,جوئیہ گوٹھ احمدیہ,شیرگڑھ جوئیہ ضلع سیالکوٹ میں جوئیاں والا ضلع نارووال کوٹلی جوئیاں ضلع بھکر چاہ جوئیاں والا,موضع جوئیہ ضلع میانوالی پھاتھی جوئیاں والی ضلع مظفر گڑھ موضع یارا جوئیہ ضلع لیہ بستی جوئیہ ضلع شخوپورہ جوئیاں والا ضلع گجرنوالہ موضع جوئیہ لاہور پتی جوئیاں ضلع قصور موضع جوئیہ,ہٹھا جوئیہ تحصیل دنیاپور دین جوئیہ نامی نے آباد کیا All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://pnb.wiktionary.org/w/index.php?oldid=24193.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|