Difference between revisions 1154519 and 1733789 on urwiki

{{حوالہ دیں|}}
18 [[ذوالحجہ]]   کو حجۃ الوداع سے واپسی پر [[محمد]] صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک چشمہ خم کے مقام پر [[صحابہ]] سے خطاب فرمایا۔ اس موقعہ پر قران کریم سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی:
{{اقتباس|يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ}}

اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ نے تمام ساتھ چلنے والوں کو روکا، جو آگے تھے ان کو واپس بلایا اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے آگے آنے کا انتظار کیا۔اس خطبہ کو خطبہ غدیر کہتے ہیں۔

== خطبہ==

{{خالی قطعہ|}}