Difference between revisions 1366951 and 1366952 on urwiki

=حافظ عبدالرحیم صاحب شہیدؒ=
افغانستان پر امریکی جارحیت اسلامی دنیا پر   مغرب کی تیسری جارحیت ہے۔ یہ جارحیت گذشتہ دور کی جارحیت کے مقابلے میں ایک بڑی جارحیت تھی۔ اس سے قبل دنیا کے کسی ملک نے دوسرے ملک کے خلاف جنگجوّوں کی اتنی بڑی اتحاد قائم نہیں کی۔ اس سے قبل جنگجوّوں کی سب سے بڑی اتحاد پہلی جنگ عظیم کے دوران قائم ہوئی تھی جس میں کُل تیس ممالک شامل تھے۔ لیکن افغانستان پر جارحیت کرنے والے ممالک کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔ جبکہ کئی ممالک کی انٹیلی جنس سپورٹ،مالی اور سیاسی تعاون اس کے علاوہ ہیں۔<ref>http://(contracted; show full)س راہ میں ا ن کے راہی بنے اور اب دونوں موٹر سائیکل پر مسلح گشت کرتے رہتے۔ دن پہاڑوں اور کھنڈرات پر گذارتے اور رات کو لوگوں کو جہاد کی   دعوت دیتے اور جہاد کیلئے اسلحہ تلاش کرتے رہے اور کئی ماہ تک آپ نے خفیہ طور پر یہ مشن جاری رکھا ۔ حافظ صاحب کے فرزند مولوی حمداللہ کہتے ہیں کہ اس وقت میرے والد مہینے میں صرف ایک دن گھر تشریف لاتے۔ آدھی رات کو گھر آتے اور پھر صبح خفیہ طور پر گھر سے نکل جاتے۔ کیونکہ اس وقت حالات بہت خراب   تھے جبکہ امریکی اور ان کے کاسہ لیس اہلکار بھی حافظ صاحب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوئے تھے۔

===ہڈہ پہاڑ میں جہادی مرکز===
حافظ عبدالرحیم صاحب امریکی جارحیت کے ابتدائی مہینوں میں دعوت جہاد میں مصروف تھے، ساتھیوں کے لئےاسلحہ اور جنگی وسائل کا بھی بندوبست کرتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے مجاہدین کی ایک چھوٹی جماعت تیار کرلی، جس میں اس وقت کے مشہور اور بہادر مجاہد شہید عبدالغنی جو تور غنی کے نام سے مشہور تھے بھی شامل تھے۔ اس وقت حافظ صاحب نے ایک جہادی مرکز بنانے کا ارادہ کرلیا۔
====حافظ صاحب کی مالی قربانیاں====
چونکہ حافظ صاحب کے ساتھ پیسوں اور دوسرے مالی وسائل کی شدید کمی تھی اس لئے [[۱۴۲۳ھ]] شعبان کے مہینے میں اپنے گھر کے بستر،برتن اور دوسرا ضروری سامان اٹھا کر ضلع بولدک   سے ملحقہ ہڈہ پہاڑ کے علاقے میں ایک خفیہ   جہادی مرکز بنایا۔ اس جہادی مرکز میں شروع میں حافظ صاحب کی قیادت میں صرف پانچ مجاہدین رہائش پذیر تھے۔ 
====پانی کی قلت====
پہاڑی اور بنجر زمین ہونے کے ناطے یہاں پانی ناپید تھا اور مجاہدین اس پانی سے استفادہ کرتے جو پچھلی بارشوں کی وجہ سے جوہڑوں میں جمع ہوتا تھا چونکہ یہ پانی پینے کے قابل نہیں تھا صرف وضو، برتن اورکپڑے وغیرہ دھونے کے کام آتا تھا اس لئے مجاہدین نے ایک مخلص شخص کو اجرت پر پانی لانے کیلئے راضی کیا جو ہر چار دن بعد ماشینگزو کے علاقے سے گدھوں پر پانی لادتا اور مجاہدین تک پہنچاتا۔
===امریکیوں کیخلاف جہاد کی تیاری===
اس مرکز سے حافظ صاحب نے سب سے پہلے اپنی جدوجہد کا آغاز اس طرح کیا کہ   رات کو اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ میدانی علاقوں میں آباد مختلف گاؤں میں گشت کیلئے نکل جاتے۔ جن لوگوں کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں انہیں گھر سے باہر بلا کر اپنا کام چھوڑنے اور توبہ کرنے کی تلقین کرتے۔ جس میں انہیں کافی حد تک کامیابی ملی۔
===مساجد میں جہاد کی دعوت===
 ماہ رمضان میں مساجد میں تراویح کے کے بعد لوگوں کو دعوت جہاد دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ کفار نے ہمارے ملک پر جارحیت کی ہے اس کے خلاف جہاد ہم سب پر فرض ہے۔ انہیں بتاتے کہ کفار کا ساتھ دینے کیلئے   ان کی صفوں میں شامل نہیں ہونا۔ اس وقت حافظ صاحب کے ساتھیوں کی تعداد 20 تک پہنچ چکی تھی جو رات کو گھر گھر جاتے ،لوگوں جہاد کی دعوت اور کفار کا ساتھ دینے سے منع کرتے اور رات کے آخری پہر واپس اپنے جہادی مرکز ہڈہ پہاڑ پہنچ جاتے۔