Difference between revisions 1367034 and 1367038 on urwiki

=حافظ عبدالرحیم صاحب شہیدؒ=
[[File:حافظ عبدالرحیم شہید.jpg|thumb|حافظ عبدالرحیم شہیدؒ<br />
جہاد افغانستان کے نامور کمانڈر]]
افغانستان پر امریکی جارحیت اسلامی دنیا پر   مغرب کی تیسری جارحیت ہے۔ یہ جارحیت گذشتہ دور کی جارحیت کے مقابلے میں ایک بڑی جارحیت تھی۔ اس سے قبل دنیا کے کسی ملک نے دوسرے ملک کے خلاف جنگجوّوں کی اتنی بڑی اتحاد قائم نہیں کی۔ اس سے قبل جنگجوّوں کی سب سے بڑی اتحاد [[پہلی جنگ عظیم]] کے دوران قائم ہوئی تھی جس میں کُل تیس ممالک شامل تھے۔ لیکن افغانستان پر جارحیت کرنے والے ممالک کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔ جبکہ کئی ممالک کی انٹیلی جنس سپورٹ،مالی اور سیاسی تعاون اس کے علاوہ ہیں۔<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=99</ref>

=تعارف=
===پیدائش===
حافظ عبدالرحیم نے 1951 کو صوبہ [[قندھار]] کے ضلع بولدک کے علاقے ماشینگزو   میں نصیرالدین آکا کے گھر میں آنکھ کھولی۔ <ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
===خاندان===
آپ کا تعلق [[پشتون]] قبیلے کی ذیلی شاخ نورزئی سے تھا۔آپ کاخاندان ایک دیندار خاندان تھا ۔ جب آپ کی عمر آٹھ سال تھی تو [[والدہ]] کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ دس سال کی عمر میں [[والد]] کی نعمت سے بھی محروم ہوئے اس طرح آپ بچپن میں ہی [[والدین]] کے [[پیار]] اور   [[شفقت]] سے رہے ۔<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
===تعلیم و تربیت===
حافظ عبدالرحیم نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کی [[مسجد]] میں حاصل کی۔ دس سال کی عمر میں [[قندھار]] شہر میں ہرات بازار کے دھنی نامی علاقے میں ایک مدرس امام مسجد سے دینی کتب کی تعلیم کے سلسلے کا آغاز کیا۔ دو سال بعد [[پاکستان]] کے سرحدی شہر [[چمن]]   میں قاری محمد   ولی صاحب کے مدرسے میں حفظ [[قرآن]] کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد [[پاکستان]] کے مشہور شہر [[کوئٹہ]] میں مدرسہ مظہرالعلوم '''[ جو   اب شالدرہ مدرسے کے نام سے مشہور ہے]''' میں حفظ [[قرآن]] کا سلسہ جاری رکھا ۔
قرآن کریم کی حفظ کے بعد حافظ صاحب [[قندھار]] آئے اور دینی تعلیم کے حصول کیلئے یہاں” لوویالے ” کے علاقے میں مولوی عبدالغفور صاحب کے مدرسے میں داخلہ لیا۔ ایک سال تک اس مدرسے میں حصول علم کے بعد [[پاکستان]] کارخ کیا اورمختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتے رہے ۔ [[1984ء]] میں آپ نے [[کستان]] کے شہر [[صوابی]] میں شیخ التفسیر مولانا عبدالہادی صاحب [“جو شاہ منصوربابا جی صاحب کے نام سے مشہور تھے“ ] سے قرآن کریم کی تفسیر پڑھی۔<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
===کمیونسٹ دورجہاد اور تکمیل تعلیم===
کمیونسٹ دور حکومت میں حافظ صاحب [[جلال آباد]] اور کابل کے راستے کندھار پہنچے۔ ملک کے کئی علاقوں کا سفر کیا تاکہ حالات کا جائزہ لیں۔ اس سفر کے بعد جہادی صف میں شامل ہوئے اور پہلی مرتبہ سرحدی علاقے   بادینی سے مجاہدین کے مراکز سے جہاد کا آغاز کیا۔
جہادی صف میں کچھ عرصہ گذارنے کے بعد اپنی دینی تعلیم مکمل کرنے کے سلسلے میں کراچی   تشریف لے گئے۔ وہاں کراچی شہر کے مشہور مدرسے جامعۃ الاسلامیہ بنوری ٹاوّن کراچی میں داخلہ لیااور [[1401ھ]] میں اسی مدرسے سے دورہ حدیث مکمل کرکے سند فراغت حاصل کی۔
=جبہہ فاروقیہ=
دینی علوم سے فارغ ہونے کے بعد   حافظ عبدالرحیم جہادی قافلے میں شامل ہوئے۔ حرکت انقلاب اسلامی تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور اس تنظیم کی تشکیلات میں [[قندھار]] کے سرحدی ضلع بولدک میں جبہہ فاروقیہ کے نام سے ایک   جہادی جبہے کی بنیاد رکھی۔ اس جبہے کی تاسیس اور اس میں موجود سینکڑوں   مجاہدین کی قیادت کی ذمہ داری بھی حافظ صاحب کے کندھوں پر تھی۔ اس جبہے کا مرکز [[قندھار]] کے ضلع بولدک جبکہ اس جبہے کے مجاہدین [[قندھار]] کے ضلع تختہ پل میں کارروائیوں میں مصروف عمل تھے۔
ضلع بولدک   کی فتح میں حافظ صاحب نے اہم کردار ادا کیا یہ ضلع ڈاکٹر نجیب کی [[حکومت]] سے تین سال قبل فتح کیا گیا تھا۔ اس کامیاب کارروائی میں حافظ صاحب وہ پہلے شخص تھے جو [[کمیونسٹ]] مرکز کے اندر داخل ہوئے۔ بولدک کی فتح کے بعد حافظ صاحب کے جبہے کے مجاہدین نے تختہ پل اور کندھار کے نواحی علاقوں کے جہادی محاذوں کا رخ کیا اور اس وقت تک مزاحمت کرتے رہے جب تک [[قندھار]] شہر کو کمیونسٹ درندوں کے ناپاک چنگل سے آزادی نہیں ملی۔<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
===کمیونزم کیخلاف جہاد میں زخمی ہونا===
کمیونزم کے خلاف جہاد میں بھی حافظ صاحب کا کردار قابل تعریف رہاہے ، کمیونزم کے خلاف جہاد میں آپ کئی مرتبہ زخمی بھی ہوئے   جس کا   ذکر انہوں نے ایک انٹرویو میں بھی کیا ہے ان کا کہنا تھا:<br />
“ایک مرتبہ   میں روس کے خلاف جہاد میں [[سپین بولدک]] کے علاقے “ونکی ” میں   زخمی ہوا۔ دوسری مرتبہ روسی کاسہ لیسوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہینڈ گرنیڈ کے حملے میں زخمی ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نےدوبارہ صحت کی نعمت سے نوازا، اسی طرح سپین بولدک کی لڑائی جو نہایت ہی خونریز لڑائی تھی جب کمیونسٹ طیارے بارش کی طرح بم برسارہے تھے اس دوران بھی میں زخمی ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی حفاظت فرمائی۔
===مدرسے کا قیام===
مجاہدین کی کامیابی کے بعد حافظ صاحب کچھ عرصہ [[قندھار]] میں رہے لیکن جب تنظیمی فسادات سر اٹھانے لگے آپ نے [[قندھار]] شہر کو خیرباد کہا۔ اور اس شہر اور بولدک کے درمیان”وت” نامی علاقے میں جامعۃ الاسلامیہ العربیہ کے نام سے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی اور امارت اسلامی کی تاسیس تک اس مدرسے میں خدمات انجام دیتے رہے۔
=امارت اسلامی میں شمولیت=
تنظیمی اختلافات کے عروج کے دوران جب کندھار   اضلاع ژڑئ اور میوند میں ملا [[محمد عمر]] مجاہد کی قیادت میں سابق مجاہدین اور طالبان نے اصلاحی تحریک کا آغازکیا اس وقت بولدک میں بھی بہت سے علماء اور مجاہدین باہم صلاح اور مشوروں میں مصروف تھے۔ جن میں حافظ عبدالرحیم کا کردار نمایاں تھا۔ جب انہیں پتہ چلا کہ میوند اور ژڑئ میں بھی اس قسم کی تحریک کا آغاز ہوچکا ہے تو آپ ، مولوی عبدلشکور صاحب، شہید ملا محمد عوض اور شہید قاری عبدالسلام صاحب کے     ہمراہ ضلع ڈنڈ پہنچے اور ملا محمد عمر مجاہد سے ملاقات کے بعد اپنے تمام ساتھیوں سمیت طالبان کی اسلامی تحریک میں شامل ہوئے۔<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
===عسکری سرگرمیاں===
اس کے بعد حافظ صاحب نے اس تحریک کےفعال اور انتھک رکن کی حیثیت سے بہت سی خدمات انجام دیں۔ [[قندھار]]کی فتح کے بعد   روزگان کے مرکز [[ترین کوٹ]] کی فتح میں وہ ایک   رہنما اور قائد کے طو ر پر حصہ لے رہے تھے۔ اور جب اسلامی تحریک کا قافلہ کندھار سے زابل کی طرف روانہ ہوا غزنی اور میدان شہر فتح ہوا یہاں تک کہ مجاہدین کا قافلہ کابل تک پہنچ گیا حافظ صاحب بھی اس قافلے میں شامل تھے۔ اور پھر میدان شہر میں قیام کے بعد یہاں قائم جنگی   پٹی کے عمومی مسئول شہید ملا مشر اخوند کی جانب سے آپ کو جنگی پٹی کے ایک حصے کی مسئولیت دے دی گئی۔
[[میدان شہر]] میں خدمات کی انجام دہی کے بعد آپ کو ضلع روزگان کا آئی جی مقرر کر دیا گیا دو سال تک آپ اسی منصب پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد صوبہ [[زابل]] کے نائب گورنر مقرر کئے گئے اور افغانستان پر امریکا کی جارحیت تک اسی منصب   پرخدمات کی انجام دہی میں مصروف عمل تھے۔<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>

==امریکا کے خلاف جہادی کاروائیوں کا آغاز==
حافظ عبدالرحیم صاحب کندھار کی سطح پر امریکا کے خلاف لڑنے والے سرکردہ مجاہدین میں سے ہیں۔ امارت اسلامی کی سقوط کے بعد مجاہدین   نہایت مشکلات کا شکار تھے۔ امریکا کی بربریت اور ملکی سطح پر حالات کی دگرگوں صورتحال نے مجاہدین کو اسلحہ رکھنے   اور کچھ عرصہ کیلئے گوشہ نشینی پر مجبور کیا۔<br />

(contracted; show full)فظ صاحب گھر تشریف لائے۔چونکہ وہ امریکا کے خلاف جہادی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ اس لئے امریکی کاسہ لیسوں نے ان کی گھر میں موجودگی کی اطلاع پاکر ان کے گھر   پر چھاپہ مارا تاکہ وہ انہیں گرفتار کرسکے لیکن اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت سے وہ ان ظالموں کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنا گھر بولدک کے علاقے” وت” سے لوئی کاریز کے علاقے منتقل کرلیا۔ [[عید الفطر]] کے چھٹے روز میں ان کے گھر گیا، حافظ صاحب نے   مجھ سے کہا کہ امریکا کے خلاف جہاد کرنا ہے اگر آپ کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہے تو وہ مجھے دے دو۔
<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
==مولوی عبدالباقی کی زبانی==
         مولوی عبدالباقی صاحب کہتے ہیں :کہ آغاز جہاد میں حافظ صاحب اکیلے تھے۔ رات کو خفیہ طور پر لوگوں کو جہاد کی دعوت دیتے بعد میں ان کے ایک چچا زاد بھائی ملا عبدالباری نے بھی ان کا ساتھ دیا اور اس راہ میں ا ن کے راہی بنے اور اب دونوں موٹر سائیکل پر مسلح گشت کرتے رہتے۔ دن پہاڑوں اور کھنڈرات پر گذارتے اور رات کو لوگوں کو جہاد کی   دعوت دیتے اور جہاد کیلئے اسلحہ تلاش کرتے رہے اور کئی ماہ تک آپ نے خفیہ طور پر یہ مشن جاری رکھا ۔ حافظ صاحب کے فرزند مولوی حمداللہ کہتے ہیں کہ اس وقت (contracted; show full)
===مساجد میں جہاد کی دعوت===
 ماہ رمضان میں مساجد میں تراویح کے کے بعد لوگوں کو دعوت جہاد دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ کفار نے ہمارے ملک پر جارحیت کی ہے اس کے خلاف جہاد ہم سب پر فرض ہے۔ انہیں بتاتے کہ کفار کا ساتھ دینے کیلئے   ان کی صفوں میں شامل نہیں ہونا۔ اس وقت حافظ صاحب کے ساتھیوں کی تعداد 20 تک پہنچ چکی تھی جو رات کو گھر گھر جاتے ،لوگوں جہاد کی دعوت اور کفار کا ساتھ دینے سے منع کرتے اور رات کے آخری پہر واپس اپنے جہادی مرکز ہڈہ پہاڑ پہنچ جاتے۔
<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>


==دعوت جہاد سے   عملی جہاد کا سفر==
===قومی جرگہ سے دعوت جہاد===
۴ ذوالقعدہ ۱۴۲۳ھ کو بولدک کے علاقے سیبت میں ایک بڑا قومی جرگہ جاری تھا۔ جب حافظ صاحب کو پتہ چلا تو انہوں جہادی دعوت کیلئے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنے 25 مسلح ساتھیوں سمیت وہاں پہنچ گئے اور اس جرگے سے جہاد کے موضوع پر ایک پر جوش تقریر کی اور لوگوں   کوامریکا کے خلاف جہاد میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
===امریکیوں کیخلاف پہلی کاروائی===
(contracted; show full)
===افغان میڈیا کا پروپیگنڈہ===
 اس جنگ کے دوران صرف ایک مجاہد زخمی ہوااس کے علاوہ کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن اس وقت کے بولدک کے گورنر اور امریکی کٹھ پتلی فضل الدین نے میڈیا پر جھوٹا بیان دیا کہ انہوں نے ہڈہ پہاڑ کی لڑائی میں 25 مجاہدین کو شہید کیا ہے حالانکہ وہاں موجود تمام مجاہدین کی تعداد صرف 18 تھی۔
<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
===امریکی حواس باختہ===
ہڈہ پہاڑ کے معرکے کے بعد حافظ عبدالرحیم صاحب نے ایک مرتبہ پھر اپنے ساتھیوں کو   اکھٹا کیا اور[[قندھار]] کے ضلع بولدک کے نواحی علاقوں میں جہادی   کارروائیوں کا آغاز کیا۔ 29 محرم 1424ھ کو حافظ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے بولدک کے علاقے ملاولی نیکہ میں ملکی کٹھ پتلیوں پر حملہ کیا جس میں کئی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد مجاہدین [[تور غر]] نامی علاقے کی طرف گئے۔ وہاں امریکی اور ملکی کاسہ لیسوں کے تقریباً 70 ٹینکوں او ر فوجی گاڑیوں کا قافلہ ان کے تعاقب میں تور غر روانہ   ہوا۔
(contracted; show full)
====شہادت====
 ۱۶ شعبان ۱۴۲۴ھ کو انہوں ضلع معروف کے مرکزی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔ مرکز کے حفاظتی چوکیوں پر قبضہ کیا لیکن ہیڈ کوارٹرکے بالکل قریب   دشمن کی طرف سے فائر کی گئی گولی ان کی شہادت کا پیغام لے کر آئی۔ اس مرتبہ بھی گولی ان کے سینے میں لگی اور کچھ لمحے بعد وہ   شہادت کے بلند مقام پر فائز ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
===مجہدین کے جسد خاکی===
حافظ صاحب اور تین شہداء کے جسد خاکی جنگ کے میدان میں رہ گئے۔ واقعے کے ایک دن کے بعد محلے کے بزرگوں   نے حافظ صاحب کو اسی علاقے میں ہی سپرد خاک کیا۔ لیکن جب امریکی وحشیوں اور ان کے زرخرید غلاموں کو   پتہ   چلا تو انہوں نے دو دن کے بعد حافظ صاحب کا جسد خاکی نکال کر قندھار شہر لایا اور پھر ایک دن کے بعد حافظ صاحب کی جسد کے ان کے ورثاء کے   حوالے کی گئی۔ جنہوں نے بعد میں انہیں   ضلع بولدک علاقے پاِیزو میں ماشینگزو قبرستان میں سپرد خاک کیا ۔
====اللہ کی راہ میں خر چ کرنے کا جذبہ====
جہاد کی راہ میں یہاں تک قربانی کیلئے تیار ہوتے کہ اگر کبھی جہادی ضروریات کیلئے سامان کی خریداری کامعاملہ ہوتا تو گھر کا سامان بیچ کر جہاد کی ضروریات رفع کرتے۔ آپ کے ایک مجاہد ساتھی کے مطابق کہ امریکی جارحیت کے پہلے سالوں میں حافظ صاحب نے کہا کہ زمین بیچنے کیلئے کوئی گاہک   تلاش کرو تاکہ ان   پیسوں   سے ساتھیوں کیلئے جہادی ضرورت کا سامان خرید سکوں۔<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=1468</ref>
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]