Difference between revisions 1462833 and 1662757 on urwiki

{{حوالہ دیں}}
اہل تشیع یا شیعہ

 (عربی: شيعة) اہل سنت کے بعد مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی کی امامت کا قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ کا جانشین مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع پہلے تین خلفاء کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ نے دعوت ذوالعشیرہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضرت علی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "جو میری مدد کرے گا وہ میرا وزیر میرا وصی اور خلیفہ ہوگا"۔ تینوں دفعہ امام علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور کہا کہ اگرچہ میں چھوٹا ہوں اور میری ٹانگیں کمزور ہیں مگر میں آپ کی مدد کروں گا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ "اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے وزیر اور وصی ہو"۔ اس کے علاوہ حضور   نے حجۃ الوداع کے بعد غدیر خم کے علاقے میں ایک خطبہ میں فرمایا کہ "جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔

شیعہ کا لفظی مفہوم

عربی زبان میں شیعہ کا لفظ دو معنی رکھتا ہے۔ پہلا کسی بات پر متفق ہونا اور دوسرا کسی شخص کا ساتھ دینا یا اس کی پیروی کرنا۔ قرآن میں کئی جگوں پر یہ لفظ اس طرح سے آیا ہے جیسے سورہ قصص کی آیت 15 میں حضرت موسی کے پیروان کو شیعہ موسی کہا گیا ہے اور دو اور جگہوں پر ابراہیم کو شیعہ نوح کہا گیا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں شیعہ کا لفظ کسی شخص کے پیروان کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے اختلافات کے زمانے میں ان کے حامیوں کو بالترتیب شیعان علی ابن ابو طالب اور شیعان معاویہ بن ابو سفیان کہا جاتا تھا۔ صرف لفظ شیعہ اگر بغیر تخصیص کے استعمال کیا جائے تو مراد شیعانِ علی ابن ابو طالب ہوتی ہے، وہ گروہ جو اس اختلاف میں حضرت علی ابن ابی طالب کا حامی تھا اور جو ان کی امامت کا عقیدہ رکھتا ہے۔
اہل تشیع کا تاریخی پہلو

شیعہ عقائد کے مطابق شیعیت کا آغاز پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور حیات میں اس وقت ہوا جب پہلی بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیہ [اولئک هم خیر البریه] کے تفسیر میں علی سے خطاب کرکے کہا "تو اور ترے شیعان قیامت کے دن سرخرو ہونگے اور خدا بھی تو اور تیرے شیعوں سے راضی ہوگا۔ اس وقت صحابہ میں سے چار لوگوں کو حضرت علی کا شیعہ کہا جاتا تھا: سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر[حوالہ درکار]
اہلسنت سے اختلاف

اہل تشیع کے اہل سنت سے اختلافات ہیں جن میں سے چند قابل ذکر ہیں۔

     1)   امامت
       2) عدل

امامت
 عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معانی راہنما یا سالار کے ہیں جو کسی بھی جماعت کی ‍قیادت کرے۔
روز مرّہ میں یہ لفظ مسجدوں میں نماز کی قیادت کرنے والے حضرات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کسی بھی فقہ کے بانی یا کسی بھی مذہبی و دیگر سوچ کے بانی کے لیے ان کے پیروکاروں کی طرف سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

عدل
عدل سے مراد کسی شئے کو اس کے اصل مقام پر رکھ دینا ہے۔ عدل کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے۔ یعنی حق دار کو اس کا حق دینا عدل ہے، حق چھین لینا عدل نہیں ہے، ظلم ہے۔
(contracted; show full)ب سب سے زیادہ ہے۔ اثنا عشریہ کی اصطلاح بارہ آئمہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد اور داماد علی علیہ السلام سے شروع ہوتا۔ یہ خلافت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین امام علی علیہ السلام ہیں اور کل بارہ امام ہیں جن کا تذکرہ احدیث میں آتا ہے۔ کم و بیش تمام مسلمان ان آئمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان آئمہ پر اعتقاد کے معاملہ خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ ان بارہ آئمہ کے نام یہ ہیں:


     1) حضرت امام علی علیہ السلام
       2) حضرت امام حسن علیہ السلام
       3) حضرت امام حسین علیہ السلام
       4) حضرت امام زین العابدین علیہ السلام
       5) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام
       6) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
       7) حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
       8) حضرت امام علی رضا علیہ السلام
       9) حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
       10) حضرت امام علی نقی علیہ السلام
       11) حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
       12) حضرت امام مھدی علیہ السلام

1) حضرت امام علی بن ابی طالب علیہ السلام
حضرت علی علیہ السلام (599ء (24 ق‌ھ) – 661ء (40ھ) ) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔
[1] حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آۓ اور وہیں پرورش پائی ۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا ۔ آپ کی عمر اس وقت تقریبا دس یا گیارہ سال تھی

فاطمہ سلام اللہ علیھا اور علی علیہ السلام کی زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی مرد اور عورت اپس میں کس طرح ایک دوسرے کے شریک ُ حیات ثابت ہوسکتے ہیں۔ اپس میں کس طرح تقسیم عمل ہونا چاہیے اور کیوں کر دونوں کی زندگی ایک دوسے کے لیے مددگار ہوسکتی ہے، وہ گھر دنیا کی ارائشوں سے دور , راحت طلبی اور تن اسانی سے بالکل علیحدہ تھا , محنت اور مشقت کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان اور اپس کی محبت واعتماد کے لحاظ سے ایک جنت بناہوا تھا، جہاں سے علی علیہ السلام صبح کو مشکیزہ لے کر جاتے تھے اوریہودیوں کے باغ میں پانی دیتے تھے اورجو کچھ مزدوری ملتی تھی اسے لا کر گھر پر دیتے تھے .بازار سے جو خرید کر فاطمہ سلام اللہ علیھا کو دیتے تھے اور فاطمہ سلام اللہ علیھا چکی پیستی , کھانا پکاتی اور گھر میں جھاڑو دیتی تھیں , فرصت کے اوقات میں چرخہ چلاتی تھیں اور خود اپنے اور اپنے گھر والوں کو لباس کے لیے اور کبھی مزدوری کے طور پر سوت کاتتی تھیں اور اس طرح گھر میں رہ کر زندگی کی مہم میں اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی تھیں .

       1 جہاد
       2 خدمات
       3 اعزاز
       4 بعدِ رسول
       5 خلافت
       6 شہادت
       7 اولاد
       8 حوالہ جات
       9 بیرونی روابط
جہاد
مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا . آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا . بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں .پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں، یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی , اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت (contracted; show full)

۔ سیدنا حسن علیہ السّلام ۔ سیدنا حسین علیہ السّلام ۔ زینب علیہ السّلام ۔ ام کلثوم علیہ السّلام ۔ عباس علیہ السّلام ۔ عمر ابن علی ۔ جعفر ابن علی ۔ عثمان ابن علی ۔ محمد الاکبر ( محمد بن حنفیہ) ۔ عبداللہ ۔ ابوبکر ۔ رقیہ ۔ رملہ ۔ نفیسہ ۔ خدیجہ ۔ ام ہانی ۔ جمانی ۔ امامہ ۔ مونا ۔ سلمیٰ [حوالہ درکار]

2) حضرت امام حسن
   ابن علی علیہ السلام

امام حسن ابن علی (15 رمضان 3ھ تا 28 صفر 50ھ) اسلام کے دوسرے امام تھے اور حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۃ الزھرا علیہا السلام کے بڑے بیٹے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن , لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی .

       1 ولادت با سعادت
              1.1 تربیت
       2 خلافت
       3 صلح
       4 شرائط صلح
              4.1 صلح کے بعد
       5 اخلاق وانصاف
       6 وفات

ولادت با سعادت

آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی . جب مکہ مکرمہ میں رسول کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکی کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہا تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا . آپ کی ولاد(contracted; show full)ہوئے کچھ مقتول صفین# میں ہوئے جن کے لیے اج تک رورہے ہو , اور کچھ فضول نروان کے جن کا معاوضہ طلب کر رہے ہو اب اگر تم موت پر راضی ہوتوہم ا س پیغام صلح کو قبول نہ کریں اوران سے الله کے بھروسے پر تلواروں سے فیصلہ کرائیں اور اگر زندگی کو دوست رکھتے ہو تو ہم اس کو قبول کرلیں اور تمھاری مرضی پر عمل کریں« جواب میں لوگوںنے ہر طرف سے پکارنا شروع کیا کہ »ہم زندگی چاہتے ہیں , آپ صلح کرلیجئے .,, اس کا نتیجہ تھا کہ آپ نے صلح کے شرائط مرتب کرکے معاویہ کے پاس روانہ کئے.
شرائط صلح

اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسبِ ذیل تھے.


       یہ کہ معاویہ حکومتِ اسلام میں کتاب خدااور سنتِ رسول پر عمل کریں گے.
       دوسرے یہ کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی خلیفہ کے نامزد کرنے کا حق نہ ہوگا.
       یہ کہ شام وعراق وحجازویمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی.
       یہ کہ حضرت علی علیہ السّلام کے اصحاب اور شیعہ جہا ں بھی ہیں ان کے جان ومال اور ناموس واولاد محفوظ رہیں گے .
       معاویہ حسن علیہ السّلام ابن علی علیہ السّلام اور ان کے بھائی حسین علیہ السّلام ابن ُ علی علیہ السّلام اور خاندانِ رسول میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کرئے گا نہ خفیہ طریقہ پر اور نہ اعلانیہ اور ان میں سے کسی کو کسی جگہ دھمکایا اور ڈرایا نہیں جائے گا .
       جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں کلمات ُ نازیبا جو اب تک مسجدجامع اور قنوت نماز میں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردیئے جائیں . اخری شرط کی منظوری میں معاویہ کو عذر ہو اتو یہ طے پایا کہ کم از کم جس موقع پر امام حسن علیہ السّلام موجود ہوں اور اس موقع پر ایسانہ کیا جائے . یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول41ھئ کو عمل میں ایا.

صلح کے بعد

(contracted; show full) 50ھ کو امام حسن علیہ السّلام دنیا سے رخصت ہوگئے . حسین علیہ السّلام حسبِ وصیت بھائی کا جنازہ روضہ رسول کی طرف لے گئے مگر جیسا کہ امام حسن علیہ السّلام کو اندیشہ تھا وہی ہوا . ام المومنین عائشہ اور مروان وغیرہ نے مخالفت کی .نوبت یہ پہنچی کہ مخالف جماعت نے تیروں کی بارش کردی اور کچھ تیر جنازئہ امام حسن علیہ السّلام تک پہنچے , بنی ہاشم کے اشتعال کی کوئی انتہا نہ رہی مگر امام حسین علیہ السّلام نے بھائی کی وصیت پر عمل کیا اورا مام حسن علیہ السّلام کاتابوت واپس لا کر جنت البقیع میں دفن کردیا۔

3) حضرت امام حسین
   ابن علی علیہ السلام

حسین نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے، پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفےٰ کے چھوٹے نواسے علی و فاطمہ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ ان کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 'حسین منی و انا من الحسین' یعنی 'حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔

       1 ولادت
       2 نشوو نما
       3 رسول کی محبت
       4 رسول کی وفات کے بعد
       5 اخلاق و اوصاف
       6 متعلقہ مضامین

       ولادت

ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی . اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت ماب تشریف لائے , بیٹے کو گود میں لیا , داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دیدی . پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسین علیہ السّلام کی غذا بنا . ساتویں دن عقیقہ کیا گیا . آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی اور مسرت محسوس کی جاتی تھی مگر انے والے حالات کاعلم پیغمبر کی انکھوں میں انسو برساتا تھا . اور اسی وقت سے حسین کے مصائب کاچرچا اہلیبت ُ رسول کے زبانوں پر انے لگا.

نشوو نما

(contracted; show full)
محمد ابن جریر طبری، ابن خلدون ، ابن کثیر غرض بہت سے مفسرین اور مورخین نےلکھا ہے کہ ابن زیاد نے خاندان رسالت کوکربلا میں قتل کیااور قیدیوں کو اونٹوں پر شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق بھیج دیا ۔ دمشق میں بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ ہوا۔ یزید نے امام حسین کے سر کو اپنے سامنے طشت پر رکھ کر ان کے دندان مبارک کو چھڑی سے چھیڑتے ہوے اپنے کچھ اشعار پڑھے جن سے اس کا نقطہ نظر معلوم ہوتا ہے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے 

       کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو ، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا ، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئي نہ کوئي فرشتہ آیا ہے۔
امام حسین عراق میں کربلا کے مقام پر مدفون ہیں۔

اخلاق و اوصاف

(contracted; show full)

متعلقہ مضامین

واقعہ کربلا

سانحۂ کربلا 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر 680ء) کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ جہاں شیعہ عقائد کے مطابق اموی خلیفہ یزید اول کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت حسین ابن علی عليہ السلام اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔ حسین ابن علی عليہ السلام کے ساتھ 72 ساتھی تھے جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔


       1 اسباب
              1.1 یزید کی نامزدگی اور شخصی حکومت کا قیام
              1.2 یزید کا ذاتی کردار
              1.3 بیعت پر اصرار
              1.4 اہل کوفہ کی دعوت
       2 واقعات
              2.1 مکہ روانگی
              2.2 مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی
              2.3 ابن زیاد کوفہ میں
              2.4 مسلم کی گرفتاری اور شہادت
              2.5 امام حسین کا سفر کوفہ
              2.6 ابن زیاد کی تیاریاں
              2.7 حر بن یزید تمیمی کی آمد
              2.8 میدان کربلا آمد
              2.9 المیہ کربلا اور شہادت عظمٰی
              2.10 غدار کو‌فیوں کا شرمناک کردار
              2.11 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشگوئی
              2.12 اہل بیت کی شام کو روانگی
       3 نتائج
              3.1 واقعہ حرہ
              3.2 عبداللہ بن زبیر کی خلافت
              3.3 اموی خلافت کا زوال
              3.4 عباسی تحریک
              3.5 حق پرستوں کے لیے مثال
       4 اہمیت
              4.1 متعلقہ مضامین
اسباب
یزید کی نامزدگی اور شخصی حکومت کا قیام

اسلامی نظام حکومت کی بنیاد شورائیت پر تھی ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے ادوار اس کی بہترین مثال تھے۔ حضرت حسن بن علی سے امیر معاویہ نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ کسی کو خلیفہ نامزد نہ کریں گے مگر حضرت امیر معاویہ نے یزید کو اپنا جانشین نامزد کرکے اسی اصول دین کی خلاف ورزی کی تھی کیونہ اسلامی نقطہ حیات میں شخصی حکومت کے قیام کا کوئی جواز نہیں ۔ ابھی تک سرزمین حجاز میں ایسے کبار صحابہ اور اکابرین موجود تھے جنہوں نے براہ راست نبی کر(contracted; show full) کہ ’’اب میں آپ کو اس جگہ نہ رہنے دوں گا ۔ ‘‘بالآخر یہ مختصر سا قافلہ 2 محرم الحرام61 ھ بمطابق 2 اکتوبر 680ء کو کربلا کے میدان میں اترا۔ دوسرے ہی روز عمر بن سعد 6 ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔ عمر بن سعد چونکہ امام حسین سے لڑنے کا خواہشمند نہ تھا س لیے قرہ بن سفیان کو آپ کے پاس بھیجا ۔ قرہ بن سفیان سے حضرت حسین نے کہا کہ ’’اگر تمہیں میرا آنا ناپسند ہے تو میں مکہ واپس جانے کے لیے تیار ہوں ۔‘‘ لیکن ابن زیاد نے اس تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور عمر بن سعد کو حکم دیا کہ اگر امام حسین بیعت نہ کریں تو
  

ان کا پانی بند کردیا:

امام حسین کو ایسی حالت میں جب کہ وہ قابو میں آچکے تھے گرفتار کرنا زیادہ مناسب اور ضروری قرار دیا۔ یہ سن کر ابن زیاد نے اپنی رائے تبدیل کر دی ۔ اور عمر بن سعد کو اس کی اس بات پر سرزنش کرتے ہوئے حکم دیا کہ. ’’اگر امام حسین اور اس کے ساتھی اپنے آپ کو حوالہ کر دیں تو بہتر ہے ورنہ جنگ کی راہ لو۔‘‘ شمر مع خط کے عمر بن سعد کے پاس پہنچا۔ عمر بن سعد اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی خاطر امام حسین کے خلاف تلوار اٹھانے کے لیے تیار ہو گیا۔ یہ 9 محرم الحرام کا دن تھا۔

المیہ کربلا اور شہادت عظمٰی

(contracted; show full)استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی ۔ اور انھیں ریگ زار عجم میں دفن ہونے سے بچا لیا۔ امام حسین کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ سانحہ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔ سچ ہے کہ

                                                                                           ” 	اسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد 	“

4) حضرت امام زین العابدین علی   ابن حسین علیہ السلام

حضرت علی ابن الحسین (15 جمادی الاول یا 15 جمادی الثانی 38ھ تا 25 محرم الحرام 95ھ) جو امام زین العابدین علیہ السلام کے نام سے مشہور ہیں، امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وہ فرزند تھے جو واقعۂ کربلا میں زندہ بچ گئے تھے اور انہیں قیدیوں کے قافلے اور شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق لے جا کر یزید کے دربار لے جایا گیا تھا۔ آپ کی والدہ کا نام شہر بانو تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھیں جو نوشیروان عادل کا پوتا تھا۔ آپ کے مشہور القاب میں زین العابدین اور سیدِ سجاد شامل ہیں۔

       1 ولادت با سعادت
       2 زہد و تقوی
       3 شادی اور اولاد
       4 واقعہ کربلا
       5 خطبات
       6 روضہ رسول پر فریاد
       7 واقعہ حرہ
       8 عبد الملک ابن مروان اور حجاج ابن یوسف کا دور
       9 شہادت امام زین العابدین
     
ولادت با سعادت

آپ کی ولادت بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الاول اور بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الثانی کو ہوئی جبکہ سالِ ولادت 38ھ تھا اور اس وقت ان کے دادا حضرت علیرضی الله تعالٰی عنه مسلمانوں کے خلیفہ تھے۔ آپ کا نام آپ کے دادا کے نام پر علی رکھا گیا جبکہ کنیت ابوالحسن اور ابوالقاسم رکھی گئی۔ ولادت کے چند دن بعد آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کے بعد آپ کی خالہ گیہان بانو جو محمد بن ابی بکر کی زوجہ تھیں اور انہوں نے محمد بن ابی بکر کے انتقال کے بعد شادی نہیں کی تھی، نے آپ کی پرورش کی۔ دو سال کی عمر میں آپ(contracted; show full)

شادی اور اولاد

آپ کی شادی 57ھ میں آپ کے چچا حضرت حسن بن علی بن ابو طالب کی بیٹی حضرت فاطمہ سے ہوئی۔ آپ کے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جن میں سے حضرت امام محمد باقر رضی الله تعالٰی عنه اور حضرت زید شہید مشہور ہیں۔




واقعہ کربلا

واقعۂ کربلا محرم 61ھ بمطابق اکتوبر 689ء کو پیش آیا۔ 28 رجب 60ھ کو آپ اپنے والد حضرت حسین ابن علی کے ہمراہ مدینہ سے مکہ آئے اور پھر چار ماہ بعد 2 محرم 61ھ کو کربلا آئے۔ کربلا آنے کے بعد آپ انتہائی بیمار ہو گئے یہاں تک کہ 10 محرم کو غشی کی حالت طاری تھی اس لیے اس قابل نہ تھے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت پر فائز ہوتے۔ 10 محرم کی شام کو تمام خیموں کو آگ لگا دی گئی اور آپ کو آپ کی پھوپھی حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا نے سنبھالا۔ 11 محرم کو آپ کو اونٹ کے ساتھ باندھ کر اور لوہے کی زنجیروں میں جکڑ(contracted; show full)رت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر و درود کے بعد کہا کہ 'اے لوگو جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہوں۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کا سامان لوٹ لیا گیا۔جس کے اہل و عیال قید کر دیے گئے۔ میں اس کا فرزند ہوں جسے ساحلِ فرات پر ذبح کر دیا گیا اور بغیر کفن و دفن کے چھوڑ دیا گیا۔ اور شہادتِ حسین ہمارے فخر کے لیے کافی ہے ۔ ۔ ۔' ۔
دمشق میں یزید کے دربار میں آپ نے جو مشہور خطبہ دیا اس کا ایک حصہ یوں ہے:


       ۔ ۔ ۔ میں پسرِ زمزم و صفا ہوں، میں فرزندِ فاطمہ الزہرا ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔ ۔ ۔[7] [8] [9] [10]

(contracted; show full)

شہادت امام زین العابدین

اگرچہ آپ گوشہ نشین تھے اور خلافت کی خواہش نہ رکھتے تھے مگر حکمرانوں کو ان کے روحانی اقتدار سے بھی خطرہ تھا اور خوف تھا کہ کہیں وہ خروج نہ کریں۔ چنانچہ ولید بن عبدالملک نے 95ھ میں آپ کو زہر دے دیا اور آپ 25 محرم الحرام 95ھ بمطابق 714ء کو درجۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔[18]آپ کی تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کا ایک اونٹ آپ کی قبر پر فریاد کرتا رہا اور تین روز میں مر گیا۔ [19]

حوالہ جات

1 
      ^ مطالب السؤل از علامہ محمد ابن طلحہ شافعی صفحہ 262
2       ^ اعلام الوریٰ صفحہ 153
3       ^ مطالب السؤل از علامہ محمد ابن طلحہ شافعی
4       ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر مکی
5       ^ جلا العیون صفحہ 256
6       ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135
7       ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135 ۔ 136
8       ^ بحار الانوار جلد 10
9       ^ ریاض القدس جلد 2 صفحہ 328
10       ^ روضۃ الاحباب
11       ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135 ۔ 136
12       ^ ابن کثیر، تاریخ الخلفاء
13       ^ تاریخ الکامل جلد 4
14       ^ تاریخ الکامل جلد 4 صفحہ 45
15       ^ مروج الذہب از مسعودی
16       ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر المکی
17       ^ کتاب الخرائج والجرائح از علامہ اقطب راوندی
18       ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر المکی صفحہ 120
19       ^ شواہد النبوۃ صفحہ 179

5) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام

حضرت محمد باقر، حضرت زین العابدین کے فرزند اور اہل تشیع کے پانچویں امام ہیں. آپ کانام اپنے جد بزرگوار حضرت رسول خدا کے نام پر محمد تھا اور باقر لقب۔ اسی وجہ سے امام محمد باقر علیہ السّلام کے نام سے مشہور ہوئے۔ بارہ اماموں میں سے یہ آپ ہی کو خصوصیت تھی کہ آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں طرف حضرت رسول خدا تک پہنچتا ہے۔ دادا آپ کے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام تھے جو حضرت رسول خدامحمدمصطفےٰ کے چھوٹے نواسے تھے اور والدہ آپ کی ام عبد اللہ فاطمہ علیہ السّلام حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی تھیں جو حضرت رسول کے بڑے نواسے تھے۔ اس طرح حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام رسول کے بلند کمالات اور علی علیہ السّلام وفاطمہ کی نسل کے پاک خصوصیات کے باپ اور ماں دونوں سے وارث ہوئے۔

       1 ولادت
       2 واقعہ کربلا
       3 تربیت
       4 باپ کی وفات اور امامت کی ذمہ داریاں
              4.1 اس دور کی خصوصیات
              4.2 عزائے امام حسین علیہ السّلام میں انہماک
              4.3 علمی مرجعیت
       5 علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت
       6 اخلاق و اوصاف
       7 امورِ سلطنت میں مشورہ
              7.1 سلطنت بنی امیہ کی طرف سے مزاحمت
       8 وفات

ولادت

آپ کی ولادت روز جمعہ یکم رجب 57ھ میں ہوئی . یہ وہ وقت تھا جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات کو سات برس ہوچکے تھے . امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررہے تھے اور وقت کی رفتار تیزی سے واقعہ کربلا کے اسباب فراہم کررہی تھی . زمانہ ال رسول اور شیعانِ اہل بیت علیہ السّلام کے لیے صر اشوب تھا . چُن چُن کر محبانِ علی علیہ السّلام گرفتار کیے جارہے تھے , تلوار کے گھاٹ اتارے جارہے تھے یا سولیوں پر چڑھائے جارہے تھے اس وقت اس مولود کی ولادت گویا کربلا کے جہاد میںشریک ہونے والے سلسلہ می(contracted; show full)

ان کا نام جعفر، کنیت ابو عبداللہ اور لقب صادق تھا۔ آپ امام محمد باقر علیہ السلام کے بیٹے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پوتے اور شہید کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام کے پرپوتے تھے۔ سلسلۂ عصمت کی آٹھویں کڑی اور آئمۂ اہلبیت علیہم السّلام میں سے چھٹے امام تھے آپ کی والدہ حضرت محمد ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں جن کی والدہ قاسم ابن محمد رضی اللہ عنہ مدینہ کے سات فقہا میں سے تھے۔


       1 ولادت
       2 نشوونما اور تربیت
       3 انقلابِ سلطنت
       4 سادات پر مظالم
       5 امام کے ساتھ بدسلوکیاں
       6 اخلاق واوصاف
       7 اشاعت علوم
       8 شہادت

ولادت

83ھ میں 17 ربیع الاول کو آپ کی ولادت ہوئی۔ اس وقت آپ کے دادا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بھی زندہ تھے۔ آپ کے والد حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی عمر اس وقت چھبیس برس تھی۔ خاندان آلِ محمد میں اس اضافہ کا انتہائی خوشی سے استقبال کیا گیا۔
نشوونما اور تربیت

(contracted; show full)وئے اقدام اور خونریزی کا نہ مل سکا تو اخر خاموش حربہ زہر کا اختیار کیا گیا اور زہر الود انگور حاکم مدینہ کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میںپیش کیے گئے، جن کے کھاتے ہی زہر کااثر جسم میں سرایت کر گیا اور 15شوال148ھ میں 56سال کی عمر میں شہادت پائی۔ آپ کے فرزند اکبر اور جانشین حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام نے تجہیز وتکفین کی اور نماز جنازہ پڑھائی او جنت البقیع کے اس احاطہ میں جہاں اس کے پہلے امام حسن علیہ السّلام، امام زین العابدین علیہ السّلام اور امام محمد باقر علیہ السّلام دفن ہوچکے تھے آپ کو بھی دفن کیا گیا۔




7) حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

حضرت موسیٰ کاظم، حضرت جعفر صادق کے فرزند اور اہل تشیع کے ساتویں امام تھے.

اسم مبارک موسیٰ , کنیت ابو الحسن علیہ السّلام اور لقب کاظم علیہ السّلام تھا اور اسی لیے امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں . آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام تھے جن کاخاندانی سلسلہ حضرت امام حسین علیہ السّلام شہید کربلا کے واسطہ سے پیغمبر ُ اسلام حضرت محمد مصطفےٰ تک پہنچتا ہے۔ آپ کی مالدہ ماجدہ حمیدہ علیہ السّلام خاتون ملک ُ بر بر کی باشندہ تھیں۔

       1 ولادت
       2 نشو ونما اور تربیت
       3 امامت
       4 دور ابتلا

ولادت

سات صفر 128ھئ میں آپ کی ولادت ہوئی . اس وقت آپ والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام مسند ُ امامت پرمتمکن تھے اور آپ کے فیوض علمی کادھارا پوری طاقت کے ساتھ بہہ رہا تھا .اگرچہ امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام سے پہلے آپ کے دو بڑے بھائی اسماعیل اور عبدالله پید اہوچکے تھے مگر اس صاحبزادے کی ولادت روحانی امانت کاحامل جو رسول کے بعد اس سلسلہ کے افراد میں ا یک دوسرے کے بعد چلی ارہی تھی , یہی پیدا ہونے والا مبارک بچہ تھا۔

نشو ونما اور تربیت

(contracted; show full)

8) حضرت امام علی رضا علیہ السلام

حضرت علی رضا، حضرت موسیٰ کاظم کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آٹھویں امام تھے.

علی نام , رضا لقب او ر ابوالحسن کنیت، حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام والد بزرگوار تھے اور اس لیے آپ کوپورے نام ولقب کے ساتھ یاد کیا جائے تو امام الحسن علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کہاجائے گا , والدہ گرامی کی کنیت ام البنین اور لقب طاہرہ تھا۔ نہایت عبادت گزار بی بی تھیں۔


       1 ولادت
       2 تربیت
       3 جانشینی
       4 دور امامت
       5 علمی کمال
       6 زندگی کے مختلف دور
       7 ولی عہدی
       8 اخلاق و اوصاف
       9 عزائے حسین علیہ السلام کی اشاعت
       10 وفات
       11 اولاد

ولادت

11ذی القعد 148ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ اس کے تقریباً ایک ماہ قبل 15 شوال کو آپ کے جدِ بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کی وفات ہوچکی تھی اتنے عظیم حادثہ مصیبت کے بعد جلد ہی اس مقدس مولود کے دنیا میںآجانے سے یقینًاگھرانے میں ایک سکون اور تسلی محسوس کی گئی۔

تربیت

(contracted; show full)۳ء ہجری المقلب یہ شیخ مفید علیہ ا لرحمتہ۔کتاب ارشاد ۲۷۱۔۳۴۵ میں اور تاج المفسرین، امین الدین حضرت ابو علی فضل بن حسن بن فضل طبرسی المشہدی صاحب مجمع البیان المتوفی ۵۴۸ء ء کتاب اعلام الوری، ۱۹۹ میں تحریر فرماتے ہیں۔ کان للرضامن الولد ابنہ ابر جعفر محمد بن علی الجواد لا غیر ۔حضرت امام محمد تقی کے علاوہ امام علی رضا علیہ السلا م کے کوئی اور اولاد نہ تھی یہی کچھ کتاب عمدة الطالب صفحہ۱۸۶ میں ہے۔

9) حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

حضرت محمد تقی، حضرت امام علی رضا کے فرزند اور اہلِ تشیع کے نویں امام ہیں۔

فہرست


       1 نام ونسب
       2 ولادت
       3 نشونما اور تربیت
       4 عراق کا پہلا سفر
       5 علماء سے مناظرہ
       6 مدینہ کی طرف واپسی
       7 اخلاق و اوصاف
       8 تبلیغ و ہدایت
       9 عراق کا آخری سفر
       10 شہادت
       11 رضوی سیّد

نام ونسب

محمد نام , ابو جعفر کنیت اور تقی علیہ السّلام وجوّاد علیہ السّلام دونوں مشہور لقب تھے اسی لیے اسم و لقب کو شریک کرے آپ امام محمدتقی علیہ السّلام کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں . چونکہ آپ کو پہلے امام محمد باقر علیہ السّلام کی کنیت ابو جعفر ہوچکی تھی اس لیے کتب میں آپ کو ابو جعفر ثانی اور دوسرے لقب کو سامنے رکھ کر حضرت جوّاد بھی کہا جاتا ہے۔ والد بزرگوار آپ کے حضرت امام رضا علیہ السّلام تھے اور والدہ معظمہ کانام جناب سبیکہ یاسکینہ علیہ السّلام تھا۔

ولادت

(contracted; show full)
10) حضرت امام علی نقی علیہ السلام

حضرت علی نقی، حضرت محمد تقی کے فرزند اور اہلِ تشیع کے دسویں امام تھے.

فہرست


       1 نام ونسب
       2 ولادت اور نشوونما
       3 انقلابات سلطنت
       4 الام ومصائب
       5 وفات

نام ونسب

اسم مبارک علی علیہ السّلام , کنیت ابو الحسن علیہ السّلام اور لقب نقی علیہ السّلام ہے چونکہ آپ سے پہلے حضرت علی مرتضٰی علیہ السّلام اور امام رضا علیہ السّلام کی کنیت ابو الحسن ہو چکی تھی- اس لئے آپ کو ابوالحسن ثالث« کہا جاتا ہے والدہ معظمہ آپ کی سمانہ خاتون تھیں-
ولادت اور نشوونما

(contracted; show full)م کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشینگوئیاں بھی ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مہدی ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی تفصیل حدیث میں موجود ہے پھر بھی اب تک مہدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔ سچے مہدی کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا نہ دعوی کریں گے نہ اعلان۔

ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔


       اگر دنیا کی عمر ختم ہو گئی ہو اور قیامت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اھلِ بیت میں سے ایک شخص کی حکومت قائم ہو سکے گی جو میرا ہم نام ہوگا ۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔