Difference between revisions 1506838 and 1506887 on urwikiمثلِ بو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جا<br> رخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جا<br> ہے تنک مایہ ، توذری سے بیاباں ہو جا <br> نغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جا<br> قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے<br> دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے<br> (contracted; show full) انحطاط و انتشار کا زمانہ تھا اقبا ل مسلمانان عالم کی اس عمومی صورت حال پر ہمہ وقت بے تاب و بے قرار رہتے تھے۔ جواب شکوہ لکھنے سے کچھ عرصہ پیشتر اقبال نے طرابلس کے شہیدوں کے حوالے سے ایک نظم ” حضور رسالت مآب لکھی۔ یہ نظم بارگاہ نبوی میں شاعری کی ایک خیالی حضوری کو بیان کرتی ہے۔ فرشتے شاعر کو بزم رسالت میں حضور کے سایہ رحمت میں لے جاتے ہیں۔ بارگاہ نبوی سے شاعر سے خطاب کیا جاتا ہے۔ کہا حضور نے اے عندلیبِ باغِ حجاز<br> کلی کلی ہے تری گرمئ نوا سے گداز == اللہ تک رسائی کا زینہ == اقبال کا مطالعہ [[اسلام]] اور [[قرآن]] بہت ہی اچھا تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں آیاتِ قرآنی کو جگہ دی ہے۔ کیونکہ اقبال کو پتہ تھا کہ [[اللہ]] کے کتابوں میں یہ آخری اور واحد کتاب ہے جس میں تبدیلی اور غلط بیانی کسی کی بس کی بات نہیں ۔ اور اس کی خالص شکل لوح محفوظ میں موجود ہے اور اسی قرآن میں اللہ تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ، ترجمہ:۔ اے نبی کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری تا بعداری کرو کیونکہ اللہ تک رسائی کے لئے حُب نبی ہی اصل زینہ ہے۔ جس پرصحابہ کرام نے عمل کیا۔ صدیق، عمر، عثمان اور علی نے عمل کیا۔ اقبا ل ا س لئے نصیحت کرتے ہیں اللہ سے وہی سوز طلب کرو جو انہی صحابہ نے طلب کیا تھا۔ جو ان کو عشق نبوی سے حاصل ہوا۔ (contracted; show full)* [[اقبال]] * [[اقبالیات]] [[زمرہ:اقبالیات]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=1506887.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|