Difference between revisions 1506890 and 1507972 on urwiki

{{Wikify}}
{{ بے حوالہ}}

		مثلِ بو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جا<br>	
		رخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جا<br>
		ہے تنک مایہ ، توذری سے بیاباں ہو جا	<br>
		نغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جا<br>
		قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے<br>
		دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے<br>

عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسرے اقوام سے ممتاز کرتیا ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید ( معشوق سے کچھ حاصل کرنے کی) ۔ لالچ سے ماورا ہوتیا ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتیا ہے۔جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے ۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آجاتا ہے۔ حضرت سید محمد ذوقی شاہ اپنی کتاب ” سر ِ دلبراں “ میں لکھتے ہیں،

” عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔“

		عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودن<br>		
		دل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن

(contracted; show full)* [[اقبال]]
* [[اقبالیات]]





[[زمرہ:اقبالیات]]