Difference between revisions 1766422 and 2274263 on urwiki

{{حوالہ دیں}}
اہل تشیع یا شیعہ

 (عربی: شيعة) اہل سنت کے بعد مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی کی امامت کا قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ کا جانشین مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع پہلے تین خلفاء کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ نے دعوت ذوالعشیرہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضرت علی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "جو میری مدد کرے گا وہ میر(contracted; show full)
 (۴) خدا کے لئے عدالت کو ضروري قرار دينے کے يہ معني نھيں ھيں کہ وہ ظلم،فعل شر يا فعل عبث پر قادر نھيں ہے بلکہ يہ معني ھيں کہ خدا کي کامل ذات اور اُس کے علم و قدرت کے لئے يہ مناسب نھيں ہے کہ وہ ظلم وفعل شر وغيرہ کا ارتکاب کرے ۔ اس لئے اُس سے ان افعال کا صادر ھونا بالکل غير ممکن ہے ۔خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل هيں جن ميں سے هم بعض کاتذکرہ کريں گے:١۔هر انسان، چاهے کسی بهی دين ومذهب پر اعتقاد نہ رکهتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا 
هہے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت ديں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کهيں تو خوشی کا اظهار کرتا هہے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا،جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواهشات کا حصول هہے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کےحق ميں فيصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فيصلہ اس کے لئے باعث مسرت وخوشنودی هہے ليکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجه جائيں گے۔جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر ميں نہ آئے اور حق وعدل کا خيال کرے، ظالم اس سے ناراض تو هو گا ليکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فيصلے کو احترام کی نظر سے ديکهے گا۔ تو کس طرح ممکن هہے کہ جس خدا نے فطرت انسانی ميں ظلم کو برا اور عدل کو اس لئے اچهاقرار ديا هو تاکہ اسے عدل کے زيور سے مزين اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو <إِنَّ اللّٰہَ يَا مُْٔرُبِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ> ٢، <قُلْ ا مََٔرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ> ٣،<يَادَاودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيْفَةً فِی اْلا رَْٔضِ فَاحْکُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْهَوٰی> ٤جيسی آيات کے مطابق عدل کا حکم دے وہ خود اپنے ملک وحکم ميں ظالم هو؟! ٢۔ظلم کی بنياد يا تو ظلم کی برائی سے لاعلمی، يا مقصد و هدف تک پهنچنے ميں عجز يالغووعبث کام هہے، جب کہ خداوندِمتعال کی ذات جهل، عجز اور سفا ہت سے پاک ومنزہ هہے۔لہٰذا، علم، قدرت اور لا متناهی حکمت کا تقاضا يہ هہے کہ خداوند متعال عادل هو اور هر ظلم وقبيح سے منزہ هو۔٣۔ ظلم نقص هہے اور خداوندِمتعال کے ظالم هونے کا لازمہ يہ هہے کہ اس کی ترکيب ميں کمال ونقصان اور وجود وفقدان بيک وقت شامل هہوں، جب کہ اس بات سے قطع نظر کہ يہ ترکيب کی بدترين قسم هہے، کمال ونقص سے مرکب هونے والا موجود محتاج اور محدود هوتا هہے اور يہ دونوں صفات مخلوق ميں پائی جاتی هيں نہ کہ خالق ميں۔ لہٰذا نتيجہ يہ هوا کہ وہ تخليق کائنات <شَهِدَ اللّٰہُ ا نََّٔہ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَ ا ؤُْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ> ٥،قوانين واحکام <لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ> ٦ اور قيامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب <وَقُضِیَ بَيْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُوْنَ> ١ ميں عادل هہے۔ --------------2 سورہ نحل، آيت ٩٠ ۔"باتحقيق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا هہے"۔ 3 سورہ اعراف، آيت ٢٩ ۔ "کہو ميرے رب نے انصاف کے ساته حکم کيا هہے"۔ 4 سورہ ص، آيت ٢۶ ۔ "اے داو دٔ (ع)!هم نے تم کو روئے زمين پر خليفہ بنايا هہے تو تم لوگوں کے درميان بالکل ٹهيک فيصلہ کرو اور هویٰ وہوس کی پيروی مت کرو"۔ 5 سورہ آل عمران ، آيت ١٨ ۔"خدا نے خود اس بات کی شهادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نهيں هہے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم هيں (يهی شهادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نهيں هہے"۔ 6 سورہ حديد ، آيت ٢۵ ۔ "هم نے يقينا اپنے پيغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بهيجا هہے اور ان کے ساته کتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رهيں"۔ عن الصادق (ع) :((إنہ سا لٔہ رجل فقال لہ :إن ا سٔاس الدين التوحيد والعدل، وعلمہ کثير، ولا بد لعاقل منہ، فا ذٔکر ما يسهل الوقوف عليہ ويتهيا حفظہ، فقال: ا مٔا التوحيد فا نٔ لا تجوّز علی ربک ماجاز عليک، و ا مٔا العدل فا نٔ لا تنسب إلی خالقک ما لامک عليہ)) ٢ اور هشام بن حکم سے فرمايا: ((ا لٔا ا عٔطيک جملة في العدل والتوحيد ؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل ا نٔ لا تتّهمہ ومن التوحيد ا نٔ لا تتوهّمہ)) ٣ اور امير المومنين (ع) نے(contracted; show full)ے تھے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمر وبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا . آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے . صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا , اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی . چنا
نچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر ائی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر اگیا کہ اس کا قاتل حضرت علی علیہ السلام سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔

خدمات
(contracted; show full). سب سے پہلا خطبہ جو آپ نے ارشاد فرمایا اس میںحضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے فضائل ومناقب تفصیل کے ساتھ بیان کئے . جناب امیر علیہ السّلام کی سیرت اور مال دُنیا سے پرہیز کا تذکرہ کیا . اس وقت آپ پر گریہ کااتنا غلبہ ہوا کہ گلے میں پھندا پڑگیا اور تمام لوگ بھی آپ کے ساتھ بے اختیار رونے لگے.پھر آپ نے اپنے ذاتی اور خاندانی فضائل بیان کیے . عبداللهابن عباس رض نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی . سب نے انتہائی خوشی اور رضا مندی کے ساتھ بیعت کی آپ نے مستقبل کے حالات کاصحیح انداز
ہا کرتے ہوئے اسی وقت لوگوں سے صاف صاف یہ شرط کردی کہ »اگر میں صلح کروں تو تم کو صلح کرنا ہوگی او راگر میں جنگ کروں تو تمھیں میرے ساتھ مل کر جنگ کرنا ہوگی , سب نے اس شرط کو قبول کرلیا . آپ نے انتظامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لیا . اطراف میں عمال مقرر کئے , حکام متعین کئے اور مقدمات کے فیصلے کرنے لگے . یہ وقت وہ تھا کہ دمشق میں حاکم شام معاویہ کا تخت ُ سلطنت پر قبضہ مضبوط ہوچکا تھا .حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے ساتھ صفین میں جو لڑائیاں حاکمِ شام کی ہوئی تھیں ان کا نتیجہ تحکیم کی سازشانہ کارروائی کی بدولت حاکم ُ شام کے موافق نکل چکا تھا ادھر حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب کی سلطنت کے اندر جہاں اب حضرت امام حسن علیہ السّلام حکمران ہوئے تھے باہمی تفرقے اور بددلی پیدا ہو چکی تھی خود جناب امیر علیہ السّلام احکام کی تعمیل میں جس طرح کوتاہیاں کی جاتی تھیں وہ حضرت کے اخر عمر کے خطبوں سے ظاہر ہے ,خوارج نہروان کا فتنہ مستقل طور پر بے اطمینان کاباعث بنا ہوا تھا جن کی اجتماعی طاقت کو اگرچہ نہروان میں شکست ہوگئی تھی مگر ان کے منتشر افراد اب بھی اسی ملک کے امن وامان کو صدمہ پہنچانے پر تلے ہوئے تھے یہاںت(contracted; show full)

اس خط کے بعد حاکم شام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے درمیان بہت سے خطوط کی ردوبدلی ہوئی . حاکم شام کواپنے جاسوسوں کے ذریعہ سے اہل کوفہ کے باہمی تفرقہ اور بددلی اور عملی کمزوریوں کا علم ہوگیا . اس لیے وہ سوچنے لگا کہ یہی موقع ہے کہ عراق پر حملہ کر دیا جائے . چنا
نچہ وہ اپنی فوجوں کو لے کر عراق کی حدود تک پہنچ گئے . اس وقت حضرت امام حسن علیہ السّلام نے بھی مقابلہ کی تیاری کی حجر بن عدی کو بھیجا کہ وہ دورہ کرکے اطراف ُ ملک کے احکام کو مقابلے کے لیے امادہ کریں اور لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کریں مگر جو خیال تھا وہی ہوا کہ عام طورپر سردمہری سے کام لیا گیا . تھوڑی فوج تیار ہوئی تو ان میں کچھ فرقہ خوارج کے لوگ تھے کچھ شورش پسند اور مال غنیمت کے طلبگار او رکچھ لوگ صرف اپنے سردارانِ قبائل کے دباؤ سے شریک تھے , بہت کم وہ لوگ تھے جو واقعی حضرت علی علیہ السّلام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے شیعہ سمجھے جاسکتے تھے .

ادھر معاویہ نے عبدالله ابن عامر ابن کریز کو اگے روانہ کیااور اس نے اس مقام انبار میں جاکر چھاؤنی بنائی ادھرحضرت امام حسن علیہ السّلام اس کے مقابلہ کے لے روانہ ہوئے اور مقامِ دیر کعب کے قریب ساباط# میںقیام کیا . یہاں پہنچ کر آپ نے لوگوں کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے سب کو جمع کرکے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا مضمون یہ تھا کہ »دیکھو مجھے کسی مسلمان سے کینہ نہیں ہے , میں تمھارا اتنا ہی بہھی خواہ ہوں جتنا خود اپنی ذات کی نسبت مجھے ہونا چاہیے . میں تمھارے بارے میں ایک فیصلہ کن رائے قائم کرتا رہا ہوں .امید ہے کہ تم میری رائے سے انحراف نہ کرو گے . میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے اکثر کی ہمت جہاد سے پست ہوگئی ہے اور میں کسی طرح یہ صحیح نہیں سمجھتا کہ تمھیں بادل ناخواستہ کسی مہم پر مجبور کروں .,,اس تقریر کاختم ہونا تھا کہ مجمع میں ہنگامہ پید اہوگیا . یقینی علی علیہ السّلام جیسے بہادر باپ کا بہادر فرزند تن تنہا اس ہنگامہ اور جماعت کا مقابلہ کرنے کے لے کافی تھا .اگر یہ کھلم کھلا دشمنوں کی جماعت ہوتی م(contracted; show full)
 دوسرے یہ کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی خلیفہ کے نامزد کرنے کا حق نہ ہوگا.
 یہ کہ شام وعراق وحجازویمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی.
 یہ کہ حضرت علی علیہ السّلام کے اصحاب اور شیعہ جہا ں بھی ہیں ان کے جان ومال اور ناموس واولاد محفوظ رہیں گے .
 معاویہ حسن علیہ السّلام ابن علی علیہ السّلام اور ان کے بھائی حسین علیہ السّلام ابن ُ علی علیہ السّلام اور خاندانِ رسول میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کرئے گا نہ خفیہ طریقہ پر اور نہ 
اعلانیہ اور ان میں سے کسی کو کسی جگہ دھمکایا اور ڈرایا نہیں جائے گا .
 جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں کلمات ُ نازیبا جو اب تک مسجدجامع اور قنوت نماز میں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردیئے جائیں . اخری شرط کی منظوری میں معاویہ کو عذر ہو اتو یہ طے پایا کہ کم از کم جس موقع پر امام حسن علیہ السّلام موجود ہوں اور اس موقع پر ایسانہ کیا جائے . یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول41ھئ کو عمل میں ایا.

صلح کے بعد

(contracted; show full)پناہ لی لیکن اس بڑھیا کے بیٹے نے انعام کے لالچ میں آکر خود جا کر ابن زیاد کو اطلاع کر دی ۔ابن زیاد نے یہ اطلاع پا کر مکان کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت مسلم بن عقیل تن تنہا لڑنے پر مجبور ہوئے جب زخموں سے چور ہوگئے تو محمد بن اشعث نے امان دے کر گرفتار کر لیا ۔ لیکن آپ کو جب ابن زیاد کے سامنے پیش کیاگیا تو اس نے امان کے وعدہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے آپ کے قتل کا حکم دے دیا۔ مسلم بن عقیل نے محمد بن اشعث سے کہا کہ میرے قتل کی اطلاع امام حسین تک پہنچا دینا اور انھیں میرا یہ پیغام بھی پہنچا دینا کہ ’’اہل کوفہ پر ہرگز بھروس
ہا نہ کریں اور جہاں تک پہنچ چکے ہوں وہیں سے واپس چلے جائیں‘‘ ۔ ابن اشعث نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ایک قاصد حضرت امام حسین کی طرف روانہ کر دیا۔

امام حسین کا سفر کوفہ

(contracted; show full)
 [3]
” 	کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو ، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا ، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئي نہ کوئی فرشتہ آیا ہے 	“

اس شعر کو سن کر اور یزید کا فخریہ انداز دیکھ کر دربار میں موجود ایک یہودی سفیر نے کہا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد سے ہوں۔ میرے اور ان کے درمیان ستر پشتیں گ
ذزر چکی ہیں مگر اس کے باوجود یہودی میری بے حد عزت و تکریم کرتے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے اپنے نبی کے نواسے کو شہید کردیا ہے اور اب اس پر فخر بھی کر رہے ہو۔ یہ تمہارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
[4] گبن کے الفاظ میں “ Thus fell one of the noblest spirits of the age and with him perished all the male members of his family with the solitary exception of a sickly child named Ali who later in life received the designation of Zayn-ul-Abidin” ترجمہ : اس طرح زمانے کے پارسا ترین انسانوں میں سے ایک کا خاتمہ ہوگیا اور اس کے ساتھ اس کے خاندان کے تمام مرد بھی ختم ہو گئے سوائے امام زین العابدین علی بن حسین (جو بیماری کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہ کر سکے) اور امام محمد باقر بن علی کے جو اس وقت بچے تھے۔ یہ دردناک واقعہ 10 محرم الحرام 61 ھ مطابق 10 اکتوبر 680ء کو پیش آیا۔

غدار کو‌فیوں کا شرمناک کردار

اس دلخراش سانحہ سے قبل بھی کو‌فیوں کا کردار نہایت ہی شرمناک رہا تھا۔ حضرت علی کے دارلخلافہ مدینہ سے کوفہ لے جانے سے ان سازشیوں کو کھل کر کھلنے کا موقع ملا۔ بظاہر یہ سازشی حب علی کا لبادہ اوڑھے رہا کرتے تھے لیکن آپ کی زات اطہر سے بھی الٹے سیدھے سوالات کرنا ان کا وطتیرہ تھا۔ایک مو‏قع پر ان لوگوں نے حضرت علی سے سوال کیا۔ " مولا آپ سے پہلے کے خلفاء کے دور میں امن وامان تھا مگر آپ کے دور میں یہ کیوں عنقا ہے" اس گستاخانہ سوال پر حضرت علی نے ان منافقوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ آپ نے فرمایا " اس بدامنی کی بنیادی وجہ یہ ہے کر سابقہ خلفاء کے مشیر میرے جیسے لوگ تھے اور میرے مشیر ہیں آپ جیسے لوگ"۔ ان لوگوں کی ان ہی حرکتوں کے باعث حضرت علی بالآخر اس طبقے سے بیزار رہنے لگے تھے۔ جب حضرت حسن نے خلافت سنبھالی تو آپ اپنے والد محترم کے دور میں ان منافقوں کا بغور مشاہدہ (contracted; show full)

عبداللہ بن زبیر کی خلافت

اہل مدینہ نے یزید کے بجائے عبداللہ بن زبیر کو خلیفہ چن لیا۔ شہادت حسین نے لوگوں کے اندر سوئے ہوئے جذبات کو ازسرنو بیدار کر دیا اور سرزمین حجاز میں ناراض
گی کی ہمہ گیر لہر اموی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ اہل حجاز کو ابن زبیر جیسی موثر شخصیت بطور رہنما میسر آئی ۔ چنانچہ اہل مدینہ نے بھی جلد آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا اور آپ کی بیعت کر لی۔ اس انقلاب نے اموی اقتدار کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا کر دیں۔ حجاز کی سرزمین سے مخالفت کے یہ ابلتے ہوئے جذبات درحقیقت تمام عالم اسلامی میں پیدا شدہ ہمہ گیر اضطراب کے ترجمان تھے۔

اموی خلافت کا زوال

(contracted; show full) جھولے سے جدا ہوکر میدان میںجانا اور پھر واپس نہ انا ,امام علیہ السّلام کے باوفا گھوڑے کا درخیمہ پر خالی زین کے ساتھ آنا اور پھر خیمہ عصمت میںایک قیامت کابرپا ہونا .یہ سب مناظر امام محمد باقر علیہ السّلام کی انکھوں کے سامنے آئے اور پھر بعد عصر خیموں میں آگ کا لگنا , اسباب کا لوٹا جانا, بیبیوں کے سروں سے چادروں کا اتارا جانا اور آگ کے شعلوں سے بچوں کاگھبرا کرسراسیمہ ومضطرب اَدھر اُدھر پھرنا , اس عالم میں امام محمد باقر علیہ السّلام کے ننھے سے دل پر کیا گزری اور کیا تاثرات ان کے دل پر قائم رہ گئے اس کا انداز
ہا کوئی دوسرا انسان نہیں کرسکتا۔
گیارہ محرم کے بعد ماں اور پھوپھی ,دادی اورنانی تمام خاندان کے بزرگوں کو دشمنوں کی قید میںاسیر دیکھا , یقیناً اگر سکینہ علیہ السّلام کا ہاتھ رسی میں بندھ سکتا ہے تو یقین کہا جاسکتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کاگلا بھی ریسمان ظلم سے ضرور باندھا گیا . کربلا سے کوفہ او رکوفہ سے شام اور پھر رہائی کے بعد مدینہ کی واپسی ان تمام منازل میں نہ جانے کتنے صدمے تھے جو امام محمد باقر علیہ السّلام کے ننھے سے دل کو اٹھانا پڑے او رکتنے غم والم کے نقش جو دل پر ایسے بیٹھےکہ ائیندہ زندگی م(contracted; show full)

علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت

حضرت علیہ السّلام کے زمانہ میں علوم اہلبیت علیہ السّلام کے تحفظ کااہتمام اور حضرت کے شاگردوں نے ان افادیات سے جو انہیں حضرت امام محمدباقر علیہ السّلام سے حاصل ہوئے. مختلف علوم وفنون اور مذہب کے شعبوں میں کتب تصنیف کیں ذیل میں حضرت کے کچھ شاگردوں کا ذکر ہے اور ان کی تصانیف کانام درج کیا جاتا ہے . جس سے آپ کو انداز
ہا ہوگا کہ امام محمدباقر علیہ السّلام سے اسلامی دنیا میں علم ومذہب نے کتنی ترقی کی۔

~01 . ابان ابن تغلب : یہ علم قرآت اور لغت کے امام مانے گئے ہیں- سب سے پہلے کتاب غریب القرآن یعنی قرآن مجید کے مشکل الفاظ کی تشریح انہوں نے تحریر کی تھی اور ~0141ئھ میں وفات پائی۔

~0-2 ابو جعفر محمد بن حسن ابن ابی سارہ رو اسی علم قرآت, نحو اور تفسیر کے مشہور عالم تھے۔ کتاب الفصیل معانی

القرآن وغیرہ پانچ کتب کے مصنف ہیں- ~0101ئھ میں وفات پائی۔

(contracted; show full)پے در پے ایک ہی نشانے پر بالکل ایک ہی نقطہ پر لگائے تو مجمع تعجب اور حیرت میں غرق ہو گیا اور ہر طرف سے تعریفیں ہونے لگیں- ہشام کو اپنے طرزِ عمل پر پشیمان ہونا پڑا- اس کے بعد اس کو یہ احساس ہوا کہ امام علیہ السلام کا دمشق میں قیام کہیں عام خلقت کے دل میں اہل بیت علیہ السّلام کی عظمت قائم کر دینے کا سبب نہ ہو- اس لیے اس نے آپ کو واپس مدینہ جانے کی اجازت دے دی مگر دل میں حضرت علیہ السّلام کے ساتھ عداوت میں اور اضافہ ہو گیا۔

وفات

سلطنتِ شام کو جتنا حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کی جلالت اور بزرگی کا انداز
ہا زیادہ ہوتا گیا اتنا ہی آپ کا وجود ان کے ليے ناقابل برداشت محسوس ہوتا رہا- آخر آپ کو اس خاموش زہر کے حربے سے جو اکثر سلطنت بنی امیہ کی طرف سے کام میں لایا جاتا رہا تھا شہید کرنے کی تدبیر کر لی گئی- وہ ایک زین کا تحفہ تھا جس میں خاص تدبیروں سے زہر پوشیدہ کیا گیا تھا اور جب حضرت اس زین پر سوار ہوئے تو زہر جسم میں سرایت کر گیا۔ چند روز کرب و تکلیف میں بستر بیمار پر گزرے اور آخرت سات ذی الحجہ ~0114ئھ کو ~057برس کی عمر میں وفات پائی۔

(contracted; show full)

منصور نے پہلے حضرت کی علمی عظمت کااثر عوام کے دل سے کم کرنے کے لیے ایک تدبیر یہ کی کہ آپ کے مقابلے میں ایسے اشخاص کو بحیثیت فقیہہ اور عالم کے کھڑا کردیا جو آپ کے شاگردوں کے سامنے بھی زبان کھولنے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور پھر وہ خود اس کا اقرار رکھتے تھے کہ ہمیں جو کچھ ملا وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کی محبت کا دم بھرتا ہے اسے گرفتار کیا جائے۔

چنا
نچہ معلیٰ ابن خنیس ان ہی شیعوں میں سے تھے جو گرفتار کیے گئے اور ظلم وستم کے ساتھ شہید کیے گئے۔ خود حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلامکو تقریباً پانچ مرتبہ مدینہ سے دربار شاہی میں طلب کیا گیا جو آپ کے لیے سخت روحانی تکلیف کاباعث تھا۔ یہ او ربات ہے کہ کسی مرتبہ آپ کے خلاف کوئی بہانہ اسے ایسا نہ مل سکا کہ آپ کے قید یاقتل کیے جانے کا حکم دیتا۔ بلکہ اس سلسلہ میں عراق کے اندر ایک مدت کے قیام سے علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت کاحلقہ وسیع ہوا اور اس کو محسوس کرکے منصور نے پھر آپ کو مدینہ بھجوادیا۔ اس کے بعد بھی آپ (contracted; show full) عمل کو بدل دیا . حضرت علیہ السّلام نے اپنے اصحاب سے صورت حال بیان فرماکر پوچھا کہ جو میں نے اس کے ساتھ کیا وہ اچھا تھا یا جس طرح تم لوگ اس کے ساتھ کرنا چاہتے تھے . سب نے کہا , یقیناً حضور علیہ السّلام نے جو طریقہ استعمال فرمایا وہی بہتر تھا . اس طرح آپ نے اپنے جدِ بزرگوار حضرت امیر علیہ السّلام کے اس ارشاد کو عمل میں لا کر دکھلایا جو اج تک نہج البلاغہ میں موجود ہے کہ اپنے دشمن پہ احسان کے ساتھ فتح حاصل کرو کیونکہ یہ دو قسم کی فتح میں زیادہ صر لطف کامیابی ہے. بیشک اس کے لیے فریق ُ مخالف کے ظرف کاصحیح انداز
ہا ضروری ہے اور اسی لیے حضرت علی علیہ السّلام نے ان الفاظ کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ »خبردار یہ عدم تشدد کاطریقہ نااہل کے ساتھ اختیار نہ کرنا ورنہ اس کے تشدد میں اضافہ ہوجائے گا .,, یقیناً ایسے عدم تشدد کے موقع کو پہچاننے کے لیے ایسی ہی بالغ نگاہ کی ضرورت ہے جیسی امام علیہ السّلام کو حاصل تھی مگر یہ اس وقت میں ہے جب مخالف کی طرف سے کوئی ایسا عمل ہوچکا ہو جو اس کے ساتھ انتقامی جواز پیدا کرسکے لیکن اس کی طرف سے اگو کوئی ایسا اقدام ابھی ایسا نہ ہوا تو یہ حضرات بہر حال ا س کے ساتھ احسان کرنا پسند کرتے تھے تاکہ ا(contracted; show full)

علمی کمال

آل محمد علیہ السّلام کے اس سلسلہ میں ہر فرد حضرت احادیث کی طرف سے بلند ترین علم کے درجہ پر قرار دیا گیا تھا جسے دوست اور دشمن سب کو ماننا پڑتا تھا , یہ اور بات ہے کہ کسی کو علمی فیوض پھیلانے کا زمانے نے کم موقع
ہ دیا اور کسی کو زیادہ , چنانچہ ان حضرات میں سے امام جعفر صادق علیہ السّلام کے بعد اگر کسی کو موقع حاصل ہوا ہے تو وہ امام رضا علیہ السلام ہیں۔ جب آپ امامت کے منصب پر نہیں پہنچے تھے اس وقت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام اپنے تمام فرزندوں اور خاندان کے لوگوں کونصیحت فرماتے تھے کہ تمھارے بھائی علی رضا علیہ السّلام عالمِ الِ محمد ہیں۔ اپنے دینی مسائل کو ان سے دریافت کرلیا کرو اور جو کچھ وہ کہیں اسے یاد رکھو اور پھر حضرت موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی وفات کے بعد جب آپ مدینہ میں تھے اور روضئہ رسول پر تشریف فرما تھے تو علمائے اسلام مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ محمد ابن عیسیٰ القطینی کا بیان ہے کہ میں نے ان کے جوابات تحریر کیے تھے اکٹھے کیے تو اٹھارہ ہزار کی تعداد میں تھے۔

زندگی کے مختلف دور

حضرت امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم کے بعد دس برس ہارون کادور رہا۔ یقیناً وہ امام رضا علیہ السّلام کے وجود کو بھی دنیا میں اسی طرح پر برداشت نہیں کرسکتا تھا جس طرح اس کے پہلے آپ کے والد بزرگوار کو رہنا اس نے گورا نہیں کیا۔ مگر یا تو امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے ساتھ جو طویل مدت تک تشدد اور ظلم ہوتا رہا اور جس کے نتیجہ میں قید خانہ ہی کے اندر آپ دنیا سے رخصت ہوگئے اس سے حکومت ُ وقت کی عام بدنامی ہوگئی تھی اور یا واقعی ظالم کو اپنی بد سلوکیوں کا احساس ہو ااور ضمیر کی طرف سے ملامت کی کیفیت تھی جس کی وجہ سے کھلم کھلا امام رضا علیہ السّلام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی , یہاںتک کہ کہا جاتا ہے کہ ایک دن یحییٰ ابن خالد برمکی نے اپنے کے بعداثرورسوخ کے بڑھانے کے لیے یہ کہا کہ علی علیہ السّلام ابن موسیٰ بھی اب اپنے باپ کے بعد امامت کے اسی طرح دعویدار ہیںتو ہارون نے جواب دیا کہ جو کچھ ہم نے ان کے باپ کے ساتھ کیا وہی کیا کم ہے جواب تم چاہتے ہو کہ میں اس نسل ہی کا خاتمہ کروں۔

(contracted; show full)ا وہ ان مظالم ہی کو یاد دلا کر جو بنی امیہ کے ہاتھوں حضرت امام حسین علیہ السّلام اور دوسرے بنی فاطمہ کے ساتھ ہوئے تھے۔ اس سے ایران میں اس خاندان کے ساتھ ہمدردی کا پیدا ہونا فطری تھا , درمیان میں بنی عباس نے اس سے غلط فائدہ اٹھایا مگر اتنی مدت میں کچھ نہ کچھ تو ایرانیوں کی انکھیں بھی کھلی ہی ہوں گی کہ ہم سے کیا کہا گیا تھا اور اقتدار کن لوگوں نے حاصل کرلیا۔ ممکن ہے کہ ایرانی قوم کے ان رجحانات کاچرچا مامون کے کانوں تک بھی پہنچا ہو۔ اب جس وقت کہ امین کے قتل کے بعد وہ عرب قوم پر اور بنی عباس کے خاندان پر بھروس
ہا نہیںکرسکتا تھا اور اسے ہر وقت اس حلقہ سے بغاوت کااندیشہ تھا تو اسے سیاسی مصلحت اسی میں معلوم ہوئی کہ عرب کے خلاف عجم اور بنی عباس کے خلاف بنی فاطمہ کو اپنا بنایا جائے اور چونکہ طرزِعمل میں خلوص سمجھا نہیں جاسکتا اور وہ عالمِ طبائع پر اثر نہیں ڈال سکتا۔ اگر یہ نمایاں ہوجائے کہ وہ سیاسی مصلحتوں کی بنا پر ہے ا س لیے ضرورت ہوئی کہ مامون مذہبی حیثیت سے سے اپنی شیعیت اور ولائے اہل بیعت علیہ السّلام کے چرچے عوام کے حلقوں میں پھیلائے اور یہ دکھلائے کہ وہ انتہائی نیک نیتی سے اب "حق بحق دار رسید" کے مقولے (contracted; show full)وفات ہوگئی . دنیا سمجھتی ہوگی کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کے لیے علمی وعملی بلندیوں تک پہنچنے کاکوئی ذریعہ نہیں رہا اس لیے اب امام جعفر صادق علیہ السّلام کی علمی مسند شاید خالی نظر ائے مگر خلق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علماء سے فقہ، حدیث، تفسیراور کلام پر مناظرے کرتے اور سب کو قائل ہوجاتے دیکھا . اس کی حیرت اس وقت تک دور ہوناممکن نہ تھی , جب تک وہ مادی اسباب کی بجائے ایک مخصوص خدا وندی مدرسہ تعلیم وتربیت کے قائل نہ ہوتے , جس کے بغیر یہ معم
ہا نہ حل ہوا اور نہ کبھی حل ہوسکتا ہے .

عراق کا پہلا سفر

جب امام رضا علیہ السّلام کو مامون نے ولی عہد بنایا اور اس کی سیاست اس کی مقتضی ہوئی کہ بنی عباس کو چھوڑ کر بنی فاطمہ سے روابط قائم کئے جائیں اور اس طرح شیعیان اہل بیت علیہ السّلام کو اپنی جانب مائل کیا جائے تو اس نے ضرورت محسوس کی کہ خلوص واتحاد کے مظاہرے کے لیے علاوہ اس قدیم رشتے کے جو ہاشمی خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے ہے , کچھ جدید رشتوں کی بنیاد بھی قائم کردی جائے چنانچہ اسی جلسہ میں جہاں ولی عہدی کی رسم ادا کی گئی . اس نے اپنی بہن ام حبیبہ کاعقد (contracted; show full)ر خیر وہ کم از کم اپنی عمر اور اوصاف وکمالات کے لحاظ سے قابلِ عزت سمجھے بھی جاسکتے ہیں مگر ان کے بیٹے محمد علیہ السّلام تو ابھی بالکل کم سن ہیں ایک بچے کو بڑے بڑے علماء اور معززین پر ترجیح دینا اور اس قدر اس کی عزت کرنا ہر گز خلیفہ کے لیے زیبا نہیں ہے پھر ام حبیبہ کانکاح جو امام رضا علیہ السّلام کے ساتھ کیا گیا تھا اس سے ہم کو کیا فائدہ پہنچا . جو اب ام الفضل کانکاح محمد ابن علی علیہ السّلام کے ساتھ کیا جارہا ہے . مامون نے اس تمام تقریر کا یہ جواب دیا کہ محمد علیہ السّلام کمسن ضرور ہیں مگر میں نے خوب انداز
ہا کرلیا ہے . اوصاف وکمالات میںوہ اپنے باپ کے پورے جانشین ہیں اور عالم اسلام کے بڑے بڑے علمائ جن کا تم حوالہ دے رہے ہو علم میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے . اگر تم چاہو تو امتحان لے کر دیکھ لو . پھر تمہیں بھی میرے فیصلے سے متفق ہونا پڑے گا . یہ صرف منصافانہ جواب ہی نہیں بلکہ ایک طرح کا چیلنج تھا جس پر مجبوراً ان لوگوں کو مناظرے کی دعوت منظور کرنا پڑی حالانکہ خود مامون تمام سلاطین ُ بنی عباس میں یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ مورخین اس کے لیے یہ الفاظ لکھ دیتے ہیں . کان بعد من کبار الفقہاء یعنی اس کا شمار بڑے فقیہوں میں ہ(contracted; show full) بنا ہوا گفتگو شروع ہونے کے وقت کا منتظر ہی تھا کہ اس خاموشی کو یحییٰ کے اس سوال نے توڑ دیا جو اس نے مامون کی طرف مخاطب ہو کر کہا تھا-» حضور کیا مجھے اجازت ہے کہ میں ابو جعفر علیہ السّلام سے کوئی مسئلہ دریافت کروں؟ مامون نے کہا,» تم کو خود ان ہی سے اجازت طلب کرنا چاہئے-« یحیٰی امام علیہ السّلام کی طرف متوجہ ہوا اور کہا-»کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ دریافت کروں؟« فرمایا-» تم جو پوچھنا چاہو پوچھ سکتے ہو-« یحیٰی نے پوچھا کہ »حالت احرام میں اگر کوئی شخص شکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے?« اس سوال سے انداز
ہا ہوتا ہے کہ یحیٰی حضرت امام محمد تقی کو علمی بلندی سے بالکل واقف نہ تھا- وہ اپنے غرور علم اور جہالت سے یہ سمجھتا تھا کہ یہ کمسن صاحبزادے تو ہیں ہی- روزمرہ کے روزے نماز کے مسائل سے واقف ہوں تو ہوں مگر حج وغیرہ کے احکام اور حالت احرام میں جن چیزوں کی ممانعت ہے ان کے کفاروں سے بھلا کہاں واقف ہوں گے- امام علیہ السّلام نے اس کے جواب میں اس طرح سوال کے گوشوں کی الگ الگ تحلیل فرمائی, جس سے بغیر کوئی جواب اصل مسئلے کا دیے ہوئے آپ کے علم کی گہرائیوں کا یحیٰی اور تمام اہل محفل کو اندازہا ہو گیا, یحیٰی خود بھی اپنے کو سبک پانے لگا اور تمام مجمع بھی اس کا سبک ہونا محسوس کرنے لگا- آپ نے جواب میں فرمایا کہ تمہارا سوال بالکل مبہم اور مجمل ہے- یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شکار حل میں تھا یا حرم میں شکار کرنے والا مسئلے سے واقف تھا یا ناواقف- اس نے عمداً اس جانور کو مار ڈالا یا دھوکے سے قتل ہو گیا وہ شخص آزاد تھا یا غلام کمسن تھا یا بالغ پہلی مرتبہ ایسا کیا تھا یا اس کے پہلے بھی ایسا کر چکا تھا۔ شکار پرندکا تھا یا کوئی اور۔ چھوٹا یا بڑا۔ وہ اپنے فعل پر اصرار رکھتا ہے یا پشیمان ہے۔ رات کو یا پوشیدہ طریقہ پر اس نے شکار کیا یا دن دہاڑے اورعلانیہ۔ احرام عمرہ کا تھا یا حج کا۔ جب تک یہ تمام تفصیلات نہ بتائے جائیں اس مسئلہ کا کوئی ایک معین حکم نہیں بتایا جا سکتا- یحییٰ کتنا ہی ناقص کیوں نہ ہوتا بہرحال فقہی مسائل پر کچھ نہ کچھ اس کی نظر بھی تھی- وہ ان کثیر التعداد شقوں کے پیدا کرنے ہی سے خوب سمجھ گیا کہ ان کا مقابلہ میرے لئے آسان نہیں ہے- اس کے چہرے پر ایسی شکستگی کے آثار پیداہوئے جن کاتمام دیکھنے والوں نے اندازہا کر لیا- اب اس کی زبان خاموش تھی اور وہ کچھ جواب نہ دیتا تھا- مامون نے اس کی کیفیت کا صحیح اندازہا کر کے اس سے کچھ کہنا بیکار سمجھا اور حضرت علیہ السّلام سے عرض کیا کہ پھر آپ ہی ان تمام شقوں کے احکام بیان فرما دیجیئے , تاکہ سب کو استفادہ کا موقع مل سکے- امام علیہ السّلام نے تفصیل کے ساتھ تمام صورتوں کے جداگانہ جو احکام تھے بیان فرمائے یحیٰی ہکا بکا امام علیہ السّلام کا منہ دیکھ رہا تھا اور بالکل خاموش تھا- مامون کو بھی کد تھی کہ وہ اتمام حجت کو انتہائی درجے تک پہنچا دے اس لئے اس نے امام علیہ السّلام سے عرض کیا کہ اگر مناسب معلوم ہو تو آپ علیہ السّلام بھی یحییٰ سے کوئی سوال فرمائیں- حضرت علیہ السّلام نے اخلاقاً یحییٰ سے یہ دریافت کیا کہ »کیا میں بھی تم سے کچھ پوچھ سکتا ہوں?«یحییٰ اب اپنے متعلق کسی دھوکے میں مبتلا نہ تھا, اپنا اور امام علیہ السّلام کا درجہ اسے خوب معلوم ہو چکا تھا- اس لئے طرز گفتگو اس کا اب دوسراہی تھا- اس نے کہا کہ حضور علیہ السّلام دریافت فرمائیں اگر مجھے معلوم ہو گا تو عرض کر دوں گا ورنہ خود حضور ہی سے معلوم کر لوں گا, حضرت علیہ السّلام نے سوال کیا- جس کے جواب میں یحییٰ نے کھلے الفاظ میں اپنی عاجزی کا اقرار کیا اور پھر امام نے خود اس سوال کا حل فرما دیا- مامون کو اپنی بات کے بالا رہنے کی خوشی تھی- اس نے مجمع کی طرف مخاطب ہو کر کہا: دیکھوں میں نہ کہتا تھا کہ یہ وہ گھرانا ہے جو قدرت کی طرف سے علم کا مالک قرار دیا گیا ہے- یہاں کے بچوں کا بھی کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا- مجمع میں جوش و خروش تھا- سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ بے شک جو آپ کی رائے ہے وہ بالک ٹھیک ہے اور یقیناً ابو جعفر علیہ السّلام محمد ابن علی کو کوئی مثل نہیں ہے- مامون نے اس کے بعد ذرا بھی تاخیر مناسب نہیں سمجھی اور اسی جلسے میں امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ ام الفضل کا عقد کر دیا- نکاح کے قبل جو خطبہ ہمارے یہاں عموماً پڑھا جاتا ہے وہی ہے جو کہ امام محمد تقی نے اس عقد کے موقع پر اپنی زبان مبارک پر جاری کیا تھا- یہی بطور یادگار نکاح کے موقع پر باقی رکھا گیا ہے مامون نے اس شادی کی خوشی میں بڑی فیاضی سے کام لیا- لاکھوں روپیہ خیر و خیرات میں تقسیم کیا گیا اور تمام رعایا کو انعامات و عطیات کے ساتھ مالا مال کیا گیا-

مدینہ کی طرف واپسی

شادی کے بعد تقریباًً ایک سال تک بغداد میں مقیم رہے اس کے بعد مامون نے بہت اہتمام کے ساتھ ام الفضل کو حضرت علیہ السّلام کے ساتھ رخصت کر دیا اور امام علیہ السّلام مدینہ میں واپس تشریف لائے-

اخلاق و اوصاف

امام محمد تقی علیہ السّلام اخلاق واصاف میں انسانیت کی اس بلندی پر تھے جس کی تکمیل رسول اور آل رسول کا طرہ امتیاز تھی کہ ہر ایک سے جھک کر ملنا . ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا مساوات اور سادگی کو ہر حالت میں پیش نظر رکھنا. غرباً کی پوشیدہ طور پر خبر لینا اور دوستوں کے علاوہ دشمنوں تک سے اچھا سلوک کرتے رہنا . مہمانوں کی خاطر داری میں انہماک اور علمی اور مذہبی پیاسوں کے لیے فیصلہ کے چشموں کا جاری رکھنا آپ کی سیرت زندگی کا نمایاں پہلو تھا . بالکل ویسا ہی جیسے اس سلسلہ عصمت کے دوسرے افراد کا تھا جس کے حالات اس سے پہلے لکھے جاچکے ہیں . اہل دنیا کو جو آپ کے بلندی نفس کا پورا اندازہا نہ رکھتے تھے انھیں یہ تصور ضرور ہوتا تھا کہ ایک کمسن بچے کا عظیم الشان مسلمان سلطنت کے شہنشاہ کا داماد ہوجانا یقیناً اس کے چال ڈھال طور طریقے کو بدل دے گا اور اس کی زندگی دوسرے سانچے میں ڈھل جائے گی.حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا مقصد ہوسکتا ہے جو مامون کی کوتاہ نگاہ کے سامنے بھی تھا .بنی امیہ یابنی عباس کے بادشاہوں کا ال ُ رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا . جتنا ان کے صفات سے وہ ہمیشہ اس کے درپے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلے میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے . یہ کسی طرح ٹوٹ جائے . اسی کے لیے گھبرا گھبرا کر وہ مختلف تدبیریں کرتے تھے. امام حسین علیہ السّلام سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اورپھر امام رضا علیہ السّلام کو ولی عہد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ , فقط ظاہری شکل وصورت میں ایک کا اندازہا معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادات مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں صورتوں میں ایک تھی . جس طرح امام حسین علیہ السّلام نے بیعت نہ کی تو وہ شہید کر ڈالے گئے , اسی طرح امام رضا علیہ السّلام ولی عہد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ ساتھ نہ چل سکے تو آپ کو زہر کے ذریعے سے ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا گیا . اب مامون کے نقطۂ نظر سے یہ موقع انتہائی قیمتی تھا کہ امام رضا علیہ السّلام کا جانشین تقریباًً آٹھ برس کابچہ ہے جو تین برس سے پہلے باپ سے چھڑا لیاجاچکا تھا . حکومت وقت کی سیاسی سوجھ بوجھ کہہ رہی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقے پر لانا نہایت اسان ہے او را س کے بعد وہ مرکز جو حکومت ُ وقت کے خلاف ساکن اورخاموش مگر انتہائی خطرناک قائم ہے ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا . مامون امام رضا علیہ السّلام کو ولی عہد ی کی مہم میں اپنی ناکامی کو مایوسی کاسبب نہیں تصور کرتا تھا ,ا س لیے کہ امام رضا علیہ السّلام کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی .ا س میں تبدیلی اگر نہیں ہوتی تو یہ ضروری نہیں کہ امام محمد تقی علیہ السّلام جوآٹھ برس کے سن میں قصر حکومت میں نشو نما پا کر بڑھیں وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر بر قرا ر رہیں . سوائے ان لوگوں کے جوان مخصوص افراد کے خداداد کمالات کو جانتے تھے .اس وقت کا ہر شخص یقیناً مامون ہی کا ہم خیال ہوگا . مگر دنیا تو حیران ہوگئی جب یہ دیکھا کہ وہ آٹھ برس کا بچہ جسے شہنشاہ اسلام کا داماد بنایا گیا ہے اس عمر میں اپنے خاندانی رکھ رکھاؤ اور اصول کا اتنا پابند ہے کہ وہ شادی کے بعد محل شاہی میں قیام سے انکار کردیتا ہے اور اس وقت بھی کہ جب بغداد میں قیام رہتا تو ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام فرماتے ہیں . اس سے بھی امام علیہ السّلام کی مستحکم قوتِ ارادی کا اندازہا کیا جاسکتا ہے . عموماً مالی اعتبار سے لڑکی والے کچھ بھی بڑا درجہ رکھتے ہوتے ہیں تو وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ جہاں وہ رہیں وہیں داماد بھی رہے . اس گھر میں نہ سہی تو کم از کم اسی شہر میں اس کا قیام رہے . مگر امام محمد تقی علیہ السّلام نے شادی کے ایک سال بعد ہی مامون کو حجاز واپس جانے کی اجازت دینے پر مجبور کردیا . یقیناً یہ امر ایک چاہنے والے باپ اور مامون ایسے بااقتدار کے لیے انتہائی ناگوار تھا مگر اسے لڑکی کی جدائی گوارا کرنا پڑی اور امام علیہ السّلام مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے . مدینہ میں تشریف لانے ک(contracted; show full)ہ السّلام میں بڑے اخلاص اور اشتیاق قدم بوسی کا مظہر تھا- فوجی دستہ جو بھیجا گیا تھا وہ بظاہر سواری کے تزک و احتشام اور امام علیہ السّلام کی حفاظت کا ایک سامان تھا مگر جب حضرت علیہ السّلام سامرے میں پہنچ گئے اور متوکل کو اس کی اطلاع دی گئی تو پہلا ہی اس کا افسوسناک رویہ یہ تھا کہ بجائے امام علیہ السّلام کے استقبال یا کم از کم اپنے یہاں بلا کر ملاقات کرنے کے اس نے حکم دیا کہ حضرت کو »خاف الصعالیک« میں اتارا جائے,اس لفظ کے معنی ہی ہیں »بھیک مانگنے والے گداگروں کی سرائے« اس سے جگہ کی نوعیت کا پورے طور پر انداز
ہا کیا جا سکتا ہے یہ شہر سے دور ویرانے میں ایک کھنڈر تھا- جہاں امام علیہ السّلام کو فروکش ہونے پر مجبور کیا گیا- اگرچہ یہ مقدس حضرات خود فقرائ کے ساتھ ہم نشینی کو اپنے لئے ننگ و عار نہیں سمجھتے تھے اور تکلیفات ظاہری سے کنارہ کش رہتے تھے مگر متوکل کی نیت تو اس طرز عمل سے بہرحال تحقیر کے سوااور کوئی نہیں تھی- تین دن تک حضرت کا قیام یہاں رہا- اس کے بعد متوکل نے آپ کو اپنے حاجب رزاقی کی حراست میں نظر بند کر دیا اور عوام کے لئے آپ سے ملنے جلنے کو ممنوع قرار دیا- وہی بے گناہی اور حقانیت کی کشش جو امام موسٰی کاظم عل(contracted; show full)

ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔

 اگر دنیا کی عمر ختم ہو گئی ہو اور قیامت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اھلِ بیت میں سے ایک شخص کی حکومت قائم ہو سکے گی جو میرا ہم نام ہوگا ۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔