Difference between revisions 2233568 and 2272969 on urwiki

{{حوالہ دیں|}}
18 [[ذوالحجہ]] کو حجۃ الوداع سے واپسی پر [[محمد]] صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک چشمہ خم کے مقام پر [[صحابہ]] سے خطاب فرمایا۔ اس موقعہ پر قران کریم سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی:
{{اقتباس|يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ}}

اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ نے تمام ساتھ چلنے والوں کو روکا، جو آگے تھے ان کو واپس بلایا اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے آگے آنے کا انتظار کیا۔اس خطبہ کو خطبہ غدیر کہتے ہیں۔

== خطبہ==
*(٭)- غدیرِ خم میں پیغمبر ؐ کا خطبہ-(٭)*

(contracted; show full)اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر جدھر علی ؑ مڑیں "
[[[ یہ پوری حدیث غدیر یا فقط اس کا پہلا حصہ یا فقط دوسرا حصہ ان مسندوں میں آیا ہ ے ۔
( مسند احمد ابن حنبل ص -256
تاریخ دمشق ج-43 ، ص -207 ، 208 ،448
خصائص نسائی ص-181
المجمل کبیر ج-17 ، ص -39
سنن ترمذی ج -5 ، ص -633
المستدرک الصحیحین ج -213 ص- 135 // المعجم الاوسط ، ج- 6 ، ص- 95 // مسند ابی یعلی ج-1 ، ص -280 ، المحاسن والمساوی ، ص-41 // مناقب خوارزمی ص- 104 ، اور دیگر کتب۔ ]]