Difference between revisions 2278910 and 2544498 on urwiki

{{حوالہ دیں}}
اہل تشیع یا شیعہ



 (عربی: شيعة) اہل سنت کے بعد مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی کی امامت کا قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ کا جانشین مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع پہلے تین خلفاء کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ نے دعوت ذوالعشیرہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضرت علی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "جو میری مدد کرے گا وہ میرا وزیر میرا وصی اور خلیفہ ہوگا&q(contracted; show full)بق شیعیت کا آغاز پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور حیات میں اس وقت ہوا جب پہلی بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیہ [اولئک هم خیر البریه] کے تفسیر میں علی سے خطاب کرکے کہا "تو اور ترے شیعان قیامت کے دن سرخرو ہونگے اور خدا بھی تو اور تیرے شیعوں سے راضی ہوگا۔ اس وقت صحابہ میں سے چار لوگوں کو حضرت علی کا شیعہ کہا جاتا تھا: سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر[حوالہ درکار]
اہلسنت سے اختلاف

اہل تشیع کے اہل سنت سے اختلافات ہیں جن میں سے چند قابل ذکر ہیں۔


 1)# امامت
 2)# عدل

امامت
 ==== امامت ====
عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معانی راہنما یا سالار کے ہیں جو کسی بھی جماعت کی ‍قیادت کرے۔
روز مرّہ میں یہ لفظ مسجدوں میں نماز کی قیادت کرنے والے حضرات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کسی بھی فقہ کے بانی یا کسی بھی مذہبی و دیگر سوچ کے بانی کے لیے ان کے پیروکاروں کی طرف سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

عدل==== عدل ====
عدل سے مراد کسی شئے کو اس کے اصل مقام پر رکھ دینا ہے۔ عدل کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے۔ یعنی حق دار کو اس کا حق دینا عدل ہے، حق چھین لینا عدل نہیں ہے، ظلم ہے۔

خدا عادل اور انصاف کرنے والا ہے کیونکہ ظلم ایک قبیح فعل ہے اور خداوند متعال میں کوئی بھی عیب موجود نہیں ہوسکتا۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ خداوند متعال برے کام کرنے والے کو جنت عطا کردے اور اچھے کام کرنے والے کو دوزخ میں بھیج دے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خداوند متعال تمام مخلوقات سے انصاف کرے گا۔خدا کے تمام افعال حکمت اور مصلحت کے ساتھ ھہوتے ھہيں ۔ وہ کوئي بُرا کام نھيں کرتا اور نہ کسي ضروري کام کو ترک کرتا ہے ۔اُس ميں حسب ذيل نکات داخل ھيہیں :

  (۱) دنيا کے تمام افعال بجائے خود يا اچھے ھيہیں يا برے ۔ يہ اور بات ہے کہ کسي بات کي اچھائي ، برائي ھماري عقل پورے طور پر نہ سمجہ سکے ليکن اس کے معني يہ نھيں کہ حقيقةً بھي وہ اچھے يا برے نھيں ھيہیں ۔ خدا جو کام کرتا ہے وہ اچھا ھي ہوتا ہے ۔ برا کام وہ کبھي نھيں کرتا ۔ خدا ظلم اور نا انصافي سے بري ہے ، يہ نھيںھو سکتا کہ وہ بندوں کو غير ممکن باتوں کا حکم دے يا ايسے کام کرنے کا حکم دے جو بالکل فضول ھوں اور جن کا کوئي فائدہ نہ ھو ۔ اس لئے کہ يہ تمام باتيں نقص ھيہیں اور خدا ھر نقص سے بري ہے ۔


(۲) خدا نے انسان کو اُس کے افعال ميں خود مختار بنايا ہے يعني وہ جو کچھ کام کرتا ہے اپنے ارادہ و اختيار سے کرتا ہے ۔ بے شک يہ قدرت خدا کي طرف سے عطا کي ھوئي ہے اور جب وہ چاھتا ہے تو اس قدرت کو سلب کر ليتا ہے ليکن جب وہ قدرت کو سلب کرلے تو انسان پر ذمہ داري باقي نھيں رہ سکتي يعني اُ س صورت ميں جو کچھ سرزد ھو اُس پر کوئي سزا نھيں دي جاسکتي جيسے پاگل آدمي ۔ خدا بندوں کو اچھي باتوں کا حکم ديتا ہے اور بري باتوں سے روکتا ہے ۔ اچھے کاموں پر وہ انعام عطا کرتا ہے اور برے کاموں پر سزا ديتا ہے ۔ اگر اُس نے انھيں مجبور پيدا کيا ھو يعني وہ خود ان کے ھاتھوں سب کچھ کام کراتا ھو تو احکام نافذ کرنا اور جزا و سزا دينا بالکل غلط اور بے بنياد ھو گا ۔ خدا کي ذات ايسے غلط اور بے جا طرز عمل سے بري ہے ۔
  

(۳) خدا کو بندوں کے تمام افعال کا علم ھميشہ سے ہے ليکن اُس کا علم ان لوگوں کے افعال کا باعث نھيں ہوتا بلکہ چونکہ يہ لوگ ان افعال کو اپنے اختيار سے کرنے والے ھيہیں اس لئے خدا کو ان کا علم ہے ۔
  

(۴) خدا کے لئے عدالت کو ضروري قرار دينے کے يہ معني نھيں ھيہیں کہ وہ ظلم،فعل شر يا فعل عبث پر قادر نھيں ہے بلکہ يہ معني ھيہیں کہ خدا کي کامل ذات اور اُس کے علم و قدرت کے لئے يہ مناسب نھيں ہے کہ وہ ظلم وفعل شر وغيرہ کا ارتکاب کرے ۔ اس لئے اُس سے ان افعال کا صادر ھہونا بالکل غير ممکن ہے ۔خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل هيں جن ميں سے هم بعض کاتذکرہ کريں گے:١۔هر انسان، چاهے کسی بهی دين ومذهب پر اعتقاد نہ رکهتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا ہے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت ديں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کهيں تو خوشی کا اظهار کرتا ہے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا،جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواهشات کا حصول ہے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے ک(contracted; show full) ؤُْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ> ٥،قوانين واحکام <لَقَدْ ا رَْٔسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ا نَْٔزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ> ٦ اور قيامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب <وَقُضِیَ بَيْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُوْنَ> ١ ميں عادل ہے۔ --------------2 سورہ نحل، آيت ٩٠ ۔"باتحقيق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا ہے"۔ 3 سورہ اعراف، آيت ٢٩ ۔ "کہو ميرے رب نے انصاف کے سات
هھ حکم کيا ہے"۔ 4 سورہ ص، آيت ٢۶ ۔ "اے داو دٔ (ع)!هم نے تم کو روئے زمين پر خليفہ بنايا ہے تو تم لوگوں کے درميان بالکل ٹهيک فيصلہ کرو اور هویٰ وہوس کی پيروی مت کرو"۔ 5 سورہ آل عمران ، آيت ١٨ ۔"خدا نے خود اس بات کی شهادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نهيں ہے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم هيں (يهی شهادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نهيں ہے"۔ 6 سورہ حديد ، آيت ٢۵ ۔ "هم نے يقينا اپنے پيغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بهيجا ہے اور ان کے ساته ھکتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رهيں"۔ عن الصادق (ع) :((إنہ سا لٔہ رجل فقال لہ :إن ا سٔاس الدين التوحيد والعدل، وعلمہ کثير، ولا بد لعاقل منہ، فا ذٔکر ما يسهل الوقوف عليہ ويتهيا حفظہ، فقال: ا مٔا التوحيد فا نٔ لا تجوّز علی ربک ماجاز عليک، و ا مٔا العدل فا نٔ لا تنسب إلی خالقک ما لامک عليہ)) ٢ اور هشام بن حکم سے فرمايا: ((ا لٔا ا عٔطيک جملة في العدل والتوحيد ؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل ا نٔ لا تتّهمہ ومن التوحيد ا نٔ لا تتوهّمہ)) ٣ اور امير المومنين (ع) نے فرمايا:((کل ما استغفرت اللّٰہ منہ فهومنک،وکل ما حمدت اللّٰہ عليہ فهومنہ))

=== ذیلی فرقے

 ===

==== اثنا عشری

 ====
اثنا عشریہ (یعنی بارہ امام) ، اہل تشیع (یعنی شیعہ) کا سب سے بڑہ گروہ ماننا جاتا ہے۔ قریبا 80 فیصد شیعہ اثنا عشریہ اہل تشیع ہیں۔ ایران، آذربائجان، لبنان، عراق، اور بحرین میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔ پاکستان میں اہل سنت کے بعد اثنا عشریہ اہل تشیع کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اثنا عشریہ کی اصطلاح بارہ آئمہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد اور داماد علی علیہ السلام سے شروع ہوتا۔ یہ خلافت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین امام علی علیہ السلام ہیں اور کل بارہ امام ہیں جن کا تذکرہ احدیث میں آتا ہے۔ کم و بیش تمام مسلمان ان آئمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان آئمہ پر اعتقاد کے معاملہ خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ ان بارہ آئمہ کے نام یہ ہیں:

 1)# حضرت امام علی علیہ السلام
 2)# حضرت امام حسن علیہ السلام
 3)# حضرت امام حسین علیہ السلام
 4)# حضرت امام زین العابدین علیہ السلام
 5)# حضرت امام محمد باقر علیہ السلام
 6)# حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
 7)# حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
 8)# حضرت امام علی رضا علیہ السلام
 9)# حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
 10)# حضرت امام علی نقی علیہ السلام
 11)# حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
 12)# حضرت امام مھدی علیہ السلام

==== 1) حضرت امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ====
حضرت علی علیہ السلام (599ء (24 ق‌ھ) – 661ء (40ھ) ) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔
[1] حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آۓ اور وہیں پرورش پائی ۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا ۔ آپ کی عمر اس وقت تقریبا دس یا گیارہ سال تھی

فاطمہ سلام اللہ علیھا اور علی علیہ السلام کی زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی مرد اور عورت اپس میں کس طرح ایک دوسرے کے شریک ُ حیات ثابت ہوسکتے ہیں۔ اپس میں کس طرح تقسیم عمل ہونا چاہیے اور کیوں کر دونوں کی زندگی ایک دوسے کے لیے مددگار ہوسکتی ہے، وہ گھر دنیا کی ارائشوں سے دور , راحت طلبی اور تن اسانی سے بالکل علاحدہ تھا , محنت اور مشقت کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان اور اپس کی محبت واعتماد کے لحاظ سے ایک جنت بناہوا تھا، جہاں سے علی علیہ السلام صبح کو مشکیزہ لے کر جاتے تھے اوریہودیوں کے باغ میں پانی دیتے تھے اورجو کچھ مزدوری ملتی تھی اسے لا کر گھر پر دیتے تھے .بازار سے جو خرید کر فاطمہ سلام اللہ علیھا کو دیتے تھے اور فاطمہ سلام اللہ علیھا چکی پیستی , کھانا پکاتی اور گھر میں جھاڑو دیتی تھیں , فرصت کے اوقات میں چرخہ چلاتی تھیں اور خود اپنے اور اپنے گھر والوں کو لباس کے لیے اور کبھی مزدوری کے طور پر سوت کاتتی تھیں اور اس طرح گھر میں رہ کر زندگی کی مہم میں اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی تھیں .

 1# جہاد
 2# خدمات
 3# اعزاز
 4# بعدِ رسول
 5# خلافت
 6# شہادت
 7# اولاد
 8 حوالہ جات
 9 بیرونی روابط
جہاد


مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا . آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا . بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں .پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں، یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی , اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوںنے کہ آپ کو(contracted; show full) کی فتح کا سہرا حضرت علی علیہ السلام کے سر رہا .جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے . تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو تنہا بھیجا اورانھوں
  نے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام نے بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت ُ نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمر وبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا . آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے . صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ کچھ دیر ک(contracted; show full)

ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔

 اگر دنیا کی عمر ختم ہو گئی ہو اور قیامت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اھلِ بیت میں سے ایک شخص کی حکومت قائم ہو سکے گی جو میرا ہم نام ہوگا ۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔