Difference between revisions 2734825 and 2772056 on urwiki'''خلیل فرحتؔ۱۶؍اپریل ۱۹۳۴ء کو بمقام کارنجہ ضلع واشم(مہاراشٹر) میں پیدا ہوئے'''۔شرف تلمذ خود کسی سے نہیں کی۔ انہوں نے اسی ضمن میںمجھے لکھا ہے کہ،[http://khalilfarhat.yolasite.com/]<ref>http://khalilfarhat.yolasite.com/</ref> == ’میں استادی شاگردی کا قائل نہیں۔ اس لئیے اپنے ذوق ِسلیم کی رہنمائی میں شعری سفر جاری ہے۔ شاعری کی تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔‘‘ == ان کی محبوب صنف سخن ’’غزل ‘‘ہے’’تضامین، قطعات ،پیروڈی ‘کا ایک وافر ذخیرہ موجود ہے۔مگر ابھی تک کوئی شعری مجموعہ طبع نہیں ہوا۔ البتہ ان کے بیٹے وسم فرحتؔ کارنجوی صاحب نے اطلاع دی ہے کہ خلیل فرحتؔ صاحب کا دیوان بعنوان ’’زخم ِہنر‘ ‘اشاعت کی منزلیں طے کررہا ہے۔اور بہت جلد منظر عام پر آجائے گا۔انہوں نے مجھے ۲۸؍جنوری ۲۰۰۴ء کو خط لکھتے ہوئے ایسی کئی مفید اطلاعات رقم کی ہیں ، خود مجھے طرفہ قریشی صاحب کے تعلق سے(contracted; show full)ہیں غزل سے خصوصی نسبت رہی ہے مگر کئی اور اصناف شعری پر قدرت کاملہ حاصل ہے۔ قطعات اور پیروڈی لکھنے میں انہیں زیادہ خوشی میسر آئی ہے ۔غزل انکے مزاج و اطوار سے قدرے زیادہ قریب ہے۔ غزل کی اپنی روایت اور اپنی شناخت کی تاریخ بھی ہے اور تہذیب بھی ۔یہ وہ صنف ہے جو اپنی ایمایت کی بنیاد پر دوسری اصناف کے تقابل میں کہیں زیادہ وقعت و رفعت رکھتی ہے۔اور اسی بنائے خصوصی پر اپنی حاکمیت قائم رکھتی اور آج بھی غزل کا سکہ جاری و ساری ہے۔دلوں کو متحیر کرلینے اور عقلی منازلت کے کئی درجات کا حصول اسکی باطنہ قوت کا مظہر ہے۔اسی ل ئیے غز ل کا ہر اچھا شعر اپنی کوئی نہ کوئی خوبی ٔ خاص کا مظہر ہوتا ہے۔غزل کا یہی رنگ و آہنگ فرحت ؔکی گفتگو میں، خاموشی میں اور چشم بینی میں بھی موجود ہے۔انہوں نے غزل کی بنیادی سرشت کو ہی نہیں ’’عصر ‘‘کو بھی کسی رو سے کبھی بھی غیر حاضر نہیں کیا بلکہ عصر اور اس سے متعلق ہر فکری و ذہنی روش کو گویائی عطا کی ۔معاشرتی خدو خال ، غم و آلام، حیات و کائنات اور انسانی خصلتوں سے متعلقہ ہر خفی و جلی حسیت کو بھی نمورنگ کیا۔ان کی غزلوں سے زندگی کا نور، طہارت و شرافت اور محبت کے عناصر ہم رشتہ ہیں۔ ملاحظہ ہو اشعار ؎ حیران ہوں میں فرحت ؔ یہ دیکھ کہ نظارہ اک چھوٹے سے کنکر نے دریا کا سکوں چھینا مفلسی میں بھی نہ اپنی شانِ خودداری گئی بارہا پاؤں کی ٹھوکر میں خزینہ آگیا صداقتوں پہ زمیں اور تنگ کیا کرتے وہاں کے لوگ منافق تھے جنگ کیا کرتے دعا کو ہاتھ اٹھاتے نہ ہم تو کیا کرتے زمانہ بول رہا تھا خدا کے لہجے میں اک تبسم کے لئیے سو بار آنکھیں نم ہوئیں زندگی اے زندگی تو نے رلایا ہے بہت جدھر بھی دیکھئے میلہ ہے خود فروشوں کا خودی کی بات بھی کرنا ہے اب خطا کرنا میںوہ نہیں جو مقدر پہ ہاتھ ملتا ہے مرا عمل تو ہواؤں کے رخ بدلتا ہے یوں تو ہر ایک کا قد مجھ سے بڑا ہے لیکن مجھ کو بتلاؤ کہ ہیں میرے برابر کتنے؟ یہ تو ممکن ہے کہ ملبوس کو میلا دیکھو کاٹ دینا جو مرے ہاتھ کو پھیلا دیکھو راتوں کو چاند بوئے یہاں نفرتوں کے بیج سورج کے ساتھ ساتھ اُگے فتنہ و فساد خلیل فرحتؔ کی یہی غزلیہ سرشت ہے جس نے ان کی شعری روش کو منتہائے خصوص تک پہونچا نے کی سعی کی۔ ان کی غزلوں میں انکی اپنی روش نیک موجود ہے۔اسی لئیے ان کے شعروں میں گداختگی بھی ہے اور فروتنی بھی۔ اس طرح انہوں نے اپنی نظموں میں اور درونِ قطعات بھی اخلاقیہ سرشت کی کاشت کی ہے۔ بیس نکات ، دیوالی ، قومی یکجہتی (پیروڈی) اور خراشیں اسی نوعیت کی عمدہ نظمیں ہیں ؎ دوالی آتے ہی کیسے بدل گیا ماحول نئی زمین، نیا آسمان لگتا ہے ہر ایک در پہ ہر اک گھر پہ نورکی بارش نگر اجالوں کا ہندوستان لگتا ہے یہی خوبی ٔ ادراک ان کی قطعہ بینی میں بھی مضمر ہے ان کی قطعہ نگاری بھی ان کی فنی نوشتہ کاری کی اچھی مثال ہے۔ ملاحظہ ہو ایک قطعہ : ہم زمانے میں ہیں مشہور فسانوں کی طرح جس کو چاہا اسے چاہا ہے دِوانوں کی طرح دشمنوں پر تو لپک جاتے ہیں تیروں کی مثال دوست کے سامنے جھک جاتے ہیں کمانوں کی طرح یہی انکا شعری ادراک ہے جو کلام میں لفظ تا لفظ خوشبوئے حنا کی طرح مستور بھی ہے اور پرفشاں بھی ہے۔ حیات جہدِ مسلسل کا نام ہے فر حتؔ جمود سے بھی مقدر کہیں بدلتا ہے [[زمرہ:PHOTO|تصویر خلیل فرحت کارنجوی]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2772056.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|