Difference between revisions 2766762 and 2766770 on urwiki

'''حالاتِ زندگی'''

(کافروں سے لڑکربچنے والے کو غازی کہا جاتا  ہے۔[[ٓعظمت سادات و صوفیاے کرام نثٓار بخاری|[1]]]

حضرت سیدسُلطان شاہ غازی رحمۃاللہ علیہ کی زیارتسید سُلطان شاہ غازی''' کا مزار [[تحصل سُرنکوٹ]] سے [[پونچھ]] جاتے ہوئے راستے میں ایک مقام، شیندرہ جو سرنکوٹ سے ۱16 کلومیٹر  اور پونچھ سے ۱۵15 کلومیٹر  کی دوری پر  موجود ہے  

== حالات زندگی ==
بابا سید سلطان شاہ غازی رحمۃاللہ علیہ کے بارے میں کوئی تحریرقلمی نسخہ، کوئی کتاب دستیاب نہیں ہے جو کچھ دستیاب ہے وہ سینہ بہ سینہ روایت چلی آرہی ہے  آپ  (پاکستان نو) کی سیداں کسرواں تحصیل گوجرخان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے

ابتدأئی تعلیم وہیں  حاصل کی  وہاں کچھ عرصہ دعوت تبلیغ ونصیحت کی اُن کی بزرگی صاحب دلی اور خدا پرستی کی شہرت ہر طرف پھیل گئی۔ وہاں سے آپ کشمیر بمقام  (کریری شریف کشمیر) تشریف لائے آپ کا سلسلہ نسب حضرت [[امام حسین]] سے جاملتا ہے،  آپ کے والد صاحب کا نام سیّد کرم شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ تھا،  آپ چار بھائی تھے،  سید فیض علی شاہ غازی،  نصیر  الدین شاہ غازی،  اَبو  بکر شاہ غازی۔[[<ref>تاریخ اولیائے جموں و کشمیر محمد اسیر کشتواڑی|[۲]]]</ref>

جب آپ پونچھ تشریف لائے تو  اس وقت یہاں مسلم پہاڑی راجاؤں کی حکومت کا آغاز سراج الدین سے ہو  ا جو در اصل [[جود پُور]] کے شاہی خاندان کا ممبررکن تھا  ۔  وہ جود پُور کے راجہ اودھے سنگھ کے بیٹے جسونت سنگھ کا پوتا تھا  ۔  اور اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام سراج اُلدین رکھا تھا تبدیلی مذہب کی وجہ سے اس کے ساتھ اختلاف ہو گئے اور وہ وہاں سے ہجرت کر کے کہوٹہ میں آباد ہو گیا ۔جہاں اس نے جیب چوہان کی بیٹی کے ساتھ شادی کی۔ حالانکہ اس کی پہلی بیوی نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ اس کے ہمراہ کشمیر آگئی تھی جیب چوہان کی وفات کے بعد اس کی وراثت سراج اُلدین نے سنبھالی۔  اسی دوران میں جب مغل بادشاہ اکبر نے اپنے بیٹے جہانگیر کے ساتھ کشمیر کا دورہ کیا ۔  تو سراج الدین نے مغل بادشاہ اور شہزادہ جہانگیر کی بہت خدمت خاطر اور تواضع کی جس سے متاثر ہو کر اکبر نے سراج اُلدین کو پونچھ کا حکمران بنادیا۔ اس طرح پونچھ پر مسلم پہاڑی راجاؤں کی حکمرانی کا آغاز ہوا اس کے بعد راجہ فتح محمد خان کی حکومت رہی[[<ref>تاریخ اقوام پونچھ محمد دین فوق|[۳]]]

حضرت</ref>

سید سلطان شاہ غازی عبادت و ریا  ضت و مجاہدہ میں یکتائے روزگار تھے  ۔  سادات زمانہ میں برگزیدہ اور کار معرفت کے محرم راز، صاحبِ طریقت ،اربابِ سیادت کے پیشوا کرامات میں مشہور و معروف تھے خلوت نشینی ،چلہ کشی، زہد وتقوی وعبادت الٰہی میں کما ل عروج حاصل تھا ۔ جب آپ کی موضع شیندرہ میں تشریف آوری ہوئی تو اُس وقت یہاں کچھ خاص آبادی نہیں تھی البتہ کچھ گنے چنے لوگوں کی اطلاع موصول ہوتیں ہیں۔  گھنے جنگلوں نے اس علاقے کو گھیر  رکھا تھا یہاں لوگوں سے زیادہ شیروں کی آبادی تھی اور جو گنے چنے لوگ یہاں رہتے تھے ان کو یہ شیر تنگ کرتے تھے خوفزدہ لوگوں نے آپ کے پاس التجاکی آپ نے ایک بڑا بکرا ذبح کرکے شیر کو پیش کردیا اور لوگوں کو نجات مل گئی۔  آپ نے یہاں ایک مسجد تعمیر کرائی ایک سادا کچہ حجرہ چلہ کشی کے لئیے اور وہی عبادت، تسبیح و تحلیل میں مشغول رہے۔  اس گاؤں کے گھنے جنگلوں میں انسانیت کو آباد کرنے والے،دعوت و تبلیغ اور اپنےکردارو عمل سے یہاں محبت،اخوت،مودت اور مساوات کا درس اگر کسی پہلی شخصیت نے دیا وہ مذکورہ بالا بزرگ جو  سلطان شیندرہ کے لقب سے ملقب ہیں۔  سلطان شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کی تبلیغی سرگرمیوں کے طفیل گاؤں شیندرہ اور مضافات میں اسلامی تصوف کو خاصا فروغ حاصل ہوا ہے جس کا تمام دارومدار کتاب و سنت پر تھا وہ اسلامی اصولوں اور [[سنت|سنت رسول]] سے باہر جانے کے قائل نہ تھے چنانچہ ان کی تبلیغ کی وجہ سے گاؤں میں مسلمان کافی حد تک مقامی اثرات اورا فراط و تفریط سے محفوظ ہیں۔

'''== کشف و کرامات'''

1)      ==
# لنگر سلطانیہ کے نیچے ایک نالہ بہتا ہے کہا جاتا ہے کہ نالہ کے کنارہ جو لنگر کی سمت میں ہے وہاں ایک پیڑ تھا آپ نے ایک مرید کو حکم دیا کہ پانی کے چند قطرے چنار کی جڑوں میں ڈال دیں ایسا کرنے سے اس پیڑ کے نیچے سے پانی کا ایک چشمہ پھوٹا یہ چشمہ آج بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ بہہ رہا ہے۔

2)     # ایک دفع تیز طوفانی بارش ہوئی اور سیلابی شکل اختیار کرلی حضرت کی درگاہ بالکل نالہ کے ساتھ رہی یہاں اونچی اور لمبی لمبی پہاڑی چوٹیاں ہیں جب سارے گاؤں کا پانی جمع ہوکر ایک سیلاب اُمنڈ تا ہوا درگاہ کی طرف آیا قدرت کی طرف سے ایسا ہوا کہ ایک سرکاری اسکول کی چھت کی ٹین کی چادریں اُڑیں اور درگاہ کے سامنے تہہ در تہہ ڈھال بن گئیں چھت کی لکڑیاں پانی سے تہرتی ہوئی اور بل کھاتی ہوئیں اُس پار چلی گئی اور پانی نے اپنی سمت تبدیل کرلی  ۔

3)    # راقم الحروف نے خود دیکھا ہے کہ جب گاؤں میں کشیدگی پھیلی ہوئی تھی ملی ٹینسی کا دور دورہ تھا موضع کلائی کی فوج گاؤں کی تلاشی کے لئیے آئی اور واپسی پر درگاہ کے ساتھ ایک گھنا جنگل ہے اور خصوصی طور پر درگاہ کے ارد گرد چنار اور  منو (مقامی پیڑ)  کے بڑے اور پرانے درخت ہیں یہاں سے جنگلی مرغوں کو مار کر لے گئے فوجی سربراہ نے جب مرغے کھائے تو رات کو بطن سے مرغ کی  بانگ (مرغ کی آواز )سنائی دی صبح ہوتے ہی فوجی سربراہ نے اپنے عملے کے ساتھ درگاہ پر حاضری دی اور معافی مانگی اور ایک بڑی مقدار میں  نزرو نیاز  چڑھائی ۔[[ٓ۔<ref>عظمت سادات و صوفیاے کرام نثٓار بخاری|[۴]]]

'''لنگر شریف'''

          </ref>

== لنگر ==
یوں تو ہر بزرگ کا مزار قومی یکجہتی اور اتحاد کا نمونہ پیش کرتا ہے لیکن بابا صاحبسید سلطان شاہ غازی کے مزار پر جو قومی یکجہتی اور اتحاد نظر آتا ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتا عجیب پُر کیف اور روح پرور منظر ہوتا ہے ۔قومی اتحاد کا ایک بڑا ثبوت ان کا لنگر ہے ۔ہزاروں عقیدت مند بابا کے دربار پر آتے ہیں جبین نیاز جھکاتے ہیں فاتحہ کو ہاتھ اُٹھاتے ہیں  ۔  نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور سکون پاتے ہیں فقر و درویشی کے باوجود آپ کی خانقاہ سخاوت اور فیاضی کیلئے لیے مشہور تھی مطبخ میں جتنا بھی کھانہ پکتا تھا وہ تمام غرباء و مساکین میں تقسیم ہو جاتا تھا ۔آج بھی آپ کے مزار پر ایک وسیع لنگر جاری ہے اور ہر غرباء و مساکین اور مفلوک الحال اس سے فیضیاب ہوتے ہیں  ۔ آخر کار تبلیغ حق کی یہ روشن قندیل ایک عرصہ تک اس گاؤں کو نور و ایمان سے منور کرکے (۱۰)دس ربیع الاول ۱۱6۰1160 ہجری کوسرائے فانی سے عالم بقا کو تشریف لے گئے[[<ref>تاریخ سادات محمد سلطان|[۵]]]</ref> اس مست قلندر کی تربت کی نشاندہی کیلئے لیے ہلکی سی کچی چار دیواری کی گئی تھی اور تربت پر ایک کتبہ آویزا ں تھا جن پر ان کی تاریخ وصال لکھی ہوئی تھی ان کے عقیدت مندو  ں نے چشم پُر نم سے انہیں سفر آخرت پر الوداع کیا آج بھی گاؤں میں ان کے پھیلائے ہوئے نور کی کرنیں اُجالا کر رہی ہیں آپ نے اس علاقہ میں اسلامی تہذیب و تمدن کو حیا ت نو بخش کر ایک منفرد تاریخ رقم کی ۔ حضرت۔ سلطان شاہ غازی رحمۃاللہ علیہ کی ذات مسوّدہ صفات سے گاؤں کے لوگوں کو بہت محبت ہے اس وجہ سے موصوف کی با برکت اور با عظمت زیارت گاہ عقیدت مندوں کیلئے لیے مرکز سعادت و رحمت ہے عقیدت مند مرد ،چھوٹے ،بڑے والہانہ طور پر دن رات اس مرکز سعادت و ہدایت پر جوق در جوق آتے رہتے ہیں ۔ باشندگان محلہ خصوصی ایام میں نہایت احترام اور خوش اعتقادی سے آپکی فاتحہ دلاتے ہیں علاوہ قصبہ کی رعایا نہایت خوش اعتقادی سے پنجشنبہ و دیگر ایام میں لوبان و اگربتی کی خوشبوہات سے مزار کو معطر کرتے ہوئے چادریں چڑھاتے شیرینی و بتاشے وغیرہ نذر کرتے اپنی مرادیں منتیں مانگتے ہیں۔ چونکہ روحانیت سے لگاؤ آپ کو وراثت میں ملا تھا آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشین آپ کے صاحبزادے سید  احمد شاہ غازی رحمةالله عليه ہوےہوئے آپ بھی صاحب کشف وکرامات تھے آپ بھی اپنا بیشتروقت عبادت و ریاضت میں گزارتے کہا جاتا ہے کہ آپ نے تقریبّا دس سال تک چلہ کشی کی آپ کے دو اور بھائی بھی تھے جن کے اسماء محمد شاہ اور غلام شاہ  ۔ آپ کی تر بت بھی اپنے والد کے دامن میں ہے۔

==حوالہ جات==
{{حوالہ_جات}}