Difference between revisions 2766957 and 2768688 on urwiki

= محل وقوع =
'''سید سُلطان شاہ غازی''' کا مزار [[تحصل سرنکوٹ]] سے [[پونچھ]] جاتے ہوئے راستے میں ایک مقام، شیندرہ جو سرنکوٹ سے 16 کلومیٹر اور پونچھ سے 15 کلومیٹر کی دوری پر موجود ہے

==شجرہ نسب ==

سید سلطان شاہ غازی بن سید کرم شاہ غازی بن جعفر شاہ غازی بن اسحاق الحق شاہ بن موسی شاہ غازی بن قاسم شاہ غازی بن محمد عالم شاہ غازی بن غیاث الدین شاہ بن امام طاہر شاہ غازی بن عبد اللہ شاہ غازی بن ابو القاسم شاہ بن علاءالدین شاہ غازی بن عنایت شاہ غازی بن حیات محمد شاہ غازی بن اسمعیل شاہ غازی بن کمال شاہ غازی بن حسین شاہ بن احمد شاہ غازی بن زینب الدین شاہ غاذی بن نصیر الدین شاہ غازی بن عبد الکریم شاہ غازی بن وجہ الدین شاہ غازی بن ولی اللہ دین شاہ غازی بن محمد ثانی الغازی شاہ بن فیروز دین شاہ بن رضا دین شاہ بن سلطان ابو القاسم شاہ بن شاہ میر شاہ بن اسحاق شاہ بن موسی شاہ بن اول قاسم عبد اللہ شاہ بن محمد اول شاہ بن عالم شاہ بن ادریس شاہ بن ہارون شاہ بن یحی شاہ بن ابو بکر شاہ بن اسمعیل شاہ بن پیر مخدوم شاہ بن امام اسحاق الحق بن حضرت امام جعفر قدسی شاہ بن حضرت امام نقی بن امام تقی بن حضرت امام علی موسی رضا بن حضرت امام موسی کاظم بن حضرت امام جعفر صادق بن حضرت امام باقر بن حضرت امام زین العابدین بن حضرت امام حسین  ۔

راقم الحروف سید نثار بخاری کے  اجداد   بھی حضرت سید سلطان شاہ غازی ہیں۔ نثار بخاری اور سید سرفراز بن الطاف حسین شاہ بن فرمان شاہ بن مہتاب شاہ بن حسن علی شاہ بن حضرت سید اکبر شاہ غازی بن حضرت سید احمد شاہ غازی بن سید سلطان شاہ غازی
== حالات زندگی ==
بابا سید سلطان شاہ غازی (پاکستان نو) کی سیداں کسرواں تحصیل گوجرخان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے



  ابتدأئی تعلیم وہیں  حاصل کی  وہاں کچھ عرصہ دعوت تبلیغ ونصیحت کی اُن کی بزرگی صاحب دلی اور خدا پرستی کی شہرت ہر طرف پھیل گئی۔ وہاں سے آپ کشمیر بمقام (کریری شریف کشمیر) تشریف لائے آپ کا سلسلہ نسب [[امام حسین]] سے جاملتا ہے، آپ کے والد کا نام سیّد کرم شاہ غازی تھا، آپ چار بھائی تھے، سید فیض علی شاہ غازی، نصیر الدین شاہ غازی، ابو بکر شاہ غازی۔<ref>تاریخ اولیائے جموں و کشمیر محمد اسیر کشتواڑی</ref>





  جب آپ پونچھ تشریف لائے تو اس وقت یہاں مسلم پہاڑی راجاؤں کی حکومت کا آغاز سراج الدین سے ہوا جو در اصل [[جود پور]] کے شاہی خاندان کا رکن تھا۔ وہ جود پُور کے راجہ اودھے سنگھ کے بیٹے جسونت سنگھ کا پوتا تھا۔ اور اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام سراج اُلدین رکھا تھا تبدیلی مذہب کی وجہ سے اس کے ساتھ اختلاف ہو گئے اور وہ وہاں سے ہجرت کر کے کہوٹہ میں آباد ہو گیا ۔جہاں اس نے جیب چوہان کی بیٹی کے ساتھ شادی کی۔ حالانکہ اس کی پہلی بیوی نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ اس کے ہمراہ کشمیر آگئی تھی جیب چوہان کی وفات(contracted; show full)پھیلی ہوئی تھی ملی ٹینسی کا دور دورہ تھا موضع کلائی کی فوج گاؤں کی تلاشی کے لیے آئی اور واپسی پر درگاہ کے ساتھ ایک گھنا جنگل ہے اور خصوصی طور پر درگاہ کے ارد گرد چنار اور منو (مقامی پیڑ) کے بڑے اور پرانے درخت ہیں یہاں سے جنگلی مرغوں کو مار کر لے گئے فوجی سربراہ نے جب مرغے کھائے تو رات کو بطن سے مرغ کی  بانگ (مرغ کی آواز )سنائی دی صبح ہوتے ہی فوجی سربراہ نے اپنے عملے کے ساتھ درگاہ پر حاضری دی اور معافی مانگی اور ایک بڑی مقدار میں  نزرو نیاز چڑھائی۔<ref>عظمت سادات و صوفیاے کرام نثٓار بخاری</ref>


= '''آپ کے اقوال زریں'''

 =
1)   ایک مسلمان کی عزت و مال ایک دوسرے مسلمان سے محفوظ ہو ۔

2) دنیا میں تمہیں دنیا پانے کیلئے نہیں بلکہ آخرت پانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

3) سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ آدمی کسی کے دل کو راحت پہنچائے ۔

4) اگر کو ئی شہرت کی خاطر عبادت و ریاضت کرتا ہے تو وہ کافر ہے ۔

= '''سخاوت'''

 =
    آپ کے مرید و معتقد بطور نزرانہ جو تحفہ و تحائف و رقوم آپکی خدمت میں پیش کرتے تھے وہ آپ اسی وقت غریبوں میں تقسیم فر مایا کرتے تھے آپ دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دیتے تھے۔

= '''اخلاق و عادات'''

 =
تمام عمر عشق الٰہی میں ڈوبے رہنے کے ساتھ ساتھ آپ نشہ محبت رسولﷺ سے بھی سرشار تھے 

== لنگر ==
یوں تو ہر بزرگ کا مزار قومی یکجہتی اور اتحاد کا نمونہ پیش کرتا ہے لیکن بابا سید سلطان شاہ غازی کے مزار پر جو قومی یکجہتی اور اتحاد نظر آتا ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتا عجیب پُر کیف اور روح پرور منظر ہوتا ہے ۔قومی اتحاد کا ایک بڑا ثبوت ان کا لنگر ہے ۔ہزاروں عقیدت مند بابا کے دربار پر آتے ہیں جبین نیاز جھکاتے ہیں فاتحہ کو ہاتھ اُٹھاتے ہیں۔ نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور سکون پاتے ہیں فقر و درویشی کے باوجود آپ کی خانقا(contracted; show full)یگر ایام میں لوبان و اگربتی کی خوشبوہات سے مزار کو معطر کرتے ہوئے چادریں چڑھاتے شیرینی و بتاشے وغیرہ نذر کرتے اپنی مرادیں منتیں مانگتے ہیں۔ چونکہ روحانیت سے لگاؤ آپ کو وراثت میں ملا تھا آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشین آپ کے صاحبزادے سید احمد شاہ غازی ہوئے آپ بھی صاحب کشف وکرامات تھے آپ بھی اپنا بیشتروقت عبادت و ریاضت میں گزارتے کہا جاتا ہے کہ آپ نے تقریبّا دس سال تک چلہ کشی کی آپ کے دو اور بھائی بھی تھے جن کے اسماء محمد شاہ اور غلام شاہ۔ آپ کی تر بت بھی اپنے والد کے دامن میں ہے۔

==حوالہ جات==
{{حوالہ_جات}}