Difference between revisions 2768491 and 2768492 on urwiki

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

الصلواة و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم

بفیضانِ نظر حضور صدرالصدور قطب الاقطاب اعلیٰ حضرت علامہ جیلانیؓ چاند پوری 

جانِ حسنؑ حضور سیدنا عبداللہ الاشتر المعروف بہ حضرت عبداللہ شاہ غازی

(contracted; show full) جاسکتا۔ مو رخین نے بھی منصور کی اس سنگ دلی پر حیرت کا اظہار کیا ہے کیونکہ بنی امیہ تو آلِ رسول ﷺ کے کھلم کھلا دشمن تھے، منبر سے حضرت علی ؑ اور جنابِ سیدہ بی بی فاطمہ ؑ اور ان کی اولاد کو نعوذباللہ(نقلِ کفر کفرناباشد) گالیاں دیتے تھے لیکن عباسیوں اور علویوں میں تو قریبی رشتہ موجود تھا اور بنی امیہ کے دور میں عباسی اور علوی شیر و شکر تھے۔ منصور نے سادات پر اور بالخصوص حسنی سادات پر اتنے زیادہ ظلم کئے ہیں اور اتنا قتل و غارت کیا ہے کہ منصور کے جرائم کی فہرست یزید کے جرائم سے کسی طرح بھی کم نہیں۔             
حضرت سیدنا عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جو مصائب درپیش آئے اور جن دردناک حالات سے ان کو گزرنا پڑا، اس کو جانچنے کےلئے ہمیں ان کے والد ماجد، چچا جان اور دادا جان کے حالات پر نظر ڈالنی ہوگی تاکہ واقعات کا تسلسل قائم رہے۔ بادشاہ منصور (جس کو مورخین خلیفہ منصور لکھتے ہیں) نے حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے بیٹوں اور پوتوں سمیت اپنے قیدخانے میں ڈلوادیا تھا۔ یعنی یہ کہ حضرت امام عالی مقام مولا حسن علیہ السلام کی اولادم یں کوئی فرد ایسا نہ تھا جو قید نہ کیا گیا ہو۔ لیکن ابھی حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ منصور کے سپاہیوں کی گرفت میں نہ آئے تھے۔ سن 144ھ میں جب منصور حج کرنے گیا تو حضرت سیدی عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے دونوں بیٹوں محمد مہدی اور محمد ابراہیم (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کو میرے حوالے کردو۔ حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کے ٹھکانے سے لاعلمی ظاہر کی اور خود منصور سے ملنے کی خواہش کی۔ منصور نے کہا کہ جب تک تم اپنے بیٹوں کو حاضر نہ کرو گے میں تم سے ملنا نہیں چاہتا۔ اس کے بعد منصور نے حکم دیا کہ ان تمام قیدی حسنی سادات کو ہمارے پاس عراق بھیج دیا جائے۔ منصور کے سپاہیوں نے ان ساداتِ کرام کو طوق ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر بغیر کجاوہ کے اونٹوں پر سوار کرایا اور سخت نگرانی میں عراق روانہ کردیا۔ راستے میں حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھیس بدل اپنے والد حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی اور اپنے خاندان کی دردناک حالت اور مصائب دیکھ کر خروج کی اجازت چاہی لیکن حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی۔ جب یہ مظلوم قیدی عراق پہنچ گئے تو حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بھائی حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عراق کی طرف روانہ کیا کہ تم وہاں جا کر لوگوں پر آلِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ڈھائے گئے ان بدترین ظلم و ستم کو بیان اور عباسیوں کی مخالفت پر آمادہ کرو ورنہ ان کی دشمنی سادات کے ایک ایک فرد کو ختم کردے گی۔ نسلِ رسول ﷺ بالخصوص ساداتِ حسنی کی بقا و سلامتی کو شدید خطرات لاحق تھے۔بادشاہ دنیا سے ان کا نام و نشان مٹادینا چاہتا تھا۔ خود حضرت مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حجاز میں موجود رہے۔ منصور نے اپنی فوج کو مدینہ بھیج دیا تاکہ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرفتار کرلے۔ اہلِ مدینہ کے بیشتر لوگ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ بہرحال دونوں طرف کی افواج میں بہت جنگ ہوئی۔ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی، پھر بھی ان کے ساتھیوں نے جم کر مقابلہ کیا۔ آخر میں حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کم و بیش تین سو ساتھی رہ گئے۔ ان کے ساتھیوں نے اپنی سواریوں کے پاو ¿ں کاٹ ڈالے اور تلواروں کی نیامیں توڑ دیں اور مرنے مارنے کی قسمیں کھا کر دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ یہ حملہ اتنا زور دار تھا کہ دشمن کی فوج بھاگ کھڑی ہوئی لیکن دشمن کی فوج کے کچھ چالاک لوگ پہاڑ پر چڑھ کر دوسری طرف سے مدینہ شریف میں داخل ہوگئے اور ایک عورت کا سیاہ دوپٹہ لے کر اس کو مسجد کے مینارہ پر پرچم کی طرح لگادیا۔ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج   یہ سمجھی کہ منصور کی فوج نے مدینہ شریف پر قبضہ کرلیا ہے، وہ پیچھے کی طرف متوجہ ہوئے۔ دوسری طرف سے دشمن کے بھگوڑے فوجیوں نے پھر حملہ کردیا۔ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس موقع پر بھی اس قدر بہادری سے لڑے کہ ہر شخص انگشتِ بدنداں رہ گیا۔ آخر ایک ملعون نے پیچھے سے ان کی کمر پر وار کیا۔ زخم اتنا کاری تھا کہ جیسے ہی ان کا جسم نڈھال ہوا تو ایک اور شخص نے سامنے کی طرف سے سینہ ¿ مبارک پر وار کیا اور ان کے سرِ اقدس کاٹ کر منصور کے پاس روانہ کردیا۔ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کے بعد منصور نے ان کے بھائی حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گرفتاری کی طرف توجہ کی۔ حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرہ میں موجود تھے۔ بصرہ والوں نے حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر سن کر حضرت محمد 

ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرلیا۔ حضرت محمد ابراہیم بن حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ تقریباً ایک لاکھ فوج کے ساتھ کوفہ سے تیس چالیس میل کے فاصلہ پر مقیم ہوئے۔ منصور نے بھی اپنی فوج بھجوادی۔ سخت جنگ شروع ہوگئی۔ آخر میں حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صرف چار سو آدمی باقی رہ گئے۔ دشمن کی فوج نے حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں پر قابو پالیا اور حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھیسر کاٹ کر منصور کے پاس روانہ کردیا گیا۔            

                آئمہ اربع میں سے حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ساداتِ حسنی کے حق میں فتوے دئیے اور مدینہ شریف میں ان کے حق میں تحریک چلائی تھی۔ منصور نے حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوڑوں سے پٹوایا۔ امام اعظم حضرت ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عراق میں حضرت سیدنا ابراہیم بن سیدنا عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حمایت میں فتویٰ دیا تھا۔ منصور نے ان کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا اور جبری مشقت پر لگادیا۔ اسی قید کی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے اور علماءمثلاً ابنِ عجلان اور عبدالحمید بن جعفر وغیرہم نے حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے بھائی حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کےلئے فتوے دئیے تھے، ان سب علمائے کرام کو بھی اسی قسم کی سخت سزائیں دی گئیں۔           

                اب ہم حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات کی طرف آتے ہیں جو کتبِ تاریخ میں حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے معروف ہیں۔ جب حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ شریف میں مقیم تھے اور جنگ درپیش تھی تو انھوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (حضرت عبداللہ شاہ غازیؓ) کو اپنے بھائی حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بصرہ روانہ کردیا تھا۔ حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظروں کے سامنے تمام صورتحال واضح تھی کہ بادشاہ منصور ان کے خاندان کے ہر فرد کو ختم کرکے نسلِ امام حسن مجتبےٰ علیہ السلام کا خاتمہ چاہتا ہے اس لئے انھوں نے اپنے بھتیجے حضرت عبداللہ الاشتر (حضرت عبداللہ شاہ غازیؓ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مجبور کرکے سندھ کی طرف روانہ کردیا۔ حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خاندان کو ان بدترین مصائب میں گرفتار چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے لیکن چچا جان نے سمجھایا کہ تمھاری جان کا تحفظ تمھاری اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ یہ نسلِ امام حسن مجتبےٰ علیہ السلام کے تحفظ کی بات ہے اور تم بعد میں حالات بہتر ہونے پر وہاں سے قوت حاصل کرکے واپس آسکتے ہو۔ چار و ناچار حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سندھ روانہ ہوگئے۔ اس وقت سندھ کا حکم عمر بن حفص تھا اور امید تھی کہ اہلِ بیتِ رسول اللہ ﷺ کی محبت کی بنا پر ان کی مدد کرے گا۔ جب حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سندھ پہنچے تو عمربن حفص نے ان کے والد حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کو تسلیم کرلیا اور عباسیوں کا نام ہٹا کر خطبہ میں بھی حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام شامل کرلیا۔ کچھ عرصہ بعد سندھ میں بھی حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچ گئی۔ عمر بن حفص نے حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپؓ سندھ کے فلاں علاقہ کے بادشاہ کے پاس چلے جائیے، وہ نبی اکرم ﷺ کے نام پر قربان ہوتا ہے اور ایفائے عہد میں مشہور ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ آپؓ کے ساتھ عزت و محبت سے پیش آئے گا۔ جب حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رضامندی ظاہرکردی تو عمر بن حفص نے عہدنامہ لکھوالیا اور پھر ان کو بادشاہ کے پاس روانہ کردیا۔ بادشاہ ان کی شخصیت سے نہایت متاثر ہوا اور اپنی بیٹی کی شادی ان سے کردی۔ سن 151ھ تک حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہیں مقیم رہے اور آہستہ آہستہ قرب و جوار سے لوگ اور تقریباً چار سو عرب بھی آپؓ کی شخصیت سے متاثر ہوکر آپؓ کے پاس جمع ہونا شروع ہوگئے۔ منصور کو جاسوسوں کے ذریعہ یہ معلوم ہوگیا کہ حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سندھ کے ایک بادشاہ کے پاس مقیم ہیں اور ان کے پاس عربوںکی ایک جماعت موجود ہے۔ اس نے عمر بن حفص کو سندھ کی گورنری سے معزول کرکے مصر بھیج دیا اور ہشام بن عمر تغلبی کو سندھ کا گورنر بنا کر بھیج دیا اور اس کو حکم دیا کہ جیسے بھی ممکن ہو تم حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قابو پاو ۔ سندھ کے بادشاہ نے وفاداری نبھائی اور حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ کو منصور کی فوج کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ طرفین میں جنگ شروع ہوگئی۔ آخرکار منصور کی فوج نے حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے حامیوں کو قتل کردیا اور ان کی اہلیہ اور بیٹے کو قید کرکے منصور کے پاس بھیج دیا۔ منصور نے ان کو مدینہ شریف میں حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان والوں کے پاس بھجوادیا۔ حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد مقامی عقیدت مند لوگوں نے ان کا مزار شریف اپنے طور پر تعمیر کیا جو اب موجودہ شکل میں کراچی کے ساحل کلفٹن پر حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار شریف کے طور پر موجود ہے۔          

                حضور سیدنا عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عظیم الشان حسب و نسب اور ان کے حالاتِ زندگی ملاحظہ فرماکر اب یقیناً آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ سمندر سے بھی بڑا ایک سمندر ہے جو کراچی میں مقیم ہے کہ کراچی آج بدترین حالات میں بھی مصائب سے محفوظ ہے۔ ہمارے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت علامہ جیلانی چاند پوری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کو حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خاص نسبت تھی، جب بھی ہمارے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت علامہ جیلانی چاند پوری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سلام عرض کرنے کے حاضرِ مزار شریف ہوئے، حضور سیدنا حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ خصوصی کرم فرمایا اور بہت محبت کے ساتھ پیش آئے۔ سلام ہو سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے اس عظیم پوتے پر جو بجا طور حسنی حسینی چمن کے پھول اور جانِ سیدہ زہرا بتول ؑ ہیں۔ یا اللہ! ہمارے مولا امام عالی مقام مولا حسن علیہ السلام کے اس عظیم پوتے حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدقہ میں ہمیں پنجتن پاک علیہم السلام کی بارگاہ میں سرخروئی عطا فرمادے، آمین ثم آمین۔           

وما علینا اِلاّ البلٰغ المبین