Difference between revisions 2768509 and 2771802 on urwiki

{{فوری حذف|[[عبداللہ شاہ غازی]] صفحہ موجود ہے / نقل شدہ مواد}}

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

الصلواة و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم

بفیضانِ نظر حضور صدرالصدور قطب الاقطاب اعلیٰ حضرت علامہ جیلانیؓ چاند پوری 

جانِ حسنؑ حضور سیدنا عبداللہ الاشتر المعروف بہ حضرت عبداللہ شاہ غازی

 رضی اللہ تعالیٰ عنہ(درگاہ شریف بمقام: کلفٹن کراچی) 

تحریر: سید اظہر علی علوی القادری

                ہمارے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت علامہ جیلانی چاند پوریؓ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں مختلف مواقع پر حضرت عبداللہ شاہ غازی ؓ کے بارے میں کچھ ارشادات عطا فرمائے تھے جو میری یاداشت میں محفوظ رہ گئے۔ میں نے چاہا کہ ان ارشادات کو ایک مضمون کی شکل میں لکھ دوں تاکہ بات ریکارڈ میں آجائے اور جن بھائیوں تک یہ ارشادات نہیں پہنچ سکے ہیں، ان کو بھی یہ مفید معلومات حاصل ہوجائیں۔            

                کراچی کے ساحل پر ایک نہایت قدیم ترین مزار شریف موجود ہے جس کو ہم حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درگاہ کے طور پر جانتے ہیں۔ آپؓ کا دربارِ اقدس صدیوں سے مرجع الخلائق ہے، عوام کی ایک بڑی تعداد عقیدت و محبت کے ساتھ یہاں حاضر ہوتی ہے اور صاحبِ مزار کے وسیلہ سے اللہ رب العزت کے حضور اپنے لئیے دعا کی درخواست کرتی ہے اور مراد پاتی ہے۔ لیکن شاید بہت ہی کم لوگ صاحبِ مزار کے دردناک حالاتِ زندگی اور ان کے عظیم الشان حسب و نسب سے واقف ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے اس عظیم الشان ولی کے کچھ حالاتِ زندگی قلم بند کریں، شاید ہمارا نام بھی ان کے ادنیٰ ترین غلاموں میں شامل کرلیا جائے، انشاءاللہ تعالیٰ۔ اللہ رب العزت کے اس ولی کے مصائب پڑھ کر یا سن کر اگر کسی درد مند اور انصاف پسند کی آنکھیں اشک بار ہوجائیں تو قیامت کے دن یہی آنسو اس کی نجات کا سبب بنیں گے۔          

(contracted; show full)
5۔ حضرت سیدنا عبداللہ محض علیہ السلام             

6۔ حضرت سید محمد مہدی (نفسِ ذکیہ) علیہ السلام             

7۔حضرت سید عبدالاشتر علیہ السلام (المعروف بہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

حضرت سیدنا حسن مثنیٰ علیہ السلام کی شادی امامِ عالی مقام مولا حسین علیہ السلام کی سب سے بڑی صاحبزادی حضرت فاطمتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا سے ہوئی تھی۔ واقعہ کربلا کے وقت حضرت سیدنا عبداللہ محض علیہ السلام اپنی والدہ ماجدہ کے شکمِ مبارک میں تھے، اس ل
ئیے مولا حسین علیہ السلام، حضرت سیدنا حسن مثنیٰ علیہ السلام کو ان کی اہلیہ حضرت فاطمتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی دیکھ بھال کےلئے چھوڑ گئے تھے۔ اس طرح نہ صرف حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلکہ تمام حسنی سادات حضرت سیدہ فاطمتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی وجہ سے حسنی حسینی دونوں نسبتوں کے حامل ہیں۔          

حضرت سیدنا عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تین صاحبزادے تھے:       

1۔ حضرت محمد مہدی (نفسِ ذکیہ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ      

2۔ حضرت محمدابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ          

3۔ حضرت محمد موسیَؐ الجَون رضی اللہ تعالیٰ عنہ (ہمارے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت علامہ شاہ جیلانی چاند پوریؓ حضرت سیدنا موسیَٔ الجَون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد ہیں)          

                حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں عباسی بادشاہ منصور کی حکومت تھی۔ منصور وہ شخص ہے جس نے سادات بالخصوص ساداتِ حسنی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے یہاں تک کہ مولا حسن علیہ السلام کے ایک پوتے کو چونے کے ستون میں زندہ دفن کرادیا جبکہ ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ بے انتہا حسین و جمیل شہزادے تھے، ان کا جسم چاندی کی طرح چمکتا تھا اور رات کے اندھیرے میں جہاں سے گزرتے تھے روشنی ہوجاتی تھی، اسی لئیے ان کا لقب دیباج تھا۔ مولا حسن علیہ السلام کے یہ پوتے جن کو چونے کے ستون میں زندہ چنوایا گیا یہ حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سگے پوتے تھے یعنی حضرت محمد بن ابراہیم بن عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اور حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سگے چچا زاد بھائی تھے)۔ درندگی کی یہ مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پنجتن پاک علیہم السلام سے محبت کے دعویدار اور خود کو پنجتن پاک علیہم السلام کا غلام کہنے والوں کے دل اگر آلِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ڈھائے گئے مظالم پر نہیں تڑپتے اور ان کی (contracted; show full)جو کتبِ تاریخ میں حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے معروف ہیں۔ جب حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ شریف میں مقیم تھے اور جنگ درپیش تھی تو انھوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (حضرت عبداللہ شاہ غازیؓ) کو اپنے بھائی حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بصرہ روانہ کردیا تھا۔ حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظروں کے سامنے تمام صورتحال واضح تھی کہ بادشاہ منصور ان کے خاندان کے ہر فرد کو ختم کرکے نسلِ امام حسن مجتبےٰ علیہ السلام کا خاتمہ چاہتا ہے اس ل
ئیے انھوں نے اپنے بھتیجے حضرت عبداللہ الاشتر (حضرت عبداللہ شاہ غازیؓ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مجبور کرکے سندھ کی طرف روانہ کردیا۔ حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خاندان کو ان بدترین مصائب میں گرفتار چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے لیکن چچا جان نے سمجھایا کہ تمھاری جان کا تحفظ تمھاری اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ یہ نسلِ امام حسن مجتبےٰ علیہ السلام کے تحفظ کی بات ہے اور تم بعد میں حالات بہتر ہونے پر وہاں سے قوت حاصل کرکے واپس آسکتے ہو۔ چار و ناچار حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سندھ روانہ ہوگئے۔(contracted; show full)م عرض کرنے کے حاضرِ مزار شریف ہوئے، حضور سیدنا حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ خصوصی کرم فرمایا اور بہت محبت کے ساتھ پیش آئے۔ سلام ہو سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے اس عظیم پوتے پر جو بجا طور حسنی حسینی چمن کے پھول اور جانِ سیدہ زہرا بتول ؑ ہیں۔ یا اللہ! ہمارے مولا امام عالی مقام مولا حسن علیہ السلام کے اس عظیم پوتے حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدقہ میں ہمیں پنجتن پاک علیہم السلام کی بارگاہ میں سرخروئی عطا فرمادے، آمین ثم آمین۔           

وما علینا اِلاّ البلٰغ المبین