Difference between revisions 2768625 and 2768627 on urwiki

=  محل وقوع =
حضرت سید شیر علی غازی کی درگاہ ضلع پونچھ کے گاوں کھنیتر اپر مکھیالہ کی  چوٹی پر موجود ہے۔گاؤں کھنیترضلع پونچھ سے دس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ،کھنیتر سے ایک لنک روڈ سر زمین مکھیالہ کی طرف جاتی ہے  ،یہ سڑک درگاہ تک  ابھی نہیں پہونچی ہے اس کے اسباب جو بھی ہو ان  کا تذکرہ کرنا یہاں برمحل اور مناسب نہیں ہے یہ درگاہ مکھیالہ کی چوٹی پر واقع ہے  ۔یہ گاؤں اپنی خوبصورت بلند وبالا چوٹيوں، گھنے جنگلات،زرخيز علاقوں کی بدولت مضافاتی علاقوں ميں مشہور ہے۔پھر  اگران جگہوں کی نسبت ایسے اولیاے کرام سے ہو جو ز(contracted; show full)

نور محمد نور اپنے شعری دیوان میں بابا شیر علی شاہ کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں۔

'''رونق مزاراں دے اُتے روز لگدے میلے۔  حاجتمند کئی حاجت پاندے نال نیک وسیلے'''

'''اولیاواں دی دھرتی اسنوں جیکر کہیا جاوے  سچو سچ ایہہ بات ہے ساری کون انکار لے آوے'''

'''جیونکر پونچھ اولیاواں اندر حالت دساں دل دی  حضرت شیر علی شاہ غازی اولیاء گزرے باری'''


          '''کھنیتر وچ مکھیالے روضہ لشکے وانگ ستارے     لَکھ عقیدتمنداںآکے ایتھوں فیض اٹھائے'''  [[(۳)رب دے پیارے دیوان نورمحمد نور|(۳)]]

= وفات =
(contracted; show full) آیت کا مصداق تھا کہ:"'''الأ إن أولياء الله لا خوف عليهم ولهم يحزنون'''" گویا آپ کا جسم مبارک یہاں تک کے کفن پر اس مٹی کے علاوہ اور کوئی چیزنہ تھیِ ،آپ کا جسم صحیح سلامت اور ترو تازہ تھا چنانچہ مٹی ہٹائی گئی اور جسم پر کوئی تغیرّ واقعہ نہیں تھا،ناظرین نے دیدار کا شرف حاصل کیا،دوبارہ جو دیدار کے لئے آتا تھا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاجاتا تھا۔ان کی قبر کی ہمسائیگی میں حضرت سید برکت شاہ اور سید فرمان شاہ اور درگاہ کے بائیں حضرت سید بہار شاہ کی قبریں موجود ہیں ۔

۵)    
                            ایک اور بڑی کرامت جسکا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا  کہ آپ کے وصال کے بعد آپ کے کچھ آثار جو ایک تھلیے  میں محفوظ  آپ کے حجرہ میں ٹنگے ہوئے تھے جن کو متعلقین تبرکات کے طور پر  استعمال کرتے تھے کہ ایک دن  فوج نے اس مزار  اور اس کے   بغل میں بنے ہوئے آپ کے مکان کی   تلاشی شروع کی دوران تلاشی   اس مکان میں جو بھی بابا صاحب کے  کتب ،ضروریات کی چیزیں  جو بھی برتن ملے  سب کو آگ لگا دی اور پورا مکان جل گیا ۔اسی اثنا میں فوج   میں باہمی تصادم  شروع ہو گیا  اور خوب گولہ باری کا تبادلہ ہوا  کہا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ فوجی ہلاک ہوگئے  جب فوجی سربراہ کو اس بڑے سانح کی خبر موصول ہوئی  تواس نے   بابا صاحب کے دربار پر منت و سماجت کی اور بڑی تعداد میں  نیاز و نذر کا اہتمام کیا  اور معافی طلب کی۔



[[(4)المصدر نفسیہ|( 4)]]  
  

= لنگر =
بابا صاحب کے مزار پر جو قومی یکجہتی اور اتحاد نظر آتا ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتا قومی اتحاد کا ایک بڑا ثبوت ان کا لنگر ہے ۔ہزاروں عقیدت مند بابا کے دربار پر آتے ہیں جبین نیاز جھکاتے ہیں فاتحہ کو ہاتھ اُٹھاتے ہیں ۔نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور سکون پاتے ہیں فقر و درویشی کے باوجود آپ کی خانقاہ سخاوت اور فیاضی کیلئے مشہور تھی مطبخ میں جتنا بھی کھانہ پکتا تھا وہ تمام غرباء و مساکین میں تقسیم ہو جاتا تھا ۔آج بھی آپ کے مزار پر ایک وسیع لنگر جاری ہے اور ہر غرباء و مساکین اور مفلوک الحال اس سے فیضیاب ہوت(contracted; show full)علی شاہ  رحمتہ اللہ علیہ   کے آستانہ عالیہ پر پہنچا دی اور اس کو واپس پونچھ مکھیالہ بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہنچانے کے لئے کہا  گویا  2012 میں  سرزمین بھینچ پونچھ سے ایک شخص گولڑہ شریف تشریف لے گیا  وہاں کے سجادہ نشین نے اس  امانت کو مکھیالہ پہنچانے کے لئے حکم دیا ۔یہ بھی بابا شیر علی شاہ غازی  کی کرامت ہے کہ ان کے وصال کو  لگ بھگ ڈیڑھ سو سال  گزر گئے ہیں  لیکن ان کے اس آثار ( تسبیح) کو قدرت نے محفوظ رکھا  اور  ہم پر یہ احسان کیا کہ ہم اس تبرک  کا دیدار کریں  اور اولیاءاللہ کی طاقت  کا مشاہدہ کریں۔ 


= سجادگان =

= پہلےسجادہ نشین حضرت سید بہار شاہ =

حضرت سید بہار شاہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ضلع راجوری سے تشریف لائے اور بابا شیر علی شاہ کے ہاتھوں پر بیعت قبول کی۔ فقر و سلوک کی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور بابا جی سے حاصل کر کے عبادت و پرہیزگاری اور خدا ترسی میں لا ثانی بزرگ تھے ۔کہا جاتا ہے کہ آپ سردی کے موسم میں دریا میں عبادت و ریاضت کرتے تھے اور گرمی کے موسم میں  مچ سیکتے اور عبادت میں منہمک رہتے۔بابا صاحب کے مزار کے ساتھ مدفون ہیں۔<ref>(۶)  تاریخ اقوام پونچھ   محمد دین فوق</ref>

(contracted; show full)

   آپ نے تبلیغ، رشد و ہدایت کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہے بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہلے ٹین کی چھت پڑی ہوئی تھی،لیکن موصوف نے اس درگاہ کی تجدید و مرمت کی اور اب ایک دلکش اور خوبصورت مزارتعمیر کروایاہے ،ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ روڑ کی سہولت میسر نہ ہونے کے باوجود  اس مکھیالہ کی چوٹی پر سامان ڈھو کر مسجّدشریف ،لنگر خانہ،اور مزار تعمیر کروائے یہاں پر ہر سال عُرس بڑی عقیدت و مُحبت سے منایا جاتا ہے اور بھاری تعداد میں زائرین اور عقیدت مندوں کی تشریف آوری ہوتی ہے۔

= حوالہ جات =