Difference between revisions 2768633 and 2774018 on urwiki

=  محل وقوع =
حضرت سید شیر علی غازی کی درگاہ ضلع پونچھ کے گاوں کھنیتر اپر مکھیالہ کی  چوٹی پر موجود ہے۔گاؤں کھنیترضلع پونچھ سے دس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ،کھنیتر سے ایک لنک روڈ سر زمین مکھیالہ کی طرف جاتی ہے  ،یہ سڑک درگاہ تک  ابھی نہیں پہونچی ہے اس کے اسباب جو بھی ہو ان  کا تذکرہ کرنا یہاں برمحل اور مناسب نہیں ہے یہ درگاہ مکھیالہ کی چوٹی پر واقع ہے  ۔یہ گاؤں اپنی خوبصورت بلند وبالا چوٹيوں، گھنے جنگلات،زرخيز علاقوں کی بدولت مضافاتی علاقوں ميں مشہور ہے۔پھر  اگران جگہوں کی نسبت ایسے اولیاے کرام سے ہو جو زہد و تقوی ،کشف و کمالات میں اعلی درجہ پر فائز ہو تو ان جگہوں کی قدرومنزلت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ خیرقدرت جب کسی چیز کی تکمیل کا ارادہ کر لیتی ہے تو اس کے لئیے مخصوص اسباب و مقدمات پیدا کرتی ہے یہ چیزیں اپنے معینہ اوقات میں ظہور پذزیر ہوتی ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا  اس مکھیالہ کی چوٹی  اور یہاں کے پہاڑوں ،بیابانوں ،جنگلوں کو آباد کرنے کے لئیے حضرت سید شیر علی شاہ غازی کو پیدا فرمایا۔

= شجرہ نسب بابا شیر علی شاہ بادشاہ رحمۃ اللہ علیہ =
سید شیر علی شاہ غازی بن سید اکبر شاہ بادشاہ بن   سید سلطان شاہ غازی بن سید کرم شاہ غازی بن جعفر شاہ غازی بن اسحاق الحق شاہ بن موسی شاہ غازی بن قاسم شاہ غازی بن محمد عالم شاہ غازی بن غیاث الدین شاہ بن امام طاہر شاہ غازی بن عبد اللہ شاہ غازی بن ابو القاسم شاہ بن علاءالدین شاہ غازی بن عنایت شاہ غازی بن حیات محمد شاہ غازی بن اسمعیل شاہ غازی بن کمال شاہ غازی بن حسین شاہ بن احمد شاہ غازی بن زینب الدین شاہ غاذی بن نصیر(contracted; show full) بڑی نیاز کا اہتمام کیا ،قبر کا پردہ چاک کیا گیا اور حقیقت میں دیکھا کہ آنکھوں پر مٹی پڑی ہوئی تھی اور ایک لمبا عرصہ ۸۰سال گذرنے کے بعد بھی آپ کا جسد ترو تازہ تھا      اور اس آیت کا مصداق تھا کہ:"'''الأ إن أولياء الله لا خوف عليهم ولهم يحزنون'''" گویا آپ کا جسم مبارک یہاں تک کے کفن پر اس مٹی کے علاوہ اور کوئی چیزنہ تھیِ ،آپ کا جسم صحیح سلامت اور ترو تازہ تھا چنانچہ مٹی ہٹائی گئی اور جسم پر کوئی تغیرّ واقعہ نہیں تھا،ناظرین نے دیدار کا شرف حاصل کیا،دوبارہ جو دیدار کے ل
ئیے آتا تھا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاجاتا تھا۔ان کی قبر کی ہمسائیگی میں حضرت سید برکت شاہ اور سید فرمان شاہ اور درگاہ کے بائیں حضرت سید بہار شاہ کی قبریں موجود ہیں ۔

۵)                  ایک اور بڑی کرامت جس  کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا  کہ آپ کے وصال کے بعد آپ کے کچھ آثار جو ایک تھلیے  میں محفوظ  آپ کے حجرہ میں ٹنگے ہوئے تھے جن کو متعلقین تبرکات کے طور پر  استعمال کرتے تھے کہ ایک دن  فوج نے اس مزار  اور اس کے   بغل میں بنے ہوئے آپ کے مکان کی   تلاشی شروع کی دوران تلاشی   اس مکان میں جو بھی بابا صاحب کے  کتب ،ضروریات کی چیزیں  جو بھی برتن ملے  سب کو آگ لگا دی اور پورا مکان جل گیا ۔اسی اثنا میں فوج   میں باہمی تصادم  شروع ہو گیا  اور خوب گولہ باری کا تبادلہ ہوا  کہا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ فوجی ہلاک ہوگئے  (contracted; show full)

= قدیم اثاروں میں سے بابا صاحب کے چنداثار =
ان قدیمی اثاروں میں سے بابا صاحب کا مٹی کا بنا ہوا برتن،ایک چھری لوہے کی اور ایک  تسبیح  جو حضرت بابا صاحب وردوظائف  کے ل
ئیے استعمال کرتے تھے آپکے مریدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا آپ کا کوئی مرید آپ کے وصال کے  بعد راولپنڈی (پاکستان نو)اس تسبیح کو بطور تبرک لے گیا  موصوف نے  اس تسبیح کو گولڑہ شریف دربار پیر مہر علی شاہ  رحمتہ اللہ علیہ   کے آستانہ عالیہ پر پہنچا دی اور اس کو واپس پونچھ مکھیالہ بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہنچانے کے لئیے کہا  گویا  2012 میں  سرزمین بھینچ پونچھ سے ایک شخص گولڑہ شریف تشریف لے گیا  وہاں کے سجادہ نشین نے اس  امانت کو مکھیالہ پہنچانے کے لئیے حکم دیا ۔یہ بھی بابا شیر علی شاہ غازی  کی کرامت ہے کہ ان کے وصال کو  لگ بھگ ڈیڑھ سو سال  گزر گئے ہیں  لیکن ان کے اس آثار ( تسبیح) کو قدرت نے محفوظ رکھا  اور  ہم پر یہ احسان کیا کہ ہم اس تبرک  کا دیدار کریں  اور اولیاءاللہ کی طاقت  کا مشاہدہ کریں۔ 

= سجادگان =

= پہلےسجادہ نشین حضرت سید بہار شاہ =

حضرت سید بہار شاہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ضلع راجوری سے تشریف لائے اور بابا شیر علی شاہ کے ہاتھوں پر بیعت قبول کی۔ فقر و سلوک کی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور بابا جی سے حاصل کر کے عبادت و پرہیزگاری اور خدا ترسی میں لا ثانی بزرگ تھے ۔کہا جاتا ہے کہ آپ سردی کے موسم میں دریا میں عبادت و ریاضت کرتے تھے اور گرمی کے موسم میں  مچ سیکتے اور عبادت میں منہمک رہتے۔بابا صاحب کے مزار کے ساتھ مدفون ہیں۔<ref>(۶)  تاریخ اقوام پونچھ   محمد دین فوق</ref>

= ۲    حضرت سیّد برکت شاہ =
حضرت سیّد برکت شاہ سید حسن علی شاہ کے فرزند ارجمند تھے۔ موصوف دربارپیرشیرعلی شاہ کے پہلے مسند سجادگی پر فائیز ہوئے۔حضرت زندگی بھر احسان و سلوک اور تصوف و روحانیت پر مبنی اسلامی معتقدات کی عصری انداز میں ترسیل و تبلیغ کرتے رہے۔صوفی فکر و مزاج کی حامل اس عبقری شخصیت نے دربار پیر شیر علی شاہ پربحثیت مجاور عرصہ دراز تک اپنے بیش بہا علوم و فنون اور دیگر وسائل و زذرائع کو اسلام، روحانیت اور خلق خدا کی خدمت کے لئیے صرف کردیا۔آپ کا وصال 1299هـ کو ہوا اور بابا صاحب کی ہمسایہگی میں مدفون ہیں ۔[[تاریخ اقوام پونچھ|(۵)]]   

= ۳    حضرت سید فرمان شاہ =
سید فرمان شاہ نے بھی اپنا مسکن اسی گاوں کو بنایا ،آپ اگرچہ اتنے پڑھے لکھے ہوئے نہیں تھے لیکن علم لدُنی کی برکت سے وقت کے بزرگوں کےِ سرگرو اور خاص وعام لوگوں کی جائے پناہ بن گئے تھے۔بچپن سے ہی آپ کے باطن سے علوم کی لیاقت و استعداد کے آثار آتے تھے۔ آپ ساد ہ اور خوش مزاج تھے اور فحوائے کلام نہایت دلچسب تھا، آپ شعر و سخن سے بھی زوق رکھتے تھے ۔ آپ نہ صرف شیندرہ درگاہ سلطانیہ اور(contracted; show full)

   آپ نے تبلیغ، رشد و ہدایت کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہے بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہلے ٹین کی چھت پڑی ہوئی تھی،لیکن موصوف نے اس درگاہ کی تجدید و مرمت کی اور اب ایک دلکش اور خوبصورت مزارتعمیر کروایاہے ،ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ روڑ کی سہولت میسر نہ ہونے کے باوجود  اس مکھیالہ کی چوٹی پر سامان ڈھو کر مسجّدشریف ،لنگر خانہ،اور مزار تعمیر کروائے یہاں پر ہر سال عُرس بڑی عقیدت و مُحبت سے منایا جاتا ہے اور بھاری تعداد میں زائرین اور عقیدت مندوں کی تشریف آوری ہوتی ہے۔

= حوالہ جات =