Difference between revisions 2771732 and 2787217 on urwiki{{حذف|حقوق نسخہ کی پامالی}} {{حقوق نسخہ|}} =حافظ عبدالرحیم صاحب شہیدؒ= [[File:حافظ عبدالرحیم شہید.jpg|thumb|'''حافظ عبدالرحیم''' شہیدؒ<br /> جہاد افغانستان کے نامور کمانڈر]] (contracted; show full) حافظ صاحب کے قریبی ساتھی ملا شیخ محمد آخند کہتے ہیں: کہ کندھار کی سقوط کے بعد جب رمضان کا آخری عشرہ جاری تھا حافظ صاحب گھر تشریف لائے۔چونکہ وہ امریکا کے خلاف جہادی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ اس لیے امریکی کاسہ لیسوں نے ان کی گھر میں موجودگی کی اطلاع پاکر ان کے گھر پر چھاپہ مارا تاکہ وہ انہیں گرفتار کرسکے لیکن اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت سے وہ ان ظالموں کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنا گھر بولدک کے علاقے” وت” سے لوئی کاریز کے علاقے منتقل کر لیا۔ [[عید الفطر]] کے چھٹے روز میں ان کے گھر گیا، حافظ صاحب نے مجھ سے کہا کہ امریکا کے خلاف جہاد کرنا ہے اگر آپ کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہے تو وہ مجھے دے دو۔<ref name="shahamat-urdu.com"/> ==مولوی عبدالباقی کی زبانی== مولوی عبدالباقی صاحب کہتے ہیں :کہ آغاز جہاد میں حافظ صاحب اکیلے تھے۔ رات کو خفیہ طور پر لوگوں کو جہاد کی دعوت دیتے بعد میں ان کے ایک چچا زاد بھائی ملا عبدالباری نے بھی ان کا ساتھ دیا اور اس راہ میں ا ن کے راہی بنے اور اب دونوں موٹر سائیکل پر مسلح گشت کرتے رہتے۔ دن پہاڑوں اور کھنڈر پر گذارتے اور رات کو لوگوں کو جہاد کی دعوت دیتے اور جہاد کیلئے اسلحہ تلاش کرتے رہے اور کئی ماہ تک آپ نے خفیہ طور پر یہ مشن جاری رکھا ۔ حافظ صاحب کے فرزند مولوی حمداللہ کہتے ہیں کہ اس وقت میرے والد مہینے میں صرف ایک دن گھر تشریف لاتے۔ آدھی رات کو گھر آتے اور پھر صبح خفیہ طور پر گھر سے نکل جاتے۔ کیونکہ اس وقت حالات بہت خراب تھے جبکہ امریکی اور ان کے کاسہ لیس اہلکار بھی حافظ صاحب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوئے تھے۔ ===ہڈہ پہاڑ میں جہادی مرکز=== حافظ عبدالرحیم صاحب امریکی جارحیت کے ابتدائی مہینوں میں دعوت جہاد میں مصروف تھے، ساتھیوں کے لئےاسلحہ اور جنگی وسائل کا بھی بندوبست کرتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے مجاہدین کی ایک چھوٹی جماعت تیار کرلی، جس میں اس وقت کے مشہور اور بہادر مجاہد شہید عبدالغنی جو تور غنی کے نام سے مشہور تھے بھی شامل تھے۔ اس وقت حافظ صاحب نے ایک جہادی مرکز بنانے کا ارادہ کر لیا۔ ====حافظ صاحب کی مالی قربانیاں==== چونکہ حافظ صاحب کے ساتھ پیسوں اور دوسرے مالی وسائل کی شدید کمی تھی اس لیے [[۱۴۲۳ھ]] شعبان کے مہینے میں اپنے گھر کے بستر،برتن اور دوسرا ضروری سامان اٹھا کر ضلع بولدک سے ملحقہ ہڈہ پہاڑ کے علاقے میں ایک خفیہ جہادی مرکز بنایا۔ اس جہادی مرکز میں شروع میں حافظ صاحب کی قیادت میں صرف پانچ مجاہدین رہائش پزیر تھے۔ ====پانی کی قلت==== (contracted; show full) ===امریکیوں کیخلاف پہلی کارروائی=== حکومتی اہلکاروں کو جب پتہ چلا تو انہوں نے بولدک سے اس علاقے میں ایک بڑا فوجی قافلہ بھیجا فوجی قافلے کے آتے ہی حافظ صاحب کے ساتھیوں نے ان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سات اہلکار ہلاک ہوئے۔ ایک مجاہد زخمی جبکہ تین مجاہدین کو دشمن نے زندہ گرفتار کر لیا۔ یہ حافظ صاحب اور ان کے ساتھیوں کا امریکی جارحیت اور ان کی کٹھ پتلیوں کے خلاف پہلی مسلح کارروائی تھی۔ جس میں بعد میں مزید شدت آتی گئی اور پورے قندھار میں جہادی کارروائیوں کے آغاز کا سبب بنا۔ ===ابتدائی کاروائیاں=== اس واقعے کے بیس روز بعد حافظ صاحب کے دو ساتھی ملا عبدالباری اور حافظ عبدالغنی جو ان کے چچا زاد بھائی بھی تھے کا بولدک کے علاقے پایزو کاریز میں امریکی فوجیوں سے اچانک سامنا ہوا اور بعد میں دونوں نے امریکی فوجیوں پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں کئی امریکی ہلاک ہوئے جوابی کارروائی میں ملا عبدالباری شہید جبکہ حافظ عبدالغنی امریکیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ اسی گرفتار ساتھی سے تفتیش کے دوران امریکی فوجیوں نے حافظ صاحب کے سیٹیلائٹ فون کا نمبر حاصل کر لیا اور اس سیٹیلائٹ کی مدد سے امریکا نے حافظ صاحب کے خفیہ جہادی مرکز کا سراغ لگا لیااور اسی دن امریکی جارحیت پسندوں اور ان کی کٹھ پتلیوں کا ایک بڑا قافلہ ہڈہ پہاڑ کے حدود میں پہنچ گیا جہاں امریکی جارحیت پسندوں سے ایک خونریز جھڑپ کا آغاز ہوا۔ امریکا کے خلاف شاہی کوٹ کے تاریخی معرکے کے بعد ہڈہ پہاڑ دوسری شدید اور طویل جنگ تھی جو امریکیوں کے خلاف لڑی گئی۔ ===امریکیوں و اتحادیوں کا خاصہ نقصان=== (contracted; show full) ====اللہ کی راہ میں خر چ کرنے کا جذبہ==== جہاد کی راہ میں یہاں تک قربانی کیلئے تیار ہوتے کہ اگر کبھی جہادی ضروریات کیلئے سامان کی خریداری کامعاملہ ہوتا تو گھر کا سامان بیچ کر جہاد کی ضروریات رفع کرتے۔ آپ کے ایک مجاہد ساتھی کے مطابق کہ امریکی جارحیت کے پہلے سالوں میں حافظ صاحب نے کہا کہ زمین بیچنے کیلئے کوئی گاہک تلاش کرو تاکہ ان پیسوں سے ساتھیوں کیلئے جہادی ضرورت کا سامان خرید سکوں۔<ref name="shahamat-urdu.com"/> [[زمرہ:خودکار ویکائی]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2787217.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|