Difference between revisions 2772039 and 2832198 on urwiki

{{حوالہ دیں|}}
18 [[ذوالحجہ]] کو حجۃ الوداع سے واپسی پر [[محمد]] صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک چشمہ خم کے مقام پر [[صحابہ]] سے خطاب فرمایا۔ اس موقع پر قران کریم سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی:
{{اقتباس|يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ}}

اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ نے تمام ساتھ چلنے والوں کو روکا، جو آگے تھے ان کو واپس بلایا اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے آگے آنے کا انتظار کیا۔اس خطبہ کو خطبہ غدیر کہتے ہیں۔

== خطبہ==
*(٭)- غدیرِ خم میں پیغمبر ؐ کا خطبہ-(٭)*





حمد و ثناء اللہ کی ذات سے مخصوص ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں ، اسی پر توکل کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں ۔ ہم برائی اور اپنے برے کاموں سے بچنے کے لیے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔
وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی دوسرا ہادی و راہنما نہیں ہے ۔ اور جس نے بھی گمراہی کی طرف ہدایت کی وہ اس کے لیے نہیں تھی ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، اور محمد ؐ اس کا بندہ اور رسول ہے۔
ہاں اے لوگو ! وہ وقت قریب ہے کہ میں دعوتِ حق کو لبیک کہوں اور تمھارے درمیان سے چلا جاؤں تم بھی جواب دہ ہو اور میں بھی جواب دہ ہوں ۔
اس کے بعد فرمایا کہ : میرے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے ؟
کیا میں نے تم سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا کر  دیا ہے ؟
یہ سن کر پورے مجمع نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمات کی تصدیق کی اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے بہت کوششیں کیں اور اپنی ذمہ داری کو پورا کیا اللہ آپ کو اس کا اچھا اجر دے ۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اس پوری دنیا کا معبود ایک ہے اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے اور جنت و جہنم و آخرت کی جاویدانی زندگی میں کوئی شک نہیں ہے ؟
سب نے کہا کہ: صحیح ہے ہم گواہی دیتے ہیں ۔،،
اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
(contracted; show full)اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر جدھر علی ؑ مڑیں "
[[[ یہ پوری حدیث غدیر یا فقط اس کا پہلا حصہ یا فقط دوسرا حصہ ان مسندوں میں آیا ہ ے ۔
( مسند احمد ابن حنبل ص -256
تاریخ دمشق ج-43 ، ص -207 ، 208 ،448
خصائص نسائی ص-181
المجمل کبیر ج-17 ، ص -39
سنن ترمذی ج -5 ، ص -633
المستدرک الصحیحین ج -213 ص- 135 // المعجم الاوسط ، ج- 6 ، ص- 95 // مسند ابی یعلی ج-1 ، ص -280 ، المحاسن والمساوی ، ص-41 // مناقب خوارزمی ص- 104 ، اور دیگر کتب۔ ]]