Difference between revisions 2782749 and 2787297 on urwiki{{فوری حذف|[[عبداللہ شاہ غازی]] صفحہ موجود ہے / نقل شدہ مواد}} اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الصلواة و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بفیضانِ نظر حضور صدرالصدور قطب الاقطاب اعلیٰ حضرت علامہ جیلانیؓ چاند پوری جانِ حسنؑ حضور سیدنا عبداللہ الاشتر المعروف بہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ(درگاہ شریف بمقام: کلفٹن کراچی) تحریر: سید اظہر علی علوی القادری ہمارے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت علامہ جیلانی چاند پوریؓ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں مختلف مواقع پر '''حضرت عبداللہ شاہ غازی''' ؓ کے بارے میں کچھ ارشادات عطا فرمائے تھے جو میری یاداشت میں محفوظ رہ گئے۔ میں نے چاہا کہ ان ارشادات کو ایک مضمون کی شکل میں لکھ دوں تاکہ بات ریکارڈ میں آجائے اور جن بھائیوں تک یہ ارشادات نہیں پہنچ سکے ہیں، ان کو بھی یہ مفید معلومات حاصل ہوجائیں۔ کراچی کے ساحل پر ایک نہایت قدیم ترین مزار شریف موجود ہے جس کو ہم حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درگاہ کے طور پر جانتے ہیں۔ آپؓ کا دربارِ اقدس صدیوں سے مرجع الخلائق ہے، عوام کی ایک بڑی تعداد عقیدت و محبت کے ساتھ یہاں حاضر ہوتی ہے اور صاحبِ مزار کے وسیلہ سے اللہ رب العزت کے حضور اپنے لیے دعا کی درخواست کرتی ہے اور مراد پاتی ہے۔ لیکن شاید بہت ہی کم لوگ صاحبِ مزار کے دردناک حالاتِ زندگی اور ان کے عظیم الشان حسب و نسب سے واقف ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے اس عظیم الشان ولی کے کچھ حالاتِ زندگی قلم بند کریں، شاید ہمارا نام بھی ان کے ادنیٰ ترین غلاموں میں شامل کر لیا جائے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اللہ رب العزت کے اس ولی کے مصائب پڑھ کر یا سن کر اگر کسی درد مند اور انصاف پسند کی آنکھیں اشک بار ہوجائیں تو قیامت کے دن یہی آنسو اس کی نجات کا سبب بنیں گے۔ (contracted; show full)د مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کم و بیش تین سو ساتھی رہ گئے۔ ان کے ساتھیوں نے اپنی سواریوں کے پاو ¿ں کاٹ ڈالے اور تلواروں کی نیامیں توڑ دیں اور مرنے مارنے کی قسمیں کھا کر دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ یہ حملہ اتنا زور دار تھا کہ دشمن کی فوج بھاگ کھڑی ہوئی لیکن دشمن کی فوج کے کچھ چالاک لوگ پہاڑ پر چڑھ کر دوسری طرف سے مدینہ شریف میں داخل ہوگئے اور ایک عورت کا سیاہ دوپٹہ لے کر اس کو مسجد کے مینارہ پر پرچم کی طرح لگادیا۔ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج یہ سمجھی کہ منصور کی فوج نے مدینہ شریف پر قبضہ کر لیا ہے، وہ پیچھے کی طرف متوجہ ہوئے۔ دوسری طرف سے دشمن کے بھگوڑے فوجیوں نے پھر حملہ کردیا۔ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس موقع پر بھی اس قدر بہادری سے لڑے کہ ہر شخص انگشتِ بدنداں رہ گیا۔ آخر ایک ملعون نے پیچھے سے ان کی کمر پر وار کیا۔ زخم اتنا کاری تھا کہ جیسے ہی ان کا جسم نڈھال ہوا تو ایک اور شخص نے سامنے کی طرف سے سینہ ¿ مبارک پر وار کیا اور ان کے سرِ اقدس کاٹ کر منصور کے پاس روانہ کردیا۔ حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کے بعد منصور نے ان کے بھائی حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گرفتاری کی طرف توجہ کی۔ حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرہ میں موجود تھے۔ بصرہ والوں نے حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر سن کر حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔ حضرت محمد ابراہیم بن حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ تقریباً ایک لاکھ فوج کے ساتھ کوفہ سے تیس چالیس میل کے فاصلہ پر مقیم ہوئے۔ منصور نے بھی اپنی فوج بھجوادی۔ سخت جنگ شروع ہوگئی۔ آخر میں حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صرف چار سو آدمی باقی رہ گئے۔ دشمن کی فوج نے حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں پر قابو پالیا اور حضرت محمد ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھیسر کاٹ کر منصور کے پاس روانہ کردیا گیا۔ (contracted; show full)جان نے سمجھایا کہ تمھاری جان کا تحفظ تمھاری اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ یہ نسلِ امام حسن مجتبےٰ علیہ السلام کے تحفظ کی بات ہے اور تم بعد میں حالات بہتر ہونے پر وہاں سے قوت حاصل کرکے واپس آسکتے ہو۔ چار و ناچار حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سندھ روانہ ہوگئے۔ اس وقت سندھ کا حکم عمر بن حفص تھا اور امید تھی کہ اہلِ بیتِ رسول اللہ ﷺ کی محبت کی بنا پر ان کی مدد کرے گا۔ جب حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سندھ پہنچے تو عمربن حفص نے ان کے والد حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کو تسلیم کر لیا اور عباسیوں کا نام ہٹا کر خطبہ میں بھی حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام شامل کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد سندھ میں بھی حضرت محمد مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچ گئی۔ عمر بن حفص نے حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپؓ سندھ کے فلاں علاقہ کے بادشاہ کے پاس چلے جائیے، وہ نبی اکرم ﷺ کے نام پر قربان ہوتا ہے اور ایفائے عہد میں مشہور ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ آپؓ کے ساتھ عزت و محبت سے پیش آئے گا۔ جب حضرت عبداللہ الاشتر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رضامندی ظاہرکردی تو عمر بن حفص نے عہدنامہ لکھوالیا اور پھر ان کو بادشاہ کے پاس روانہ کردیا۔ بادشاہ ان کی شخصیت سے نہایت متاثر ہوا(contracted; show full)لام عرض کرنے کے حاضرِ مزار شریف ہوئے، حضور سیدنا حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ خصوصی کرم فرمایا اور بہت محبت کے ساتھ پیش آئے۔ سلام ہو سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے اس عظیم پوتے پر جو بجا طور حسنی حسینی چمن کے پھول اور جانِ سیدہ زہرا بتول ؑ ہیں۔ یا اللہ! ہمارے مولا امام عالی مقام مولا حسن علیہ السلام کے اس عظیم پوتے حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدقہ میں ہمیں پنجتن پاک علیہم السلام کی بارگاہ میں سرخروئی عطا فرمادے، آمین ثم آمین۔ وما علینا اِلاّ البلٰغ المبین All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2787297.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|