Difference between revisions 2797166 and 2832563 on urwiki

=  محل وقوع =
حضرت سید شیر علی غازی کی درگاہ ضلع پونچھ کے گاوں کھنیتر اپر مکھیالہ کی  چوٹی پر موجود ہے۔گاؤں کھنیترضلع پونچھ سے دس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ،کھنیتر سے ایک لنک روڈ سر زمین مکھیالہ کی طرف جاتی ہے  ،یہ سڑک درگاہ تک  ابھی نہیں پہونچی ہے اس کے اسباب جو بھی ہو ان  کا تذکرہ کرنا یہاں برمحل اور مناسب نہیں ہے یہ درگاہ مکھیالہ کی چوٹی پر واقع ہے  ۔یہ گاؤں اپنی خوبصورت بلند وبالا چوٹيوں، گھنے جنگلات،زرخيز علاقوں کی بدولت مضافاتی علاقوں ميں مشہور ہے۔پھر  اگران جگہوں کی نسبت ایسے اولیاے کرام سے ہو جو ز(contracted; show full)ل رہے۔ ان کی تعلیمات کا لب ولباب نفس کشی، گوشہ نشینی، توکل بر خدا و قناعت و صبر و رضا تھا، کہا جاتا ہے کہ پیدائش سے ہی اس طرح کے اَثار ملنے لگے تھے کہ یہ بچہ اگے چل کر ایک بڑا متقی و پرہیز گار اور بردبار بزرگ بنے گا۔حقیت یہ ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت کسی مدرسہ یا خانقاہ کی مرہون منت نہ تھی بلکہ انہوں نے جو کچھ بھی حاصل کیا تھا وہ اپنے اجداد سے اور روحانیت آپ کووراثت میں ملی تھی دوسرے عبادت و ریاضت ،چلہ کشی،گوشہ نشینی، ترک لذات سے حاصل کیا- [[(۲)جہاں گشت بخاری کے جلالی سلسلے کے دو روشن ستارے نثار بخاری|(۲)]]
  

نور محمد نور اپنے شعری دیوان میں بابا شیر علی شاہ کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں۔

'''رونق مزاراں دے اُتے روز لگدے میلے۔  حاجتمند کئی حاجت پاندے نال نیک وسیلے'''

'''اولیاواں دی دھرتی اسنوں جیکر کہیا جاوے  سچو سچ ایہہ بات ہے ساری کون انکار لے آوے'''

'''جیونکر پونچھ اولیاواں اندر حالت دساں دل دی  حضرت شیر علی شاہ غازی اولیاء گزرے باری'''     '''کھنیتر وچ مکھیالے روضہ لشکے وانگ ستارے     لَکھ عقیدتمنداںآکے ایتھوں فیض اٹھائے'''  [[(۳)رب دے پیارے دیوان نورمحمد نور|(۳)]]

= وفات =
'''بابا شیرعلی شاہ بادشاہ نے عشق الٰہی میں غوطہ زن ہو کر بیاہ شادی کو الوداع کہہ دیا تھا بیاہ شادی کو قطع تعلق کرنے کے بعد آپ نے موضع کھنیتر اپر مکھیالہ ایک غار میں پندرہ برس تک چلہ کشی کی اسی اثنا ء میں آپ کی خوراک جنگلی سبزیوں کے علاوہ کچھ نہ تھی اور وہی گوشہ نشینی اختیار کی اور عمر عزیز کا بقیہ حصّہ یہیں گزارا آپ کا وصال۲۰رجب المرجب۱۲۶۲هـ کو ہوا اور موضع مکھیالہ میں آپ کی آخری آرام گاہ متعین ہوئی۔'''      

= کشف وکرمات =
1)   ایک دفعہ کوئی پردیسی کہیں جا رہا تھا آپ اس وقت موضع شیندرہ میں مقیم تھے حضرت کے ہاں پہونچتے ہی شام ہو گئی رات کیلئے لیے جگہ طلب کی مسافر کے ساتھ ایک گائے بھی تھی گائے کو مال مویشیوں کے کمرے (بانڈی) میں باندھ دی رات کو شیر نے گائے کونگل دیا صبح ہوتے ہوے مسافر گائے کی عدم موجودگی کو دیکھ کر ششدر رہ گیا حضرت کے دربار میں عرض کی، پیر شیر علی شاہ نے شیر کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا مسافروں اور پردیسیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا چنانچہ شیر نے فوراّ منہ کھولا اور گائے کو اُگل دیا ۔

2)       بابا شیر علی شاہ امور خانہ داری اور گھریلوں کام کاج میں مصروف رہتے تھے جب آپ بچپن میں تھے تو گھر والوں نے ایک دفعہ گوبر اٹھوایا اور چلے تو گوبر کی ٹوکری سر سے سوا گز اونچی ہو کر چل رہی تھی بہر کیف تاڑنے والوں کی نظر پڑھ گئی بابا صاحب ایک خدا دوست انسان ہیں دوبارہ امور خانہ داری کرنے سے گھروالوں نے منع فر مادیا ۔

3)      جب آپ موضع مکھیا لہ میں چلے گئے تو وہاں پانی دستیاب نہ تھا ایک دن شیر کی سواری سے آپ اس جنگل سے چلے آرہے تھے راستے میں پیاس لگی اور اپنے مرید کو اپنا عصادیا اور حکم دیا کہ پتھرپرعصا کو کھٹکھٹاؤ ایساکرنے سے وہا ں اللہ تعالٰی کے فضل سے ایک چشمہ پھوٹ گیا اور آج تک وہی پانی لنگر کیلئے لیے  استعمال ہوتا ہے اور دیگر مقامی لوگ بھی اس کو استعمال کرتے ہیں

  ۴)     کہا جاتا ہے کہ وصال کے ایک لمبے عرصے کے بعد آپ ایک دفعہ متعلقین میں سے ایک شخص  جناب نورمحمدکی خواب گاہ میں تشریف لائے اور حکم دیا کہ میری آنکھوں پر مٹی پڑی ہے قبر کا پردہ چاک کرکے مٹی اُٹھائیں موصوف کو پہلی مرتبہ تعجب ہوا  دوسری اور مسلسل تیسری بار بھی خواب میں یہی دیکھا جب موصوف نے علما ئے کرام ، امراء اور رؤساء اور متعلقین کو جمع کیا، تین بکروں کو ذبح کر کے ایک بڑی نیاز کا اہتمام کیا ،قبر کا پردہ چاک کیا گیا اور حقیقت میں دیکھا کہ(contracted; show full)
= لنگر =
بابا صاحب کے مزار پر جو قومی یکجہتی اور اتحاد نظر آتا ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتا قومی اتحاد کا ایک بڑا ثبوت ان کا لنگر ہے ۔ہزاروں عقیدت مند بابا کے دربار پر آتے ہیں جبین نیاز جھکاتے ہیں فاتحہ کو ہاتھ اُٹھاتے ہیں ۔نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور سکون پاتے ہیں فقر و درویشی کے باوجود آپ کی خانقاہ سخاوت اور فیاضی ک
یلئے لیے مشہور تھی مطبخ میں جتنا بھی کھانہ پکتا تھا وہ تمام غرباء و مساکین میں تقسیم ہو جاتا تھا ۔آج بھی آپ کے مزار پر ایک وسیع لنگر جاری ہے اور ہر غرباء و مساکین اور مفلوک الحال اس سے فیضیاب ہوتے ہیں ۔ آج بھی گاؤں میں ان کے پھیلائے ہوئے نور کی کرنیں اُجالا کر رہی ہیں آپ نے اس علاقہ میں اسلامی تہذیب و تمدن کو حیا ت نو بخش کر ایک منفرد تاریخ رقم کی ۔ عقیدت مند مرد ،چھوٹے ،بڑے والہانہ طور پر دن رات اس مرکز سعادت و ہدایت پر جوق در جوق آتے رہتے ہیں ۔  

= قدیم اثاروں میں سے بابا صاحب کے چنداثار =
ان قدیمی اثاروں میں سے بابا صاحب کا مٹی کا بنا ہوا برتن،ایک چھری لوہے کی اور ایک  تسبیح  جو حضرت بابا صاحب وردوظائف  کے لیے استعمال کرتے تھے آپکے مریدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا آپ کا کوئی مرید آپ کے وصال کے  بعد راولپنڈی (پاکستان نو)اس تسبیح کو بطور تبرک لے گیا  موصوف نے  اس تسبیح کو گولڑہ شریف دربار پیر مہر علی شاہ  رحمتہ اللہ علیہ   کے آستانہ عالیہ پر پہنچا دی اور اس کو واپس پونچھ مکھیالہ بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہنچانے کے لیے کہا  گویا  2012 میں  سرزمین بھی(contracted; show full)

= ۲    حضرت سیّد برکت شاہ =
حضرت سیّد برکت شاہ سید حسن علی شاہ کے فرزند ارجمند تھے۔ موصوف دربارپیرشیرعلی شاہ کے پہلے مسند سجادگی پر فائیز ہوئے۔حضرت زندگی بھر احسان و سلوک اور تصوف و روحانیت پر مبنی اسلامی معتقدات کی عصری انداز میں ترسیل و تبلیغ کرتے رہے۔صوفی فکر و مزاج کی حامل اس عبقری شخصیت نے دربار پیر شیر علی شاہ پربحثیت مجاور عرصہ دراز تک اپنے بیش بہا علوم و فنون اور دیگر وسائل و ذرائع کو اسلام، روحانیت اور خلق خدا کی خدمت کے لیے صرف کر
  دیا۔آپ کا وصال 1299هـ کو ہوا اور بابا صاحب کی ہمسایہگی میں مدفون ہیں ۔[[تاریخ اقوام پونچھ|(۵)]]      

= ۳    حضرت سید فرمان شاہ =
سید فرمان شاہ نے بھی اپنا مسکن اسی گاوں کو بنایا ،آپ اگرچہ اتنے پڑھے لکھے ہوئے نہیں تھے لیکن علم لدُنی کی برکت سے وقت کے بزرگوں کےِ سرگرو اور خاص وعام لوگوں کی جائے پناہ بن گئے تھے۔بچپن سے ہی آپ کے باطن سے علوم کی لیاقت و استعداد کے آثار آتے تھے۔ آپ ساد ہ اور خوش مزاج تھے اور فحوائے کلام نہایت دلچسب تھا، آپ شعر و سخن سے بھی زوق رکھتے تھے ۔ آپ نہ صرف شیندرہ درگاہ سلطانیہ اور اکبر شاہ بادشا کی درگاہوں کے جانشین اور تھے بلکہ گاؤں کھنیتر موضع مکھیالہ اپر شیرعلی شاہ بادشاہ علیہ رحمۃکی درگاہ کے جانشین  بھی رہے ہیں ،جب آپ پہلی مرتبہ شیر علی شاہ کے دربار پر حاضر ہوئے آپ اکیلے بیٹھے ہوے تھے آپ کو ایک خطرناک شیر دکھائی دیا اسے دیکھ کر آپ پریشان ہوے تھوڑی دیر کے بعدوہ شیر غائب ہو گیا رات میں سید شیر علی شاہ خواب گاہ میں تشریف لائے اور کہا یہ میرا شیر تھا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ یہیں مقیم ہو جائیں اور لنگر چلائیں عبادت اور ریاضت میں مشغول ہو جاؤ جب موصوف بیدار ہوئے آپ کے حوصلے بلند ہو گئے اور دل کی دنیا بدل گئی آپ تقریباّ یہاں ۲۵ سال تک بحثیت سجادہ نشین رہے ہیں اور وقفے وقفے میں دربار سلطانیہ پر بھی حاضر ہوتے رہے۔ آپ کا وصال ۸ دسمبر۲۰۰۵ بمطابق ۱۳شعبان ۱۴۲۶هـ  بروز اَتوارہوا اور آپ کی تدفین دربار شیر علی شاہ رحمۃاللہ علیہ کے آنگن میں ہوئی، آپ کے وصال کے بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سید امداد حسین شاہ  جانشین ہوئے۔

= ۴حضرت سید امداد حسین شاہ =

 سید امداد حسین شاہ (آپ باحیات ہیں) آپ ایک عالم و فاضل ہیں آپ شیر علی شاہ کے دربار پر بحثیت سجادہ نشین ہیں ،آپ نے مزار کی تعمیر اورمسجد کی ازسر نو تعمیر کی حال ہی میں ایک مدرسہ (مکتب)کی سنگ بنیاد اسمبلی ممبر حویلی جناب شاہ محمد تانترے نے رکھی،مولنا صاحب اپنے والد مُحترم کی طرح سادہ اور شریف طبعیت کے مالک ہیں۔  

   آپ نے تبلیغ، رشد و ہدایت کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہے بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہلے ٹین کی چھت پڑی ہوئی تھی،لیکن موصوف نے اس درگاہ کی تجدید و مرمت کی اور اب ایک دلکش اور خوبصورت مزارتعمیر کروایاہے ،ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ روڑ کی سہولت میسر نہ ہونے کے باوجود  اس مکھیالہ کی چوٹی پر سامان ڈھو کر مسجّدشریف ،لنگر خانہ،اور مزار تعمیر کروائے یہاں پر ہر سال عُرس بڑی عقیدت و مُحبت سے منایا جاتا ہے اور بھاری تعداد میں زائرین اور عقیدت مندوں کی تشریف آوری ہوتی ہے۔

= حوالہ جات =
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}