Difference between revisions 2827236 and 2832272 on urwiki

{{فوری حذف|بے حوالہ، غلط عنوان}}
{{حوالہ دیں}}
اہل تشیع یا شیعہ (عربی: شيعة) اہل سنت کے بعد مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی کی امامت کا قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ کا جانشین مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع پہلے تین خلفاء کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ نے دعوت ذوالعشیرہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضرت علی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "جو میری مدد کرے گا وہ میرا وزیر میرا وصی اور خلیفہ ہوگا"۔ تینوں دفعہ امام علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور کہا کہ اگرچہ میں چھوٹا ہوں اور میری ٹانگیں کمزور ہیں مگر میں آپ کی مدد کروں گا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ "اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے وزیر اور وصی ہو"۔ اس کے علاوہ حضور نے حجۃ الوداع کے بعد غدیر خم کے علاقے میں ایک خطبہ میں فرمایا کہ "جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔

شیعہ کا لفظی مفہوم

عربی زبان میں شیعہ کا لفظ دو معنی رکھتا ہے۔ پہلا کسی بات پر متفق ہونا اور دوسرا کسی شخص کا ساتھ دینا یا اس کی پیروی کرنا۔ قرآن میں کئی جگوں پر یہ لفظ اس طرح سے آیا ہے جیسے سورہ قصص کی آیت 15 میں حضرت موسی کے پیروان کو شیعہ موسی کہا گیا ہے اور دو اور جگہوں پر ابراہیم کو شیعہ نوح کہا گیا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں شیعہ کا لفظ کسی شخص کے پیروان کے لئیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے اختلافات کے زمانے میں ان کے حامیوں کو بالترتیب شیعان علی ابن ابو طالب اور شیعان معاویہ بن ابو سفیان کہا جاتا تھا۔ صرف لفظ شیعہ اگر بغیر تخصیص کے استعمال کیا جائے تو مراد شیعانِ علی ابن ابو طالب ہوتی ہے، وہ گروہ جو اس اختلاف میں حضرت علی ابن ابی طالب کا حامی تھا اور جو ان کی امامت کا عقیدہ رکھتا ہے۔
اہل تشیع کا تاریخی پہلو

شیعہ عقائد کے مطابق شیعیت کا آغاز پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور حیات میں اس وقت ہوا جب پہلی بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیہ [اولئک هم خیر البریه] کے تفسیر میں علی سے خطاب کرکے کہا "تو اور ترے شیعان قیامت کے دن سرخرو ہونگے اور خدا بھی تو اور تیرے شیعوں سے راضی ہوگا۔ اس وقت صحابہ میں سے چار لوگوں کو حضرت علی کا شیعہ کہا جاتا تھا: سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر[حوالہ درکار]
اہلسنت سے اختلاف

اہل تشیع کے اہل سنت سے اختلافات ہیں جن میں سے چند قابل ذکر ہیں۔
# امامت
# عدل

==== امامت ====
عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معانی راہنما یا سالار کے ہیں جو کسی بھی جماعت کی ‍قیادت کرے۔
روز مرّہ میں یہ لفظ مسجدوں میں نماز کی قیادت کرنے والے حضرات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کسی بھی فقہ کے بانی یا کسی بھی مذہبی و دیگر سوچ کے بانی کے لیے ان کے پیروکاروں کی طرف سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

==== عدل ====
عدل سے مراد کسی شئے کو اس کے اصل مقام پر رکھ دینا ہے۔ عدل کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے۔ یعنی حق دار کو اس کا حق دینا عدل ہے، حق چھین لینا عدل نہیں ہے، ظلم ہے۔

خدا عادل اور انصاف کرنے والا ہے کیونکہ ظلم ایک قبیح فعل ہے اور خداوند متعال میں کوئی بھی عیب موجود نہیں ہو  سکتا۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ خداوند متعال برے کام کرنے والے کو جنت عطا کردے اور اچھے کام کرنے والے کو دوزخ میں بھیج دے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خداوند متعال تمام مخلوقات سے انصاف کرے گا۔خدا کے تمام افعال حکمت اور مصلحت کے ساتھ ہوتے ہيں ۔ وہ کوئي بُرا کام نھيں کرتا اور نہ کسي ضروري کام کو ترک کرتا ہے ۔اُس ميں حسب ذيل نکات داخل ہیں :

(contracted; show full)

(۳) خدا کو بندوں کے تمام افعال کا علم ھميشہ سے ہے ليکن اُس کا علم ان لوگوں کے افعال کا باعث نھيں ہوتا بلکہ چونکہ يہ لوگ ان افعال کو اپنے اختيار سے کرنے والے ہیں اس لئے خدا کو ان کا علم ہے ۔

(۴) خدا کے ل
ئیے عدالت کو ضروري قرار دينے کے يہ معني نھيں ہیں کہ وہ ظلم،فعل شر يا فعل عبث پر قادر نھيں ہے بلکہ يہ معني ہیں کہ خدا کي کامل ذات اور اُس کے علم و قدرت کے لئیے يہ مناسب نھيں ہے کہ وہ ظلم وفعل شر وغيرہ کا ارتکاب کرے ۔ اس لئے اُس سے ان افعال کا صادر ہونا بالکل غير ممکن ہے ۔خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئیے متعدد دلائل هيں جن ميں سے هم بعض کاتذکرہ کريں گے:١۔هر انسان، چاهے کسی بهی دين ومذهب پر اعتقاد نہ رکهتاہو، اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچهائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا ہے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت ديں تو اس سے اظهار نفرت اور عادل کهيں تو خوشی کا اظهار کرتا ہے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا،جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواهشات کا حصول ہے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کےحق ميں فيصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فيصلہ اس کے لئیے باعث مسرت وخوشنودی ہے ليکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجه جائيں گے۔جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر ميں نہ آئے اور حق وعدل کا خيال کرے، ظالم اس سے ناراض تو ہو گا ليکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فيصلے کو احترام کی نظر سے ديکهے گا۔ تو کس طرح ممکن ہے کہ جس خدا نے فطرت انسانی ميں ظلم کو برا اور عدل کو اس لئے اچهاقرار ديا ہو تاکہ اسے عدل کے زيور سے مزين اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو <إِنَّ اللّٰہَ يَا مُْٔرُبِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ> ٢، <قُلْ ا مََٔرَ رَبِّی ب(contracted; show full)آلہ وسلم کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام حضرت علی علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا۔ اس کے علاوہ بطور خود خاموشی کے ساتھ اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے . قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا . مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا . بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی ک
یلئے لیے معمار کاکام انجام دے سکیں , زبان عربی کی حفاظت کیلئے لیے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے . ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفادملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو انسان اپنی ملّت , قوم اور مذہب کی خدمت ہر حال میں کرتا رہے .

خلافت

(contracted; show full) فرمائیں . پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی , مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور اپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے , پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے , غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے تھے . جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے , یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کر
  دیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہو  سکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے . مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں , انتہا ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے اکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بھجادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میں مال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے .
شہادت

(contracted; show full)
ابھی ملک حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے غم میں سوگوار تھا اور حضرت امام حسن علیہ السّلام پورے طور پر انتظامات بھی نہ کرچکے تھے کہ حکام شام کی طرف سے آپ کی مملکت میں دراندازی شروع ہوگئی اور ان خفیہ کارکنوں نے اپنی کاروائیں جاری کردیں چنانچہ ایک شخص قبیلہ حمیر# کا کوفہ میںا ورایک شخص بنی قین میں سے بصرہ میں پکڑا گیا یہ دونوں اس مقصد سے ائے تھے کہ یہاں کے حالات سے دمشق میں اطلاع دیں اور فضا کو امام حسن علیہ السّلام کے خلاف ناخوشگوار بنائیں غنیمت ہے کہ اس کاانکشاف ہو
  گیا حمیر والا آدمی کوفہ میں ایک قصائی کے گھر سے اور قین والاا دمی بصرہ میں بنی سلیم کے یہاں سے گرفتار کیا گیا اور دونوں کو جرم کی سز ادی گئی .اس واقعہ کے بعد حضرت امام حسن علیہ السّلام نے معاویہ کو ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ تم اپنی دراندازیوں سے نہیں باز آتے . تم نے لوگ بھیجے ہیںکہ میرے ملک میںبغاوت پیدا کرائیں اور اپنے جاسوس یہاں پھیلا دئیے ہیں . معلوم ہوتا ہے کہ تم جنگ کے خواہشمند ہو ایسا ہو تو پھر تیار ہو , یہ منزل کچھ دور نہیں . نیز مجھ کو خبر ملی ہے کہ تم نے میرے باپ کی وفات پر طعن وتشنیع کے الفاظ کہے . یہ ہر گز کسی ذی ہوش آدمی کا کام نہیں ہے . موت سب کے لیے ہے اج ہمیں اس حادثے دوچار ہونا پڑا تو کل تمھیں ہوناہوگا اور حقیقت یہ ہے کہ »ہم اپنے مرنے والے کو مرنیوالا سمجھتے نہیں . وہ تو ایسا ہے . جیسے ایک منزل سے منتقل ہو کر اپنی دوسری منزل میں جا کر ارام کی نیند سوجائے .,,

اس خط کے بعد حاکم شام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے درمیان بہت سے خطوط کی ردوبدلی ہوئی . حاکم شام کواپنے جاسوسوں کے ذریعہ سے اہل کوفہ کے باہمی تفرقہ اور بددلی اور عملی کمزوریوں کا علم ہو  گیا . اس لیے وہ سوچنے لگا کہ یہی موقع ہے کہ عراق پر حملہ کر دیا جائے . چنانچہ وہ اپنی فوجوں کو لے کر عراق کی حدود تک پہنچ گئے . اس وقت حضرت امام حسن علیہ السّلام نے بھی مقابلہ کی تیاری کی حجر بن عدی کو بھیجا کہ وہ دورہ کرکے اطراف ُ ملک کے احکام کو مقابلے کے لیے امادہ کریں اور لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کریں مگر جو خیال تھا وہی ہوا کہ عام طورپر سردمہری سے کام لیا گیا . تھوڑی فوج تیار ہوئی تو ان میں کچھ فرقہ خوارج کے لوگ تھے کچھ شورش پسند اور مال غنیمت کے طلبگار او رکچھ لوگ صرف اپنے سردارانِ قبائل کے دباؤ سے شریک تھے , بہت کم وہ لوگ تھے جو واقعی حضرت علی علیہ السّلام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے شیعہ سمجھے جاسکتے تھے .

ادھر معاویہ نے عبدالله ابن عامر ابن کریز کو اگے روانہ کیااور اس نے اس مقام انبار میں جاکر چھاؤنی بنائی ادھرحضرت امام حسن علیہ السّلام اس کے مقابلہ کے لے روانہ ہوئے اور مقامِ دیر کعب کے قریب ساباط# میںقیام کیا . یہاں پہنچ کر آپ نے لوگوں کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے سب کو جمع کرکے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا مضمون یہ تھا کہ »دیکھو مجھے کسی مسلمان سے کینہ نہیں ہے , میں تمھارا اتنا ہی بھی خواہ ہوں جتنا خود اپنی ذات کی نسبت مجھے ہونا چاہیے . میں تمھارے بارے میں ایک فیصلہ کن رائے قائم کرتا رہا ہوں .امید ہے کہ تم میری رائے سے انحراف نہ کرو گے . میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے اکثر کی ہمت جہاد سے پست ہوگئی ہے اور میں کسی طرح یہ صحیح نہیں سمجھتا کہ تمھیں بادل ناخواستہ کسی مہم پر مجبور کروں .,,اس تقریر کاختم ہونا تھا کہ مجمع میں ہنگامہ پید اہو  گیا . یقینی علی علیہ السّلام جیسے بہادر باپ کا بہادر فرزند تن تنہا اس ہنگامہ اور جماعت کا مقابلہ کرنے کے لے کافی تھا .اگر یہ کھلم کھلا دشمنوں کی جماعت ہوتی مگر اس کے پہلے خود حضرت علی علیہ السّلام بھی اس وقت بظاہر بے بس ہوگئے تھے . جب نیزوں پر قران اونچے کیے جانے کے بعد صفین میں خود آپ کی فوج کے آدمی آپ کو گھیر کر کھڑے ہوگئے تھے کہ آپ جنگ کو روکئے. نہیں تو ہم آپ کو قید کر کے دشمن کے سپرد کر دیں گے. اس وقت جناب امیر علیہ السّلام نے ایسا نہیں کیا کہ تلوار لے کر لڑنے لگتے بلکہ مجبوراً جنگ کو ملتوی فرمایا. اس سے زیادہ سخت صورت سے اس وقت امام حسن علیہ السّلام کو سامنا کرنا پڑا کہ مجمع نے آپ پر حملہ کر  دیا اور مصلّٰی قدم کے نیچے سے کھینچ لیا . چادر آپ کے دوش سے اتارلی .آپ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اواز بلند کی کہ کہاں ہیں ربیعہ او ہمدان# , فوراً یہ دونوں جانثار قبیلے اَدھر اُدھر سے دوڑ پڑے اور لوگوں کو آپ سے دورکیا . آپ یہاں سے مدائن کی طرف روانہ ہوئے مگر جراح ابن قبیصہ اسدی ایک شخص انہی خوارج میں سے کمین گاہ میں چھپ گیااور اس نے آپ پر خنجر سے وار کیا جس سے آپ کی ران زخمی ہوگئی , حملہ اور گرفتار کیا گیا اور اسے سزا دی گئی . عرصہ تک مدائن میں علاج ہونے کے بعد آپ اچھے ہوئے او پھر معاویہ کی فوج سے مقابلہ کی تیا(contracted; show full)کرنا پڑا .ان کابرداشت کرنا انہی کاکام تھا .وہ لوگ جو کل تک امیر المومنین کہہ کے تسلیم بجالاتے تھے اج »مُذلّ المومنین «»یعنی مومنین کی جامعت کو ذلیل کرنے والے ,, کے الفاظ سے سلام کرنے لگے پھر امام حسن علیہ السّلام نے صبرو استقلال اور نفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام ناگوار حالات کو برداشت کیااور معاہدہ پر سختی کے ساتھ قائم رہے مگر ادھر یہ ہوا کہ حاکمِ شام نے جنگ کے ختم ہوتے ہی اور سیاسی اقتدار کے مضبوط ہوتے ہی عراق میں داخل ہو کر نخیلہ میںجسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہیے قیام کیااور جمعہ کے خطبہ کے بعد یہ اعلان کر
  دیا کہ »میرا مقصد جنگ سے کوئی یہ نہ تھا کہ تم لوگ نماز پڑھنے لگو . روزے رکھنے لگو . حج کرو یا زکوٰة ادا کرو , یہ سب تو تم کرتے ہی ہو میرا مقصد تو بس یہ تھا کہ میری حکومت تم پر مسلّم ہو جائے اور یہ مقصد میرا حسن علیہ السّلام کے اس معاہدہ کے بعد پورا ہو  گیا اور باوجود تم لوگوںکی ناگواری کے خدانے مجھے کامیاب کر  دیا . رہ گئے وہ شرائط جو میںنے حسن علیہ السّلام کے ساتھ کئے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچے ہیں ان کاپورا کرنا یا نہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے »مجمع میں ایک سناٹا چھایا ہوا تھا مگر اب کس میں دم تھا کہ وہ اس کے خلاف زبان کھولتا .انتہا ہے کہ کوفہ میں امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی موجودگی میں حاکم شام نے حضرت امیر علیہ السّلام اور امام حسن علیہ السّلام کی شان میںکلماتِ نازیبا استعمال کیے جن کو سن کر امام حسین علیہ السّلام بھائی کی جانب سے جواب دینے کے لیے کھڑے ہوگئے مگر امام حسن (contracted; show full)نیا کو اقرار کرنا پڑتا تھا . چنانچہ ایک سائل نے مسجد نبوی میں اکر ایک ایت کی تفسیر ابن عباسرض سے بھی پوچھی.عبدالله ابن رض عمیر سے بھی پوچھی اور پھر امام حسن سے دریافت کی اور اخر میں اس نے اقرار کیا کہ امام حسن علیہ السّلام کا جواب یقیناً ان دونوں سے بہتر تھا . اکثر آپ نے اپنے دشمن معاویہ کے دربار میں اور وہاں کے مخالف ماحول میں فضائل اہلبیت علیہ السّلام اور مناقب امیر المومنین علیہ السّلام پر ایسی مئوثر تقریریں فرمائی ہیں کہ دشمنوں کے سرجھک گئے اور آپ کی فصاحت وبلاغت اورحقانیت کا ان کے دلوں پر سّکہ قائم ہو
  گیا .

عبادت بھی آپ کی امتیازی حیثیت رکھتی تھی بیس یاپچیس حج پاپیادہ کیے . جب موت, قبر , قیامت اور صراط کو یاد فرماتے تھے تو رونے لگتے تھے . جب بارگاہ الٰہی میں اعمال کے پیش ہونے کا خیال اتا تو ایک نعرہ مار کر بے ہوش ہوجاتے تھے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے تھے تو جسم لرزنے لگتاتھا
وفات

اس بے ضرر اور خاموش زندگی کے باوجود بھی امام حسن علیہ السّلام کے خلاف وہ خاموش حربہ استعمال کیا گیا جو سلطنت بنی امیہ میں اکثر صرف کیا جارہا تھا . حاکم شام نے اشعث ابن قیس کی بیٹی جعدہ کے ساتھ جو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی زوجیت میں تھی ساز باز کرکے ایک لاکھ درہم انعام اور اپنے فرزند یزید کے ساتھ شادی کا وعدہ کیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت حسن علیہ السّلام کو زہر دلوایا .امام حسن علیہ السّلام کے کلیجے کے ٹکڑے ہوگئے اور حالت خراب ہوئی .آپ نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السّلام کو پاس بلایا اوروصیت کی , اگر ممکن ہو تو مجھے جدِ بزرگوار رسولِ خدا کے جار میںدفن کرنا لیکن اگر مزاحمت ہو تو ایک قطرہ خون گرنے نہ پائے . میرے جنازے کو واپس لے انا اور جنت البقیع میں دفن کرنا۔ 28 صفر 50ھ کو امام حسن علیہ السّلام دنیا سے رخصت ہوگئے . حسین علیہ السّلام حسبِ وصیت بھائی کا جنازہ روضہ رسول کی طرف لے گئے مگر جیسا کہ امام حسن علیہ السّلام کو اندیشہ تھا وہی ہوا . ام المومنین عائشہ اور مروان وغیرہ نے مخالفت کی .نوبت یہ پہنچی کہ مخالف جماعت نے تیروں کی بارش کردی اور کچھ تیر جنازئہ امام حسن علیہ السّلام تک پہنچے , بنی ہاشم کے اشتعال کی کوئی انتہا نہ رہی مگر امام حسین علیہ السّلام نے بھائی کی وصیت پر عمل کیا اورا مام حسن علیہ السّلام کاتابوت واپس لا کر جنت البقیع میں دفن کر  دیا۔

3) حضرت امام حسین ابن علی علیہ السلام

حسین نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے، پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفےٰ کے چھوٹے نواسے علی و فاطمہ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ ان کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ 'حسین منی و انا من الحسین' یعنی 'حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔

 1 ولادت
 2 نشوو نما
(contracted; show full)

رسول کی محبت

جیسا کہ حضرت امام حسن کے حالات میں لکھا جاچکا ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے . سینہ پر بیٹھاتے تھے . کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو . مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے .ایسا ہو اہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین پشت ُ مبارک پراگئے تو سجدہ میں طول دیا . یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علیٰحدہ ہو
  گیا .اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسین مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کر  دیا منبر سے اتر کر بچے کوزمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ »دیکھو یہ حسین ہے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو « رسول نے حسین کے لیے یہ الفاظ بھی خاص طور سے فرمائے تھے کہ »حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں,, مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دُنیا میں حسین کی بدولت قائم رہیگا .

رسول کی وفات کے بعد

(contracted; show full)

مسلم کی گرفتاری اور شہادت

شہر میں افواہ پھیل گئی کہ ہانی قتل ہو گئے ۔ یہ خبر سنتے ہی مسلم نے اٹھارہ ہزار ہمنواؤں کے ساتھ ابن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا۔ ابن زیاد کے پاس اس وقت صرف پچاس آدمی موجود تھے۔ چنانچہ اس نے حکمت سے کام لیا اوران رئیسان کوفہ کی ترغیب سے لوگوں کو منتشر کرنے میں کامیاب ہو
  گیا ۔آخر کام مسلم کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے ۔ مجبوراً مسلم بن عقیل نے ایک بڑھیا کے گھر پناہ لی لیکن اس بڑھیا کے بیٹے نے انعام کے لالچ میں آکر خود جا کر ابن زیاد کو اطلاع کر دی ۔ابن زیاد نے یہ اطلاع پا کر مکان کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت مسلم بن عقیل تن تنہا لڑنے پر مجبور ہوئے جب زخموں سے چور ہوگئے تو محمد بن اشعث نے امان دے کر گرفتار کر لیا ۔ لیکن آپ کو جب ابن زیاد کے سامنے پیش کیاگیا تو اس نے امان کے وعدہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے آپ کے قتل کا حکم دے دیا۔ مسلم بن عقیل نے محمد بن اشعث سے کہا کہ میرے قتل کی اطلاع ام(contracted; show full)

حر نے تمام صورت حال سے امام حسین کو آگاہ کیا اور کہا کہ ’’اب میں آپ کو اس جگہ نہ رہنے دوں گا ۔ ‘‘بالآخر یہ مختصر سا قافلہ 2 محرم الحرام61 ھ بمطابق 2 اکتوبر 680ء کو کربلا کے میدان میں اترا۔ دوسرے ہی روز عمر بن سعد 6 ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔ عمر بن سعد چونکہ امام حسین سے لڑنے کا خواہشمند نہ تھا س لیے قرہ بن سفیان کو آپ کے پاس بھیجا ۔ قرہ بن سفیان سے حضرت حسین نے کہا کہ ’’اگر تمہیں میرا آنا ناپسند ہے تو میں مکہ واپس جانے کے لیے تیار ہوں ۔‘‘ لیکن ابن زیاد نے اس تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کر
  دیا اور عمر بن سعد کو حکم دیا کہ اگر امام حسین بیعت نہ کریں تو

ان کا پانی بند کر  دیا:

امام حسین کو ایسی حالت میں جب کہ وہ قابو میں آچکے تھے گرفتار کرنا زیادہ مناسب اور ضروری قرار دیا۔ یہ سن کر ابن زیاد نے اپنی رائے تبدیل کر دی ۔ اور عمر بن سعد کو اس کی اس بات پر سرزنش کرتے ہوئے حکم دیا کہ. ’’اگر امام حسین اور اس کے ساتھی اپنے آپ کو حوالہ کر دیں تو بہتر ہے ورنہ جنگ کی راہ لو۔‘‘ شمر مع خط کے عمر بن سعد کے پاس پہنچا۔ عمر بن سعد اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی خاطر امام حسین کے خلاف تلوار اٹھانے کے لیے تیار ہو گیا۔ یہ 9 محرم الحرام کا دن تھا۔

المیہ کربلا اور شہادت عظمٰی

(contracted; show full)

اس شعر کو سن کر اور یزید کا فخریہ انداز دیکھ کر دربار میں موجود ایک یہودی سفیر نے کہا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد سے ہوں۔ میرے اور ان کے درمیان ستر پشتیں گزر چکی ہیں مگر اس کے باوجود یہودی میری بے حد عزت و تکریم کرتے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے اپنے نبی کے نواسے کو شہید کر
  دیا ہے اور اب اس پر فخر بھی کر رہے ہو۔ یہ تمہارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
[4] گبن کے الفاظ میں “ Thus fell one of the noblest spirits of the age and with him perished all the male members of his family with the solitary exception of a sickly child named Ali who later in life received the designation of Zayn-ul-Abidin” ترجمہ : اس طرح زمانے کے پارسا ترین انسانوں میں سے ایک کا خاتمہ ہو  گیا اور اس کے ساتھ اس کے خاندان کے تمام مرد بھی ختم ہو گئے سوائے امام زین العابدین علی بن حسین (جو بیماری کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہ کر سکے) اور امام محمد باقر بن علی کے جو اس وقت بچے تھے۔ یہ دردناک واقعہ 10 محرم الحرام 61 ھ مطابق 10 اکتوبر 680ء کو پیش آیا۔

غدار کو‌فیوں کا شرمناک کردار

اس دلخراش سانحہ سے قبل بھی کو‌فیوں کا کردار نہایت ہی شرمناک رہا تھا۔ حضرت علی کے دارلخلافہ مدینہ سے کوفہ لے جانے سے ان سازشیوں کو کھل کر کھلنے کا موقع ملا۔ بظاہر یہ سازشی حب علی کا لبادہ اوڑھے رہا کرتے تھے لیکن آپ کی زات اطہر سے بھی الٹے سیدھے سوالات کرنا ان کا وتیرہ تھا۔ایک مو‏قع پر ان لوگوں نے حضرت علی سے سوال کیا۔ " مولا آپ سے پہلے کے خلفاء کے دور میں امن وامان تھا مگر آپ کے دور میں یہ کیوں عنقا ہے" اس گستاخانہ سوال پر حضرت علی نے ان منافقوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ آپ نے فرمایا " اس بدامنی کی بنیادی وجہ یہ ہے کر سابقہ خلفاء کے مشیر میرے جیسے لوگ تھے اور میرے مشیر ہیں آپ جیسے لوگ"۔ ان لوگوں کی ان ہی حرکتوں کے باعث حضرت علی بالآخر اس طبقے سے بیزار رہنے لگے تھے۔ جب حضرت حسن نے خلافت سنبھالی تو آپ اپنے والد محترم کے دور میں ان منافقوں کا بغور مشاہدہ کر چکے تھے اسے لئے آپ نے ان کو زیادہ منہ نہ لگایا اور حضرت معاویہ سے صلح کرلی۔ اس صلح سے خانہ جنگی کا خاتمہ ہو  گیا تھا۔ اس صلح سے ان منافقوں کی سازشوں پر پانی پھر رہا تھا اس لئے اس صلح پر بھی حضرت حسن کی زات گرامی پر اعتراض کرنے لگے۔ حضرت حسن نے فرمایا " اگر خلافت میرا حق تھا تو یہ میں نے ان ( معاویہ ) کو بخش دیا اور اگر یہ معاویہ کا حق تھا تو یہ ان تک پہنچ گیا" ۔ جن کوفیوں نے حضرت حسین کو خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت تھی ان کی تعداد ایک روائت کے مطابق 12000 اور دوسری روائت کے مطابق 18000 تھی لیکن جب جنگ کی نوبت آگئ تو ان بے وفا اور د‏غا باز لوگوں میں سے کسی نے حضرت حسین کا ساتھ نہ دیا اور کھڑے تماشا دیکھت(contracted; show full)
نتائج

واقعہ حرہ

اصل مضمون: واقعۂ حرہ

شہادت حسین کی خبر جب سرزمین حجاز میں پہنچی تو کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اس سانحہ پر اشکبار نہ ہو ۔ لٰہذا حجاز میں فوری طور پر انقلاب برپا ہو
  گیا۔ اہل مدینہ نے اموی حکام کو صوبہ سے نکال دیا اور عبداللہ بن زبیر کی بیعت کر لی۔ یزید نے ولید بن عقبہ کی ماتحتی میں شامیوں کی فوج روانہ کی۔ اس فوج میں مسیحی کثیر تعداد میں شامل تھے ۔ جب اہل مدینہ نے اطاعت قبول نہ کی تو ولید بن عقبہ نے شہر پر حملہ کرنے کا حکم دیا ۔ اہل مدینہ نے اگرچہ بڑی بے جگری سے لڑے لیکن شامی افواج کے ان کو شکست ہوئی ۔ اس جنگ میں بڑے بڑے اکابر مدینہ شہید ہوئے جن میں فضل بن عباس اور عبداللہ بن حنظلہ قابل ذکر ہیں۔ شہر پر قبضہ کے بعد مدینہ الرسول تین دن تک شامی فوجیوں کے ہاتھوں لٹتا رہا۔ مسلمانوں کی عزت و آبرو برباد ہوئی اور تین روز تک مسلسل قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ تاریخ اسلام میں یہ واقعا بہت اہم ہے اور سانحہ کربلا کے بعد یزید کا دوسرا بڑا سیاہ کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

عبداللہ بن زبیر کی خلافت

اہل مدینہ نے یزید کے بجائے عبداللہ بن زبیر کو خلیفہ چن لیا۔ شہادت حسین نے لوگوں کے اندر سوئے ہوئے جذبات کو ازسرنو بیدار کر دیا اور سرزمین حجاز میں ناراضی کی ہمہ گیر لہر اموی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ اہل حجاز کو ابن زبیر جیسی موثر شخصیت بطور رہنما میسر آئی ۔ چنانچہ اہل مدینہ نے بھی جلد آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا اور آپ کی بیعت کر لی۔ اس انقلاب نے اموی اقتدار کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا کر دیں۔ حجاز کی سرزمین سے مخالفت کے یہ ابلتے ہوئے جذبات درحقیقت تمام عالم اسلامی میں پیدا شدہ ہمہ گیر اضطراب کے ترجمان تھے۔

اموی خلافت کا زوال

واقعہ کربلا اموی خلافت کے زوال کا اہم سبب قرار دیا جاتا ہے۔ اموی حکومت اور اس کے عمال پہلے ہی عوام الناس میں مقبول نہ تھے۔ کیونکہ مسلمان جب ان کی حکومت کا موازنہ خلافت راشدہ سے کرتے تھے انہیں سخت مایوسی ہوتی۔ امام حسین کی شہادت نے ملت اسلامیہ کو بہت متاثر کیا۔ خود یزید کابیٹا معاویہ دل برداشتہ ہو کر خلافت سے ہی دست بردار ہو  گیا۔ اگرچہ امویوں نے اپنی قوت اور استقلال کی بدولت حکومت کو وقتی طور پر اپنے خاندن میں محفوظ کر لیا لیکن خلیفہ مروان ثانی کے زمانہ تک کھلم کھلا اور زیر زمین کئی تحریکیں مسلسل اس بات کے لیے کوشاں رہیں کہ وہ امویوں کی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔

عباسی تحریک

(contracted; show full)

واقعہ کربلا

تین برس امام محمد باقر علیہ السّلام اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السّلام کے زیرِسایہ رہے . جب آپ کاسن پورے تین سال کا ہوا تو امام حسین علیہ السّلام نے مدینہ سے سفر کیا .ا س کم سنی میں امام محمد باقر علیہ السّلام بھی راستے کی تکلیفیں سہنے میں ا پنے بزرگوں کو شریک رہے . امام حسین علیہ السّلام نے مکہ میں پناہ لی . پھر کوفہ کاسفر اختیار کیا اور پھر کربلا پہنچے . ساتویں محرم سے جب پانی بند ہو
  گیا تو یقیناً امام محمدباقر نے بھی تین یوم پیاس کی تکلیف برداشت کی . یہ خالق کی منشاء کی ایک تکمیل تھی کہ وہ روز عاشور میدان ُ قربانی میںنہیںلائے گئے . ورنہ جب ان سے چھوٹے سن کا بچہ علی اصغر علیہ السّلام تیر ستم کا نشانہ ہو  سکتا تھا تو امام محمد باقر علیہ السّلام کابھی قربان گاہ شہادت پر لاناممکن تھا . مگر سلسلہ امامت کادنیامیں قائم رہنا نظام کائنات کے برقرار رہنے کے لیے ضروری اور اہم تھا لٰہذا منظور الٰہی یہ تھا کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کربلا کے میدان میں اس طرح شریک ہوئے .عاشور کو دن بھر عزیزوں کے لاشے پر لاشے اتے دیکھنا . بیبیوں میں کہرام , بچوں میں تہلکہ , امام حسین علیہ السّلام کاوداع ہونا اورننھی سی جان علی اصغر علیہ السّلام کا جھولے سے جدا ہوکر میدان میںجانا اور پھر واپس نہ انا ,امام علیہ السّلام کے باوفا گھوڑے کا(contracted; show full)

اس دور کی خصوصیات

یہ وہ زمانہ تھا جب بنی امیہ کی سلطنت اپنی مادری طاقت کے لحاظ سے بڑھاپے کی منزلوں سے گزر رہے تھے . بنی ہاشم پر ظلم وستم اورخصوصاً کربلا کے واقعہ نے بہت حد تک دنیا کی انکھوں کو کھول دیا اور جب یزید خود اپنے مختصر زمانہ حیات ہی میں جو واقعہ کربلا کے بعد ہوا اپنے کیے پرپشیمان ہوچکا تھا اور اس کے برے نتائج کو محسوس کر چکا تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا معاویہ اپنے باپ اور دادا کے افعال سے کھلم کھلا اظہار بیزاری کرکے سلطنت سے دستبردار ہو
  گیا تو بعد کے سلاطین کوکہاں تک ان مظالم کے مہلک نتائج کااحساس نہ ہوتا . جب کہ اس وقت جماعت توابین کا جہاد مختار رض اور ان کے ہمراہیوں کے خون حسین علیہ السّلام کا بدلہ لینے میں اقدامات اور نہ جانے کتنے واقعات سامنے اچکے تھے جن سے سلطنت شام کی بنیادیں ہل گئیں تھیں . اس کا نتیجہ یہ تھا کہ امام محمد باقر علیہ السّلام کے زمانہ امامت کو حکومت کے ظلم وتشدد کی گرفت سے کچھ آزادی نصیب ہوئی اور آپ کو خلق خدا کی اصلاح وہدایت کا کچھ زیادہ موقع مل سکا .

عزائے امام حسین علیہ السّلام میں انہماک

(contracted; show full)

95ھ میں بارہ برس کی عمر میں امام زین العابدین علیہ السلام کا سایہ سر سے اٹھا۔ اس کے بعد انیس برس آپ نے اپنے والد ماجد حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کے دامنِ تربیت میں گزارے، یہ وہ وقت تھا جب سیاست بنی امیہ کی بنیادیں ہل چکی تھیں اور امام محمد باقر علیہ السّلام کی طرف فیوضِ علمی حاصل کرنے کے ل
ئیے خلائق رجوع کر رہی تھی۔ اس وقت اپنے پدرِ بزرگوار کی مجلسِ درس میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام ہی ایک وہ طالب علم تھے جو قدرت کی طرف سے علم کے سانچے میں ڈھال کر پیدا کئے گئے تھے۔ آپ سفر اور حضر دونوں میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ رہتے تھے چنانچہ ہشام ابن عبدالمالک کی طلب پر حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کے ساتھ تھے اس کا ذکر پانچویں امام کے حالات میں ہو چکا ہے۔

(contracted; show full)

انقلابِ سلطنت

بنی امیہ کا اخری دور ہنگاموں اور سیاسی کشمکشوںکا مرکز بن گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بہت جلدی جلدی حکومتوں میں تبدیلیاںہورہی تھی اور اسی لیے امام جعفر صادق علیہ السّلام کو بہت سی دنیوی سلطنتوں کے دور سے گزرنا پڑا۔ ہشام بن عبدالملک کے بعد ولید بن عبدالملک پھر یزید بن ولید بن عبدالملک اس کے بعد ابراہیم بن ولید بن عبدالملک اور اخر میں مروان حمار جس پر بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہو
  گیا۔

جب سلطنت کی داخلی کمزوریاںقہر وغلبہ کی چولیں ہلا چکی ہوں تو قدرتی بات ہے کہ وہ لوگ جو اس حکومت کے مظالم کا مدتوں نشانہ رہ چکے ہوں اور جنھیں ان کے حقوق سے محروم کرکے صرف تشدد کی طاقت سے پنپنے کا موقع نہ دیا گیا ہو، قفس کی تتلیوں کو کمزور پا کر پھڑ پھڑانے کی کوشش کریں گے اور حکومت کے شکنجے کو ایک دم توڑ دینا چاہیں گے، سوائے ایسے بلند افراد کے جو جذبات کی پیروی سے بلند ہوں۔ عام طور پر اس طرح کی انتقامی کوششوں میں مصلحت اندیشی کادامن بھی ہاتھ سے چھوٹنے کا امکان ہے مگر وہ انسانی فطرت کا ایک کمزور پہلو ہے ج(contracted; show full)

بنی عباس میں سے سب سے پہلے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس نے بنی امیہ کے خلاف تحریک شروع کی اور ایران میں مبلغین بھیجے جو مخفی طریقہ پر لوگوں سے بنی ہاشم کی وفاداری کاعہدوپیمان حاصل کریں۔ محمد بن علی کے بعد ان کے بیٹے ابراہیم قائم مقام ہوئے۔جناب زیدرض اور ان کے صاحبزادے جناب یحییٰرض کے دردناک واقعات شہادت سے بنی امیہ کے خلاف غم وغصہ میں اضافہ ہو
  گیا۔ اس سے بھی بنی عباس نے فائدہ اٹھایا اور ابو سلمہ خلال کے ذریعہ سے عراق میں بھی اپنے تاثرات قائم کرنے کا موقع ملا۔ رفتہ رفتہ اس جماعت کے حلقئہ اثر میں اضافہ ہوتا گیا اور ابو مسلم خراسانی کی مدد سے عراق عجم کا پورا علاقہ قبضہ میںاگیا اوربنی امیہ کی طرف سے حاکم کو وہاں سے فرار اختیار کرنا پڑا۔ 129ھ سے عراق اورخراسان وغیرہ میںسلاطین بنی امیہ کے نام خطبہ سے خارج کرکے ابراہیم بن محمد کانام داخل کر  دیا گیا۔

ابھی تک سلطنت بنی امیہ یہ سمجھتی تھی کہ یہ حکومت سے ایک مقامی مخالفت ہے۔ جو ایران میں محدود ہے مگر اب جاسوسوں نے اطلاع دی کہ اس کا تعلق ابراہیم ابن محمد بن عباس کے ساتھ ہے جو مقام جابلقا میں رہتے ہیں۔ اس کانتیجہ یہ تھا کہ ابراہیم کو قید کر  دیا گیا اور قید خانہ ہی میں پھر ان کو قتل کرادیا گیا۔ ان کے پس ماندگان دوسرے افراد بنی عباس کے ساتھ بھاگ کر عراق میں ابو سلمہ کے پاس چلے گئے۔ ابو مسلم خراسانی کو جو ان حالات کی اطلاع ہوئی تو ایک فوج کو عراق کی طرف روانہ کیا جس نے حکومتی طاقت کو شکست دے کر عراق کو ازاد کرالیا۔

ابوسلمہ خلال جو وزیر ال محمد کے نام سے مشہور ہے بنی فاطمہ کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے، انھوںنے چند خطوط اولاد رسول میں سے چند بزرگوں کے نام لکھے اور ان کو قبول خلافت کی دعوت دی. ان میں سے ایک خط حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کے نام بھی تھا۔ سیاست کی دنیا ہیں ایسے مواقع اپنے اقتدار کے قائم کرنے کے لیے غنیمت سمجھے جاتے ہیں مگر وہ انسانی خود داری واستغنا کامثالی مجمسہ تھا جس نے اپنے فرائض منصبی کے لحاظ سے اس موقع کو ٹھکرا دیا ور بجائے جواب دینے کے حقارت امیز طریقہ پرا س خط کو اگ کی نذر کر  دیا۔

ادھر کوفہ میں ابو مسلم خراسانی کے تابعین اوربنی عباس کے ہوا خواہوں نے عبداللہ سفاح کے ہاتھ پر 14ربیع الثانی 132ھ کو بیعت کرلی اور اس کو امت اسلامیہ کا خلیفہ اور فرمانروا تسلیم کر لیا۔ عراق میں اقتدار قائم کرنے کے بعد انہوں نے دمشق پر چڑھائی کردی۔ مروان حمارنے بھی بڑے لشکر کے ساتھ مقابلہ کیامگر بہت جلد اس کی فوج کو شکست ہوئی۔ مروان نے فرار کیا اور اخر میں افریقہ کی سر زمین پر پہنچ کر قتل ہوا۔اس کے بعد سفاح نے بنی امیہ کاقتل عام کرایا۔ سلاطین بنی امیہ کی قبریں کھدوائیں اور ان لاشوں کے ساتھ عبرتناک سلوک کیے گئے۔ اس طرح قدرت کاانتقام جو ان ظالموں سے لیا جاناضروری تھا بنی عباس کے ہاتھوں دنیا کی نگاہ کے سامنے ایا۔ 136ھ میں ابو عبداللہ سفاح بنی عباس کے پہلے خلیفہ کا انتقال ہو  گیا۔ جس کے بعداس کا بھائی ابو جعفر منصور تخت خلافت پر بیٹھا جو منصور دوانقی کے نام سے مشہور ہے۔

سادات پر مظالم

یہ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ بنی عباس نے ان ہمدردیوں سے جو عوام کو بنی فاطمہ کے ساتھ تھیں ناجائز فائدہ اٹھایا تھا اور انھوں نے دنیا کو یہ دھوکا دیا تھا کہ ہم اہلبیتِ رسول کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں چنانچہ انھوں نے رضائے الِ محمد ہی کے نام پر لوگوں کو اپنی نصرت وحمایت پر امادہ کیاتھا اور اسی کو اپنانعرئہ جنگ قرار دیا تھا۔ اس لیے انھیں برسر اقتدار انے کے بعد اور بنی امیہ کو تباہ کرنے کے بعد سب سے بڑا اندیشہ یہ تھا کہ کہیں ہمارایہ فریب دنیا پر کھل نہ جائے اور تحریک پیدا نہ ہو جائے کہ خلافت بنی عباس کی بجائے بنی فاطمہ کے سپرد ہونا چاہیے، جو حقیقت میں الِ رسول ہیں۔ ابو سلمہ خلال بنی فاطمہ کے ہمدردوں میںسے تھے اس لیے یہ خطرہ تھا کہ وہ اس تحریک کی حمایت نہ کرے، لہذا سب سے پہلے ابو سلمہ کو راستے سے ہٹا یا گیا وہ باوجود ان احسانات کے جو بنی عباس سے کرچکا تھا سفاح ہی کے زمانے میں تشدد بنا اور تلوار کے گھاٹ اتارا گیا۔ ایران میں ابو مسلم خراسانی کااثر تھا، منصور نے انتہائی مکاری اور غداری کے ساتھ اس کی زندگی کا بھی خاتمہ کر  دیا۔

اب اسے اپنی من مانی کاروائیوں میںکسی بااثر اور صاحبِ اقتدار شخصیت کی مزاحمت کا اندیشہ نہ تھالٰہذا اس کا ظلم وستم کا رخ سادات بنی فاطمہ کی طرف مڑ گیا۔ مولانا شبلی سیر ت نعمان میں لکھتے ہیں۔»صرف بد گمانی پر منصور نے سادات علویئین کی بیخ کنی شروع کردی۔ جو لوگ ان میں ممتاز تھے ان کے ساتھ بے رحمیاں کی گئیں۔محمد ابن ابراہیم کہ حسن وجمال میںیگانہ روز گار تھے اور اسی وجہ سے دیبا#ج کہلاتے تھے زندہ دیواروں میں چنوادیئے گئے۔ ان بے رحمیوں کی ایک داستان ہے جس کے بیان کرنے کو بڑا سخت دل چاہیے۔,, حضرت امام جعفر صادق(contracted; show full)

منصور نے پہلے حضرت کی علمی عظمت کااثر عوام کے دل سے کم کرنے کے لیے ایک تدبیر یہ کی کہ آپ کے مقابلے میں ایسے اشخاص کو بحیثیت فقیہہ اور عالم کے کھڑا کر
  دیا جو آپ کے شاگردوں کے سامنے بھی زبان کھولنے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور پھر وہ خود اس کا اقرار رکھتے تھے کہ ہمیں جو کچھ ملا وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کی محبت کا دم بھرتا ہے اسے گرفتار کیا جائے۔

(contracted; show full)

ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں وارد ہوا اور مسجد رسول میں سوگیا۔انکھ کھلی تو اسے شبہ ہوا کہ اس کی ایک ہزار کی تھیلی موجود نہیں۔ اس نے اَدھر ادھر دیکھا, کسی کو نہ پایا۔ ایک گوشئہ مسجد میں امام جعفر صادق علیہ السّلام نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ آپ کوبالکل نہ پہچانتا تھا۔ آپ کے پاس اکر کہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے۔ حضرت علیہ السّلام نے فرمایا، »اس میں کیا تھا ?«اس نے کہا»ایک ہزار دینار «۔ حضرت نے فرمایا۔,, میرے ساتھ میرے مکان تک اؤ وہ آپ کے ساتھ ہو
  گیا۔ بیت الشرف پر تشریف لاکر ایک ہزار دینار اس کے حوالے کردیئے۔ وہ مسجد میں واپس اگیا اور اپنا اسباب اٹھانے لگا تو خود اس کے دیناروں کی تھیلی اسباب میں نظر ائی۔ یہ دیکھ کر وہ بہت شرمندہ ہوا اور دوڑتا ہوا پھر امام علیہ السّلام کی خدمت میں ایا اور غلط خواہی کرتے ہوئے وہ ہزار دینار واپس کرنا چاہے »ہم جو کچھ دے دیتے ہیں وہ پھرواپس نہیں لیتے۔

موجودہ زمانے میں یہ حالات سب ہی کی انکھوں کے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ اناج مشکل سے ملے گا تو جس کو جتنا ممکن ہو وہ اناج خرید کر رکھ لیتا ہے مگر امام جعفرصادق علیہ السّلام کے کردار کاایک واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے وکیل معتب# سے ارشادفرمایا کہ غلہ روز بروز مدینہ میں گراں ہوتا جارہا ہے۔ہمارے ہاں کس قدر غلہ ہوگا ? معتب# نے کہا کہ »ہمیں ا س گرانی اور قحط کی تکلیف کا کوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کا اتنا ذخیرہ ہے کہ جو بہت عرصہ تک کافی ہوگا۔,, حضرت علیہ السّلام نے فرمایا۔» تمام غلہ فروخت کر ڈالو۔ اس کے بعد جو حال سب کا ہو وہ ہمارا بھی ہو۔,, جب غلہ فروخت کر دیا گیا تو فرمایا.»اب خالص گیہوں کی روٹی نہ پکا کرے بلکہ ادھے گیہوں اور آدھے جو, جہاں تک ممکن ہو ہمیں غریبوںکاساتھ دینا چاہیے۔

آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرے تھے۔ مزدوروں کی بڑی قدر فرماتے تھے۔ خود بھی تجارت فرماتے تھے اور اکثر اپنے باغوں میں بہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لیے باغ میں کام کر رہے تھے اور پسینہ سے تمام جسم تر ہو  گیا۔ کسی نے کہا »یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں۔,, حضرت علیہ السّلام نے فرمایا طلبِ معاش میں دھوپ اور گرمی کی تکلیف سہنا عیب کی بات نہیں۔,, غلاموں او رکنیزوں پر وہی مہربانی رہتے تھے جو ا س گھرانے کی امتیازی صفت تھی۔ ا س کاا یک حیرت انگیز نمونہ یہ ہے جسے سفیان# ثوری نے بیان کیا ہے کہ میں ایک مرتبہ امام جعفرصادق علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ چہرہ مبارک کارنگ متغیر ہے۔ میں نے سبب دریافت کی۔ فرمایا میں نے منع کیا تھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پر نہ چڑھے۔اس وقت جو گھر میںگیا تو دیکھا کہ ایک کنیز جو ایک بچہ کی پرورش پر معیّن تھی اسے گود میں لیے زینہ سے اوپر جارہی تھی۔مجھے دیکھا تو ایساخوف طاری ہوا کہ بد حواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور صدمے سے جان بحق ہوا۔ مجھے بچے کے مرنے کااتنا صدمہ نہیں ہوا جتنا اس کا رنج ہے کہ اس کنیز پر اتنا رعب وہراس کیوں طاری ہوا۔ پھر حضرت علیہ السّلام نے اس کنیز کو پکا رکر فرمایا۔»ڈرو نہیں، میں نے تمھیں راہ خدا میں ازاد کر  دیا۔,, اس کے بعد حضرت علیہ السّلام بچے کی تجہیز وتکفین کی طرف متوجہ ہوئے۔

اشاعت علوم

تمام عالم اسلامی میں آپ کی علمی جلالت کا شہرہ تھا۔ دور دور سے لوگ تحصیل علم کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے شاگردوں کی تعداد چار ہزار تک پہنچ گئی ان میں فقہ کے علمائ بھی تھے، تفیسر کے متکلمین بھی تھے اور مناظرین بھی، آپ کے دربار میں مخالفین مذہب ااکر سوالات پیش کرتے تھے اور آپ کے اصحاب سے اور ان سے مناظرے ہوتے رہتے تھے جن پر کبھی کبھی نقد وتبصرہ بھی فرماتے تھے اورا صحاب کو ان کی بحث کے کمزور پہلو بتل(contracted; show full)

نشو ونما اور تربیت

آپ کی عمرکے بیس برس اپنے والد بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کے سایہ تربیت میںگزرے. ایک طرف خدا کے دیے ہوئے فطری کمال کے جوہر اور دوسری طرف اس باپ کی تربیت جس نے پیغمبر کے بتائے ہوئے مکارم ُاخلاق کی بھولی ہوئی یاد کو ایساتازہ کر دیا کہ انھیں ایک طرح سے اپنا بنا لیا اور جس کی بنا ئ پر »ملت جعفری « نام ہو
  گیا . امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام نے بچپنہ او رجوانی کاکافی حصہ اسی مقدس اغوش تعلیم میں گزارا. یہاں تک کہ تمام دُنیا کے سامنے آپ کے کمالات وفضائل روشن ہوگئے اور امام جعفر صادق علیہ السّلام نے اپنا جانشین مقرر فرمادیا . باوجود کہ آپ کے بڑے بھائی بھی موجود تھے مگر خدا کی طرف کامنصب میراث کا ترکہ نہیںہے بلکہ ذاتی کمال کو ڈھونڈھتا ہے . سلسلہ معصومین علیہ السّلام میں امام حسن علیہ السّلام کے بعد بجائے ان کی اولاد کے امام حسین علیہ السّلام کاامام ہونا اور اولاد امام جعفر صادق علیہ السّلام میں بجائے (contracted; show full)

دور ابتلا

851ھ کے اخر میںمنصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا تو اس کا بیٹا مہدی تحت سلطنت پر بیٹھا . شروع میں تو اس نے بھی امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام کے عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں گیا مگر چند سال کے بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور 461ھئ میں جب وہ حج کے نام سے حجاز کی طرف ایاتو امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیا اور قید کر
  دیا . ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے . پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت علیہ السّلام کو مدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیا گیا , مہدی کے بعد اس کابھائی ہادی 921ھئ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مہینے تک اُس نے سلطنت کی . اس کے بعد ہارون رشید کازمانہ ایا جس میں پھر امام موسیٰ علیہ السّلام کاظم علیہ السّلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نہیں ہوا

اخلاق واوصاف

(contracted; show full) خود اس کے باپ منصور کارویہ جو امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف تھا اسے معلوم تھا اس کا یہ ارادہ کہ جعفر صادق علیہ السّلام کے جانشین کو قتل کر ڈالاجائے یقیناً اس کے بیٹے ہارون #کو معلوم ہوچکا ہوگا . وہ تو امام جعفر صادق علیہ السّلام کی حکیمانہ وصیت کا اخلاقی دباؤ تھا جس نے منصور کے ہاتھ باندھ دیے تھے اور شہر بغداد کی تعمیر کی مصروفیت تھی جس نے اسے اس جانب متوجہ نہ ہونے دیا تھا اب ہارون کے لیے ان میںسے کوئی بات مانع نہ تھی . تخت ُ سلطنت پر بیٹھ کر اپنے اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے سب سے پہلے تصور پیدا ہو
  سکتا تھا کہ اس روحانیت کے مرکز کو جو مدینہ کے محلہ بنی ہاشم میںقائم ہے توڑنے کی کوشش کی جائے مگر ایک طرف امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کامحتاط اور خاموش طرزِ عمل اور دوسری طرف سلطنت کے اندرونی مشکلا ت ان کی وجہ سے نوبرس تک ہارون کو بھی کسی کھلے ہوئے تشدد کا امام علیہ السّلام کے خلاف موقع نہیں ملا . اس دوران میں عبدالله ابن حسن علیہ السّلام کے فرزند یحییٰ کاواقعہ درپیش ہوا ور وہ امان دیے جانے کے بعد تمام عہدو پیمان کوتوڑ کردردناک طریقے پر پہلے قید رکھے گئے او رپھر قتل کئے گئے . باوجودیکہ یحییٰ کے معاملات سے ا(contracted; show full)علیہ السّلام بھی حج کو تشریف لائے ہوئے تھے . ہارون نے اپنی انکھ سے اس عظمت اور مرجعیت کا مشاہدہ کی جو مسلمانوںمیں امام موسی کاظم علیہ السّلام کے متعلق پائی جاتی تھی . اس سے بھی اس کے حسد کی اگ بھڑک اٹھی اس کے بعد اس میں محمد بن اسمٰعیل کی مخالفت نے اورا ضافہ کر دیا . واقعہ یہ ہے کہ اسمٰعیل امام جعفر صادق علیہ السّلام کے بڑے فرزند تھے اور اس لیے ان کی زندگی میں عام طور پر لوگوں کا خیال یہ تھا کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السّلام کے قائم مقام ہوں گے . مگر ان کا انتقال امام جعفر صادق علیہ السّلام کے زمانے میں ہو
  گیا اور الوگوں کا یہ خیال غلط ثابت ہوا . پھر بھی بعض سادہ لوح اصحاب اس خیال پر قائم رہے کہ جانشینی کاحق اسمٰعیل میں منحصر ہے . انھوں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی امامت کو تسلیم نہیں کیا چنانچہ اسماعیلیہ فرقہ مختصر تعداد میں سہی اب بھی دنیا میں موجود ہے- محمد, ان ہی اسمٰعیل کے فرزند تھے اور اس لئے امام موسٰی کاظم علیہ السلام سے ایک طرح کی مخالفت پہلے سے رکھتے تھے مگر چونکہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم تھی اور وہ افراد کوئی نمایاں حیثیت نہ رکھتے تھے اسی لئے ظاہری طور پر امام موسٰی کاظم علیہ السلام (contracted; show full)خصت ہونے لگے- عرض کیا کہ مجھے وہاں کے متعلق کچھ ہدایت فرمائی جائے- حضرت علیہ السّلام نے اس کا کچھ جواب نہ دیا- جب انہوں نے کئی مرتبہ اصرار کیا تو حضرت علیہ السّلام نے فرمایا کہ» بس اتنا خیال رکھنا کہ میرے خون میں شریک نہ ہونا اور میرے بچوں کی یتیمی کے باعث نہ ہونا« محمد نے اس کے بعد بہت کہا کہ یہ بھلا کون سی بات ہے جو مجھ سے کہی جاتی ہے, کچھ اور ہدایت فرمایئے- حضرت علیہ السّلام نے اس کے علاوہ کچھ کہنے سے انکار کیا- جب وہ چلنے لگے تو حضرت علیہ السّلام نے ساڑھے چار سو دینار اور پندرہ سو درہم انہیں مصارف کے ل
ئیے عطا فرمائے- نتیجہ وہی ہوا جو حضرت علیہ السّلام کے پیش نظر تھا- محمد ابن اسمٰعیل بغداد پہنچے اور وزیر اعظم یحییٰ برمکی کے مہمان ہوئے اس کے بعد یحییٰکے ساتھ ہارون کے دربار میں پہنچے مصلحت وقت کی بنا پر بہت تعظیم و تکریم کی گئی- اثنائ گفتگو میں ہارون نے مدینہ کے حالات دریافت کئے- محمد نے انتہائی غلط بیانیوں کے ساتھ وہاں کے حالات کا تذکرہ کیا اور یہ بھی کہا کہ میں نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ سنا کہ ایک ملک میں دو بادشاہ ہوں- اس نے کہا کہ اس کا کیا مطلب? محمد نے کہا کہ بالکل اسی طرح جس طرح آپ بغداد میں سلطنت قائم کئے ہوئے ہیں- اطراف ملک سے ان کے پاس خراج پہنچتا ہے اور وہ آپ کے مقابلے کے دعوے دار ہیں- یہی وہ باتیں تھیں جن کے کہنے کے لئیے یحییٰ برمکی نے محمد کو منتخب کیا تھا ہارون کا غیظ و غضب انتہائی اشتعال کے درجے تک پہنچ گیا- اس نے محمد کو دس ہزار دینار عطا کر کے رخصت کیا- خدا کا کرنا یہ کہ محمد کو اس رقم سے فائدہ اٹھانے کا ایک دن بھی موقع نہ ملا- اسی شب کو ان کے حلق میں درد پیدا ہوا- صبح ہوتے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہو گئے- ہارون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے اشرفیوں کے توڑے واپس منگوا لئے مگر محمد کی باتوں کا اثر اس کے دل میں ایسا جم گیا تھا کہ اس نے یہ طے کر لیا کہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے- چنانچہ ~0179ئھ میں پھر ہارون رشید نے مکہ معظمہ کا سفر کیا اور وہاں سے مدینہ منورہ گیا- دو ایک روز قیام کے بعد کچھ لوگ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لئیے روزانہ کئے- جب یہ لوگ امام علیہ السّلام کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت علیہ السّلام روضئہ رسول پر ہیں- ان لوگوں نے روضہ پیغمبر علیہ السّلام کی عزت کا بھی خیال نہ کیا- حضرت علیہ السّلام اس وقت قبر رسول کے نزدیک نماز میں مشغول تھے- بے رحم دشمنوں نے آپ کو نماز کی حالت میں ہی قید کر لیا اور ہارون# کے پاس لے گئے- مدینہ رسول کے رہنے والوں کی بے حسی اس سے پہلے بھی بہت دفعہ دیکھی جا چکی تھی- یہ بھی اس کی ایک مثال تھی کہ رسول کا فرزند روضئہ رسول سے اس طرح گرفتار کر کے لے جایا جا رہا تھا مگر نام نہاد مسلمانو(contracted; show full) ہے- اس سلسلے میں اس کو امام علیہ السّلام کے حالات اور سیرت زندگی اور اخلاق و اوصاف کی جستجو کا موقع بھی ملا اور جتنا اس نے امام علیہ السّلام کی سیرت کا مطالعہ کیا اتنا اس کے دل پر آپ کی بلندی اخلاق اور حسن کردار کا قائم ہو گیا- اپنے ان تاثرات سے اس نے ہارون کو مطلع بھی کر دیا- ہارون پر اس کا الٹا اثر ہوا کہ عیسٰی کے متعلق بدگمانی پیدا ہو گئی- اس لئے اس نے امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو بغداد میں بلا بھیجا- فضل ابن ربیع کی حراست میں دے دیا اور پھر فضل کا رجحان شیعیت کی طرف محسوس کر کے یحییٰبرمکی کو اس کے ل
ئیے مقرر کیا- معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السّلام کے اخلاق واوصاف کی کشش ہر ایک پر اپنا اثر ڈالتی تھی- اس لئے ظالم بادشاہ کو نگرانوں کی تبدیلی کی ضرورت پڑتی تھی-

شہادت

(contracted; show full)

ہارون کا اخری زمانہ اپنے دونوں بیٹوں امین اور مامون کی باہمی رقابتوں سے بہت بے لطفی میں گزرا۔ امین پہلی بیوی سے تھا جو خاندان شاہی سے منصور دوانقی کی پوتی تھی اور اس لیے عرب سردار سب اس کے طرفدار تھے اور مامون ایک عجمی کنیز کے پیٹ میں سے تھا۔ اس لیے درباد کاعجمی طبقہ اس سے محبت رکھتا تھا۔ دونوں کی اپس میں رسہ کشی ہارون کے لیے سوہانِ روح بنی رہتی تھی، اس نے اپنے خیال میں اس کا تصفیہ مملکت کی تقسیم کے ساتھ یوںکر
  دیا کہ دارالسلطنت بغداد اور اس کے چاروں طرف کے عربی حصے جیسے شام ,مصرحجاز، یمن وغیرہ محمد امین کے نام کئے گئے اور مشرقی ممالک جیسے ایران , خراسان، ترکستان وغیرہ مامون کے لیے مقرر کیے گئے مگر یہ تصفیہ تو اس وقت کار گاہو  سکتا تھا جب دونوں فریق "جیو اور جینے دو" کے اصول پر عمل کرتے ہوتے۔

لیکن جہاں اقتدار کی ہوس کار فرماہووہاں اگر بنی عباس کے ہاتھوں بنی فاطمہ کے خلاف ہر طرح کے ظلم وتعدی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے تو خود بنی عباس میں ایک گھر کے اندر دو بھائی اگر ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں تو کیوں نہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ کاروائیاں کرنے کے لیے تیارنظر اتے۔ اور کیوں نہ ان طاقتوں میںباہم تصادم ہو جب ان میں سے کوئی اس ہمدردی اور ایثار اورخلقِ خدا کی خیر خواہی کا بھی حامل نہیں ہے جسے بنی فاطمہ علیہ السّلام اپنے پیش نظر ک(contracted; show full)یّت پر مبنی سمجھا جائے۔ یوں تو اہلیبت علیہ السّلام کے جو کھلے ہوئے سخت سے سخت دشمن تھے وہ بھی ان کی حقیقت اور فضیلت سے واقف تھے ہی اور ان کی عظمت کو جانتے تھے مگر شیعیت کے معنیٰ صرف یہ جاننا تو نہیں ہیں بلکہ محبت رکھنا اوراطاعت کرنا ہیں اور مامون کے طرزِ عمل سے یہ ظاہر ہے کہ وہ اس دعوائے شیعیت اور محبت اہلیبت علیہ السّلام کاڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود خود امام علیہ السّلام کی اطاعت نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ عوام کو اپنی منشائ کے مطابق چلانے کی کوشش کی تھی۔ ولی عہد بننے کے بارے میں آپ کے اختیارات کو بالکل سلب کر
  دیا گیا اور آپ کو مجبور بنا دیا گیا تھا۔ اس سے ظاہرہے کہ ولی عہدی کی تفویض بھی ایک حاکمانہ تشدد تھا جو اس وقت شیعیت کے بھیس میں امام علیہ السّلام کے ساتھ کیا جارہا تھا۔

(contracted; show full)ے بعد یہ ولی عہدی صرف برائے نام سلطنت وقت کے ایک ڈھکوسلے سے زیادہ کوئی وقعت نہ رکھتی تھی۔ جس سے ممکن ہے کچھ عرصہ تک کسی سیاسی مقصد میںکامیابی حاصل ہوگئی ہو۔ مگر امام علیہ السّلام کی حیثیت اپنے فرائض کے انجام دینے میںبالکل وہ تھی جو ان کے پیش روحضرت علی مرتضی علیہ السّلام اپنے زمانہ کی بااقتدار طاقتوں کے ساتھ اختیار کرچکے تھے جس طرح ان کا کبھی کبھی مشورہ دے دینا ان حکومتوں کو صحیح اور ناجائز نہیں بنا سکتا تھا ویسے ہی امام رضا علیہ السّلام کا اس نوعیت سے ولی عہدی کاقبول فرمانا اس سلطنت کے جواز کا باعث نہیںہو
  سکتا تھا ,.صرف مامون کیا ایک راج ہٹ تھی جو اس طرح پوری ہوگئی مگر امام علیہ السّلام نے اپنے دامن کو سلطنت ظلم کے اقدامات اور نظم ونسق سے بالکل الگ رکھا۔

(contracted; show full) اور بے بسی کانام قناعت یا درویشی "عصمت بی بی از بے چادری" کے مقولہ کے موافق اکثر ابنائے دنیا کا شعار رہتا ہے مگر ثروت واقتدار کے ساتھ فقیرانہ زندگی اختیار کرنابلند مرتبہ مردانِ خدا کاحصہ ہے.اہل بیت معصومین علیہ السّلام میں سے جو بزرگوار ظاہری حیثیت سے اقتدار کے درجہ پر نہ تھے کیوں کہ ان کی فقیری کو دشمن بے بسی پر محمول کرکے طعن وتشنیع پر امادہ ہوتے اور حقانیت کے وقار کو ٹھیس لگتی مگر جو بزرگ اتفاقات روزگار سے ظاہری اقتدار کے درجہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے اتنا ہی فقرا اور سادگی کے مظاہرہ میںاضافہ کر
  دیا تاکہ ان کی زندگی غریب مسلمانوں کی تسلی کاذریعہ بنے اور ان کے لیے نمونہ عمل ہو جیسے امیر المومنین حضرت علی المرتضی علیہ السّلام چونکہ شہنشاہ ُ اسلام مانے جارہے تھے ا س لیے آپ کالباس اور طعام ویسا زاہدانہ تھا جس کی مثال دوسرے معصومین علیہ السّلام کے یہاں نہیں ملتی۔ یہی صورت حضرت علی رضا علیہ السّلام کی تھی، آپ مسلمانوں کی اس عظیم الشان سلطنت کے ولی عہد بنائے گئے تھے جن کی وسعت ُ مملکت کے سامنے روم وفارس کاذکر بھی طاقِ نسیان کی نذر ہو  گیا تھا۔ جہاں اگر بادل سامنے سے گزرتا تھا تو خلیفہ کی زبان سے اواز بلند ہوتی تھی کہ "جا جہاں تجھے برسنا ہو برس , بہتر حال تیری پیداواری کااخراج میرے پاس ہی ائے گا۔"

(contracted; show full) یہاں تک کہ یہ کہاجانے لگاکہ بنی عباس ظلم وستم اور فسق وفجور میں بنی امیہ سے کم نہ رہے بلکہ بعض باتوں میںان سے آگے بڑھ گئے اور اس کے ساتھ پھر بھی قرابتِ رسول پر افتخار تھا اس ماحول کے اندر داخل ہو کرامام رضا علیہ السّلام کا اس بات پر بڑا زور دینا کہ قرابت کوئی چیز نہیں اصل انسان کا عمل ہے بظاہر صرف ایک شخص کا اظہار فروتنی اور انکسار نفس تھا جو بہرحال ایک اچھی صفت ہے لیکن حقیقت میں وہ اس سے بڑھ کر تقریباً ایک صدی کی عباسی سلطنت کی پیدا کی ہوئی ذہنیت کے خلاف اسلامی نظریہ کااعلان تھااور اس حیثیت سے بڑا اہم ہو
  گیا تھا کہ وہ اب اسی سلطنت کے ایک رکن کی طرف سے ہورہا تھا۔ چنانچہ امام رضا علیہ السّلامکی سیرت میں اس کے مختلف شواہد ہیں , ایک شخص نے حضرت علیہ السّلام کی خدمت میںعرض کی کہ »خدا کی قسم اباؤاجداد کے اعتبار سے کوئی شخص آپ سے افضل نہیں۔ حضرت علیہ السّلام نے فرمایا۔ ,, میرے اباواجداد کو جو شرف حاصل ہوا ہے وہ صرف تقویٰ , پرہیز گاری اوراطاعتِ خداسے.,, ایک شخص نے کسی دن کہا کہ، " والله آپ بہترین خلق ہیں۔" حضرت علیہ السّلام نے فرمایا، "اے شخص حلف نہ اٹھا، جس کاتقویٰ وپرہیز گاری مجھ سے زیادہ ہو وہ مجھ سے افضل ہے۔"

ابراہیم بن عباس کابیان ہے کہ حضرت علیہ السّلام فرماتے تھے، "میرے تمام لونڈی اور غلام ازاد ہوجائیں اگر اس کے سوا کچھ اور ہو کہ میں اپنے کو محض رسول الله کی قرابت کی وجہ سے اس سیاہ رنگ غلام سے بھی افصل نہیںجانتا (حضرت علیہ السّلام نے اشارہ کیا اپنے ایک غلام کی جانب) ہاں جب عملِ خیر بجا لاؤں گا تو الله کے نزدیک اس سے افضل ہوں گا۔"

یہ باتیں کو تاہ نظر لوگ صرف ذاتی انکسار پر محمول کرلیتے ہوں مگر خود حکومت عباسیہ کا فرماں روایقیناً اتنا کند ذہن نہ ہوگا کہ وہ ان تازیانوں کو محسوس نہ کرے جو امام رضا علیہ السّلام کے خاموش افعال اور ا س طرح کے اقوال سے اس کے خاندانی نظامِ سلطنت پر برابر لگ رہے تھے۔ اس نے تو بخیال خود ایک وقتی سیاسی مصلحت سے اپنی سلطنت کو مستحکم بنانے کے لیے حضرت علیہ السّلام کو ولی عہد بنایا تھا مگر بہت جلد اسے محسوس ہوا کہ اگران کی زندگی زیادہ عرصہ تک قائم رہی تو عوام کی ذہنیت میں یک لخت انقلاب ہو جائے گا اور عباسی سلطنت کاتخت ہمیشہ کے لیے الٹ جائے گا۔

عزائے حسین علیہ السلام کی اشاعت

اب امام رضا علیہ السّلام کو تبلیغ حق کے لیے نام حسین علیہ السّلام کی اشاعت کے کام کو ترقی دینے کا بھی پورا موقع حاصل ہو  گیا تھا جس کی بنیاد اس کے پہلے حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام اور امام جعفر صادق علیہ السّلام قائم کرچکے تھے مگر وہ زمانہ ایسا تھا کہ امام علیہ السّلام کی خدمت میں وہی لوگ حاضر ہوتے تھے جو بحیثیت امام اور بحیثیت عالم دین آپ کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے اور اب امام رضا علیہ السّلام تو امام روحانی بھی ہیں اور ولی عہد ُ سلطنت بھی۔ اس لیے آپ کے دربار میںحاضر ہونے والوں کا دائرہ وسیع ہے۔ مرو ##کامقام ہے جو ایران کے تقریباً وسط میں واقع ہے.ہر طرف کے لوگ یہاںاتے ہیں اور یہاں یہ عالم ہے کہ ادھر محرم کا چاند نکلا اور ا(contracted; show full)

اس سے ذاکر کابلند طریقہ کار کہ اسے کسی دنیوی انعام کی حاضر یامعاذ الله اجرت طے کرکے ذاکری نہیں کرنا چاہیے اور بانی مجلس کاطریقہ کار کہ وہ بغیر طے کیے ہوئے کچھ بطور پیشکش ذاکر کی خدمت میں پیش کرے دونوں امرثابت ہیں مگر ان مجالس میں سامعین کے اندر کسی حصہ کی تقسیم ہر گز کسی معتبر کتاب سے ثابت نہیں ہوئی۔

وفات

مامون کی توقعات غلط ثابت ہونے ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ اخر امام علیہ السّلام کی جان لینے کے درپے ہو
  گیا اور وہی خاموش حربہ جوان معصومین علیہ السّلام کے ساتھ اس کے پہلے بہت دفعہ استعمال کیا جاچکا تھا کام میں لایا گیا۔ انگور میں جو بطور تحفہ امام علیہ السّلام کے سامنے پیش کیے گئے تھے زہر دیا گیا اوراس کے اثر سے 71صفر 302ھ میں حضرت علیہ السّلام نے شہادت پائی۔ مامون نے بظاہر بہت رنج وماتم کااظہار کیا اور بڑے شان وشکوہ کے ساتھ اپنے باپ ہارون رشید کے قریب دفن کیا۔ جہاں مشہد مقدس میں حضرت علیہ السّلام کا روضہ اج تاجدارانِ عالم کی جبیں سائی کا مرکز بناہوا ہے وہیں اپنے وقت کابزرگ ترین دنیوی شہنشاہ ہارون رشید بھی د(contracted; show full) کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کے لیے علمی وعملی بلندیوں تک پہنچنے کاکوئی ذریعہ نہیں رہا اس لیے اب امام جعفر صادق علیہ السّلام کی علمی مسند شاید خالی نظر ائے مگر خلق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علماء سے فقہ، حدیث، تفسیراور کلام پر مناظرے کرتے اور سب کو قائل ہوجاتے دیکھا . اس کی حیرت اس وقت تک دور ہوناممکن نہ تھی , جب تک وہ مادی اسباب کی بجائے ایک مخصوص خدا وندی مدرسہ تعلیم وتربیت کے قائل نہ ہوتے , جس کے بغیر یہ معما نہ حل ہوا اور نہ کبھی حل ہو
  سکتا ہے .

عراق کا پہلا سفر

جب امام رضا علیہ السّلام کو مامون نے ولی عہد بنایا اور اس کی سیاست اس کی مقتضی ہوئی کہ بنی عباس کو چھوڑ کر بنی فاطمہ سے روابط قائم کئے جائیں اور اس طرح شیعیان اہل بیت علیہ السّلام کو اپنی جانب مائل کیا جائے تو اس نے ضرورت محسوس کی کہ خلوص واتحاد کے مظاہرے کے لیے علاوہ اس قدیم رشتے کے جو ہاشمی خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے ہے , کچھ جدید رشتوں کی بنیاد بھی قائم کردی جائے چنانچہ اسی جلسہ میں جہاں ولی عہدی کی رسم ادا کی گئی . اس نے اپنی بہن ام حبیبہ کاعقد امام رضا علیہ السّلام کے سات(contracted; show full) منظور کرنا پڑی حالانکہ خود مامون تمام سلاطین ُ بنی عباس میں یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ مورخین اس کے لیے یہ الفاظ لکھ دیتے ہیں . کان بعد من کبار الفقہاء یعنی اس کا شمار بڑے فقیہوں میں ہے . اس لیے اس کا فیصلہ خود کچھ کم وقعت نہ رکھتا تھا مگر ان لوگوں نے اس پر اکتفاء نہیں کی بلکہ بغداد کے سب سے بڑے عالم یحییٰ بن اکثیم کو امام محمدتقی علیہ السّلام سے بحث کے لیے منتخب کیا . مامون نے ایک عظیم الشان جلسہ اس مناظرے کے لیے منعقد کیا اور عام اعلان کرادیا . ہر شخص اس عجیب اور بظاہر غیر متوازی مقابلے کے دیکھنے کا مشتاق ہو
  گیا جس میں ایک طرف ایک اٹھ برس کابچہ تھا اور دوسری طرف ایک ازمود کار اور شہرئہ افاق قاضی القضاة . اسی کا نتیجہ تھا کہ ہر طرف سے خلائق کا ہجوم ہو  گیا .مورخین کا بیان ہے کہ ارکان ُ دولت اور معززین کے علاوہ اس جلسے میں نوسوکرسیاں فقط علماء وفضلاء کے لیے مخصوص تھیں اور اس میں کوئی تعجب نہیں اس لیے کہ یہ زمانہ عباسی سلطنت کے شباب اوربالخصوص علمی ترقی کے اعتبار سے زریں دور تھا اور بغداد دارالسلطنت تھا جہاں تمام اطراف سے مختلف علوم وفنون کے ماہرین کھنچ کر جمع ہوگئے تھے . اس اعتبار سے یہ تعداد کسی مبالغہ پر مبنی معلوم نہیں ہوتی- مامون نے حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کے لئیے اپنے پہلو میں مسند بچھوائی تھی اور حضرت علیہ السّلام کے سامنے یحییٰ ابن اکثم کے لیے بیٹھنے کی جگہ تھی- ہر طرف کامل سناٹا تھا- مجمع ہمہ تن چشم و گوش بنا ہوا گفتگو شروع ہونے کے وقت کا منتظر ہی تھا کہ اس خاموشی کو یحییٰ کے اس سوال نے توڑ دیا جو اس نے مامون کی طرف مخاطب ہو کر کہا تھا-» حضور کیا مجھے اجازت ہے کہ میں ابو جعفر علیہ السّلام سے کوئی مسئلہ دریافت کروں؟ مامون نے کہا,» تم کو خود ان ہی سے اجازت طلب کرنا چاہئے-« یحیٰی امام علیہ السّلام کی طرف متوجہ ہوا اور کہا-»کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ در(contracted; show full)رہنا . مہمانوں کی خاطر داری میں انہماک اور علمی اور مذہبی پیاسوں کے لیے فیصلہ کے چشموں کا جاری رکھنا آپ کی سیرت زندگی کا نمایاں پہلو تھا . بالکل ویسا ہی جیسے اس سلسلہ عصمت کے دوسرے افراد کا تھا جس کے حالات اس سے پہلے لکھے جاچکے ہیں . اہل دنیا کو جو آپ کے بلندی نفس کا پورا اندازہ نہ رکھتے تھے انھیں یہ تصور ضرور ہوتا تھا کہ ایک کمسن بچے کا عظیم الشان مسلمان سلطنت کے شہنشاہ کا داماد ہوجانا یقیناً اس کے چال ڈھال طور طریقے کو بدل دے گا اور اس کی زندگی دوسرے سانچے میں ڈھل جائے گی.حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا مقصد ہو
  سکتا ہے جو مامون کی کوتاہ نگاہ کے سامنے بھی تھا .بنی امیہ یابنی عباس کے بادشاہوں کا ال ُ رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا . جتنا ان کے صفات سے وہ ہمیشہ اس کے درپے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلے میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے . یہ کسی طرح ٹوٹ جائے . اسی کے لیے گھبرا گھبرا کر وہ مختلف تدبیریں کرتے تھے. امام حسین علیہ السّلام سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اورپھر امام رضا علیہ السّلام کو ولی عہد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ , فقط ظاہری شکل وصورت میں ایک کا اندازہ معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادات مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں صورتوں میں ایک تھی . جس طرح امام حسین علیہ السّلام نے بیعت نہ کی تو وہ شہید کر ڈالے گئے , اسی طرح امام رضا علیہ السّلام ولی عہد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ ساتھ نہ چل سکے تو آپ کو زہر کے ذریعے سے ہمیشہ کے لیے خاموش کر  دیا گیا . اب مامون کے نقطۂ نظر سے یہ موقع انتہائی قیمتی تھا کہ امام رضا علیہ السّلام کا جانشین تقریباًً آٹھ برس کابچہ ہے جو تین برس سے پہلے باپ سے چھڑا لیاجاچکا تھا . حکومت وقت کی سیاسی سوجھ بوجھ کہہ رہی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقے پر لانا نہایت اسان ہے او را س کے بعد وہ مرکز جو حکومت ُ وقت کے خلاف ساکن اورخاموش مگر انتہائی خطرناک قائم ہے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا . مامون امام رضا علیہ السّلام کو ولی عہد ی کی مہم میں اپنی ناکامی کو مایوسی کاسبب نہیں تصور کرتا تھا ,ا س لیے کہ امام رضا علیہ السّلام کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی .ا س میں تبدیلی اگر نہیں ہوتی تو یہ ضروری نہیں کہ امام محمد تقی علیہ السّلام جوآٹھ برس کے سن میں قصر حکومت میں نشو نما پا کر بڑھیں وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر بر قرا ر رہیں . سوائے ان لوگوں کے جوان مخصوص افراد کے خداداد کمالات کو جانتے تھے .اس وقت کا ہر شخص یقیناً مامون ہی کا ہم خیال ہوگا . مگر دنیا تو حیران ہوگئی جب یہ دیکھا کہ وہ آٹھ برس کا بچہ جسے شہنشاہ اسلام کا داماد بنایا گیا ہے اس عمر میں اپنے خاندانی رکھ رکھاؤ اور اصول کا اتنا پابند ہے کہ وہ شادی کے بعد محل شاہی میں قیام سے انکار کردیتا ہے اور اس وقت بھی کہ جب بغداد میں قیام رہتا تو ایک علاحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام فرماتے ہیں . اس سے بھی امام علیہ السّلام کی مستحکم قوتِ ارادی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے . عموماً مالی اعتبار سے لڑکی والے کچھ بھی بڑا درجہ رکھتے ہوتے ہیں تو وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ جہاں وہ رہیں وہیں داماد بھی رہے . اس گھر میں نہ سہی تو کم از کم اسی شہر میں اس کا قیام رہے . مگر امام محمد تقی علیہ السّلام نے شادی کے ایک سال بعد ہی مامون کو حجاز واپس جانے کی اجازت دینے پر مجبور کر  دیا . یقیناً یہ امر ایک چاہنے والے باپ اور مامون ایسے بااقتدار کے لیے انتہائی ناگوار تھا مگر اسے لڑکی کی جدائی گوارا کرنا پڑی اور امام علیہ السّلام مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے . مدینہ میں تشریف لانے کے بعد ڈیوڑھی کا وہی انداز رہا جو اس کے بعد پہلے تھا . نہ پہریدار نہ کوئی خاص روک ٹوک , نہ تزک واحتشام نہ اوقات ُ ملاقات نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤں میں کوئی تفریق . زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رہتی تھی جہاں مسلمان حضرات ان کی وعظ ونصیحت سے فائدہ اٹھاتے تھے . راویان ُ حدیث دریافت کرتے تھے . طالب علم مسائل (contracted; show full)

تبلیغ و ہدایت

آپ کی تقریر بہت دلکش اور پرتاثیر ہوتی تھی . ایک مرتبہ زمانہ حج میں مکہ معظمہ میں مسلمانوں کے مجمع میں کھڑے ہو کر آپ علیہ السلام نے احکام شرع کی تبلیغ فرمائی تو بڑے بڑے علماء دم بخود رہ گئے اور انھیں اقرار کرنا پڑا کہ ہم نے ایسی جامع تقریر کبھی نہیں سنی . امام رضا علیہ السّلام کے زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہو
  گیا تھا جو امام علیہ السّلام موسیٰ کاظم علیہ السّلام پر توقف کرتا تھا . یعنی آ پ کے بعد امام رضا علیہ السّلام کی امامت کا قا ئل نہیں تھا اور اسی لیے واقفیہ کہلاتا تھا . امام محمد تقی نے اپنے کردار میں اس گروہ میں ایسی کامیاب تبلیغ فرمائی کہ سب اپنے عقیدے سے تائب ہوگئے اور آپ کے زمانہ ہی میں کوئی ایک شخص ایسا باقی نہ رہ گیا جو اس مسلک کا حامی ہو بہت سے بزرگ مرتبہ علماء نے آپ سے علوم اہل بیت علیہ السّلام کی تعلیم حاصل کی . آپ کے ایسے مختصر حکیمانہ مقولوں کو بھی ایک ذخیرہ ہے جیسے آپ کے جدِ بزرگوار حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام بن ابی طالب علیہ السّلام کے کثرت سے پائے جاتے ہیں. جناب امیر علیہ السّلام کے بعد امام محمدتقی علیہ السّلام کے مقولوں کو ایک خاص درجہ حاصل ہے . الٰہیات اور توحیدکے متعلق آپ کے بعض بلند پایہ خطبے بھی موجود ہیں .

عراق کا آخری سفر

218 ھجری میں مامون نے دنیا کو خیر باد کہا .اب مامون کا بھائی اور ام الفضل کاچچا موتمن جو امام رضا کے بعد ولی عہد بنایاجاچکا تھا تخت سلطنت پر بیٹھا اور معتصم بالله عباسی کے نام سے مشہور ہوا . اس کے بیٹھتے ہی امام محمد تقی علیہ السّلام سے متعلق ام الفضل کے اس طرح کے شکایتی خطوط کی رفتار بڑھ گئی . جس طرح کہ اس نے اپنے باپ مامون کو بھیجے تھے . مامون نے چونکہ تمام بنی عباس کی مخالفتوں کے بعد بھی اپنی لڑکی کا نکاح امام محمد تقی علیہ السّلام کے ساتھ کر  دیا تھا اس لیے اپنی بات کی پچ اور کیے کی لاج رکھنے کی خاطر ا س نے ان شکایتوں پر کوئی خاص توجہ نہیں کی بلکہ مایوس کردینے والے جواب سے بیٹی کی زبان بند کردی تھی مگر معتصم کو جو امام رضا علیہ السّلام کی ولی عہدی کاداغ اپنے سینہ پراٹھائے ہوئے تھا اور امام محمد تقی علیہ السّلام کو داماد بنائے جانے سے تمام بنی عباس کے نمائندے کی حیثیت سے پہلے ہی اختلاف کرنے والوں میں پیش پیش رہ چکا تھا . اب ام الفضل کے شکایتی خطوں کو اہمیت دے کر اپنے اس اختلاف کو جو اس نکاح سے تھا . حق بجانب ثابت کرنا تھا , پھر سب سے زیادہ امام محمد تقی علیہ السّلام کی علمی مرجعیت آپ کے اخلاقی اثر کاشہرہ جو حجاز سے بڑھ کر عراق تک پہنچا ہوا تھا وہ بنائے مخاصمت جو معتصم کے بزرگوں کو امام محمد تقی علیہ السّلام کے بزرگوں سے رہ چکی تھی او ر پھر اس سیاست کی ناکامی اور منصوبے کی شکست کا محسوس ہوجانا جو اس عقد کامحرک ہوا تھا جس کی تشریح پہلے ہوچکی ہے یہ تمام باتیں تھیں کہ معتصم مخالفت کے لیے امادہ ہو  گیا . اپنی سلطنت کے دوسرے ہی سال امام محمد تقی علیہ السّلام کو مدینہ سے بغداد کی طرف بلو ابھیجا . حاکم مدینہ عبدالمالک کو اس بارے میں تاکید ی خط لکھا . مجبوراً امام محمد تقی علیہ السّلام اپنے فرزند امام علی نقی علیہ السّلام اور ان کی والدہ کو مدینہ میں چھوڑ کر بغداد کی طرف روانہ ہوئے .

شہادت

بغداد میں تشریف لانے کے بعد تقریباًً ایک سال تک معتصم نے بظاہر آپ کے ساتھ کوئی سختی نہیں کی مگر آپ کا یہاں کا قیام خود ہی ایک جبری حیثیت رکھتا تھا جسے نظر بندی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے اس کے بعد اسی خاموش حربے سے جو اکثر اس خاندان کے بزرگوں کے خلاف استعمال کیا جاچکا تھا۔ آپ کی زندگی کاخاتمہ کر  دیا گیا اور 92 ذی القعدہ 220ھجری میں زہر سے آپ کی شہادت ہوئی اور اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم کے پاس دفن ہوئے .آپ ہی کی شرکت کا لحاظ کرکے عربی کے قاعدے سے اس شہر کانام کاظمین (دوکاظم یعنی غصہ کو ضبط کرنے والے) مشہور ہوا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے لقب کوصراحةً سامنے رکھا گیا جبکہ موجودہ زمانے میں اسٹیشن کانام جوادّین (دوجواد المعنی فیاض) درج ہے جس میںصراحةً حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کے لقب کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چونکہ آپ کا لقب تقی بھی تھا اور جواد بھی۔

رضوی سیّد

(contracted; show full)مگر ایک فوجی رسالے کو یحیٰی بن ہرثمہ کی قیادت میں بھیج کر حضرت علیہ السّلام سے بظاہر دوستانہ انداز میں باصراریہ خواہش کی کہ آپ مدینہ سے درالسلطنت سامرا# تشریف لا کر کچھ دن قیام فرمائیں اور پھر واپس مدینہ تشریف لے جائیں- امام علیہ السّلام اس التجا کی حقیقت سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے یہ نیاز مندانہ دعوت تشریف آوری حقیقت میں جلا وطنی کا حکم ہے مگر انکار کا کوئی حاصل نہ تھا- جب کہ انکار کے بعد اسی طلبی کے انداز کا دوسری شکل اختیار کر لینا یقینی تھا- اور اس کے بعد روانگی ناگزیر تھی- بے شک مدینہ سے ہمیشہ کے ل
ئیے جدا ہونا آپ کے قلب کے لئیے ویسا ہی تکلیف دہ ایک صدمہ تھا جسے اس کے پہلے حضرت امام حسین علیہ السّلام, امام موسٰی کاظم علیہ السّلام, امام رضا علیہ السّلام اور امام محمد تقی علیہ السّلام آپ کے مقدس اور بلند مرتبہ اجداد برداشت کر چکے تھے- وہ اب آپ کے لئیے ایک میراث بن چکا تھا- پھر بھی دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ مدینہ سے روانگی کے وقت آپ کے تاثرات اتنے شدید تھے جس سے احباب و اصحاب میں ایک کہرام برپا تھا- متوکل کا عریضہ بارگاہ امام علیہ السّلام میں بڑے اخلاص اور اشتیاق قدم بوسی کا مظہر تھا- فوجی دستہ جو بھیجا گیا تھا وہ بظاہر سواری کے تزک و احتشام اور امام علیہ السّلام کی حفاظت کا ایک سامان تھا مگر جب حضرت علیہ السّلام سامرے میں پہنچ گئے اور متوکل کو اس کی اطلاع دی گئی تو پہلا ہی اس کا افسوسناک رویہ یہ تھا کہ بجائے امام علیہ السّلام کے استقبال یا کم از کم اپنے یہاں بلا کر ملاقات کرنے کے اس نے حکم دیا کہ حضرت کو »خاف الصعالیک« میں اتارا جائے,اس لفظ کے معنی ہی ہیں »بھیک مانگنے والے گداگروں کی سرائے« اس سے جگہ کی نوعیت کا پورے طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ شہر سے دور ویرانے میں ایک کھنڈر تھا- جہاں امام علیہ السّلام کو فروکش ہونے پر مجبور کیا گیا- اگرچہ یہ مقدس حضرات خود فقرائ کے ساتھ ہم نشینی کو اپنے لئے ننگ و عار نہیں سمجھتے تھے اور تکلیفات ظاہری سے کنارہ کش رہتے تھے مگر متوکل کی نیت تو اس طرز عمل سے بہرحال تحقیر کے سوااور کوئی نہیں تھی- تین دن تک حضرت کا قیام یہاں رہا- اس کے بعد متوکل نے آپ کو اپنے حاجب رزاقی کی حراست میں نظر بند کر دیا اور عوام کے لئیے آپ سے ملنے جلنے کو ممنوع قرار دیا- وہی بے گناہی اور حقانیت کی کشش جو امام موسٰی کاظم علیہ السّلام کی قید کے زمانہ میں سخت سے سخت محافظین کو کچھ دن کے بعد آپ کی رعایت پر مجبور کر دیتی تھی اسی کا اثر تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ بعد رزاقی کے دل پر امام علی نقی علیہ السّلام کی عظمت کا سکہ قائم ہو گیا اور وہ آپ کو تکلیف دینے کے بجائے آرام و راحت کے سامان بہم پہنچانے لگا مگر یہ بات زیادہ عرصہ تک متوکل سے چھپ نہیں سکتی تھی- اسے علم ہو گیا اور اس نے رزاقی کی قید سے نکل کر حضرت علیہ السّلام کو ایک دوسرے شخص سعید کی حراست میں دے دیا- یہ شخص بے رحم اور امام علیہ السّلام کے ساتھ سختی برتنے والا تھا- اسی لئے اس کے تبادلے کی ضرورت نہیں پڑی اور حضرت پورے بارہ برس اس کی نگرانی میں مقید رہے- ان تکالیف کے ساتھ جو اس قید میں تھے حضرت علیہ السّلام شب و روز عبادت الٰہی میں بسر کرتے تھے- دن بھر روزہ رکھنا اور رات بھر نمازیں پڑھنا معمول تھا- آپکا جسم کتنے ہی قید و بند میں رکھا گیا ہو مگر آپ کا ذکر چار دیواری میں محصور نہیں کیا جا سکتا تھا- نتیجہ یہ تھا کہ آپ تو تنگ و تاریک کوٹھڑی میں مقید تھے مگر آپ کا چرچہ سامرے بلکہ شاید عراق کے ہر گھر میں تھا اور اس بلند سیرت و کردار کے انسان کو قید رکھنے پر خلق خدا میں متوکل کے مظالم سے نفرت برابر پھیلتی جا رہی تھی- اب وہ وقت ایا کہ فتح بن خاقان باوجود الِ رسول سے محبت رکھنے کے صرف اپنی قابلیت اپنے تدبر اور اپنی دماغی وعملی صلاحیوتوں کی بنا پر متوکل کاوزیر ہو  گیا , تو اس کے کہنے سننے سے متوکل نے امام علی نقی علیہ السّلام کی قیدکو نظر بندی سے تبدیل کر  دیا اور آپ کو ایک مکان دے کر مکان تعمیر کرنے اور اپنے ذاتی مکان میں سکونت کی اجازت دے دی مگر اس شرط سے کہ آپ سامرے سے باہر نہ جائیں اور سعید آپ کی نقل وحرکت اور مراسلات وتعلقات کی نگرانی کرتا رہے گا . اس دور میں بھی امام علیہ السّلام کااستغنائے نفس دیکھنے کے قابل تھا . باوجود دارلسلطنت میں مستقل طور پر قیام کے نہ کبھی متوکل کے سامنے کوئی درخواست پیش کی نہ کبھی کسی قسم کے ترحم یا تکریم کی خواہش کی وہی عبادت وریاضت کی زندگی جو قید کے عالم میں تھی . ا س نظر بندی کے دور میںبھی رہی . جو کچھ تبدیلی ہوئی تھی وہ ظا(contracted; show full)ھ امام علیہ السّلام کی زبان سے ادا ہوئے تھے کہ متوکل کے عیش ونشاط کی بساط الٹ گئی . شراب کے پیالے ہاتھوں سے چھوٹ گئے اور تمام مجمع زارو قطار رونے لگا . یہاں تک کہ خود متوکل ڈاڑھیں مار مار کر بے اختیار رو رہا تھا . جوں ہی ڈارا ناموقوف ہوا اس نے امام علیہ السّلام کو رخصت کر دیا اور آپ اپنے مکان پر تشریف لے گئے . ایک اورنہایت شدید روحانی تکلیف جو امام علیہ السّلام کو اس دور میں پہنچی وہ متوکل کے تشدّد احکام تھے جو نجف اور کربلا کے زائرین کے خلاف ا س نے جاری کیے . اس نے یہ حکم دان تمام قلم رو حکومت میں جاری کر
  دیا کہ کوئی شخص جناب امیر علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کے روضوں کی زیارت کو نہ جائے , جو بھی اس حکم کی مخالفت کرے گا اس کا خون حلال سمجھا جائے گا- اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے حکم دیا کہ نجف اور کربلا کی عمارتیں بالکل گرا کر زمین کے برابر کردی جائیں . تمام مقبرے کھود ڈالے جائیں اور قبر امام حسین علیہ السّلام کے گرد وپیش کی تمام زمین پر کھیت بودیئے جائیں . یہ ناممکن تھا کہ زیارت کے امتناعی احکام پر اہل بیت رسول کے جان نثار اسانی کے ساتھ عمل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے . نتیجہ یہ ہوا کہ اس سلسلہ میںہزاروں بے گناہوں کی لاشیں خاک وخون میں تڑپتی ہوئی نظر ائیں کیا اس میں شک ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقتول کا صدمہ امام علیہ السّلام کے دل پر اتنا ہی ہوا تھا جتنا کسی اپنے ایک عزیز کے بے گناہ قتل کیے جانے کاحضرت علیہ السّلام کو ہو  سکتا تھا . پھر آپ تشدّد کے ایک ایسے ماحول میں گھیر رکھے گئے تھے کہ آپ وقت کی مناسبت کے لحاظ سے ان لوگوں تک کچھ مخصوص ہدایات بھی نہیں پہنچاسکتے تھے جو ان کے لیے صحیح فرائض شرعیہ کے ذیل میں اس وقت ضروری ہوں یہ اندوہناک صورتِ حال ایک دوبرس نہیں بلکہ متوکل کی زندگی کے اخری وقت تک برابر قائم رہی . اور سنیئے کہ متوکل کے دربار میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السّلام بن ابی طالب علیہ السّلام کی نقلیں کی جاتی تھی اور ان پر خود متوکل اور تمام اہل دربار ٹھٹے لگاتے تھے . یہ ایسا اہانت امیز منظر تھا کہ ایک مرتبہ خود متوکل کے بیٹے سے رہا نہ گیا . اس نے متوکل سے کہا کہ خیر آپ اپنی زبان سے حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں کچھ الفاظ استعمال کریں مگر جب آپ کو ان کا عزیز قرار دیتے ہیں تو ان کم بختوں کی زبان سے حضرت علی علیہ السّلام کے خلاف ایسی باتوں کو کیونکر گوارا کرتے ہیں اس پر بجائے کچھ اثر لینے کے متوکل نے اپنے بیٹے کافحش امیز تمسخر کیا اور دو شعر نظم کرکے گانے والوں کو دئیے جس میں خود اس کے فرزند کے لیے ماں کی گالی موجود تھی . گویّے ان شعروں کو گاتے تھے اور متوکل قہقے لگاتا تھا . اسی دور کا ایک واقعہ بھی کچھ کم قابل افسو س نہیں ہے ابن السکیت بغدادی علم نحوولغت کے امام مانے جاتے تھے اور متوکل نے اپنے دو بیٹوں کی تعلیم کے لیے انھیں مقرر کیا تھا . ایک دن متوکل نے ان سے پوچھا کہ تمھیں میرے ان دونوں بیٹوں سے زیادہ محبت ہے یا حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام سے ابن السکیت محبت اہل بیت علیہ السّلام رکھتے تھے اس سوال کو سن کر بیتاب ہوگئے اور انھوں نے متوکل کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بے دھڑک کہ دیا کہہ حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام کا کیا ذکر , مجھے تو علی علیہ السّلام کے غلام قمبررض کے ساتھ ان دونوں سے کہیںزیادہ محبت ہے . اس جواب کا سننا تھا کہ متوکل غصّے سے بیخود ہو  گیا , حکم دیا کہ ابن السکیت کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے . یہی ہو اور اس طرح یہ ال ُ رسول کے فدائی درجہ شہادت پر فائز ہوئے . ان واقعات کابراہ راست جسمانی طور پر حضرت امام علی نقی سے تونہ تھا مگر بخدا ان کی ہر ہر بات ایک تلوار کی دھار تھی جو گلے پر نہیں دل پر چلا کرتی تھی , متوکل کاظالمانہ رویّہ ایسا تھا جس سے کوئی بھی دور یا نزدیک کا شخص ا س سے خوش یامطمئن نہیں تھا . حدیہ ہے کہ اس کی اولاد تک اس کی جانی دشمن ہوگئی تھی , چنانچہ اسی کے بیٹے منتصر# نے ا س کے بڑے مخصوص غلام باغر# رومی کو ملا کر خود متوکل ہی کی تلوار سے عین اس کی خواب گاہ میں اس کو قتل کرادیا . جس کے بعد خلائق کو اس ظالم انسان سے نجات ملی اور منتصرکی خلافت کا علان ہو  گیا . منتصر# نے تخت ُ حکومت پر بیٹھتے ہی اپنے باپ کے متشد انہ احکاکم کو یکلخت منسوخ کر  دیا. نجف اور کربلا زیارت کے لیے عام اجازت دے دی اور ان مقدس روضوں کی کسی حد تک تعمیر کرادی . امام علی نقی علیہ السّلام کے ساتھ بھی اس نے کسی خاص تشدد کا مظاہرہ نہیں کی مگر منتصر کی عمر طولانی نہیں ہوئی . وہ چھ مہینہ کے بعد دنیا سے اٹھ گیا منتصر# کے بعد مستعین کی طرف سے امام علیہ السّلام کے خلاف کسی خاص بدسلوکی کا برتاوؤ نظر نہیںاتا . امام علیہ السّلام نے چونکہ مکان بنا کر مستقل قیام اختیار فرمالیا تھا اس لیے یا تو خود آپ ہی نے مناسب نہ سمجھا یا پھر ان بادشاہوں کی طرف سے آپ کے مدینہ واپس جانے کو پسند نہیںکیا گیا ہو . بہر حال جو بھی وجہ ہو قیام آپ کا سامرہ ہی میں رہا . اتنے عرصے تک حکومت کی طرف سے مزاحمت نہ ہونے کی وجہ سے علوم اہلبیت علیہ السّلام کے طلب گارذرا اطمینان کے ساتھ کثیر تعداد میںاپ سے استفادہ کے لیے جمع ہونے لگے جس کی وجہ سے مستعین# کے بعد معتز# کو پھر آپ سے صر خاش پیدا ہوئی اور اس نے آپ کی زندگی ہی کاخاتمہ کر  دیا .

اخلاق واوصاف

حضرت کی سیرت اوراخلاق وکمالات وہی تھے جو اس سلسلئہ عصمت کے ہر فرد کے اپنے اپنے دور میں امتیازی طور پر مشاہدہ میں اتے رہے تھے . قید خانے اور نظر بندی کاعالم ہو یا آزادی کا زمانہ ہر وقت اور ہر حال میں یاد الٰہی , عبادت , خلق ُ خدا سے استغنائ ثبات قدم , صبر واستقلال مصائب کے ہجوم میںماتھے پر شکن نہ ہونا دشمنوں کے ساتھ بھی حلم ومرّوت سے کام لینا ,محتاجوں اور ضرورت مندوں کی امداد کرنا یہی اورصاف ہیںجو امام علیہ السّلام علی نقی علیہ السّلام کی سیرت زندگی میں بھی نمایاں نظر اتے ہیں . قید کے زم(contracted; show full)

ولادت

08 ربیع الثانی 232ھ مدینہ منورہ میں ہوئی۔

نشوو نما اور تربیت

بچپن کے گیارہ سال تقریباً اپنے والد بزرگوار کے ساتھ وطن میں رہے جس کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ زمانہ اطمینان سے گزرا۔ اس کے بعد امام علی نقی علیہ السّلام کو سفر عراق درپیش ہو
  گیا اور تمام متعلقین کے ساتھ ساتھ امام حسن عسکری علیہ السّلام اسی کم سنی کے عالم میں سفر کی زحمتوں کو اٹھا کر سامرے پہنچے۔ یہاں کبھی قید کبھی آزادی , مختلف دور سے گزرنا پڑا مگر ہر حال میں آپ اپنے بزرگ مرتبہ باپ کے ساتھ ہی رہے۔ اس طرح باطنی اور ظاہری طور پر ہر حیثیت سے آپ علیہ السّلام کو اپنے والد بزرگوار کی تربیت وتعلیم سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکا۔
زمانہ امامت

(contracted; show full)

خلفائے بنی عباس خوب جانتے تھے کہ سلسلہ الِ محمد کے وہ افراد جو رسول کی صحیح جانشینی کے مصداق ہوسکتے ہیں وہ یہی افراد ہیں جن میں سے گیارہویں ہستی امام حسن عسکری علیہ السّلام کی ہے اس لیے ان ہی کا فرزند وہ ہو
  سکتا ہے جس کے بارے میں رسول کی پشین گوئی صحیح قرارپاسکے۔ لٰہذا کوشش یہ تھی کہ ان کی زندگی کادنیا سے خاتمہ ہو جائے اس طرح کہ ان کا کوئی جانشین دنیا میں موجود نہ ہو۔ یہ سبب تھاکہ امام حسن عسکری علیہ السّلام کے لیے اس نظر بندی پر اکتفا نہیں کی گئی جو امام علی نقی علیہ السّلام کے لیے ضروری سمجھی گئی تھی بلکہ آپ کے لیے اپنے گھربار سے الگ قید تنہائی کو ضروری سمجھا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ قدرتی انتظام کے تحت درمیان میں انقلاب سلطنت کے وقفے آپ کی قیدمسلسل کے بیچ میں قہری رہائی کے سامان پیدا کردیتے تھے مگر پھر بھی جو (contracted; show full)د جو امانت ودیانت نیزعلمی و فقہی بصیرت کے اس درجہ حامل تھے کہ امام علیہ السّلام کے محل اعتماد ہوسکیں انھیں اپنی جانب سے آپ نے نائب مقرر کر دیا تھا۔یہ حضرات جہاں تک کہ خود اپنے واقفیت کے حدود میںدیکھتے تھے اس حد تک مسائل خود ہی بتادیتے تھے اور وہ اہم مسائل جوان کی دسترس سے باہر ہوتے تھے انھیں اپنے پاس محفوظ رکھتے تھے او ر کسی مناسب موقع پر امام علیہ السّلام کی خدمت میں رسائی حاصل کرکے ان کو حل کرالیتے تھے کیونکہ ایک شخص کا کبھی کبھی امام علیہ السّلام سے ملاقات کو اجانا حکومت کے لیے اتنا ناقابل برداشت نہیںہو
  سکتا تھا جتنا کہ عوام کی جماعتوں کو مختلف اوقات میں حضرت علیہ السّلام تک پہنچنا. ان ہی سفرائ کے ذریعے سے ایک اہم خدمت بھی انجام پائی جاتی تھی. وہ یہ کہ خمس جو حکومت ُ الٰہیہ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے اس نظام ُحکومت کو تسلیم کرنے والے ہمیشہ ائمہ معصومین علیہ السّلام کی خدمت میںپہنچاتے رہے او ران بزرگوں کی نگرانی میں وہ ہمیشہ دینی امور کے انصرام اور سادات کی تنظیم وپرورش میں صرف ہوتا رہا اب وہ راز دارانہ طریقہ پر ان ہی نائبوں کے پاس اتا تھا اور یہ امام علیہ السّلام سے ہدایت حاصل کرکے انھیں ضروری مصارف میںصر(contracted; show full)ل وہ منصف مزاج تھا اس نے طلاّ ب کی زبانی وہ سب کچھ سنا اور کہا کہ یہ باتیں تمہاری قابلیت سے بالا تر ہیں۔ سچ سچ بتانا کہ یہ تمھیں معلوم کہاں سے ہوئیں پہلے تو ان طالب علموں نے چھپانا چاہا اور کہا کہ یہ چیزیں خو د ہمارے ذہن میں ائی ہیں مگر جب اس نے سختی کے ساتھ انکار کیا کہ یہ ہو ہی نہیںسکتا تو انھوں نے بتایا کہ ہمیں ابو محمد, حسن عسکری علیہ السّلام نے یہ باتیں بتائی ہیں یہ سن کر اس نے کہا کہ سوائے اس گھرانے کے اور کہیں سے یہ معلومات حاصل ہی نہیں ہوسکتے تھے۔پھر اس نے اگ منگوائی اور جو کچھ لکھا تھا ,نذر اتش کر
  دیا ایسے کتنے ہی علمی اور دینی خدمات تھے جو خاموشی کے ساتھ انجام پارہے تھے اور حکومت وقت جو محافظت اسلام کی دعویدار تھی۔ اپنے عیش وطرب کے نشے میں مدہوش تھی یا پھر چونکتی تھی بھی تو ایسے مخلص حامی اسلام کی طرف سے اپنی سلطنت کے لیے خطرہ محسوس کرکے ان پر کچھ پابندیاں بڑھادیئے جانے کے احکام نافذ کرتی تھی , مگر اس کو هِ گراں کے صبرو استقال میںفرق نہ ایا تھا۔ جو امع حدیث میں محدثین اسلام نے آپ کی سند سے احادیث نقل کیے ہیں ان میں سے ایک خاص حدیث شراب خواری کے متعلق ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ شارب الخمر کعابد الصنم«»(contracted; show full)ہیں معلوم ہوتی , ہاں بے شک آپ کا ایک طویل مکتوب اسحٰق بن اسمٰعیل اشعری کے نام اور کافی ذخیرہ مختصر حکیمانہ مقولات اور مواعظ وتعلیمات کتاب تحف العقول میں محفوظ ہے جو اس وقت بھی اہل نظر کے لیے سرمئہ چشم بصیرت ہے۔ یہ علمی کارنامے اس حالت میںہیں جب کہ مجموعی عمر آپ کی 28 برس سے زیادہ نہ ہو سکی اور اپنے والد بزرگوار کے بعد صرف چھ برس امامت کے منصب پر فائز رہے اور وہ بھی ان مشکلات کے شکنجہ میں جن کاتذکرہ ہوچکا ہے۔

وفات

اتنے علمی و دینی مشاغل میں مصروف انسان کو کہیں سلطنت وقت کے ساتھ مزاحمت کا کوئی خیال پیدا ہو
  سکتا ہے مگر ان کابڑھتا ہو روحانی اقتدار اور علمی مرجعیت ہی تو ہمیشہ ان حضرات کو سلاطین کے لیے ناقابل ُبرداشت ثابت کرتی رہی۔ وہی اب بھی ہوااور معتمد عباسی کے بھجوائے ہوئے زہر سے 8 ربیع الاوّل 260ھ میں آپ نے شہادت پائی اور اپنے والد بزرگوار کی قبر کے پاس سامرے میں دفن ہوئے جہاں حضرت علیہ السّلام کاروضہ باوجود نامواف ق ماحول کے مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔

12) حضرت امام مھدی علیہ السلام

(contracted; show full)

ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔

 اگر دنیا کی عمر ختم ہو گئی ہو اور قیامت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اھلِ بیت میں سے ایک شخص کی حکومت قائم ہو سکے گی جو میرا ہم نام ہوگا ۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔