Difference between revisions 2861215 and 3119403 on urwiki

=   محل وقوع =
حضرت  سید اکبر شاہ غازی ،شیندرہ ،پونچھ ریاست جموں و کشمیر کے نہایت معروف وبرگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں ،آپ کا مزار گاؤں شیندرہ  محلہ سیداں میں واقع ہے  حضرت  سید اکبر شاہ غازی ،شیندرہ ،پونچھ ریاست جموں و کشمیر کے نہایت معروف وبرگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں ،آپ کا مزار گاؤں شیندرہ  محلہ سیداں میں واقع ہےحضرت سید احمد شاہ غازی رحمۃاللہ علیہ کی اولاد میں سے سید اکبر شاہ بادشاہ آپکے جانشین ہوئے سید اکبر شاہ بادشاہ کے پانچ صاحب زادے ہوئے، حضرت سیدفضل شا ہ ،حضرت سیدبودلاشاہ، حضرت سیدنصارشاہ،حضرت سیدحسن علی شاہ، حضرت سیدشیرعلی شاہ، جن میں شیرعلی شاہ بادشا ہ اللہ کے ولی گذزرے ہیں۔

= سلسلہ نسب سید اکبر شاہ بادشاہ  رحمۃ اللہ علیہ  =
سید اکبر شاہ بادشاہ بن سید سلطان شاہ غازی بن سید کرم شاہ غازی بن جعفر شاہ غازی بن اسحاق الحق شاہ بن موسی شاہ غازی بن قاسم شاہ غازی بن محمد عالم شاہ غازی بن غیاث الدین شاہ بن امام طاہر شاہ غازی بن عبد اللہ شاہ غازی بن ابو القاسم شاہ بن علاءالدین شاہ غازی بن عنایت شاہ غازی بن حیات محمد شاہ غازی بن اسمعیل شاہ غازی بن کمال شاہ غازی بن حسین شاہ بن احمد شاہ غازی بن زینب الدین شاہ غاذی بن نصیر الدین شاہ غازی بن عبد الکریم شاہ غازی بن وجہ الدین شاہ غازی بن(contracted; show full)

آپ کا مزار آپ کے والد اور دادا کے مزارات سے تقریباّ 150 میٹر کی مسافت پرجہاں سید سلطان شاہ غازی نے شروع میں آکرقیام فرمایا اور اپنا مکان تعمیرکروایا تھا یہ مکان دونوں چناروں کے درمیان تھا سینہ بہ سینہ جو روایات چلی آ
  رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اکبرشاہ غازی علیہ رحمۃ نے یہاں دو چنار کے پیڑ اپنے ہاتھوں سے نسب کئیے تھے کہا جاتا ہے کے ایک دفعہ کسی کی بھینس نے ان چنار کے پیڑوں کو اپنے سینگوں سے کُھریدہ اور ان کی جڑوں کی استقامت کمزور ہو  گئی بھینس جب نیچے نالے پر پانی پینے کے لیے گئی سانپ نے ڈنک مارا اور وہیں مرگئی۔ ان پیڑوں کوحضرت نے دودھ ڈال کر پالا آج بھی یہ پیڑ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رہے ہیں ان کے تنے موٹے اور سفید ہیں ایک چنار کے نیچے سید اکبر شاہ بادشاہ کا لنگرتھاآپ پوری رات آگ جلا کرمچ سیکتے تھے اور ہمہ وقت عبادت وریاضت میں مشغول رہتے تھے اس چنار کے نیچے آپ کا ایک حجرہ تھا جسمیں آپ نے ایک لمبے عرصے تک چلہ کشی کی ہے کچھ مصدقہ دلائل ملے ہیں کہ پیر اکبر شاہ بادشاہ رحمۃاللہ علیہ یہاں گیارویں شریف کا بھی اہتمام کرتے تھے ماضی بعید میں سید فرمان شاہ ۔سید اکبر شاہ ۔سیدغلام حیدر شاہ اور کچھ چنندہ ہستیوں نے یہاں مسجد شریف کی سنگ بنیاد رکھی تھیں اور یہ جگہ وقف کر دی تھی، یہ جگہ اتنی متبر ک ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے انسان اس میں سما جاتا ہے ۔<ref>(2) عظمت سادات و صوفیاے کرام  تحقیقی جائزہ     سید نثار بخاری</ref>

= حوالہ جات =
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}