Difference between revisions 2975304 and 3090670 on urwiki

{{notability}}
تحصیل تُمپ کے شعرا:
اسحاق خاموش پُل آبادی (Ishaque Khamosh): اسحاق خاموش ایک فطری شاعر ہیں اور شاعرِ فطرت بھی!سخن وری ان میں ودیعت ہے۔ نئے اسلوب اور فنی حوالے سے نوجوان شعرا میں اسحاق خاموش ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ 
وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں لیکن نظم پر بھی اتنا ہی عبور رکھتے ہیں۔ جہاں سادہ و رنگیں اور شیریں بیانی ان کی کامیابی کی رازداں ہوتی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ان کے نظم، غزل کے رنگ سے ہی سرشار ہوتی ہے۔ اسحاق خاموش11 اگست 1979 کو تُمپ سے 10 کلومیٹر دُور پُل آباد میں پیدا ہوئے۔ اور ابتدائی تعلیم اپنے گاوں کے مڈل اسکول میں حاصل کی۔ بچپن میں شاعری کے شوق نے بلوچی شاعری کے آسمان کے درخشاں ستاروں سے ہمقدم کر دیا۔ 
تُربت میں ملازمت کے دوران
1993 سے 1998 تک ریڈیو تُربت میں یوتھ پروگرام میں اپنے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 2000 سے 2006 تک ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارہ فیبا ریڈیو www.feba.org.uk/‎ سے بھی بطور اسکرپٹ رائٹر منسلک رہے ہیں۔ ایک بہترین شاعر کے علاوہ اسحا ق خاموش ایک اچھے کمپئیر بھی ہیں  ۔ اسحاق کراچی آرٹس کونسل اور بلوچستان کے بیشمار یادگار پروگراموں میں میزبانی کے فرائض سر انجام دے چُکے ہیں۔ 
بلوچی اور اردو کے رسائل اور اخبارات میں وقتا’’ فوقتا’’ اسحاق خاموش کے نگارشات اور غزلیں شائع ہوتی رہتی ہیں اور اس کے علاوہ بلوچی کے تقریبا’’ تمام مایہ ناز فنکاروں نے اسحاق خاموش کے لاتعدا د گیت اور غزلیں خوبصورت سُروں کے ساتھ سجائے ہیں۔ اسحا ق خاموش تقلید کی روش سے دامن بچاتا ہوا اپنے لیے ایک جداگانہ اور منفرد لائحہءعمل تلاش کرتاہے۔ ادبی روایت کو وہ ایک ایسے عمل سے تعبیر کرتا ہے جو زندگی کی تمام حرکت و حرارت کا نقیب ہے۔ یہ کائنا ت بادی النظر میں ہنوز تشنہءتکمیل ہے۔ اس عالم آب و گل کے جملہ مظاہر سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ جو دما دم صدائے کن فیکون سنائی دے رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ خوب سے خوب تر کی جستجو کا جو سلسلہ ازل سے جاری ہے وہ ابد تک جاری رہے گا۔ ادبی روایات بھی زندگی کی تاب و تواں کی امین ہوتی ہیں۔ اسحاق خاموش کی شاعری میں زندگی کی اقدار عالیہ پوری قوت ،صداقت اور شدت کے ساتھ الفاظ کے قالب میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔ اسحاق خاموش ایک وسیع المطالعہ تخلیق کار ہے۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ زمانے میں محبت کے سوا اور بے شمار مسائل ہیں  ۔ اس کی شاعری میں مارکس اور اینگلز کے تصورات کا پرتو بھی ملتا ہے۔ یہ ایک تلخ اور تند حقیقت ہے نکہ معاشرتی زندگی میں معیشت اور اقتصادی مسائل نے فکر و نظر کی کایا پلٹ دی ہے۔ آج کا انسان حسیناؤں کی زلف گرہ گیر ،عشوے اور غمزے،لب لعلیں ،سیاہ چشمگی،چاہ زنخداں یا کمر سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کے شعور اور لا شعور کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسے سر چھپانے کو جھونپڑا اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے نان جویں درکار ہے۔ معیشت اور اقتصادیات کے تفکرات نے اسے نڈھال کر دیا ہے  ۔ اسحاق خاموش نے اپنی شاعری میں ادب ،کلچر اور اسے متعلق مسائل کا احوال نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں کیا ہے۔ 
رومانوی شاعری کے بین السطور عشق حقیقی یا عشق مجازی جلوہ افروز ہو، یہ ضروری تو نہیں . نرگسیت بھی رومان کی وجہ تسمیہ ہوسکتی ہے، لڑکپن کی زیادہ تر شاعری نرگسیت کی دین ہوتی ہے۔ نوجوان شاعر جس نے ایک چھوٹے مضافاتی شہر سے ایک تھوڑے بڑے مضافاتی شہر مین حصول علم کے لیے ہجرت کی تھی نرگسیت آمیز رومان کا علمبردار شاعر تھا۔ اس نوجوان شاعر نے بلا شبہ خود کو آغاز سفر میں رومانویت کی گرفت میں دے دیا تھا لیکن حیات (contracted; show full)گُمان ( شاعری)اشاعت اول 2002)
گُمان(اشاعت دوم(2003)
واھگء_ تُنّ (2004)
شُبین (اشاعت اول 2007)
شُبین (اشاعت دوم2010)
جار (2010)
بلوچی لبز بلد (ڈکشنری) 2014
رابطہ: [email protected]