Difference between revisions 2980600 and 3090997 on urwiki{{Wikify}} {{ بے حوالہ}} مثلِ بو قید ہے غنچے میں، پریشاں ہو جا<br> رخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جا<br> ہے تنک مایہ، توذری سے بیاباں ہو جا <br> نغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جا<br> قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے<br> دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسرے اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید ( معشوق سے کچھ حاصل کرنے کی) ۔ لالچ سے ماورا ہوتا ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتا ہے۔ جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آجاتا ہے۔ حضرت سید محمد ذوقی شاہ اپنی کتاب ” سر ِ دلبراں “ میں لکھتے ہیں، ” عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔ “ عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودن<br> دل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن اور جب یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی سے ہو تو پھر کیا کہنا۔ ان کی ہستی تو ایک بحر زخار کے مانند ہے جس کی موجوجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ جس کی تعلیمات محبت، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں۔ جو لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں۔ اُس کے اخلاق کے بارے میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ، ”’ اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے۔ “ جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دئیے گئے رشک کی بات ہے کہ اقبال کو اس عظیم بندے سے عشق تھا اور اس آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہے۔ می ندانی عشق و مستی از کجا ست؟<br> ایں شعاع افتاب مصطفی ست مولانا عبد السلام ندوی ”اقبال کامل “ میں لکھتے ہیں، ” ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت ِ وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا۔ “ == والہانہ عشق == اقبال کو حضور سے جو والہانہ عشق ہے اس کا اظہار اس کی اردو اور فارسی کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول اکرم کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا۔ خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا <br> خو شا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا اقبال سردار دو عالم کی سیرت پاک کا غائر مطالعہ کرنے کے اور مطالب قرانی پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آنحضرت کی ذات ِ بابرکات جامع الحثیات ہے۔ تمام کما لات ظاہر و باطن کی اور سرچشمہ ہے تمام مظاہر حقیقت و مجاز کا۔ کلام اقبال اٹھا کر دیکھ لیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پیغام ِ اقبال اصل میں حُب رسول ہے۔ کیونکہ انہی کی ذات گرامی سرچشمہ دیں ہے۔ بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست<br> اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است == سوز و گداز == اقبال کی طبیعت میں سوز و گداز اور حب رسول اس قدرتھا کہ جب کبھی ذکر رسول ہوتا تو آپ بے تاب ہو جاتے اور دیر تک روتے رہتے ۔ ”روزگار فقیر “ میں [[فقیر سید وحید الدین]] لکھتے ہیں۔ ” اقبال کی شاعری کا خلاصہ جو ہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت رسول ہے۔ ان کا دل عشق رسول نے گداز کر رکھا تھا زندگی کے آخری زمانے میں یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بند جاتی۔ آواز بھرا جاتی تھی اور وہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کر لیتے تھے۔ تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا سکیں۔ “ == اتباع رسول == (contracted; show full) == مزید دیکھیے == * [[اقبال]] * [[اقبالیات]] {{ربط درکار|}} [[زمرہ:اقبالیات]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=3090997.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|