Difference between revisions 2988812 and 3150889 on urwiki= محل وقوع = حضرت سید شیر علی غازی کی درگاہ ضلع پونچھ کے گاوں کھنیتر اپر مکھیالہ کی چوٹی پر موجود ہے۔گاؤں کھنیترضلع پونچھ سے دس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ،کھنیتر سے ایک لنک روڈ سر زمین مکھیالہ کی طرف جاتی ہے ،یہ سڑک درگاہ تک ابھی نہیں پہونچی ہے اس کے اسباب جو بھی ہو ان کا تذکرہ کرنا یہاں برمحل اور مناسب نہیں ہے یہ درگاہ مکھیالہ کی چوٹی پر واقع ہے ۔ یہ گاؤں اپنی خوبصورت بلند وبالا چوٹيوں، گھنے جنگلات،زرخيز علاقوں کی بدولت مضافاتی علاقوں ميں مشہور ہے۔ پھر اگران جگہوں کی نسبت ایسے اولیاے کرام سے ہو جو(contracted; show full)ریاضت میں مشغول رہتے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ شیر کی سواری کیا کرتے تھے اسی نسبت سے آپ شیرعلی شاہ کے نام سے موسوم ہو گئے آپ سیر وسیاحت کرتے اور دوران سیر و سیاحت آپ اسلام کی ترویج و اشاعت بھی کرتے رہے آپ بلند پایا بزرگ رہے ہیں ،آپ نے تقریباّ ۱۵سال تک چلہ کشی کی آپ اتنے بڑے صوفی بزرگ گزرے ہیں کہ آپ کی سگی بہن آپ سے ملنے آئی تو آپ نے منع کیا کہ میری نظر کسی عورت پر نہ پڑ جائے آپ مسلسل چلہ کشی کرتے رہے اور اپنی آنکھوں میں مرچ ڈال دی کہ کسی غیر محرمہ پر نظر نہ پڑ جائے بہن کے مسلسل اصرار کے باوجود دیدار نصیب نہیں ہوا ۔ آپ عشق الٰہی اورنشہ محبت رسولﷺ میں مدہوش رہے ہیں اسی جذب ومستی کے عالم میں بابا صاحب پہاڑوں ،بیابانوں ،جنگلوں میں گھومتے رہتے اُن کی نیند سوزش عشق میں جل گئی اور چلچلاتی ہوئی دھوپ برداشت کرتے رہے اور آپ عبادت اور ریاضت میں مشغول رہے۔ ان کی تعلیمات کا لب ولباب نفس کشی، گوشہ نشینی، توکل بر خدا و قناعت و صبر و رضا تھا، کہا جاتا ہے کہ پیدائش سے ہی اس طرح کے اَثار ملنے لگے تھے کہ یہ بچہ اگے چل کر ایک بڑا متقی و پ رہی ز گار اور بردبار بزرگ بنے گا۔ حقیت یہ ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت کسی مدرسہ یا خانقاہ کی مرہون م(contracted; show full) ۵) ایک اور بڑی کرامت جس کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ آپ کے وصال کے بعد آپ کے کچھ آثار جو ایک تھلیے میں محفوظ آپ کے حجرہ میں ٹنگے ہوئے تھے جن کو متعلقین تبرکات کے طور پر استعمال کرتے تھے کہ ایک دن فوج نے اس مزار اور اس کے بغل میں بنے ہوئے آپ کے مکان کی تلاشی شروع کی دوران تلاشی اس مکان میں جو بھی بابا صاحب کے کتب ،ضروریات کی چیزیں جو بھی برتن ملے سب کو آگ لگا دی اور پورا مکان جل گیا ۔ اسی اثنا میں فوج میں باہمی تصادم شروع ہو گیا اور خوب گولہ باری کا تبادلہ ہوا کہا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ فوجی ہلاک ہو گئے جب فوجی سربراہ کو اس بڑے سانح کی خبر موصول ہوئی تواس نے بابا صاحب کے دربار پر منت و سماجت کی اور بڑی تعداد میں نیاز و نذر کا اہتمام کیا اور معافی طلب کی۔[[(4)المصدر نفسیہ|( 4)]] = لنگر = بابا صاحب کے مزار پر جو قومی یکجہتی اور اتحاد نظر آتا ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتا قومی اتحاد کا ایک بڑا ثبوت ان کا لنگر ہے ۔ ہزاروں عقیدت مند بابا کے دربار پر آتے ہیں جبین نیاز جھکاتے ہیں فاتحہ کو ہاتھ اُٹھاتے ہیں ۔ نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور سکون پاتے ہیں فقر و درویشی کے باوجود آپ کی خانقاہ سخاوت اور فیاضی کے لیے مشہور تھی مطبخ میں جتنا بھی کھانہ پکتا تھا وہ تمام غرباء و مساکین میں تقسیم ہو جاتا تھا ۔ آج بھی آپ کے مزار پر ایک وسیع لنگر جاری ہے اور ہر غرباء و مساکین اور مفلوک الحال اس سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ آج بھی گاؤں میں ان کے پھیلائے ہوئے نور کی کرنیں اُجالا کر رہی ہیں آپ نے اس علاقہ میں اسلامی تہذیب و تمدن کو حیا ت نو بخش کر ایک منفرد تاریخ رقم کی۔ عقیدت مند مرد ،چھوٹے ،بڑے والہانہ طور پر دن رات اس مرکز سعادت و ہدایت پر جوق در جوق آتے رہتے ہیں ۔ = قدیم اثاروں میں سے بابا صاحب کے چنداثار = ان قدیمی اثاروں میں سے بابا صاحب کا مٹی کا بنا ہوا برتن،ایک چھری لوہے کی اور ایک تسبیح جو حضرت بابا صاحب وردوظائف کے لیے استعمال کرتے تھے آپکے مریدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا آپ کا کوئی مرید آپ کے وصال کے بعد راولپنڈی (پاکستان نو)اس تسبیح کو بطور تبرک لے گیا موصوف نے اس تسبیح کو گولڑہ شریف دربار پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے آستانہ عالیہ پر پہنچا دی اور اس کو واپس پونچھ مکھیالہ بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہنچانے کے لیے کہا گویا 2012 میں سرزمین بھینچ پونچھ سے ایک شخص گولڑہ شریف تشریف لے گیا وہاں کے سجادہ نشین نے اس امانت کو مکھیالہ پہنچانے کے لیے حکم دیا ۔ یہ بھی بابا شیر علی شاہ غازی کی کرامت ہے کہ ان کے وصال کو لگ بھگ ڈیڑھ سو سال گزر گئے ہیں لیکن ان کے اس آثار ( تسبیح) کو قدرت نے محفوظ رکھا اور ہم پر یہ احسان کیا کہ ہم اس تبرک کا دیدار کریں اور اولیاءاللہ کی طاقت کا مشاہدہ کریں۔ = سجادگان = = پہلے سجادہ نشین حضرت سید بہار شاہ = حضرت سید بہار شاہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ضلع راجوری سے تشریف لائے اور بابا شیر علی شاہ کے ہاتھوں پر بیعت قبول کی۔ فقر و سلوک کی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور بابا جی سے حاصل کر کے عبادت و پ رہی زگاری اور خدا ترسی میں لا ثانی بزرگ تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ سردی کے موسم میں دریا میں عبادت و ریاضت کرتے تھے اور گرمی کے موسم میں مچ سیکتے اور عبادت میں منہمک رہتے۔ بابا صاحب کے مزار کے ساتھ مدفون ہیں۔<ref>(۶) تاریخ اقوام پونچھ محمد دین فوق</ref> = ۲ حضرت سیّد برکت شاہ = (contracted; show full) ہدایت کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہے بابا شیر علی شاہ کے دربار پر پہلے ٹین کی چھت پڑی ہوئی تھی،لیکن موصوف نے اس درگاہ کی تجدید و مرمت کی اور اب ایک دلکش اور خوبصورت مزارتعمیر کروایاہے ،ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ روڑ کی سہولت میسر نہ ہونے کے باوجود اس مکھیالہ کی چوٹی پر سامان ڈھو کر مسجّدشریف ،لنگر خانہ،اور مزار تعمیر کروائے یہاں پر ہر سال عُرس بڑی عقیدت و مُحبت سے منایا جاتا ہے اور بھاری تعداد میں زائرین اور عقیدت مندوں کی تشریف آوری ہوتی ہے۔ = حوالہ جات = == حوالہ جات == {{حوالہ جات}} All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=3150889.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|