Difference between revisions 2988819 and 3150831 on urwiki= محل وقوع = '''سید سُلطان شاہ غازی رحمة اللہ علیہ''' کا مزار [[تحصل سرنکوٹ]] سے [[پونچھ]] جاتے ہوئے راستے میں ایک مقام، شیندرہ میں موجود ہے۔ شیندرہ سرحدی ضلع پونچھ کا ایک مشہور گاوں ہے شیندرہ سُرنکوٹ سے 16اور پُونچھ سے تقريباَ ۱۵کلومیٹر کی دوری پر ہے ۔گاؤں کے اطراف واکناف میں اُونچے اُونچے اورلمبے پہاڑی ٹیلے اوربیچ میں خوبصورت سرسبز وشاداب علاقہ موجود ہے۔ يہ گاؤں اپني خوبصورت بلند وبالا چوٹيوں، گھنے جنگلات،زرخيز ميداني علاقوں، گنگناتي چشموں کی بدولت مضافاتی علاقوں ميں مشہور (contracted; show full)بن وجہ الدین شاہ غازی بن ولی اللہ دین شاہ غازی بن محمد ثانی الغازی شاہ بن فیروز دین شاہ بن رضا دین شاہ بن سلطان ابو القاسم شاہ بن شاہ میر شاہ بن اسحاق شاہ بن موسی شاہ بن اول قاسم عبد اللہ شاہ بن محمد اول شاہ بن عالم شاہ بن ادریس شاہ بن ہارون شاہ بن یحی شاہ بن ابو بکر شاہ بن اسمعیل شاہ بن پیر مخدوم شاہ بن امام اسحاق الحق بن حضرت امام جعفر قدسی شاہ بن حضرت امام نقی بن امام تقی بن حضرت امام علی موسی رضا بن حضرت امام موسی کاظم بن حضرت امام جعفر صادق بن حضرت امام باقر بن حضرت امام زین العابدین بن حضرت امام حسین ۔ راقم الحروف سید نثار بخاری کے اجداد بھی حضرت سید سلطان شاہ غازی ہیں۔ نثار بخاری اور سید سرفراز بن الطاف حسین شاہ بن فرمان شاہ بن مہتاب شاہ بن حسن علی شاہ بن حضرت سید اکبر شاہ غازی بن حضرت سید احمد شاہ غازی بن سید سلطان شاہ غازی<ref>(۱) عظمت سادات و صوفیاے کرام تحقیقی جائزہ سید نثار بخاری</ref> == '''حالات زندگی''' == اللہ تعالٰی بزرگ و برتر کے برگزیدہ بندے جو اپنی تمام تر زندگی اللہ تعالٰی کی بندگی اور اس کی عبادت اور زہد و تقویٰ کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جب چاہیں اپنی خصوصی عنایت سے ولی، ابدال،قطب اور غوث جیسے اعلیٰ و ارفع روحانی مراتب پر فائز کر دیتے ہیں جہاں ان سے خارق عادت اور کشف و کرامات کا ظہور ہوتا ہے اور وہ ہاتف غیبی، القاء اور الہام کا ادراک رکھتے ہی۔ بابا سید سلطان شاہ غازی (پاکستان نو) کی سیداں کسرواں تحصیل گوجرخان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے ابتدأئی تعلیم وہیں حاصل کی وہاں کچھ عرصہ دعوت تبلیغ ونصیحت کی اُن کی بزرگی صاحب دلی اور خدا پرستی کی شہرت ہر طرف پھیل گئی۔ وہاں سے آپ کشمیر بمقام (کریری شریف کشمیر) تشریف لائے آپ کا سلسلہ نسب [[امام حسین]] سے جاملتا ہے، آپ کے والد کا نام سیّد کرم شاہ غازی تھا، آپ چار بھائی تھے، سید فیض علی شاہ غازی، نصیر الدین شاہ غازی، ابو بکر شاہ غازی۔ جب آپ پونچھ تشریف لائے تو اس وقت یہاں مسلم پہاڑی راجاؤں کی حکومت کا آغاز سراج الدین سے ہوا جو دراصل [[جود پور]] کے شاہی خاندان کا رکن تھا۔ وہ جود پُور کے راجہ اودھے سنگھ کے بیٹے جسونت سنگھ کا پوتا تھا۔ اور اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام سراج اُلدین رکھا تھا تبدیلی مذہب کی وجہ سے اس کے ساتھ اختلاف ہو گئے اور وہ وہاں سے ہجرت کر کے کہوٹہ میں آباد ہو گیا ۔ جہاں اس نے جیب چوہان کی بیٹی کے ساتھ شادی کی۔ حالانکہ اس کی پہلی بیوی نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ اس کے ہمراہ کشمیر آگئی تھی جیب چوہان کی وفات کے بعد اس کی وراثت سراج الدین نے سنبھالی۔ اسی دوران میں جب مغل بادشاہ اکبر نے اپنے بیٹے جہانگیر کے ساتھ کشمیر کا دورہ کیا۔ تو سراج الدین نے مغل بادشاہ اور شہزادہ جہانگیر کی بہت خدمت خاطر اور تواضع کی جس سے متاثر ہو کر اکبر نے سراج الدین کو پونچھ کا حکمران بنادیا۔ اس طرح پونچھ پر مسلم پہاڑی راجاؤں کی حکمرانی کا آغاز ہوا اس کے بعد راجہ فتح محمد خان کی حکومت ر(contracted; show full) = '''اخلاق و عادات''' = تمام عمر عشق الٰہی میں ڈوبے رہنے کے ساتھ ساتھ آپ نشہ محبت رسولﷺ سے بھی سرشار تھے == '''لنگر''' == یوں تو ہر بزرگ کا مزار قومی یکجہتی اور اتحاد کا نمونہ پیش کرتا ہے لیکن بابا سید سلطان شاہ غازی کے مزار پر جو قومی یکجہتی اور اتحاد نظر آتا ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتا عجیب پُر کیف اور روح پرور منظر ہوتا ہے ۔ قومی اتحاد کا ایک بڑا ثبوت ان کا لنگر ہے ۔ ہزاروں عقیدت مند بابا کے دربار پر آتے ہیں جبین نیاز جھکاتے ہیں فاتحہ کو ہاتھ اُٹھاتے ہیں۔ نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور سکون پاتے ہیں فقر و درویشی کے باوجود آپ کی خانقاہ سخاوت اور فیاضی کے لیے مشہور تھی مطبخ میں جتنا بھی کھانہ پکتا تھا وہ تمام غرباء و مساکین میں تقسیم ہو جاتا تھا ۔ آج بھی آپ کے مزار پر ایک وسیع لنگر جاری ہے اور ہر غرباء و مساکین اور مفلوک الحال اس سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ آخر کار تبلیغ حق کی یہ روشن قندیل ایک عرصہ تک اس گاؤں کو نور و ایمان سے منور کرکے دس ربیع الاول 1160 ہجری کوسرائے فانی سے عالم بقا کو تشریف لے گئے<ref>عظمت سادات و صوفیاے کرام تحقیقی جائزہ سید نثار بخاری</ref> اس مست قلندر کی تربت کی نشان دہی کے لیے ہلکی سی کچی چار دیواری کی گئی تھی اور تربت پر ایک کتبہ آویزا ں تھا جن پر ان کی تاریخ وصال لکھی ہوئی تھی ان کے عقیدت مندوں نے چشم پُر نم سے ان(contracted; show full)ادریں چڑھاتے شیرینی و بتاشے وغیرہ نذر کرتے اپنی مرادیں منتیں مانگتے ہیں۔ چونکہ روحانیت سے لگاؤ آپ کو وراثت میں ملا تھا آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشین آپ کے صاحبزادے سید احمد شاہ غازی ہوئے آپ بھی صاحب کشف وکرامات تھے آپ بھی اپنا بیشتروقت عبادت و ریاضت میں گزارتے کہا جاتا ہے کہ آپ نے تقریبّا دس سال تک چلہ کشی کی آپ کے دو اور بھائی بھی تھے جن کے اسماء محمد شاہ اور غلام شاہ۔ آپ کی تر بت بھی اپنے والد کے دامن میں ہے۔ =='''حوالہ جات'''== == حوالہ جات == {{حوالہ جات}} {{حوالہ_جات}} All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=3150831.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|