Difference between revisions 3136784 and 3201575 on urwiki

{{حوالہ دیں|}}
18 [[ذوالحجہ]] کو حجۃ الوداع سے واپسی پر [[محمد]] صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک چشمہ خم کے مقام پر [[صحابہ]] سے خطاب فرمایا۔ اس موقع پر قران کریم سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی:
{{اقتباس|يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ}}

(contracted; show full)
جس جس کا میں مولیٰ ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں ،
[ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اطمینان کے لیے اس جملے کو تین بار کہا تاکہ بعد میں کوئی مغالطہ نہ ہو]
اے اللہ اُسکو دوست رکھ جو علی ؑ کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکھ جو علیؑ کو دشمن رکھے ،
اس سے محبت کر جو علی ؑ سے محبت کرے اور اس پر غضبناک ہو جو علی ؑ پر غضبناک ہو ،
اس کی مدد کر جو علی ؑ کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو علی کو رسوا کر ے
اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر جدھر علی ؑ مڑیں "
[[[
  یہ پوری حدیث غدیر یا فقط اس کا پہلا حصہ یا فقط دوسرا حصہ ان مسندوں میں آیا ہ ے ۔
( مسند احمد ابن حنبل ص -256
تاریخ دمشق ج-43 ، ص -207 ، 208 ،448
خصائص نسائی ص-181
المجمل کبیر ج-17 ، ص -39
سنن ترمذی ج -5 ، ص -633
المستدرک الصحیحین ج -213 ص- 135 // المعجم الاوسط ، ج- 6 ، ص- 95 // مسند ابی یعلی ج-1 ، ص -280 ، المحاسن والمساوی ، ص-41 // مناقب خوارزمی ص- 104 ، اور دیگر کتب۔  ]]