Difference between revisions 3137519 and 3248544 on urwiki{{Wikify}} [[خواجہ میر درد|خواجہ میر]]<br> ” تصوف میں جیسا انہوں نے لکھا اردو میں آج تک کسی سے نہ ہوا۔“<br> بقول امداد اثر<br> ” معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو مے ں کوئی شاعر نہیں گزرا۔“<br> عبد السلام ندوی،<br> ” جس زمانے میں اردو شاعری اردوہوئی خواجہ مے ر درد نے اس زبان کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔“ (contracted; show full) آپ سے ہم گزر گئے کب سے <br> کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا == مسئلہ خیر و شر:۔ == صوفیاءکے نزدیک خدا ہمہ تن خیر ہے اُن کا خیا ل ہے کہ اگر کسی چیز میں شر موجود ہے تو وہ ہماری ہی پیدا کردہ بدی ہے۔ خدا نے نیکی اور بدی کے لیے ہمیں آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جبر و قدر کا مسئلہ بھی سامنے آجاتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا کس حد تک ذمہ دار ہے اس سلسلے میں بھی دو گروہ ہیں ایک کاخیال ہے کہ انسان اپنے افعال و اعمال پر قادر ہے اور دوسرے کا خیال ہے کہ انسان محض مجبور ہے ۔ صوفیاءکے ہاں یہ دو نوں مسلک موجو د ہیں، تھا عالم جبر کیا بتادیں<br> کس طور سے زیست کر گئے ہم اس امر میں بھی یہ بے اختیار بندہ ہے<br> ملا ہے درد اگر یاں کچھ اختیار مجھے (contracted; show full)== مجموعی جائزہ:۔ == مجنوں گورکھ پوری فرماتے ہیں کہ<br> ” کہیں دبی ہوئی اور کہیں علانیہ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانے کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں ملتی ہیں یعنی اپنے زمانے کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔“<br> ڈاکٹر ابوللیث صدیقی فرماتے ہیں، <br>”اس دور کی سے اسی اور ملکی حالات کو استعاروں اور کنایوں میں ایسی خوبصورتی سے ادا کیا ہے کہ غزل کا داخلی رنگ بھی قائم رہتا ہے اور یہ ایک ترجمانی بھی ہو گئی ہے۔“ [[زمرہ:اردو غزل]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=3248544.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|