Difference between revisions 538479 and 575637 on urwiki

{{علم الکائنات | cTopic = اجزاء}}
'''تاریک مادہ''' (Dark matter) اصل میں اب تک کے شواہد کے مطابق [[کائنات]] میں موجود وہ [[مادہ]] ہے کہ جو نظر نہیں آتا، اور اسکے اسی تاریکی میں چھپے ہونے کے پہلو کی وجہ سے اسکو تاریک مادہ کہا جاتا ہے۔ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو اسکی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہماری اس چیز کی سطح سے منعکس ہوکر (یا اس سے نکل) کر آنے والی روشنی ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہے اور [[عصبی نظام|اعصاب]] میں [[بصارت]] کا احساس بیدار کرتی ہے۔ اب اگر کوئی مادے کی قسم ایسی ہے کہ جو نا تو روشنی کو خارج کرتی ہے اور نا ہی اس سے کسی قسم کی روشنی منعکس ہوکر پلٹ سکتی ہے تو پھر ایسے مادے کو نا تو ہماری آنکھ دیکھ سکے کی گی اور نا ہی کوئی اور بصری آلہ براہ راست اس مادے کا مشاہدہ کرسکے گا، یعنی دوسرے الفاظ میں یوں کہ سکتے ہیں کہ وہ مادہ تاریک ہوگا اور ناقابل مشاہدہ۔
[[Image:CL0024+17.jpg|thumb|250px|تاریک مادے کا ایک مشاہدہ جس میں [[تقلی عدسہ|ثقلی عدسے (gravitational lens)]] کا مظہر دیکھا جاسکتا ہے۔]]
[[File:080998 Universe Content 240.jpg|thumb|475px|کائنات میں موجود تاریک مادے اور [[تاریک توانائ]] کی مقدار کا ایک اندازہ۔ آج اور 13.7 ارب سال پہلے]]

* سب سے پہلے تو ایک بنیادی بات یہ کہ ، مادہ اور توانائی اس کائنات میں دو مشاہدہ کی جا سکنے والی اشیاء ہیں۔ [[مادہ]] ، جن بنیادی ذرات سے مل کر بنتا ہے انکو [[جوہر]] یا ایٹم کہا جاتا ہے اور [[توانائی]] کام کرنے کی قوت کو کہا جاتا ہے۔ مادے کی موجودگی کی وجہ سے بھی ایک توانائی (کشش کی قوت) پیدا ہوتی ہے جسکو [[ثقالت|کشش ثقل]] کہا جاتا ہے اور اسی کشش کی وجہ سے کائنات کے تمام ستارے اور سیارے آپس میں بندھے ہوئے ہیں۔ 
* جب کوئی سیارہ یا ستارہ اپنے مرکز کے گرد مدار میں گھومتا ہے تو اس پر دو قوتیں عمل کرتی ہیں۔ 1- مرکزمائل قوت ؛ یہ کشش ثقل ہے جو اسکو مرکز کی طرف کھینچتے ہوۓ اپنے مدار میں قائم رکھتی ہے اور 2- مرکزگریزقوت ؛ جو اسکی دائری حرکت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اسکو مرکز سے دور لے جانا چاہتی ہے ، بالکل ایسے جیسے کہ کسی رسی میں پتھر باندھ کر گھمایا جاۓ اور چھوڑ دیا جاۓ تو وہ دور چلا جاتا ہے۔ 
(contracted; show full)
* اس خلاصہ میں مرکزمائل اور مرکزگریزقوتوں کا بیان  مفہوم سمجھانے کی خاطر انتہائی سادہ اور آسان الفاظ میں دیا گیا ہے۔ درحقیقت ، کائناتی نظام پر عمل پیرا قوتوں کی خاصی پیچیدہ وضاحتیں (معیارحرکت، برقی مقناطیسی قوتیں اور جمودی قوانین کے ساتھ) پیش کی جاچکی ہیں لیکن بنیادی طور پر بہرحال ان ہی قوتوں کا توازن ہے جو کہ بلاخر قائم ہے۔ 
==تفصیلی مضمون==
علم الکائنات میں، تاریک مادہ ایک قیاسی و گمانی مادہ ہے جسکی ساخت و ھيئت نامعلوم ہے۔ یہ مادہ اتنی [[برقناطیسی
ت|برقناطیسی]] شعاعیں خارج نہیں کرتا کہ اسکو تلاش کیا جاسکے یا اسکے وجود کی شناخت کی جاسکے ، مگر اسکی موجودگی کا احساس اس کشش ثقلی قوت سے کیا جاسکتا ہے جو یہ دوسرے قابل مشاہدہ مادی اجسام ، مثلا [[کہکشاں|کہکشانوں]] اور [[ستارہ|ستاروں]] پر لگاتا ہے۔ تاریک مادہ ، ہیت کے متعدد [[شذوذ (ضد ابہام)|شذوذی (anomalous)]] یا خلاف قاعدہ مشاہدات کے سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے مثال کے طور پر [[مسئلہ گردش کہکشاں|کہکشانوں کی گردشی رفتار کے شذوذات]] (شذوذات جمع ہے شذوذ کی جسکے معنی غیرمعمولی یا خلاف قاعدہ کے ہیں، اسکے [[طب]] اور [[فلکیات|علم الہیت]] میں ذرا مختلف استعمال کیلیۓ [[شذوذ (ضد ابہام)]] صفحہ مخصوص ہے)۔  کہکشانوں میں موجود [[مادہ|مادے]] کی مقدار کے بارے میں کشش ثقل مدد سے لگاۓ گۓ تخمینے اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ [[کائنات]] میں اس سے کہیں زیادہ مقدار میں مادہ موجود ہے کہ جتنا نظر آتا ہے۔ تاریک مادے کے زریعے [[انفجار  عظیم|نظریہ انفجار عظیم]] میں محسوس و مشاہدہ کی جانیوالی کئی [[انفجار  عظیم#مسائل اور مباحثی پہلو|نااستواریوں یا ناہم آہنگیوں]] کو سمجھنے میں بھی معاونت ملتی ہے، اسکے علاوہ یہ کہ تاریک مادہ، [[تشکیل ساخت]] کیلیۓ بھی ضروری ہے۔ 
==ہے، کہ نہیں ہے؟==
ایک ایسے مادے کا وجود کے جو تمام کائنات میں موجود ہے پر نطر نہیں آتا اور اسکو دیکھنے کی تمام کوششیں بھی اب تک بے سود رہی ہوں ، اگر اکثر سائنسدانوں کیلیۓ تحقیق کے نۓ دروازے کھولتا ہے تو وہیں کچھ کیلیۓ اسے ہضم کرنا تو دور کی بات کھانا اور تصور کرنا بھی ممکن نہیں کہ انکے لیۓ یہ پلیٹ میں سجایا گیا ایک ایسا حلوہ ہے کہ جس میں [[بادام]] اور [[کشمش]] تو معلق ہوں مگر [[سوجی]] غائب [http://www.sciamdigital.com/index.cfm?fa=Products.ViewIssuePreview&ARTICLEID_CHAR=724C1E4B-FFD5-46F4-963E-7610EC8B7EC]۔  موجودہ تحقیقات کی رو سے کائنات میں [[ثقیلہ|ثقیلوں (baryons)]] اور [[اشعاع|شعاعوں (radiation)]] کی تخمینہ شدہ [[کثافت]] ، ایک [[آبگرساز|آبگر (hydrogen)]] فی مکعب میٹر فضاء ہے اور کہا جاتا ہے کہ تمام کائنات میں صرف چارفیصد [[جوہر]] یعنی اصل قابل مشاہدہ مادہ ہے جبکہ باقی 23 فیصد تاریک مادہ جو نظر نہیں آتا اور 73 فیصد [[تاریک توانائی]] ہے [http://map.gsfc.nasa.gov/m_mm/mr_limits.html]۔ یہ تاریک مادہ کس طرح کی ساخت رکھتا ہے؟ کا معاملہ ابھی بحث طلب ہی ہے گو کہ اس کے تصور اور اس سے ماخوذ ریاضی کی مساواتوں نے خاصے مسائل کے سلجھانے میں مدد کی ہے جن سے اس کے وجود اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ اسکے بارے میں اب تک کی معلومات اشارہ کرتی ہیں کہ یہ ایک ایسا کائن(contracted; show full)ی منحنی]] کی اتنی درست پیمائش کرسکتا تھا کہ جو اس سے قبل نہ کی جاسکی تھی) کی مدد سے حاصل شدہ اپنے مشاہدات پیش کرنے شروع کیۓ۔ 1975 میں اس نے امریکی انجمن ہیت (American Astronomical Society)  کی تقریب علمی میں یہ متحیر کن انکشاف کیا کہ، ایک [[حلزونی کہکشاں]] کے بیشتر [[ستارہ|ستاروں]] کی مداری رفتار یکساں ہوتی ہے، اور اس سے اس بات کی جانب اشارہ ملتا ہے کہ ان تمام ستاروں (کناروں سے لیکر [[کہکشانی تودہ]] (galactic bulge) تک) کی کمیتی کثافتیں بھی یکساں ہیں۔ روبن کی اس دریافت سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ، یا تو [[
کشش ثقلثقالت|نیوٹن کی کشش ثقل]] کائناتی طور پر لاگو نہیں ہوتیں  یا پھر کہکشاؤں کا 50 فیصد سے زیادہ مادہ تاریک [[کہکشانی ھالہ]] میں موجود ہوتا ہے۔ ابتداء میں روبن کو اعتراضات اور شکوک کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن رفتہ رفتہ دیگر ھیت داں بھی اس تحقیق میں شامل ہونے لگے اور یوں آج Zwicky کی [[خوشہ کہکشاں]] پر اور Rubin کی [[حلزونی کہکشاں]] پر تحقیق کے بعد کئی دہائیوں سے کائنات کے مختلف مقامات پر تاریک مادے کی موجودگی کے شواہد اتنی مقدار میں جمع ہوچکے ہیں کہ اب ھیت دانوں کی اکثریت اس قسم کے کسی مادے کے وجود کو تسلیم کرنے لگی ہ(contracted; show full)[[sv:Mörk materia]]
[[ta:கரும்பொருள் (வானியல்)]]
[[te:కృష్ణ పదార్థం]]
[[th:สสารมืด]]
[[tr:Karanlık madde]]
[[uk:Темна матерія]]
[[vi:Vật chất tối]]
[[zh:暗物质]]