Difference between revisions 580419 and 1054536 on urwiki{{Wikify}} [[خواجہ میر درد]] صوفی شاعر بقول مولانا محمد حسین آزاد<br> ” تصوف میں جیسا انہوں نے لکھا اردو میں آج تک کسی سے نہ ہوا۔“<br> بقول امداد اثر<br> (contracted; show full) اس ہستی خراب سے کیا کام تھا ہمیں<br> اے نشہ ظہور یہ تیری ترنگ ہے انسان اور کائنات میں خدا جلوہ دکھا رہا ہے گویا ساری کائنات آئینہ ہے۔ جس میں خدا کی ذات کا عکس پڑ رہا ہے۔ صوفیا کے نزدیک خدا تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنے دل کے آئینے کو صقیل کرنا چاہیے پھر اس میں خدا کا وجود نظرآئے گا۔گویا ہم یوں کہہ سکتے ھہیں کہ درد کی شاعری بمصداق درد کے نام درد کے ھہے وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آسکے<br> آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے آپ سے ہم گزر گئے کب سے<br> کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا (contracted; show full) مجنوں گورکھ پوری فرماتے ہیں کہ<br> ” کہیں دبی ہوئی اور کہیں اعلانیہ ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانے کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں ملتی ہیں یعنی اپنے زمانے کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔“<br> ڈاکٹر ابوللیث صدیقی فرماتے ہیں، <br>”اس دور کی سےاسی اور ملکی حالات کو استعاروں اور کنایوں میں ایسی خوبصورتی سے ادا کیا ہے کہ غزل کا داخلی رنگ بھی قائم رہتا ہے اور یہ ایک ترجمانی بھی ہو گئی ہے۔“ [[Category: اردو غزل]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=1054536.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|