Revision 26853 of "طبیعت" on urwiktionary

طَبِیعَت {طَبی + عَت} ([[عربی]])

ط [[ب]] ع، طَبْع، طَبِیعَت

عربی [[زبان]] میں [[ثلاثی مجرد]] کے [[باب]] سے [[مشتق]] [[اسم]] ہے۔ اردو میں بھی اسم [[مستعمل]] ہے۔ 1649ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم [[کیفیت]] (مؤنث - واحد)

جمع:  طَبِیعَتیں {طَبی + عَتیں (ی مجہول)} 

جمع غیر ندائی:  طَبِیعَتوں {طَبی + عَتوں (و مجہول)} 

==معانی==

1. فطرت، جبلت، سرشت، خمیر، خلقی خاصیت۔

"جو [[کچھ بھی]] [[دیکھنے]] میں آتا ہے جس کا نام ہم [[مخلوقات]] یا [[طبیعت]] رکھتے ہیں وہ سرے ہی سے موجود نہ تھا اور نہ اب موجود ہے۔"، <ref>( 1975ء، [[خدا]] و [[آئین]] خدا، 11 )</ref>

2. عادت، خصلت، سیرت۔

"مولوی [[سعید]] طبیعت کے [[مولوی]] ہی تھے۔"، <ref>( 1982ء، آتشِ چنار، 628 )</ref>

3. ذہن، سمجھ، تخیل، فکر۔

"اگرچہ یہ [[شعر]] [[عاشقانہ]] ہے مگر [[سجدہ]] کے [[لفظ]] نے [[عارفانہ]] بھی اس کو بنا دیا اور طبیعت کو [[دوسری طرف]] [[دوڑا]] دیا۔"، <ref>( 1927ء، [[شاد]] [[عظیم]] آبادی، فکر بلیغ، 83 )</ref>

4. { [[مجازا]] } مزاج، دل و دماغ، [[نفس]] و [[روح]] کی [[مجموعی]] کیفیت (جو [[فطرت]] نہ ہو)۔

"انسان کی طبیعت اور [[ارادہ]] کو اس کے عمل سے ملا کر دیکھا جاتا ہے۔"، <ref>( 1984ء، [[مقاصد]] و مسائل پاکستان، 136 )</ref>

5. { مجازا }جسمانی [[نظام]] (صحت و [[مرض]] کے [[اعتبار]] سے)قوت، جسمانی۔

"نہانے دھونے کے بعد طبیعت [[بحال]] ہوئی۔"، <ref>( 1984ء، [[زمین]] اور [[فلک]] اور، 6 )</ref>

6. { مجازا } دل، جی، نیت۔

؎ شبوں کو [[نیند]] آتی ہی نہیں ہے

طبیعت [[چین]] پاتی ہی نہیں ہے، <ref>( 1978ء، [[ابن]] انشا، دل وحشی، 44 )</ref>

==انگریزی ترجمہ==

Nature, disposition, temperament; a humour (one of the four); complexion; genius; mind; temper; essence 

==مترادفات== 

اَخْلاقِیَت، طَبْع، عادَت، خُو، مِزاج، خاصَہ، رُوپ، 

==مرکبات==

طَبِیعَت کا رَنْگ،  طَبِیعَتِ ثانِیَہ،  طَبِیعَتِ بَسْتَہ،  طَبِیعَت دار،  طَبِیعَت داری،  طَبِیعَت کا بادْشاہ،  طَبِیعَت کا ہیجان،  طَبِیعَت کی اُفْتاد،  طَبِیعَت کی اُمَنْگ،  طَبِیعَت کی آزادی،  طَبِیعَت کی جَولانی،  طَبِیعَت کی رَوانی،  طَبِیعَت کی [[شوخی]] 

==روزمرہ جات==

 

 طبیعت اُچاٹ ہونا 

دل بے زار ہونا۔

"لوگ جو [[بھائی جان]] کے پاس [[آ کر]] بیٹھتے ہیں ایسی اُدم مچاتے ہیں کہ طبیعت اُچاٹ ہوئی چلی جاتی ہے"، <ref>( 1877ء، توبتہ النصوح، 121۔ )</ref> 

 طَبِیعَت [[باغ باغ]] ہونا 

خوشی سے بانچھیں کھِل جانا، بہت [[خوش]] ہونا۔

"محلے کے [[اسکول]] میں اسی روز پہلا [[یوم]] [[اقبال]] منایا جا رہا تھا وہاں [[پہنچا]] تو طبیعت [[باغ]] باغ ہو گئی"، <ref>( 1983ء، دیگر احوال یہ کہ، 23۔ )</ref> 

 طبیعت [[بگڑنا]] 

 [[بیمار]] ہو جانا، [[مرض]] کا [[حملہ]] ہونا۔

"حضرت [[ثوبان]] سے [[صحابۂ کرام]] نے [[پوچھا]] کیا بات ہے? طبیعت کیوں بگڑ رہی ہے، کوئی [[علاج]] ہو رہا ہے کہ نہیں"، <ref>( 1980ء، تجلی، 15۔ )</ref>

 [[برہم]] ہونا، [[ناراض]] ہونا، [[غصہ]] آنا۔

"اوسان [[درست]] تھے، مگر طبیعت بہت ہی بگڑی ہوتی تھی، [[صبح]] تک [[روتا]] رہا"، <ref>( 1895ء، [[حیات]] صالحہ، 73۔ )</ref>

 متلی ہونا، جی متلانا۔ (نوراللغات)

==حوالہ جات==

<references/>

==مزید دیکھیں==

* [[متجسس طبیعت]]
* [[رنگ طبیعت]]
* [[رنگین طبیعت]]
* [[راست طبیعت]]
* [[ٹھنڈی طبیعت سے]]
* [[طبیعت کا رنگ]]
* [[حسن طبیعت]]
* [[شوخ طبیعت]]
* [[شیر طبیعت]]
* [[طبیعت ثانیہ]]
* [[طبیعت بستہ]]

[[Category:ط۔ب]]

----

{{فارسی}}

=== اسم ===

'''طبیعت''' 

# [[طبیعت]]

[[زمرہ:اسماۓ فارسی]]

[[ar:طبیعت]]
[[en:طبیعت]]
[[fa:طبیعت]]
[[fr:طبیعت]]
[[ko:طبیعت]]
[[lo:طبیعت]]
[[mg:طبیعت]]
[[pt:طبیعت]]
[[ru:طبیعت]]
[[tr:طبیعت]]