Difference between revisions 1059974 and 1060000 on urwiki18 [[ذوالحجہ]] کو حجۃ الوداع سے واپسی پر [[محمد]] صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک چشمہ خم کے مقام پر [[صحابہ]] سے خطاب فرمایا۔ اس موقعہ پر قران کریم سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی: {{اقتباس|يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ}} اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ نے تمام ساتھ چلنے والوں کو روکا، جو آگے تھے ان کو واپس بلایا اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے آگے آنے کا انتظار کیا۔اس خطبہ کو خطبہ غدیر کہتے ہیں۔ == خطبہ== {{حوالہ دیں|}} {{حذف|اس مقام پر خطبہ [[حجۃ الوداع]] کو بلا حوالہ و دلیل،خطبہ خدیر میں شامل کیا گیا ہے}} سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اسے بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پر آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔ لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔ ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔ خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔ جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔ (ربیعہ بن حارث آپ کا چچیرا بھائی تھا جس کے بیٹے عامر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا) اگر کسی کے پاس امانت ہو تو وہ اسے اس کے مالک کو ادا کر دے اور اگر سود ہو تو وہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ہاں تمہارا سرمایہ مل جائے گا۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سود ختم کر دیا گیا اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔ لوگو! تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگر چھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سے محفوظ رکھو۔ اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد اسی دن سے بارہ ہے جب اللہ نے زمین و آسمان پیدا کئے تھے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین (ذیقعد ذوالحجہ اور محرم) لگا تار ہیں اور رجب تنہا ہے۔ لوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔ خدا کے نام کی ذمہ داری سے تم نے ان کو بیوی بنایا اور خدا کے کلام سے تم نے ان کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ تمہارا حق عورتوں پر اتنا ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں لیکن اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو نمودار نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح کھلاؤ ، اچھی طرح پہناؤ۔ تمہارے غلام تمہارے ہیں جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔ خدا نے وراثت میں ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اس کا وارث جس کے بستر پر پیدا ہو، زناکار کے لیے پتھر اوران کے حساب خدا کے ذمہ ہے۔ عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ عاریت واپس کی جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔ مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا بیٹا ذمہ دار نہیں اور بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار نہیں۔ اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔ لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ خانہ خدا کا حج بجا لاؤ۔⏎ ساری تعریف اس اللہ کےلئے ھے جو اپنی یکتائی میں بلند اور اپنی انفرادی شان کے باوجود قریب ھے وہ سلطنت کے اعتبار سے جلیل اور ارکان کے اعتبار سے عظیم ھے وہ اپنی منزل پر رہ کر بھی اپنے علم سے ھر شے کا احاطہ کےے هوئے ھے اور اپنی قدرت اور اپنے برھان کی بناء پر تمام مخلوقات کو قبضہ میں رکھے هوئے ھے ۔ وہ ھمیشہ سے قابل حمد تھااور ھمیشہ قابل حمد رھے گا ،وہ ھمیشہ سے بزرگ ھے وہ ابتدا کرنے والا دوسرے :خداوند عالم کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے هو ئے ھے درحالیکہ خداوند عالم اپنے مکان میں ھے ۔البتہ خداوند عالم کےلئے مکان کا تصور نھیں کیا جا سکتا ،پس اس سے مراد یہ ھے کہ خداوند عالم تمام مو جودات پر اس طرح احاطہ کئے هوئے ھے کہ اس کے علم کےلئے رفت و آمد اور کسب کی ضرورت نھیں ھے ۔ ھے وہ پلٹانے والاھے اور ھر کام کی باز گشت اسی کی طرف ھے بلندیوں کا پیدا کرنے والا ،فرش زمین کابچھانے والا،آسمان و زمین پر اختیار رکھنے والا ، پاک ومنزہ ،پاکیزہ ،ملائکہ اور روح کا پروردگار، تمام مخلوقات پر فضل وکرم کرنے والا اور تمام موجودات پر مھربانی کرنے والا ھے وہ ھر آنکھ کو دیکھتا ھے اگر چہ کوئی آنکھ اسے نھیں دیکھتی ۔ وہ صاحب حلم وکرم اوربردبار ھے ،اسکی رحمت ھر شے کااحاطہ کئے هوئے ھے اور اسکی نعمت کا ھر شے پراحسان ھے انتقام میں جلدی نھیں کرتا اور مستحقین عذاب کو عذاب دینے میں عجلت سے کام نھیں لیتا ۔ اسرارکو جانتا ھے اور ضمیروں سے باخبر ھے ،پوشیدہ چیزیں اس پر مخفی نھیں رہتیں ،اور مخفی امور اس پر مشتبہ نھیں هوتے ،وہ ھر شے پر محیط اور ھر چیز پر غالب ھے ،اسکی قوت ھر شے میں اسکی قدرت ھر چیز پر ھے ،وہ بے مثل ھے اس نے شے کو اس وقت وجود بخشا جب کو ئی چیز نھیں تھی اوروہ زندہ ھے، ھمیشہ رہنے والا،انصاف کرنے والا ھے ،اسکے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے ،وہ عزیز و حکیم ھے ۔ نگاهوں کی رسائی سے بالاتر ھے اور ھر نگاہ کو اپنی نظر میں رکھتا ھے کہ وہ لطیف بھی ھے اور خبیر بھی کوئی شخص اسکے وصف کو پا نھیں سکتا اور کوئی اسکے ظاھر وباطن کی کیفیت کا ادراک نھیں کرسکتا مگر اتنا ھی جتنا اس نے خود بتادیا ھے۔ میں گواھی دیتا هوں کہ وہ ایسا خدا ھے جس کی پاکی و پاکیزگی کا زمانہ پر محیط اور جسکا نور ابدی ھے اسکا حکم کسی مشیر کے مشورے کے بغیر نافذھے ،اور نہ ھی اس کی تقدیرمیں کوئی اسکا شریک ھے،اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی فرق ھے ۔ جو کچھ بنایا وہ بغیر کسی نمونہ کے بنایا اور جسے بھی خلق کیا بغیر کسی کی اعانت یا فکر ونظر کی زحمت کے بنایا ۔جسے بنایا وہ بن گیا اور جسے خلق کیا وہ خلق هوگیا ۔وہ خدا ھے لا شریک ھے جس کی صنعت محکم اور جس کا سلوک بہترین ھے ۔وہ ایسا عادل ھے جو ظلم نھیں کرتااور ایسا کرم کرنے والا ھے کہ تمام کام اسی کی طرف پلٹتے ھیں ۔ میں گو اھی دیتا هوں کہ وہ ایسا بزرگ و برتر ھے کہ ھر شے اسکی قدرت کے سامنے متواضع ، تمام چیزیں اس کی عزت کے سا منے ذلیل ،تمام چیزیں اس کی قدرت کے سامنے سر تسلیم خم کئے هو ئے ھیں اور ھر چیز اسکی ھیبت کے سامنے خاضع ھے۔ وہ تمام بادشاهوں کا بادشاہ،تمام آسمانوں کا خالق ،شمس و قمر پر اختیاررکھنے والا ،یہ تمام معین وقت پرحرکت کر رھے ھیں،دن کو رات اور رات کو دن پر پلٹانے والا ھے کہ دن بڑی تیزی کے ساتھ اس کا پیچھا کرتا ھے،ھرمعاندظالم کی کمر توڑنے والا اورھرسرکش شیطان کو ھلاک کرنے والا ھے ۔ نہ اس کی کوئی ضد ھے نہ مثل،وہ یکتا ھے بے نیاز ھے ،نہ اسکا کوئی باپ ھے نہ بیٹا ،نہ ھمسر۔ وہ خدائے واحد اور رب مجید ھے ،جو چاہتا ھے کرگزرتا ھے جوارادہ کرتا ھے پور ا کردیتا ھے وہ جانتا ھے پس احصا کر لیتاھے ،موت وحیات کا مالک،فقر وغنا کا صاحب اختیار ،ہنسانے والا، رلانے والا،قریب کرنے والا ،دور ہٹادینے والا عطا کرنے والا،روک لینے والا ھے، ملک اسی کے لئے ھے اور حمد اسی کے لئے زیبا ھے اورخیر اسکے قبضہ میں ھے ۔وہ ھر شے پر قادر ھے ۔ رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کردیتا ھے ۔ اس عزیزو غفار کے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے ،وہ دعاؤں کا قبول کرنے والا، بکثرت عطا کرنے والا،سانسوں کا شمار کرنے والا اور انسان و جنات کا پروردگار ھے ،اسکے لئے کوئی شے مشتبہ نھیں ھے۔وہ فریادیوں کی فریاد سے پریشان نھیں هوتا ھے اور اسکو گڑگڑانے والوں کا اصرار خستہ حال نھیں کرتا ،نیک کرداروں کا بچانے والا ، طالبان فلاح کو توفیق دینے والاموٴ منین کا مولا اور عالمین کا پالنے والاھے ۔اسکا ھر مخلوق پر یہ حق ھے کہ وہ ھر حال میں اسکی حمد وثنا کرے ۔ ھم اس کی بے نھایت حمد کرتے ھیںاورھمیشہ خوشی ،غمی،سختی اور آسائش میں اس کا شکریہ ادا کرتے ھیں ،میں اس پر اور اسکے ملائکہ ،اس کے رسولوں اور اسکی کتابوں پر ایمان رکھتا هوں،اسکے حکم کو سنتا هوں اور اطاعت کرتا هوں ،اسکی مرضی کی طرف سبقت کرتا هوں اور اسکے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم هوں چونکہ اسکی اطاعت میں رغبت ھے اور اس کے عتاب کے خوف کی بناء پر کہ نہ کوئی اسکی تدبیر سے بچ سکتا ھے اور نہ کسی کو اسکے ظلم کا خطرہ ھے ۔ ⏎ میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑےجاتا ہوں۔جب تک تم ان دونوں سے تمسک کرو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کے میرے پاس حوض کوثر پر آ جائیں۔ ان میں سے ایک ﷲ کی کتاب ہے دوسرا میرے اہلبیت۔ تو دیکھتا ہوں تم میرے بعد ان دونوں سے کیا سلوک کرتے ہو۔ کیا میں تمہھارے نفوس پر تم سے زیادہ قدرت و اختیار نہیں رکھتا؟ صحابہ کرام نے فرمایا بے شک۔ رسول ﷲ نے اس پر حضرت علی کا ہاتھ بلند کیا اور فرمایا: تو پس آگاہ ہو جاؤ جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی بھی مولا ہے۔ اے ﷲ دوست رکھ اس کو جو اس کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو اس سے دشمنی رکھے۔ اس اعلان کے بعد قران کریم کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا یہ سننے کے بعد حضرت عمر آگے بڑھے اور فرمایا مبارک ہو مبارک ہو علی، تم نے صبح اس حالت میں کی کہ تمام مومن و مومنات کے مولا ہو۔ اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! قیامت کے دن خدا میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘ اے خدا تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔ [[زمرہ:اسلام]] [[زمرہ:خطبات محمد]] [[زمرہ:علی]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=1060000.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|