Difference between revisions 1366956 and 1366961 on urwiki=حافظ عبدالرحیم صاحب شہیدؒ= افغانستان پر امریکی جارحیت اسلامی دنیا پر مغرب کی تیسری جارحیت ہے۔ یہ جارحیت گذشتہ دور کی جارحیت کے مقابلے میں ایک بڑی جارحیت تھی۔ اس سے قبل دنیا کے کسی ملک نے دوسرے ملک کے خلاف جنگجوّوں کی اتنی بڑی اتحاد قائم نہیں کی۔ اس سے قبل جنگجوّوں کی سب سے بڑی اتحاد پہلی جنگ عظیم کے دوران قائم ہوئی تھی جس میں کُل تیس ممالک شامل تھے۔ لیکن افغانستان پر جارحیت کرنے والے ممالک کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔ جبکہ کئی ممالک کی انٹیلی جنس سپورٹ،مالی اور سیاسی تعاون اس کے علاوہ ہیں۔<ref>http://(contracted; show full) ===مساجد میں جہاد کی دعوت=== ماہ رمضان میں مساجد میں تراویح کے کے بعد لوگوں کو دعوت جہاد دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ کفار نے ہمارے ملک پر جارحیت کی ہے اس کے خلاف جہاد ہم سب پر فرض ہے۔ انہیں بتاتے کہ کفار کا ساتھ دینے کیلئے ان کی صفوں میں شامل نہیں ہونا۔ اس وقت حافظ صاحب کے ساتھیوں کی تعداد 20 تک پہنچ چکی تھی جو رات کو گھر گھر جاتے ،لوگوں جہاد کی دعوت اور کفار کا ساتھ دینے سے منع کرتے اور رات کے آخری پہر واپس اپنے جہادی مرکز ہڈہ پہاڑ پہنچ جاتے۔ ⏎ ⏎ ⏎ ==دعوت جہاد سے عملی جہاد کا سفر== ===قومی جرگہ سے دعوت جہاد=== ۴ ذوالقعدہ ۱۴۲۳ھ کو بولدک کے علاقے سیبت میں ایک بڑا قومی جرگہ جاری تھا۔ جب حافظ صاحب کو پتہ چلا تو انہوں جہادی دعوت کیلئے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنے 25 مسلح ساتھیوں سمیت وہاں پہنچ گئے اور اس جرگے سے جہاد کے موضوع پر ایک پر جوش تقریر کی اور لوگوں کوامریکا کے خلاف جہاد میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ ===امریکیوں کیخلاف پہلی کاروائی=== حکومتی اہلکاروں کو جب پتہ چلا تو انہوں نے بولدک سے اس علاقے میں ایک بڑا فوجی قافلہ بھیجا فوجی قافلے کے آتے ہی حافظ صاحب کے ساتھیوں نے ان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سات اہلکار ہلاک ہوئے۔ ایک مجاہد زخمی جبکہ تین مجاہدین کو دشمن نے زندہ گرفتار کرلیا۔ یہ حافظ صاحب اور ان کے ساتھیوں کا امریکی جارحیت اور ان کی کٹھ پتلیوں کے خلاف پہلی مسلح کارروائی تھی۔ جس میں بعد میں مزید شدت آتی گئی اور پورے قندھار میں جہادی کارروائیوں کے آغاز کا سبب بنا۔ ===ابتدائی کاروائیاں=== اس واقعے کے بیس روز بعد حافظ صاحب کے دو ساتھی ملا عبدالباری اور حافظ عبدالغنی جو ان کے چچا زاد بھائی بھی تھے کا بولدک کے علاقے پایزو کاریز میں امریکی فوجیوں سے اچانک سامنا ہوا اور بعد میں دونوں نے امریکی فوجیوں پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں کئی امریکی ہلاک ہوئے جوابی کاروائی میں ملا عبدالباری شہید جبکہ حافظ عبدالغنی امریکیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ اسی گرفتار ساتھی سے تفتیش کے دوران امریکی فوجیوں نے حافظ صاحب کے سیٹیلائٹ فون کا نمبر حاصل کرلیا اور اس سیٹیلائٹ کی مدد سے امریکا نے حافظ صاحب کے خفیہ جہادی مرکز کا سراغ لگا لیااور اسی دن امریکی جارحیت پسندوں اور ان کی کٹھ پتلیوں کا ایک بڑا قافلہ ہڈہ پہاڑ کے حدود میں پہنچ گیا جہاں امریکی جارحیت پسندوں سے ایک خونریز جھڑپ کا آغاز ہوا۔ امریکا کے خلاف شاہی کوٹ کے تاریخی معرکے کے بعد ہڈہ پہاڑ دوسری شدید اور طویل جنگ تھی جو امریکیوں کے خلاف لڑی گئی۔ ===امریکیوں و اتحادیوں کا خاصہ نقصان=== اس جنگ میں امریکی جارحیت پسندوں نے جنگی طیاروں جیٹ اور ہیلی کاپٹر وں کے بھرپور استعمال کے باوجود بھاری نقصانات اٹھائے۔ ایک طیارہ مجاہدین نے بھی مار گرایا۔ مالی نقصانات کے ساتھ امریکیوں کو شدید جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا جس کی صحیح تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ جنگ کے دوران حافظ صاحب کی قیادت میں مجاہدین رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے سے نکل گئے۔ لیکن امریکی کئی دنوں تک اس پہاڑی علاقے میں آپریشن کرتے رہے جہاں اب کوئی مجاہد تھا ہی نہیں۔ اس آپریشن کے دوران امریکی فوجیوں نے ایک مرتبہ اپنے فوجیوں پر بھی بمباری کی ۔ ===افغان میڈیا کا پروپیگنڈہ=== اس جنگ کے دوران صرف ایک مجاہد زخمی ہوااس کے علاوہ کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن اس وقت کے بولدک کے گورنر اور امریکی کٹھ پتلی فضل الدین نے میڈیا پر جھوٹا بیان دیا کہ انہوں نے ہڈہ پہاڑ کی لڑائی میں 25 مجاہدین کو شہید کیا ہے حالانکہ وہاں موجود تمام مجاہدین کی تعداد صرف 18 تھی۔ ===امریکی حواس باختہ=== ہڈہ پہاڑ کے معرکے کے بعد حافظ عبدالرحیم صاحب نے ایک مرتبہ پھر اپنے ساتھیوں کو اکھٹا کیا اور[[قندھار]] کے ضلع بولدک کے نواحی علاقوں میں جہادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ 29 محرم 1424ھ کو حافظ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے بولدک کے علاقے ملاولی نیکہ میں ملکی کٹھ پتلیوں پر حملہ کیا جس میں کئی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد مجاہدین تور غر نامی علاقے کی طرف گئے۔ وہاں امریکی اور ملکی کاسہ لیسوں کے تقریباً 70 ٹینکوں او ر فوجی گاڑیوں کا قافلہ ان کے تعاقب میں تور غر روانہ ہوا۔ ===تورغر کا خونریز مقابلہ=== حافظ صاحب کی قیادت میں یہاں بھی دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیاگیا۔ مقابلہ صبح شروع ہوکر شام کو اختتام پذیر ہوا۔ یہاں بھی دشمن کو شدیدجانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑے۔ ===حافظ صاحب حوصلہ توکل علی اللہ=== جنگ کے اختتامی لمحات میں حافظ صاحب ایک ہلاک شدہ اہلکار سے اس کا اسلحہ اٹھا رہے تھے کہ دشمن کی جانب سے فائر کی گئی گولی ان کے سینے میں پیوست ہوگئی اور وہ شدید زخمی ہوئے۔ ===ملا شیخ محمد صاحب کی زبانی=== ملا شیخ محمد صاحب یہ واقعہ حافظ صاحب کی زبانی اس طرح بیان کرتے ہیں: جب میں زخمی ہوا تو زمین پر گر پڑا۔ کھڑےہونے کی کوشش کی لیکن جسم نے ساتھ نہیں دیا۔ اس وقت دشمن کی طرف سے گرفتار ہونے کا خدشہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے محفوظ فرما، اگر اسی جگہ شہید یا گرفتار ہوجاؤں تو مجاہدین کی یہ چھوٹی جماعت مایوس ہوجائے گی اور پھر انہیں متحد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا یا اللہ جہاد کی خاطر نجات نصیب فرما۔ دعا کے بعد میرے جسم میں ایک نئی قوّت پیدا ہوئی یہاں تک کہ اس جگہ سے اٹھا اور مجاہدین تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ یہاں درد کی شدت تیز ہوگئی ۔ ایک مجاہد سے میں نے کہا کہ قرآنی آیات پڑھ کر مجھ پر دم کریں مجاہد نے ایسا ہی کیا تو درد رفع ہوا۔ زخم چونکہ گہرا تھا اورخون زیادہ بہہ رہا تھا اس لئے مجاہدین نے مجھے میدان جنگ سے نکالنے کا ارادہ کیا پھر مجاہدین نے اسی پہاڑی علاقے میں درختوں کی شاخیں توڑکر میرے لئے ایک سٹریچر قسم کی چارپائی بنائی اور جنگ کے گردو غبار میں مجھے جنگی علاقے سے نکال لیا۔ ===شہادت کی تمنا=== ==جہاد کی توسیع، آخری جدوجہد اور شہادت== حافظ صاحب زخمی ہونے سے جب رو بہ صحت ہونے لگے تو امارت اسلامی کے دوسرے رہنماؤں سے ملاقات اور مشوروں کے بعد ایک منصوبہ بنایا کہ اپنے علاقے سے دوسرے علاقوں تک بھی جہادی کارروائیوں کا جال پھیلا جائے۔ اس سلسلے میں وہ ضلع معروف میں اپنی تشکیل کرنا چاہتے تھےلیکن جب [[1424ھ]] جمادی الاول کے مہینے میں وہ صوبہ [[زابل]] کے ضلع شملزو اور اتغر کے راستے معروف جارہے تھے تو راستے میں دشمن سے سامنا ہوا ور بڑی مشکل سے وہ دشمن سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔<br /> اسی سال شعبان کے مہینے میں حافظ صاحب نے صوبہ زابل کے ضلع دائی چوپان جانے کا ارادہ کیا لیکن آدھے سفر کے بعد ان کا ارادہ تبدیل ہوا اور کندھار کے ضلع معروف پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔ ====شہادت==== ۱۶ شعبان ۱۴۲۴ھ کو انہوں ضلع معروف کے مرکزی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔ مرکز کے حفاظتی چوکیوں پر قبضہ کیا لیکن ہیڈ کوارٹرکے بالکل قریب دشمن کی طرف سے فائر کی گئی گولی ان کی شہادت کا پیغام لے کر آئی۔ اس مرتبہ بھی گولی ان کے سینے میں لگی اور کچھ لمحے بعد وہ شہادت کے بلند مقام پر فائز ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ===مجہدین کے جسد خاکی=== حافظ صاحب اور تین شہداء کے جسد خاکی جنگ کے میدان میں رہ گئے۔ واقعے کے ایک دن کے بعد محلے کے بزرگوں نے حافظ صاحب کو اسی علاقے میں ہی سپرد خاک کیا۔ لیکن جب امریکی وحشیوں اور ان کے زرخرید غلاموں کو پتہ چلا تو انہوں نے دو دن کے بعد حافظ صاحب کا جسد خاکی نکال کر قندھار شہر لایا اور پھر ایک دن کے بعد حافظ صاحب کی جسد کے ان کے ورثاء کے حوالے کی گئی۔ جنہوں نے بعد میں انہیں ضلع بولدک علاقے پاِیزو میں ماشینگزو قبرستان میں سپرد خاک کیا ۔ ====اللہ کی راہ میں خر چ کرنے کا جذبہ==== جہاد کی راہ میں یہاں تک قربانی کیلئے تیار ہوتے کہ اگر کبھی جہادی ضروریات کیلئے سامان کی خریداری کامعاملہ ہوتا تو گھر کا سامان بیچ کر جہاد کی ضروریات رفع کرتے۔ آپ کے ایک مجاہد ساتھی کے مطابق کہ امریکی جارحیت کے پہلے سالوں میں حافظ صاحب نے کہا کہ زمین بیچنے کیلئے کوئی گاہک تلاش کرو تاکہ ان پیسوں سے ساتھیوں کیلئے جہادی ضرورت کا سامان خرید سکوں۔ All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=1366961.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|