Difference between revisions 1366961 and 1366974 on urwiki

=حافظ عبدالرحیم صاحب شہیدؒ=
افغانستان پر امریکی جارحیت اسلامی دنیا پر   مغرب کی تیسری جارحیت ہے۔ یہ جارحیت گذشتہ دور کی جارحیت کے مقابلے میں ایک بڑی جارحیت تھی۔ اس سے قبل دنیا کے کسی ملک نے دوسرے ملک کے خلاف جنگجوّوں کی اتنی بڑی اتحاد قائم نہیں کی۔ اس سے قبل جنگجوّوں کی سب سے بڑی اتحاد [[پہلی جنگ عظیم]] کے دوران قائم ہوئی تھی جس میں کُل تیس ممالک شامل تھے۔ لیکن افغانستان پر جارحیت کرنے والے ممالک کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔ جبکہ کئی ممالک کی انٹیلی جنس سپورٹ،مالی اور سیاسی تعاون اس کے علاوہ ہیں۔<ref>http://www.shahamat-urdu.com/?p=99</ref>
=تعارف=
===پیدائش===
حافظ عبدالرحیم نے 1951 کو صوبہ [[قندھار]] کے ضلع بولدک کے علاقے ماشینگزو   میں نصیرالدین آکا کے گھر میں آنکھ کھولی۔ 
===خاندان===
(contracted; show full)
قرآن کریم کی حفظ کے بعد حافظ صاحب [[قندھار]] آئے اور دینی تعلیم کے حصول کیلئے یہاں” لوویالے ” کے علاقے میں مولوی عبدالغفور صاحب کے مدرسے میں داخلہ لیا۔ ایک سال تک اس مدرسے میں حصول علم کے بعد [[پاکستان]] کارخ کیا اورمختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتے رہے ۔ [[1984ء]] میں آپ نے [[کستان]] کے شہر [[صوابی]] میں شیخ التفسیر مولانا عبدالہادی صاحب [“جو شاہ منصوربابا جی صاحب کے نام سے مشہور تھے“ ] سے قرآن کریم کی تفسیر پڑھی۔
===کمیونسٹ دورجہاد اور تکمیل تعلیم===
کمیونسٹ دور حکومت میں حافظ صاحب 
[[جلال آباد]] اور کابل کے راستے کندھار پہنچے۔ ملک کے کئی علاقوں کا سفر کیا تاکہ حالات کا جائزہ لیں۔ اس سفر کے بعد جہادی صف میں شامل ہوئے اور پہلی مرتبہ سرحدی علاقے   بادینی سے مجاہدین کے مراکز سے جہاد کا آغاز کیا۔
جہادی صف میں کچھ عرصہ گذارنے کے بعد اپنی دینی تعلیم مکمل کرنے کے سلسلے میں کراچی   تشریف لے گئے۔ وہاں کراچی شہر کے مشہور مدرسے جامعۃ الاسلامیہ بنوری ٹاوّن کراچی میں داخلہ لیااور [[1401ھ]] میں اسی مدرسے سے دورہ حدیث مکمل کرکے سند فراغت حاصل کی۔
=جبہہ فاروقیہ=
(contracted; show full)
===کمیونزم کیخلاف جہاد میں زخمی ہونا===
کمیونزم کے خلاف جہاد میں بھی حافظ صاحب کا کردار قابل تعریف رہاہے ، کمیونزم کے خلاف جہاد میں آپ کئی مرتبہ زخمی بھی ہوئے   جس کا   ذکر انہوں نے ایک انٹرویو میں بھی کیا ہے ان کا کہنا تھا:<br />
“ایک مرتبہ   میں روس کے خلاف جہاد میں 
[[سپین بولدک]] کے علاقے “ونکی ” میں   زخمی ہوا۔ دوسری مرتبہ روسی کاسہ لیسوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہینڈ گرنیڈ کے حملے میں زخمی ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نےدوبارہ صحت کی نعمت سے نوازا، اسی طرح سپین بولدک کی لڑائی جو نہایت ہی خونریز لڑائی تھی جب کمیونسٹ طیارے بارش کی طرح بم برسارہے تھے اس دوران بھی میں زخمی ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی حفاظت فرمائی۔
===مدرسے کا قیام===
مجاہدین کی کامیابی کے بعد حافظ صاحب کچھ عرصہ [[قندھار]] میں رہے لیکن جب تنظیمی فسادات سر اٹھانے لگے آپ نے [[قندھار]] شہر کو خیرباد کہا۔ اور اس شہر اور بولدک کے درمیان”وت” نامی علاقے میں جامعۃ الاسلامیہ العربیہ کے نام سے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی اور امارت اسلامی کی تاسیس تک اس مدرسے میں خدمات انجام دیتے رہے۔
=امارت اسلامی میں شمولیت=
تنظیمی اختلافات کے عروج کے دوران جب کندھار   اضلاع ژڑئ اور میوند میں ملا [[محمد عمر]] مجاہد کی قیادت میں سابق مجاہدین اور طالبان نے اصلاحی تحریک کا آغازکیا اس وقت بولدک میں بھی بہت سے علماء اور مجاہدین باہم صلاح اور مشوروں میں مصروف تھے۔ جن میں حافظ عبدالرحیم کا کردار نمایاں تھا۔ جب انہیں پتہ چلا کہ میوند اور ژڑئ میں بھی اس قسم کی تحریک کا آغاز ہوچکا ہے تو آپ ، مولوی عبدلشکور صاحب، شہید ملا محمد عوض اور شہید قاری عبدالسلام صاحب کے     ہمراہ ضلع ڈنڈ پہنچے اور ملا محمد عمر مجاہد سے ملاقات کے بعد اپنے تمام ساتھیوں سمیت طالبان کی اسلامی تحریک میں شامل ہوئے۔
===عسکری سرگرمیاں===
اس کے بعد حافظ صاحب نے اس تحریک کےفعال اور انتھک رکن کی حیثیت سے بہت سی خدمات انجام دیں۔ [[قندھار]]کی فتح کے بعد   روزگان کے مرکز [[ترین کوٹ]] کی فتح میں وہ ایک   رہنما اور قائد کے طو ر پر حصہ لے رہے تھے۔ اور جب اسلامی تحریک کا قافلہ کندھار سے زابل کی طرف روانہ ہوا غزنی اور میدان شہر فتح ہوا یہاں تک کہ مجاہدین کا قافلہ کابل تک پہنچ گیا حافظ صاحب بھی اس قافلے میں شامل تھے۔ اور پھر میدان شہر میں قیام کے بعد یہاں قائم جنگی   پٹی کے عمومی مسئول شہید ملا مشر اخوند کی جانب سے آپ کو جنگی پٹی کے ایک حصے کی مسئولیت دے دی گئی۔
[[میدان شہر]] میں خدمات کی انجام دہی کے بعد آپ کو ضلع روزگان کا آئی جی مقرر کر دیا گیا دو سال تک آپ اسی منصب پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد صوبہ [[زابل]] کے نائب گورنر مقرر کئے گئے اور افغانستان پر امریکا کی جارحیت تک اسی منصب   پرخدمات کی انجام دہی میں مصروف عمل تھے۔

==امریکا کے خلاف جہادی کاروائیوں کا آغاز==
(contracted; show full)

حافظ صاحب کے قریبی ساتھی ملا شیخ محمد آخند کہتے ہیں: کہ   کندھار کی سقوط کے بعد جب رمضان کا آخری عشرہ جاری تھا حافظ صاحب گھر تشریف لائے۔چونکہ وہ امریکا کے خلاف جہادی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ اس لئے امریکی کاسہ لیسوں نے ان کی گھر میں موجودگی کی اطلاع پاکر ان کے گھر   پر چھاپہ مارا تاکہ وہ انہیں گرفتار کرسکے لیکن اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت سے وہ ان ظالموں کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنا گھر بولدک کے علاقے” وت” سے لوئی کاریز کے علاقے منتقل کرلیا۔ 
[[عید الفطر]] کے چھٹے روز میں ان کے گھر گیا، حافظ صاحب نے   مجھ سے کہا کہ امریکا کے خلاف جہاد کرنا ہے اگر آپ کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہے تو وہ مجھے دے دو۔
==مولوی عبدالباقی کی زبانی==
(contracted; show full) امریکی فوجیوں نے حافظ صاحب کے سیٹیلائٹ فون کا نمبر حاصل کرلیا اور اس سیٹیلائٹ کی مدد سے امریکا نے حافظ صاحب کے خفیہ جہادی مرکز کا سراغ لگا لیااور اسی   دن امریکی جارحیت پسندوں اور ان کی کٹھ پتلیوں کا ایک بڑا قافلہ ہڈہ پہاڑ کے حدود میں پہنچ گیا جہاں امریکی جارحیت پسندوں سے ایک خونریز جھڑپ کا آغاز ہوا۔ امریکا کے خلاف شاہی کوٹ کے تاریخی معرکے کے بعد ہڈہ پہاڑ دوسری شدید اور طویل جنگ تھی جو امریکیوں کے خلاف لڑی گئی۔
===امریکیوں و اتحادیوں کا خاصہ نقصان===
اس جنگ میں امریکی جارحیت پسندوں نے جنگی طیاروں جیٹ اور 
[[ہیلی کاپٹر]] وں کے بھرپور استعمال کے باوجود بھاری نقصانات اٹھائے۔ ایک طیارہ مجاہدین نے   بھی مار گرایا۔ مالی نقصانات کے ساتھ امریکیوں کو شدید جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا جس کی   صحیح تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ جنگ کے دوران حافظ صاحب کی قیادت میں مجاہدین رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے سے نکل گئے۔ لیکن امریکی   کئی دنوں تک اس پہاڑی علاقے میں آپریشن کرتے رہے جہاں اب کوئی مجاہد تھا ہی نہیں۔ اس آپریشن کے دوران امریکی فوجیوں نے ایک مرتبہ اپنے   فوجیوں پر بھی بمباری کی ۔
===افغان میڈیا کا پروپیگنڈہ===
 اس جنگ کے دوران صرف ایک مجاہد زخمی ہوااس کے علاوہ کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن اس وقت کے بولدک کے گورنر اور امریکی کٹھ پتلی فضل الدین نے میڈیا پر جھوٹا بیان دیا کہ انہوں نے ہڈہ پہاڑ کی لڑائی میں 25 مجاہدین کو شہید کیا ہے حالانکہ وہاں موجود تمام مجاہدین کی تعداد صرف 18 تھی۔
===امریکی حواس باختہ===
ہڈہ پہاڑ کے معرکے کے بعد حافظ عبدالرحیم صاحب نے ایک مرتبہ پھر اپنے ساتھیوں کو   اکھٹا کیا اور[[قندھار]] کے ضلع بولدک کے نواحی علاقوں میں جہادی   کارروائیوں کا آغاز کیا۔ 29 محرم 1424ھ کو حافظ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے بولدک کے علاقے ملاولی نیکہ میں ملکی کٹھ پتلیوں پر حملہ کیا جس میں کئی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد مجاہدین [[تور غر]] نامی علاقے کی طرف گئے۔ وہاں امریکی اور ملکی کاسہ لیسوں کے تقریباً 70 ٹینکوں او ر فوجی گاڑیوں کا قافلہ ان کے تعاقب میں تور غر روانہ   ہوا۔
===تورغر کا خونریز مقابلہ===
حافظ صاحب کی قیادت میں یہاں بھی دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیاگیا۔   مقابلہ صبح شروع ہوکر شام کو اختتام پذیر ہوا۔ یہاں بھی دشمن کو شدیدجانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑے۔ 
===حافظ صاحب حوصلہ توکل علی اللہ===
(contracted; show full)
===شہادت کی تمنا===
==جہاد کی توسیع، آخری جدوجہد اور شہادت==
حافظ صاحب زخمی ہونے سے جب رو بہ صحت ہونے لگے تو امارت اسلامی کے دوسرے رہنماؤں سے ملاقات اور مشوروں کے بعد ایک منصوبہ بنایا کہ اپنے علاقے سے دوسرے علاقوں تک بھی جہادی کارروائیوں کا جال پھیلا جائے۔ اس سلسلے میں   وہ ضلع معروف میں اپنی تشکیل کرنا چاہتے تھےلیکن جب [[1424ھ]] 
[[جمادی الاول]] کے مہینے میں وہ صوبہ [[زابل]] کے ضلع شملزو اور اتغر کے   راستے معروف جارہے تھے تو راستے میں دشمن سے سامنا ہوا ور بڑی مشکل سے وہ دشمن سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔<br />

اسی سال شعبان کے مہینے میں حافظ صاحب نے [[صوبہ زابل]] کے ضلع دائی چوپان جانے کا ارادہ کیا لیکن آدھے سفر کے بعد ان کا ارادہ تبدیل ہوا اور کندھار کے ضلع معروف پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔
====شہادت====
 ۱۶ شعبان ۱۴۲۴ھ کو انہوں ضلع معروف کے مرکزی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔ مرکز کے حفاظتی چوکیوں پر قبضہ کیا لیکن ہیڈ کوارٹرکے بالکل قریب   دشمن کی طرف سے فائر کی گئی گولی ان کی شہادت کا پیغام لے کر آئی۔ اس مرتبہ بھی گولی ان کے سینے میں لگی اور کچھ لمحے بعد وہ   شہادت کے بلند مقام پر فائز ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
===مجہدین کے جسد خاکی===
حافظ صاحب اور تین شہداء کے جسد خاکی جنگ کے میدان میں رہ گئے۔ واقعے کے ایک دن کے بعد محلے کے بزرگوں   نے حافظ صاحب کو اسی علاقے میں ہی سپرد خاک کیا۔ لیکن جب امریکی وحشیوں اور ان کے زرخرید غلاموں کو   پتہ   چلا تو انہوں نے دو دن کے بعد حافظ صاحب کا جسد خاکی نکال کر قندھار شہر لایا اور پھر ایک دن کے بعد حافظ صاحب کی جسد کے ان کے ورثاء کے   حوالے کی گئی۔ جنہوں نے بعد میں انہیں   ضلع بولدک علاقے پاِیزو میں ماشینگزو قبرستان میں سپرد خاک کیا ۔
====اللہ کی راہ میں خر چ کرنے کا جذبہ====
جہاد کی راہ میں یہاں تک قربانی کیلئے تیار ہوتے کہ اگر کبھی جہادی ضروریات کیلئے سامان کی خریداری کامعاملہ ہوتا تو گھر کا سامان بیچ کر جہاد کی ضروریات رفع کرتے۔ آپ کے ایک مجاہد ساتھی کے مطابق کہ امریکی جارحیت کے پہلے سالوں میں حافظ صاحب نے کہا کہ زمین بیچنے کیلئے کوئی گاہک   تلاش کرو تاکہ ان   پیسوں   سے ساتھیوں کیلئے جہادی ضرورت کا سامان خرید سکوں۔
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]