Difference between revisions 1965370 and 2256794 on urwiki{{انضمام مضمون|سجاد ظہیر}} ''''[[سجاد ظہیر]]''' کی ہمہ جہت شخصیت زندہ قوموں کے لئے ہمیشہ باعث صدافتخار رہے گی۔ زمینی سطح پر ترقی پسند ادبی تحریک کے معمار کی حیثیت سے تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ دراصل ان کے یہاں آزادی کا ایسا تصور تھا جو ہر عام آدمی کا خواب بھی تھا ۔ وہ اسے شرمندہ�¿ تعبیر کرنا چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ زندگی کا اہم ترین حصہ اس تحریک کےلئے صرف کیاجس میں تمام انسانی برادری کی فلاح بہبود شامل تھی۔باضابطہ طور پر انہوںنے 1919میں تحریک آزادی میں حصہ ل(contracted; show full) میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر سفر، سفر ہے میرا انتظار مت کرنا 13ستمبر 1973 کو جب حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا تو وہ روس کے سفر پر تھے۔ الما آتا روس سے ان کی لاش ہندوستان لائی گئی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اوکھلا نئی دہلی کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔ ادبی و علمی کارنامے— سجّاد ظہیرکی شہرت کا اپنا کوئی مسکن نہیں۔ مکمل طور پر ان کی وسعتوںکا انداز ہا دور گہرائیوں میں ڈوب کر بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ مگر تنظیمی اور ادبی سطح پر ان کی معرکہ آرائیوں سے کوئی بھی دیانتدار سماج یقینا استفادہ کر سکتا ہے۔ 1935میں اس معاملے میںبہت اہم ہے کہ یہ وہ دور تھا جب ترقی پسند ادبی تحریک کو مقصد یت عطا کرنے کی کوشش جاری تھی۔ اسی دوران ان کا افسانوی مجموعہ ”انگارے“ ڈرامہا ”بیمار“ اور ناول ”لندن کی ایک رات“منظر عام پر آتا ہے۔ حالانکہ ”انگارے“ میں شامل افسانے پہلے شائع ہوچکے تھے اور ان افسانوں کے اثرات کا اندازہا آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ کوئی بھی بامقصد زندگی خود کو متحرک کرنے کے لئے ان تخلیقات سے ضرور گزرنا چاہتی تھی۔ برٹش سرکار کے نشانے پریہ افسانے بھی رہے۔اسی طرح ان کا ڈرامہا”بیمار“ اور ناول ” لندن کی ایک رات“کو اردو کا ادبی سرمایہ قابل صداحترام تصور کرتا ہے۔ ان تخلیقات نے سجّاد ظہیر کو اردو ادب میں انتہائی استحکام بخشا ہے۔ جبکہ ان کی نثری نظموں کا مجموعہ ”پگھلا نیلم“ جو 1964 میں شائع ہوا اسے بھی متن اور ہئیتی تجربے کے لئے ہمارے ادب کا ناگزیر حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔ (contracted; show full) محض سو برسوں میں نہ جانے کتنی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ ہر لمحہ دنیا میں تغیر آرہا ہے۔ ہمارا عہد اب کوئی سمت متعین نہیں کرتا بلکہ تغیر ہی کسی راہ کا تعین کرتی ہے۔ سجّاد ظہیر نے اس حقیقت کو زمین پر لانے کی کوشش کی تھی جو انسان کو اور خصوصی طور پر عام انسان کو پوری دنیامیں افضلیت عطا کر سکے۔انہیں بخوبی انداز ہا تھا کہ ترقی پسندی ہی ہمیشہ تغیرات کو معنویت سے روشناس کرواسکتی ہے۔ متعصب رویے تو تیز رفتار زندگی کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اب کسے فرصت ہے کہ مذہب، ذات ، فرقے کی فرسودہ روایتوں میںاپنے تابناک مستقبل کو دفن کرے۔ بس حقیقت نگار ہی نئی دنیا کا علمبردار ہوسکتا ہے۔ ایسے میں سجّاد ظہیر کا نظریہ ہی ہماری رہنمائی کے لئے معاون ہے۔ All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2256794.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|