Difference between revisions 2256794 and 2312688 on urwiki{{انضمام مضمون|سجاد ظہیر}} ''''[[سجاد ظہیر]]''' کی ہمہ جہت شخصیت زندہ قوموں کے لئے ہمیشہ باعث صدافتخار رہے گی۔ زمینی سطح پر ترقی پسند ادبی تحریک کے معمار کی حیثیت سے تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ دراصل ان کے یہاں آزادی کا ایسا تصور تھا جو ہر عام آدمی کا خواب بھی تھا ۔ وہ اسے شرمندہ�¿ تعبیر کرنا چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ زندگی کا اہم ترین حصہ اس تحریک کےلئے صرف کیاجس میں تمام انسانی برادری کی فلاح بہبود شامل تھی۔باضابطہ طور پر انہوںنے 1919میں تحریک آزادی میں حصہ لینا شروع کیا۔یہ وہ دور تھا جب سارے عالم میں صحت مند تبدیلی کے لئے تگ و دو جاری تھی۔ [[ہندوستان]] میں ہر سطح پر ایک [[انقلاب]] بپا تھا۔ سجّاد ظہیر اس لئے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے پوری عالمی برادری کی توجہ اس طرف مبذول کروانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔انڈین نیشنل کانگریس ([[لندن]] برانچ) میں ان کی شمولیت اس لئے بھی یاد کی جاتی ہے کہ انگریزوںکے خلاف ہندوستانی طلبا کو جمع کیا اور مقاصد کی تکمیل کے عمل میں رسالہ ”بھارت“کے مدیر بھی بنے۔[[1929ء]] میں انگلینڈ میں بھی ایسے طلبا کو جمع کیا جن کا رجحان ہندوستانی کمیونزم کی طرف تھا۔ [[1936ء]] میںجس ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس لکھنوؤ میںہوئی اس پر سجاد ظہیر نے بہت پہلے سے کام کرنا شروع کر دیاتھا۔ [[1935ء]] میں انہوں نے لندن میںہندوستانی ترقی پسند مصنفین کی انجمن قائم کی۔ باضابطہ طور پر مینی فیسٹو تیار کیا۔ جب نومبر 1935 میں ہندوستان واپس آئے تو انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ میں وکالت شروع کر دی۔ [[انڈین نیشنل کانگریس]] کے رکن کی حیثیت سے [[پنڈت جواہر لعل نہرو]] کے ساتھ تحریک میں معاونت کی۔ چونکہ سجّاد ظہیر کا وژن آفاقی تھا اس لئے انہیں بیرون ممالک میں خصوصی طور پر مسلم سماج کو جوڑنے کی ذمہ داری دی گئی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انہوںنے کسانوں (contracted; show full)ین نہیں کرتا بلکہ تغیر ہی کسی راہ کا تعین کرتی ہے۔ سجّاد ظہیر نے اس حقیقت کو زمین پر لانے کی کوشش کی تھی جو انسان کو اور خصوصی طور پر عام انسان کو پوری دنیامیں افضلیت عطا کر سکے۔انہیں بخوبی اندازا تھا کہ ترقی پسندی ہی ہمیشہ تغیرات کو معنویت سے روشناس کرواسکتی ہے۔ متعصب رویے تو تیز رفتار زندگی کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اب کسے فرصت ہے کہ مذہب، ذات ، فرقے کی فرسودہ روایتوں میںاپنے تابناک مستقبل کو دفن کرے۔ بس حقیقت نگار ہی نئی دنیا کا علمبردار ہوسکتا ہے۔ ایسے میں سجّاد ظہیر کا نظریہ ہی ہماری رہنمائی کے لئے معاون ہے۔ All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2312688.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|