Difference between revisions 2113115 and 2253566 on urwiki

{{Wikify}}
{{ بے حوالہ}}

		مثلِ بو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جا<br>	
		رخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جا<br>
		ہے تنک مایہ ، توذری سے بیاباں ہو جا	<br>
		نغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جا<br>
		قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے<br>
		دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے

عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسرے اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید ( معشوق سے کچھ حاصل کرنے کی) ۔ لالچ سے ماورا ہوتا ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتا ہے۔جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے ۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آجاتا ہے۔ حضرت سید محمد ذوقی شاہ اپنی کتاب ” سر ِ دلبراں “ میں لکھتے ہیں،

” عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔“

		عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودن<br>		
		دل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن

	اور جب یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی سے ہو تو پھر کیا کہنا ۔ ان کی ہستی تو ایک بحر ذزخار کے مانند ہے جس کی موجوجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ جس کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں ۔ جو لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں۔ اُس کے اخلاق کے بارے میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ،

”’ اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے۔“

	جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دئیے گئے رشک کی بات ہے کہ اقبال کو اس عظیم بندے سے عشق تھا اور اس آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہے۔

		می ندانی عشق و مستی از کجا ست؟<br>		
		ایں شعاع افتاب مصطفی ست

	مولانا عبدالسلام ندوی ”اقبال کامل “ میں لکھتے ہیں،

” ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت ِ وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا۔“

== والہانہ عشق ==

اقبال کو حضور سے جو والہانہ عشق ہے اس کا اظہار اس کی اردو اور فارسی کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول اکرم کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا۔

		خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا	<br>	
		خو شا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا

	اقبال سردار دو عالم کی سیرت پاک کا غائر مطالعہ کرنے کے اور مطالب قرانی پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آنحضرت کی ذات ِ بابرکات جامع الحثیات ہے ۔ تمام کما لات ظاہر و باطن کی ، اور سرچشمہ ہے تمام مظاہر حقیقت و مجاز کا۔ کلام اقبال اٹھا کر دیکھ لیں تو یہ اندازہا ہوتا ہے کہ پیغام ِ اقبال اصل میں حُب رسول ہے۔ کیونکہ انہی کی ذات گرامی سرچشمہ دیں ہے۔

		بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست<br>		
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

== سوز و گداز ==

اقبال کی طبیعت میں سوز و گداز اور حب رسول اس قدرتھا کہ جب کبھی ذکر رسول ہوتا تو آپ بے تاب ہو جاتے اور دیر تک روتے رہتے ۔ ”روزگار فقیر “ میں [[فقیر سید وحید الدین]] لکھتے ہیں۔
(contracted; show full)

کلام اقبال میں عشق رسول کے اظہار میں جب شیفتگی و وارفتگی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ بزرگانِ دین کا فیضانِ نظر تھا ۔ اس میں مکتب کی کرامت کا دخل نہیں تھا۔ آپ کے کلام میں شیخ عطار ، نظام الدین اولیا ، حضرت مجدد الف ثانی ، مولانا روم، اور امام غزالی کا تذکرہ اس امر پر شاہد ہے۔ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تمام تر عقل اور فلسفہ دانی کو نبی کریم کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ اقبال کے ذہن میں عشق و مستی کا اوّل اور آخری محور ایک ہی ہونا چاہیے اور وہ محور ہے نبی کریم کی ذات جو ذات ِ تجلیات ہے جو
 کہ بقول حضرت عائشہ کہ 
	
”قرآن ہی ان کے اخلاق ہیں۔

		نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر<br>	
		وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ

== سالار کارواں ==
(contracted; show full)		یہ جہاں چیز ہے کیا لو ح قلم تیرے ہیں

== مزید دیکھیے ==
* [[اقبال]]
* [[اقبالیات]]

[[زمرہ:اقبالیات]]
{{ربط درکار|}}