Difference between revisions 2271738 and 2345952 on urwiki{{Orphan|date=نومبر 2016}}⏎ ⏎ [[File:Anthurrium.JPG|thumb|[[کنیاکماری]]، [[تمل ناڈو]] کے پھولوں کی کاشتکاری کے تحقیقی مرکز پر لی گئی ایک تصویر]] پھولوں کی کاشتکاری ایک بین الاقوامی، ہمہ بلین ڈالر صنعت ہے جس میں گھیردار اور باغبانی کے درخت، پتے دار درخت، گملے دار پھولوں کے درخت، کٹے ہوئے پھول، گھاس اور پھولوں کے اگانے سے متعلق سامان شامل ہیں۔ پھولوں کی کاشتکاری [[ریاستہائے متحدہ امریکہا]] میں ریٹیل بکری کا حصہ بنتے ہیں۔ <ref>http://www.agmrc.org/commodities-products/specialty-crops/floriculture/</ref> عالمی سطح پر یہ کاشتکاری 140 سے زائد ممالک میں رائج ہے۔ == بھارت میں پھولوں کی کاشتکاری == [[File:Marigold Fields Floriculture Horticulture in Maharashtra India.jpg|thumb|بھارت میں گیندے کے پھول کی کاشتکاری کی تصویر]] '''بھارت میں پھولوں کی کاشتکاری''' کا کاروبار 9 بلین روپیوں کا ہے۔ یہاں کی وسیع و عریض آب و ہوا اور کم لاگت میں دستیاب مزدوری ملک کو پھولوں کی کاشتکاری کے لیے موزوں بناتے ہیں۔ یہ کاشتکاری میں 54,17,370 ہیکٹیر رقبے پر محیط ہے جیساکہ [[2007ء]]-[[2008ء]] میں دیکھا گیا تھا۔ [[بھارت]] کی پھولوں کی کاشتکاری کی صنعت میں حسب ذیل شامل ہیں: * پیوندکاری کے درخت * گملے دار درخت * پتیوں کی بنیاد (bulb) * بیجوں کی تیاری * خردفروغ (ایک ہی درخت سے کئی دوسرے درخت اُگانا -- —micropropagation) * پھولوں سے تیل تیار کرنا 2007ء- 2008ء کے دوران بھارت میں 0.34 ملین ٹن پھولوں کی پنکھڑیاں اور 537 ملین کٹے ہوئے تیار ہوئے تھے۔ <ref name = ijmm> A Xavier Susai Raj, "Economic Analysis of Floriculture in Tamil Nadu: Case Study", International Journal of Marketing Management,New Delhi, India, Vol. 6, No.1, Jan-June 2016, Pp 65-72</ref> ===بھارت میں کاشتکاری کے اہم اقسام کے پھول=== [[File:Gladiolus sulphureus-1-bsi-yercaud-salem-India.JPG|thumb|بھارت میں اگنے ولے گلیڈولس کی ایک قسم]] بھارت میں [[گلیڈولس]]، [[گلاب]] اور [[گیندا]] جیسے کئی پھولوں کی کھیتی کی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر کمائی گلیڈولس سے ہوتی ہے. یہ پانچ ماہ میں تیار ہو جاتا ہے اور [[2015ء]] میں اس کے کاشتکاروں کے بیان کے مطابق ایک بار کی فصل میں دو سے تین لاکھ تک کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ <ref name = kisan> [http://kisanhelp.in/news/%E0%A4%AB%E0%A5%82%E0%A4%B2%E0%A5%8B%E0%A4%82-%E0%A4%95%E0%A5%80-%E0%A4%96%E0%A5%87%E0%A4%A4%E0%A5%80-%E0%A4%B8%E0%A5%87-%E0%A4%B9%E0%A5%8B%E0%A4%82-%E0%A4%AE%E0%A4%BE%E0%A4%B2%E0%A4%BE%E0%A4%AE%E0%A4%BE%E0%A4%B2 फूलों की खेती से हों मालामाल] </ref> ===شمالی بھارت میں پھولوں کی کاشتکاری === کسان دو اہم پھول پورے سال میں اوپر مذکور دو پھول گلیڈولس اور گیندے کی دو فصلیں اگا سکتے ہیں. گلیڈولس کی بوائی [[مارچ]] ماہ سے [[اپریل]] کے وسط تک اور [[دسمبر]] میں کی جاتی ہے. شادی اور دیگر تقاریب کے دوران گلیڈولس کی فروخت زیادہ ہوتی ہے. [[2015ء]] کے ایک جائزے کے مطابق گلیڈولس پھول کی کاشت میں فی ایکڑ ایک لاکھ کا خرچ آتا ہے. فی ایکڑ فصل فروخت کرنے پر دو سے تین لاکھ روپے کا منافع ملتا ہے. گلیڈولس، گیندا اور جعفری جیسے پھولوں کے بیج آسانی سے باغبانی کے محکمے اور نجی دکانوں پر مل جاتے ہیں۔ جائزے کے سال گلیڈولس کے بیجوں کی قیمت دو روپے فی بیج رہی ہے، ایک ایکڑ میں 50،000 بیج لگ جاتے ہیں۔ کافی سالوں سے گلیڈولس اگا نے والے کچھ کاشتکار اس کے بیج بھی بیچنا شروع کر دیے ہیں۔ برساتی گیندے کی فصل 30 سے 40 کُنٹل فی ایکڑ پیداوار دیتی ہے وہیں گلیڈولس کی فصل سے 50 سے 60 ہزار پھول فی ایکڑ کے حساب سے پیداوار حاصل ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ اچھی قیمت حاصل کرنے کے لئے شمالی بھارت کے شہر [[لکھنؤ]] میں واقع [[چوک منڈی]] اور [[گورکھپور]] کی بڑی پھول منڈی گل فروشوں کے اہم مقامات ہیں۔ اس کے علاوہ [[دہلی]] سے کچھ فاصلے پر [[غازی پور]] پھول منڈی میں پھولوں فروخت بھی بڑی سطح پر ہوتی ہے۔ 2015ء میں گلیڈولس پھول کی ایک کلی کی قیمت آٹھ سے دس روپیے رہی ہے اور گیندے کی 20 سے 25 روپیے فی کلو کی شرح سے بکتا رہا ہے۔ بھارت کی مختلف ریاستی حکومتیں باغبانی کو فروغ دے رہی ہے۔ 2015ء میں [[اتر پردیش]] کی ریاستی حکومت 4،000 مربع میٹر تک کے پولی ہاؤز لگوانے پر 50 فیصد امداد فراہم کر کرتی ہوئی پائی گئی، جس میں اب بیج اور دیگر پودوں سے جڑا مواد اور زرعی سامان بھی شامل کر لیا گیا۔ <ref name = kisan/> ===تمل ناڈو میں پھولوں کی کاشتکاری === [[File:Tuberose.jpg|thumb|رجنی گندھا]] [[بھارت]] کی جنوبی ریاست [[تمل ناڈو]] روایتی اور جدید پھولوں کی کاشت کاری میں سرفہرست ہے۔ 2008-09 میں ریاست کا 24,287 علاقہ اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔<ref name = ijmm/> یہاں کے پھولوں کی کئی قسمیں ہیں، جن میں [[چمیلی]]، [[گیربیرا]]، [[کمل]]، [[گڈہل|گُڈہل]]،[[یاسمین]]، [[کارنیشن]]، [[رجنی گندھا]]<ref>https://hindi.alibaba.com/ma/tamil-flowers-manufacturers.html</ref>،[[چمپک]]، [[گل داؤدی]]، [[گلبہار]]،<ref name = ijmm/> وغیرہ شامل ہیں۔ ;کاشتکاروں کا سماجی پس منظر [[File:India - Faces - young girl playing in her moms jasmine field (2832073817).jpg|thumb|بھارت میں یاسمین کا ایک کھیت]] [[ہوسور]] میں مالکانہ حقوق رکھنے والے کاشتکاروں کے ایک جائزے سے [[2016ء]] میں پتہ چلا ہے کہ 42 فی صد کا تعلق [[دیگر پسماندہ طبقات|پسماندہ طبقات]] سے ہے۔ کھیتی کے لیے اوسط زمین 1.43 ہیکٹیر کا رقبہ گھیرے ہوئے تھی۔ وسط درجے کے گروہ کی زیر کاشت زمین 1.06 ہیکٹیر تھی۔ فصل کی گہرائی 141.13 فی صد تھی۔ تقریبًا سبھی مالکین آب رسانی کے لیے بورویلوں کا استعمال کرتے ہوئے پائے گئے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ ایک اوسط گھرانے کی سالانہ آمدنی 74,109 روپیے ہے۔ یہ بھی پتہ چلاکہ پھولوں کی کاشتکاری ہی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ <ref name = ijmm/> ;2016ء میں یاسمین کا باغ بنانے کا خرچ<ref name = ijmm/> {| class="wikitable" |- ! اجزا !! روپیوں کی لاگت !! کل خرچ کا فیصد |- | بیچ اور شجرکاری کا سامان || 427 || 1.1 |- | زمین سازگار بنانے بیل اور مزدوری || 3522 || 8.9 |- | شجرکاری || 648 || 1.6 |- | مزدوری (کھاد کی ملاوٹ، خودروؤں کی صفائی، آبرسانی اور کیڑاکش ادویہ) || 7809 || 19.7 |- | باغ کے کھاد کا خرچ || 8477 || 21.4 |- | پودے کی کھاد کا خرچ || 5349 || 13.5 |- | کیڑاکش کا خرچ || 4239 || 10.7 |- | بجلی کا خرچ || 1838 || 4.6 |- | کل متغیر اخراجات || 32307 || 81.5 |- | فرسودگی (depreciation) || 1.1|| 441 |- | زمین کا ریوینیو || 13 || 0 |- | کرایہ || 3000 || 7.6 |- | کام چلانے کے لیے سرمایہ جو متغیر اخراجات کا 12 فیصد سال کے بارہ مہینے ہے۔ || 3877 || 9.8 |- | مقررہ اخراجات || 7330 || 18.5 |- | کل اخراجات || 39637 || 100 |} ;تمل ناڈو میں کاشتکاروں کے مسائل تمل ناڈو میں کاشتکاروں کے مسائل حسب ذیل زمروں میں منقسم ہیں: # حمل و نقل کے مسائل # محفوظ رکھنے کے مسائل <ref name = ijmm/> ;تمل ناڈو میں کاشتکاروں کے حمل و نقل کے مسائل ہوسور ضلع کے مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ 32.15 فیصد کسان مناسب سڑکوں کے فقدان سے پریشان ہیں۔ 79.43 فیصد لوگ حمل و نقل سے مسائل سے دوچار تھے۔ ان میں گاڑیوں کی موجودگی اور سامان کی منتقلی کے بڑھے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔ <ref name = ijmm/> ;تمل ناڈو میں کاشتکاروں کے پھولوں کے رکھ رکھاؤ کے مسائل پھولوں کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج سہولت ضروری ہے۔ یہ رائے دی گئی ہے کہ امداد باہمی کے ذریعے کاشتکاروں یہ سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ تاہم دیہی علاقوں میں بجلی کی متزلزل سربراہی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ 30 فی صد پھول پیاکنگ کے دوران خراب ہو جاتے ہیں۔ <ref name = ijmm/> ==حکومت ہند کے حوصلہ افزا اقدامات== حکومت ہند نے [[1989ء]] سے پھولوں کی کاشتکاری کے فروغ کے لیے کئی اقدامات اٹھائے، ان میں حسب ذیل شامل ہیں: # ''اگریکلچر اینڈ پروسیسڈ فوڈ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی'' کو سو کروڑ روپیے تفویض کیے گئے تاکہ برآمدات کو فروغ ملے۔ # پھولوں سے جڑی اشیا کے لیے آزادانہ سرکاری پالیسیاں بنائی گئی۔ # باغبانی کے فروغ کے لیے نئے ''ہارٹیکلچرل مشن اپروچ'' کا [[مئی]] [[2005ء]] میں اعلان کیا گیا جس کا مقصد باغبانی سے جڑے اشیا کی برآمدات کا فروغ تھا۔ <ref name = ijmm/> == حوالہ جات == {{ حوالہ جات }} ==خارجی روابط == * [http://www.indif.com/kids/learn_hindi/hindi_flowers_chart.aspx ہندی اور انگریزی میں پھولوں کا چارٹ] [[زمرہ:بھارت میں باغبانی]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2345952.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|