Difference between revisions 2354651 and 2630442 on urwiki

{{Wikify}}
[[خواجہ میر درد|خواجہ میر]]<br>
” تصوف میں جیسا انہوں نے لکھا اردو میں آج تک کسی سے نہ ہوا۔“<br>
	بقول امداد اثر<br>
” معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو مےں کوئی شاعر نہیں گزرا۔“<br>
	عبدالسلام ندوی،<br>
” جس زمانے میں اردو شاعری اردوہوئی خواجہ مےر درد نے اس زبان کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔“

(contracted; show full)ر لیتا ہے۔ اور اسی عشق میں پناہ ڈھونڈ ھتا ہے اور دل ہی دل میں اللہ تعالٰیٰ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب دل آئینہ کی طرح پاک اور صاف ہو۔ دل اُس وقت صاف ہو تا ہے جب وہ زمانے کی آلائشوں سے دور ہو جاتا ہے۔ مادی خواہشات کا دامن چھوڑ کر روحانی دنیا میں آجاتا ہے۔ اس عمل سے جب اس کا دل صاف ہو جاتا ہے تو دل اس قابل ہو تا ہے کہ وہ حقیقت کا ادراک کر سکے ۔ اس دل کے دریچے سے اُسے ذات باری کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے۔
		
ارض و سماں کہاں تیری وسعت کو پاسکے<br>
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سماں سکے

p
قاصد نہیں یہ کام تیرا اپنی راہ لے<br>
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

== تلاش و تجسّس:۔ ==

			درد کی شاعری میں یہ نقوش کثرت سے ملتے ہیں ا ن کی شاعری میں ایک کھوج اور تجسّس کی خواہش عام ہے۔کیونکہ معرفت کی راہ میں پہلے تجسس پیدا ہوتا ہے پھر روحانی جدوجہد شروع ہوتی ہے۔ حقیقت کے لیے کش مکش اور تلاش درد کے صوفیانہ ملک کے اہم نشان ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ درد کی شاعری میں سوال اور استفسار اکثر ابھرتے ہیں، یہ باتیں کائنات کے خالق کے متعلق ہیں۔ مندرجہ ذیل اشعار صوفی کے اسی بڑھتے ہوئے تجسس کا حال بتاتے ہ(contracted; show full)== مجموعی جائزہ:۔ ==

	مجنوں گورکھ پوری فرماتے ہیں کہ<br>
” کہیں دبی ہوئی اور کہیں علانیہ ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانے کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں ملتی ہیں یعنی اپنے زمانے کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔“<br>
	ڈاکٹر ابوللیث صدیقی فرماتے ہیں،
<br>”اس دور کی سےاسی اور ملکی حالات کو استعاروں اور کنایوں میں ایسی خوبصورتی سے ادا کیا ہے کہ غزل کا داخلی رنگ بھی قائم رہتا ہے اور یہ ایک ترجمانی بھی ہو گئی ہے۔“

[[زمرہ:اردو غزل]]