Difference between revisions 2630442 and 2772071 on urwiki

{{Wikify}}
[[خواجہ میر درد|خواجہ میر]]<br>
” تصوف میں جیسا انہوں نے لکھا اردو میں آج تک کسی سے نہ ہوا۔“<br>
	بقول امداد اثر<br>
” معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو مےں کوئی شاعر نہیں گزرا۔“<br>
	عبدالسلام ندوی،<br>
” جس زمانے میں اردو شاعری اردوہوئی خواجہ مےر درد نے اس زبان کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔“

= [[درد]] اور متصوفانہ شاعری =

== تصوف کیا ہے:۔ ==

	
١)تصوف صفحہ اوّ ل سے ماخوذ ہے چونکہ صوفیاءعبادت الٰہی کے شوق میں نماز کی پہلی صف میں بیٹھتے تھے اس لئیے یہ نام رائج ہوا<br>
	
٢) یہ لفظ صوف سے نکلا ہے جس کے معنی علیٰحدہ رہنے کے ہیں۔<br>
	
٣) لفظ تصوف صفاءیعنی پاکیزگی سے ماخوذ ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کوہ صفاءشروع میں صوفیوں کی قیام گا ہ تھی جس وجہ سے یہ نام رائج ہوا۔<br>
	
٤) شیخ ابوالحسن احمد نوری کا کہنا ہے کہ تصوف کے معنی ”تمام خطوط نفس کو ترک کرنا ہے۔“<br>
	
٥) تصوف اجتماعی ناانصافی کے خلاف ضمےر انسانی کی اندرونی بغاوت کا نام ہے۔<br>
	
٦)تصوف ایک ایسا خیال ہے جہاں ماننے کے لئیے جاننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔<br>
	
مشہور فاضل اور شاعر سراج الدین علی خان آرزو نے خواجہ میر درد کو اوائل جوانی میں دیکھ کر کہا تھا کہ
” وہ ایک صاحب فہم و ذکا جوان ہیں جو کچھ میں ان میں دیکھتا ہوں اگر فعل میں آگیا تو انشاءاللہ فن تصوف میں نام پائیں گے۔“<br>	
خواجہ میر درد کی شہرت کا سب سے بڑا سبب ان کا متصوفانہ کلام ہے اردو کی صوفیانہ شاعری میں جو مقام اور مرتبہ درد کو حاصل ہے وہ اور کسی شاعر کے حصے میں نہیں آیا۔ ان سے بہتر صوفیانہ شاعری کے نمونے اردو میں نہیں ملتے ۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں۔ ان وجوہات پر غور و فکر کریں تو سب سے اہم بات یہ نظرآتی ہے۔ کہ درد ایک خاندانی صوفی تھے۔ ان کے والد بزرگ خواجہ ناصر عندلیب دلی کے ممتاز صوفیاءمیں شمار کئے جاتے تھے۔ ان کی تمام عمر اُس مسلک کی اشاعت میں عمل پر گزری تھی۔<br>
	دلی میں خواجہ ناصر کی خانقاہ صوفیاءکا مرکز تھی۔ اکثر اہل نظر یہاں آتے تھے۔ درد نے اس باعمل باپ کی سرپرستی میں رہتے ہوئے تصوف کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کی۔ جوانی کا کچھ حصہ تو انھوں نے مختلف ملازمتوں میں گزارا مگر عالم شباب ہی میں تمام دنیاوی آلائیشوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے صوفیا ءکے بورئیے پر بیٹھ گئے۔اور اس طرح درد اپنی تمام عمر ایک باعمل صوفی کی طرح جادہ ¿ تصوف پر گامزن رہے۔ درد کی شاعری میں صوفیانہ عناصر کی کامیاب پیشکش کا باعث ان کایہی تجربہ ہے۔ اس تجربے کے پیچھے ان کا تصوفانہ خلوص اور ان کی صداقت، اشعار میں بجلیاں بھر دیتی ہیں۔ اردو شعراءنے تصوف کو نظر ی طور پر قبول کیا تھا مگر درد نے عملی طور پر قبول کیاتھا۔ وہ تصوف کی تمام منازل سے عملی طور پر گزرے تھے۔ اس لئیے ان کی نظر اور ان کی روح اس تجربے سے سرشار ہوئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ درد کے کلام کی چاشنی پڑھنے والے کو بے حد متاثر کرتی ہے۔

== درد باعمل صوفی:۔ ==

(contracted; show full)
حیران آئینہ دار ہیں ہم<br>
کس سے یارب دو چار ہیں ہم

== نظریہ عشق الٰہی:۔ ==

		
صوفی عشق کی سخت ریاضت پر بہت زور دیتے ہیں۔ عشق کی سختیاں برداشت کرنا ان کے ل
ئیے ضرور ی ہیں ۔ درد بھی اسی عشق کا اظہار کرتے ہیں ۔ جہاں صوفی کی اس عشق میں ہڈیاں جل جاتی ہیں۔ دل پگھل جاتے ہیں ، بجلیاں کوندتی ہیں ، ان سختیوں کے بغیر عشق الہٰی نا ممکن ہے۔ عشق ہی تصوف کی بھٹی ہے جہاں سے انسان پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے۔۔ اس وادی میں عاشق کو جو مرحلے پیش آتے ہیں درد کہیں کہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔

درد کا حال کچھ نہ پوچھو تم<br>
وہی رونا ہے نت وہی غم ہے

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا<br>
پر اُسے آہ نے اثر نہ کیا

(contracted; show full)
آپ سے ہم گزر گئے کب سے<br>
کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا

== مسئلہ خیر و شر:۔ ==

		
صوفیاءکے نزدیک خدا ہمہ تن خیر ہے اُن کا خیا ل ہے کہ اگر کسی چیز میں شر موجود ہے تو وہ ہماری ہی پیدا کردہ بدی ہے۔ خدا نے نیکی اور بدی کے ل
ئیے ہمیں آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جبر و قدر کا مسئلہ بھی سامنے آجاتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا کس حد تک ذمہ دار ہے اس سلسلے میں بھی دو گروہ ہیں ایک کاخیال ہے کہ انسان اپنے افعال و اعمال پر قادر ہے اور دوسرے کا خیال ہے کہ انسان محض مجبور ہے ۔صوفیاءکے ہاں یہ دو نوں مسلک موجو د ہیں،
		
تھا عالم جبر کیا بتادیں<br>
کس طور سے زیست کر گئے ہم

اس امر میں بھی یہ بے اختیار بندہ ہے<br>
ملا ہے درد اگر یاں کچھ اختیار مجھے

(contracted; show full)

== حکیمانہ انداز:۔ ==

			تصوف کے ساتھ ساتھ درد نے حکمت کے موتی بھی بکھیرے ہیں ۔ زندگی کی حقیقتوں کا بیان بھی ہے۔ اور کائنات کے رموز کا بھی موت کی کلفتوں اور کائنات کی اور زندگی کی ناپائیداری کا ماتم بھی ان کی شاعری میں موجود ہے۔ان کے ہاں انسانی عظمت کے ساتھ ساتھ اخلاقی مضامین بھی ملتے ہیں۔ کیونکہ وہ دور اخلاقی اقدر کی شکست و ریخت کا دور تھا۔ یوں درد نے اس دور میں انسان کو نیکی کی تلقین کی او ر اُسے اپنی عظمت کا احساس دلایا۔
		
درد دل کے واسطے پیدا کےا انسان کو<br>
ورنہ طاعت کے ل
ئیے کچھ کم نہ تھی کروبیاں

باوجود یکہ پر و بال نہ تھے آدم کے<br>
واں یہ پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا

وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا<br>
خواب تھا جو کچھ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

(contracted; show full)== مجموعی جائزہ:۔ ==

	مجنوں گورکھ پوری فرماتے ہیں کہ<br>
” کہیں دبی ہوئی اور کہیں علانیہ ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانے کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں ملتی ہیں یعنی اپنے زمانے کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔“<br>
	ڈاکٹر ابوللیث صدیقی فرماتے ہیں،
<br>”اس دور کی سےاسی اور ملکی حالات کو استعاروں اور کنایوں میں ایسی خوبصورتی سے ادا کیا ہے کہ غزل کا داخلی رنگ بھی قائم رہتا ہے اور یہ ایک ترجمانی بھی ہو گئی ہے۔“

[[زمرہ:اردو غزل]]