Difference between revisions 2750776 and 2751115 on urwiki

مولانا ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے دینی، مذہبی اور علمی حلقوں میں ایک مقتدر علمی شخصیت کے حوالے سے معروف تھے۔ آپ بجا طور پر ایک مفکر ِاسلام، قرآن و سنت کے سچے داعی، امن کے علم بردار اور علوم شریعت کے ماہر اور حاذق تھے۔ آپ نے اندرون ملک کے علاوہ بیرونِ ملک میں بھی دعوتِ اسلام کے پھریرے لہرائے او رایک عالَم نے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ کہنے والوں نے آپ جیسی سربرآورد علمی شخصیات ہی کے متعلق کہا ہے: موت العالم موت العالَم کہ ایک عالم کی موت درحقیقت پورے جہاں کی موت ہے۔ (contracted; show full)
راقم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 1978ء میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ایک سال ان کےزیر سایہ گزارنے کاموقعہ ملا۔ 1979ء میں مزید حصولِ علم کے لیے اللہ تعالیٰ نے دیارِ حبیب میں واقع جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی میں داخلے کی سعادت سے نوازا تو اس مرحلے پر محترم حافظ صاحب ہمارے قافلے کے نہ صرف میر کارواں ٹھہرے بلکہ وہاں چار سال مزید اُن کے ہمراہ گزارنے کا موقع
ہ ملا او رہم ایسوں نے اُن کی محفل میں بیٹھ کر ہمیشہ خوشہ چینی کی۔ آپ نے ایک عرصے تک جامعہ سلفیہ، فیصل آباد میں اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ بعدازاں کچھ عرصہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں ایم اے،عربی کی کلاسز کو مہمان استاذ کی حیثیت سے پڑھایا۔ جامعہ لاہو ر اسلامیہ میں بھی چند سال آپ کو تدریس کا موقعہ ملا، جہاں متعدد ایسے طلبہ نے آپ سے کسبِ فیض کیا جو اپنے استاذِ محترم کی طرح آج دین کی اعلیٰ خدما ت انجام دے رہے ہیں۔
لاہور میں قیام کے دوران جب جامعہ کے مدیر حافظ عبد الرحمٰن مدنی﷾ کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) میں اعلیٰ عدلیہ کی تربیت کی بھاری ذمہ داری ملی، تو علم اُصولِ فقہ کی تدریس کے لئے مدنی صاحب کی نظرانتخاب حافظ عبد الرشید اظہر صاحب پر پڑی جس کے نتیجے میں حافظ صاحب نے 1987ء میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) میں ججز کی کلاسوں کو اُصولِ اجتہاد کے اہم موضوع پر کئی تدریسی لی(contracted; show full)ا ہے۔ یہ تحریر صرف اس کتاب کا مقدمہ ہی نہیں بلکہ مستقل کتاب کے طورپر شائع کی جانے کی حق دار ہے۔ اسی طرح شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے صحیح بخاری کا ترجمہ اور تشریح کی ہے۔ صحیح بخاری کا آخری حصہ کتاب التوحید ہے۔ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اس کے آغاز میں عقیدہ توحید کی وضاحت اور مبتدعین کے بدعی عقائد کی تفصیل بیان کرتے ہوئے 124 صفحات پر محیط ایک مبسوط مقدمہ تحریر کیا ہے۔ آپ کی یہ دونوں تحریریں مستقل تصنیف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے سیّال قلم گوہر بار نے بہت سا تصنیفی کام کیا جس کی تفصیل کا یہ موقع
ہ نہیں۔
یہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ایک دوست اور ان سے تعلق رکھنے والے کے دلی جذبات ہیں جو فوری طو رپر نوکِ قلم پر آگئے ہیں، ورنہ آں موصوف کی شخصیت پر مفصل کتابیں لکھی جاسکتی ہیں او ریقیناً اصحابِ علم و فضل اِن کے متعلق اپنے اپنے جذبات و خیالات کو حیطہ تحریر میں لاکر آں مرحوم کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اس علمی امانت کو ادا کرنے کی کوشش کریں گے جو دینی حوالے سے اُن کی ذمے داری ہے۔ دُعا ہےکہ اللہ کریم شہید ڈاکٹر صاحب کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیتے ہوئے انبیا ، صدیقین، شہدا اور صالحین میں شامل فرمائے۔ آمین! ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد!