Difference between revisions 2765133 and 2771666 on urwikiانسانی مزاج اور نفسیات میں مختلف عناصر کو دخل ہے۔ ماہرین نفسیات انسانی عادات، اطوار اور جرائم کا نفسیتاتی تجزیہ مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ کہیں انسان کے متشدد ہونے کا تجزیہ کیا جاتا ہے، کہیں جرائم کی نوعیت پر تحقیق ہوتی ہے، کوئی مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر اور تشدد پسند اور تنہائی پسند آدمی پر تحقیق کرتا ہے۔ یوں فلسفی اور دانشور انسانی مزاج اور حرکات و سکنات کا مختلف انداز میں تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹ بھی انسانی نفسیات کا ایک جزو ہے جس کا تعلق مختلف عوامل سے ہے۔ جھوٹ کیا ہے؟ انسان ج(contracted; show full)ی بات واضع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مچھلی ہمیشہ سر کی جانب سے سڑتی ہے۔ قومی یا اجتماعی کا معاملہ بھی یہی ہے، یعنی کسی بھی قوم کے سڑنے کا آغاز اس کے سر کی جانب سے ہی ہوا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ برائی سب سے پہلے کسی قوم کے اہلِ دانش میں پیدا ہوتی ہے۔ ان میں [[مفکرین]]، [[فلسفی]]، [[علماء]] کرام، [[شاعر]]، [[ادیب]]، [[صحافی]]، سیاسی و سماجی رہنما وغیرہ شامل ہیں۔ یہ منطقی بات ہے کہ ابتداء میں ابلاغ کا عمل اوپر سے نیچے کی جانب ہوتا ہے، جب ابلاغ کے عمل کا یہ مرحلہ مکمل ہوجاتا ہے تو ابلاغ کا یہ عمل اپنے پھیلائو کے ل ئیے دوسری سمتیں تلاش کرتا ہے۔ ==قومی معاملات کا تجزیہ== مصنف تاریخی مثال سے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے یہاں ہر برائی کا آغاز ہمارے سر کی جانب سے ہوا ہے ہمارے سیاست دانوں نے ہم سےجھوٹ بولا۔ شاعروں اور ادیبوں اور دانشوروں نے جھوٹ بولا، علماء نے جھوٹ بولا، صحافیوں نے جھوٹ بولا، ہمیں سب نے جھوٹ کا تجربہ فراہم کیا اور اب بھی کررہے ہیں۔ دلچسب بات یہ ہےکہ جو اس عمل کے ذمہ دار ہیں وہی اس پر واویلا بھی کررہے ہیں۔ ==جھوٹ کے معاشرے پر اثرات== (contracted; show full) ==جھوٹ اور سچ کی نفسیاتی جہت میں فرق== سوال یہ ہے کہ جھوٹ اور سچ کی نفسیاتی جہت میں بنیادی فرق کیا ہے؟ مصنف کے خیال میں جھوٹ ایک پیچیدہ اور پراگندہ ذہنی صورتحال کا عکاس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سچ واضع اور صاف ذہنی کیفیات کا مظہر ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کو ایک جھوٹ بول کر ہزار جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی ذہن تہہ در تہہ ذہنی الجھنون کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک جھوٹ کو جواز فراہم کرنے کے ل ئیے اسے دوسرا جھوٹ گھڑنا ہوتا ہے۔ دوسرے جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئیے تیسرا جھوٹ ایجاد کرنا پڑتا ہے اور یوں یہ صورتحال ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس سفر میں ہر قدم پر انجام ہی انجام ہے آغاز کہیں نہیں۔ اس کے برعکس سچ کا معاملہ آفتاب آمد دلیل آفتاب والا ہوتا ہے۔ اسے مخصوص معنوں میں کسی جواز کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا کوئی جواز ہوتا بھی ہے تو وہ اس کے سہارے کے لیے نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے لئیے پل Bridge کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ بلکہ یہ جواز اس سچ کی کوئی بہت معولی جہت ہوتی ہے۔ جو پل کا کام انجام دے کر نمایاں اور معتبر ہوجاتی ہے۔ ==آدمی جھوٹ کیوں بولتا ہے؟== آدمی کے جھوٹ بولنے کی درج ذیل وجوہات ہوتی ہیں۔ * ناکافی Inadequate ہونے کا احساس * ذمہ داری سے بچنے کی خواہش مصنف کا خیال ہے کہ جب کوئی انسان اپنے آپ کو کسی خاص صورتحال میں ناکافی محسوس کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس صورتحال میں (کافی) بنانے کے لئیے جھوٹ بولتا ہے۔ ہر انسان بیک وقت کئی اقسام کے ماحول اور صورتحال میں زندہ رہتا ہے۔ مثال کے طور پر * علمی صورتحال * معاشی صورتحال * سماجی صورتحال * سماجی مرتبے کی صورتحال * خاندانی صورتحال * جسمانی خصوصیات کی صورتحال وغیرہ (contracted; show full)چھ ہی لوگ ہوتے ہیں جن کو قدرت کئی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کرتی ہے۔ انسانوں کی انہیں صلاحیتوں کے اعتبارسے معاشرے میں ایک خاص نظام ِ مراتب وجود میں آتا ہے۔ اس نظام میں کوئی شخص غیر اہم نہیں ہوتا البتہ ایک شخص دوسرے شخص سے بعض خصائص کی بناء پر زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اس نظام میں روحانی سرگرمیوں میں مصروف لوگوں کا مقام سب سے بلند ہوتا ہے۔ اس کے بعد تخلیقی کام کرنے والوں کا نمبر آتا ہے۔ اس کے بعد ہنر مندوں اور پھر جسمانی محنت کرنے والوں کی باری آتی ہے۔ ان افراد کے مرتبے تو ایک دوسرے سےجدا ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے ل ئیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ ان سب کو ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی ضرورت انہیں مستقل اہم بنائے رکھتی ہے۔ ==جھوٹ کا رجحان کم رکھنے والے معاشرے== حفظ مراتب کا خیال رکھنے والے معاشروں کے متعلق مصنف کا خیال ہے کہ ایسے نظام مراتب کا تصور رکھنے والے اور اس تصور پر یقین رکھنے والے معاشروں میں حسد کا مادہ اور اس ھوالے سے جھوٹ کا رجحان بہت کم ہوتا ہے۔ کیونکہ ان معاشروں میں ہر مرتبے پر فائز شخص کو اپنی اہلیت و اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس کے باعث وہ، (وہ) بننے کی کوشش نہیں کرتا جو وہ نہیں ہوتا۔ اسی لئیے وہ ناکافی پن احساس کا شکار نہیں ہوتا جو ہمارے معاشرے میں اور دنیا کے دیگر معاشروں میں بہت عام ہوچکا ہے۔ ==جھوٹ، ذمہ داری سے بچنے کا رجحان== جھوٹ بولنے یا دروغ گوئی سے کام لینے والوں کا تجزیہ کرتئ ہوئے شاہنواز فاروقی لکھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے کا دوسرا سبب ذمہ داری سے بچنے کا رجحان ہے۔ اگرچہ کہ ذمہ داری سے بچنے کا رجحان بھی انسان کی پست اخلاقی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن انسان جب اس سے ایک قدم بڑھ جاتا ہے تو ہم اسے پست اخلاقی کی انتہاء قرار دے سکتے ہیں۔ یہ اگلا قدم ہے کہ اپنی ذمہ داری یا اس کے نتائج کو دوسروں پر منتقل کرنا۔ اس صورتحال کے مظاہر عام زندگی سے لے کر قومی زندگی کے اہم ترین معاملات تک آسانی سے دیکھ جا سکتے ہیں۔ مصنف اپنے معاشرے کی مثال پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پورے اخلاقی نظام سے واقف لوگ اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس کرتے ہیں چونکہ یہ جواب طلب کرسکتے ہیں اس لئیے جواب دینے کے مکلف بھی ہیں، مصنف اپنی دلیل میں ایک تلخ مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان دوٹکڑے ہوگیا کوئی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار بھٹو صاحب ہیں، بھٹو صاحب کہتے ہیں کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں۔ اس کی ذمہ دار عوامی لیگ ہے، عوامی لیگ کو مغربی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے سے مسلسل شکایتیں تھیں۔ کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ اس صورتحال پر سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ جب قوم کے بااثر اور حکمران طبقہ جھوٹ بولنے لگیں تو قومیں بڑے بڑے سانحوں سے دوچار ہوتی ہیں مگر اس قدر عظیم سانحے بھی ان کے حکمرانوں کو سچ بولنے پر مجبور نہیں کرسکتے چونکہ بگاڑ کافی حد تک بڑھ چکا ہوتا ہے۔ اپنے وطن کے دولخت ہونے کو وہ ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اتنے بڑے سانحے پر بھی حکمرانوں کو اتنا تاسف بھی نہیں ہے جتنا کہ ایک گلاس کے ٹوٹنے پر ہوا کرتا ہے چونکہ بقول مصنف قوم جھوٹی ہے اور اس کے حکمران جھوٹوں سردار۔۔۔۔ مذہبی تناظر میں وہ اپنی بات کو کچھ اس طرح لکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کوئی حقیقی مذہبی صورتحال موجود نہیں ہے۔ نعرے بازی اور حماقت کی حدود کو چھوتی ہوئی سادہ لوحی کی بات اور ہے۔ ورنہ درحقیقت ہمارا معاشرہ مذہب سے بے نیاز دکھائی دیتا ہے۔ اپنے مشاہدات کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسے بے شمار لوگوں کو دیکھا ہے جو دوسروں کی معاشی صورتحال کو بہتر دیکھ کر اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ کچھ لوگ ان کے نزدیک ایسے بھی ہیں جو دوسروں کے بلند سماجی مرتبوں کو دیکھ کر اپنے سماجی مرتبوں کو بلند کرنے کے لئیے کمر ہمت کس کے میدان عمل میں کودے ہوئے ہیں۔ مگرلوگ کسی متقی پرہیز گار آدمی کو دیکھ کر اپنے روحانی مرتبے کی بلندی کے لئیے کوشاں نہیں ہوتے۔ دوسروں کی بہتر معاشی حالت اور بلند سماجی مرتبے انسانوں کو ان کے ناکافی ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ مگر کسی روحانی ترقی کو دیکھ کر انہیں ایک لمحے کے لئیے بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اس میدان میں کتنے پیچھے ہیں اور انہیں اس شخص کی طرح اس میدان میں آگے بڑھنا چاہئیے۔ مصنف کا کہنا کہ خدانخواستہ راقم کے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے معاشرے میں سچے مذہبی لوگ نہیں ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں اور یہ معاشرہ انہی کے اعمال کی برکتوں سے ابھی تک سالم اور قائم ہے۔ مگر یہ لوگ تعداد میں اتنے ہیں کہ <div style='text-align: center;'> ہرچند کہیں کہ ہیں، نہیں ہیں </div> ==جھوٹ کے سیاسی نام== شاہنواز فاروقی کا سیاست میں دروغ گوئی اور جھوٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سیاست کے میدان میں جھوٹ کے احساس جرم کو کم کرنے کے لئیے بڑی دلکش اصلاحات وضع کی گئی ہیں۔ مقامی سیاست میں جھوٹ کو حکمتِ عملی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ بین الاقوامی سیاست میں اسے ڈپلو میسی کہا جاتا ہے ہمارے انفرادی اور اجتماعی زندگی کی حکمت عملی اور ڈپلومیسی کے پاٹوں کے درمیان پس رہی ہے۔ نہ جانے کب تک پستی رہے گی۔؟؟؟؟؟ [[زمرہ:نامعلوم]] [[زمرہ:مضامین]] [[زمرہ:صحافت]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2771666.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|