Difference between revisions 2771666 and 2787179 on urwikiانسانی مزاج اور نفسیات میں مختلف عناصر کو دخل ہے۔ ماہرین نفسیات انسانی عادات، اطوار اور جرائم کا نفسیتاتی تجزیہ مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ کہیں انسان کے متشدد ہونے کا تجزیہ کیا جاتا ہے، کہیں جرائم کی نوعیت پر تحقیق ہوتی ہے، کوئی مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر اور تشدد پسند اور تنہائی پسند آدمی پر تحقیق کرتا ہے۔ یوں فلسفی اور دانشور انسانی مزاج اور حرکات و سکنات کا مختلف انداز میں تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹ بھی انسانی نفسیات کا ایک جزو ہے جس کا تعلق مختلف عوامل سے ہے۔ جھوٹ کیا ہے؟ انسان ج(contracted; show full)ے دعویدار ہے اور محسوس یہ ہوتا ہے گویا اسلام سے محبت اور اس کا تحفظ صرف اور صرف اسی کی ذمہ داری ہو۔ مگر جب اس کی عملی زندگی کو دیکھو تو دوسرا ہی منظر سامنے آتا ہے۔ ہم میں سے اکثر جتنی پابندی سے پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں اتنی ہی پابندی سے رشوت بھی لیتے ہیں، جتنے خلوص سے روزے رکھتے ہیں اتنے ہی خلوص کے ساتھ اشیاء میں ملاوٹ بھی کرتے ہیں۔ جتنی خاموشی سے غریبوں کی مالی مدد کرتے ہیں اتنی ہی خاموشی سے ریاستی ٹیکس چراتے ہیں۔ جھوٹ، جھوٹ، جھوٹ، ہرجگہ جھوٹ، یہ سب صورتیں جھوٹ عملی شکلیں ہیں۔ اگر اہرمن کا وجود تسلیم کر لیا جائے تو ہم میں سے ہر ایک جھوٹ کا ایک مستند پیغمبر ہے۔ ہماری زندگی ہم پہر نازل ہونے والا جھوٹ کا صحیفہ ہے۔ اور ہم خود اپنی امت ہیں، امت ِ شر، ایسی امتِ شر جس کے شر کا نشانہ کوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔ ==جھوٹ سے نفرت کی خواہش== مصنف کے مطابق سچ کی اہمیت یہ ہے ہر شخص سچ کا طالب ہوتا ہے اور جھوٹ کو سخت ناپسند کرتا ہے اس کی مثال وہ یوں دیتے ہیں کہ اگر کسی بہت بڑے دروغ گو یا جھوٹے شخص سے بھی دروغ گوئی کی جائے تو وہ اس پر شدید برہمی کا اظہار کرے گا اور مطالبہ کرے گا کہ اس سے سچ بولا جائے۔ (contracted; show full) ==قومی معاملات کا تجزیہ== مصنف تاریخی مثال سے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے یہاں ہر برائی کا آغاز ہمارے سر کی جانب سے ہوا ہے ہمارے سیاست دانوں نے ہم سےجھوٹ بولا۔ شاعروں اور ادیبوں اور دانشوروں نے جھوٹ بولا، علماء نے جھوٹ بولا، صحافیوں نے جھوٹ بولا، ہمیں سب نے جھوٹ کا تجربہ فراہم کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ دلچسب بات یہ ہےکہ جو اس عمل کے ذمہ دار ہیں وہی اس پر واویلا بھی کر رہے ہیں۔ ==جھوٹ کے معاشرے پر اثرات== جھوٹ یا دروغ گوئی کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب وہ کچھ یوں دیتے ہیں اگرچہ کہ اہل دانش کی اہمیت بہت ہوتی ہے مگر ایک خاص مرحلے پر جاکر عوام کی اہمیت اہل دانش سے بڑھ جاتی ہے اور وہ اس طرح کے اوپر سے آنے والے پیغام کو عوام ہی زندگی کا تجربہ بناتے ہیں، ہر پیغام اس وقت تک بے معنی ہوتا ہے جب تک وہ زندگی کا عام تجربہ نہ بن جائے۔ تجربہ سے معاشرتی قدریں وجود میں آتی ہیں۔ یہی قدریں معاشرے میں زندگی کا پورا منظر نامہ ترتیب دیتی ہیں۔ (contracted; show full) </div> ==جھوٹ کے سیاسی نام== شاہنواز فاروقی کا سیاست میں دروغ گوئی اور جھوٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سیاست کے میدان میں جھوٹ کے احساس جرم کو کم کرنے کے لیے بڑی دلکش اصلاحات وضع کی گئی ہیں۔ مقامی سیاست میں جھوٹ کو حکمتِ عملی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ بین الاقوامی سیاست میں اسے ڈپلو میسی کہا جاتا ہے ہمارے انفرادی اور اجتماعی زندگی کی حکمت عملی اور ڈپلومیسی کے پاٹوں کے درمیان پس رہی ہے۔ نہ جانے کب تک پستی رہے گی۔؟؟؟؟؟ [[زمرہ:نامعلوم]] [[زمرہ:مضامین]] [[زمرہ:صحافت]] All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2787179.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|