Difference between revisions 2787179 and 2845910 on urwiki

انسانی مزاج اور نفسیات میں مختلف عناصر کو دخل ہے۔ ماہرین نفسیات انسانی عادات، اطوار اور جرائم کا نفسیتاتی تجزیہ مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ کہیں انسان کے متشدد ہونے کا تجزیہ کیا جاتا ہے، کہیں جرائم کی نوعیت پر تحقیق ہوتی ہے، کوئی مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر اور تشدد پسند اور تنہائی پسند آدمی پر تحقیق کرتا ہے۔ یوں فلسفی اور دانشور انسانی مزاج اور حرکات و سکنات کا مختلف انداز میں تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹ بھی انسانی نفسیات کا ایک جزو ہے جس کا تعلق مختلف عوامل سے ہے۔ جھوٹ کیا ہے؟ انسان ج(contracted; show full)
مصنف کے مطابق سچ کی اہمیت یہ ہے ہر شخص سچ کا طالب ہوتا ہے اور جھوٹ کو سخت ناپسند کرتا ہے اس کی مثال وہ یوں دیتے ہیں کہ اگر کسی بہت بڑے دروغ گو یا جھوٹے شخص سے بھی دروغ گوئی کی جائے تو وہ اس پر شدید برہمی کا اظہار کرے گا اور مطالبہ کرے گا کہ اس سے سچ بولا جائے۔ 
مصف کا کہنا ہے کہ انسان جب تک دوسروں سے جھوٹ بولتا ہے مگر اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بولتا تو معاملہ ایک حد میں رہتا ہے۔ مگر انسان اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولنے لگے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ انسان کو اپنے ضمیر کے پست ترین درجے سے بھی محروم ہو
  گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
==جھوٹ کا سب سے خطرناک پہلو==
شاہنواز فاروقی دروغ گوئی کے ایک پہلو کو خطرناک ترین قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جھوٹ کی سب مکروہ بات یہی ہے کہ وہ سچ کی قیمت پر بولا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا سبب کیا ہے ؟؟ اور جھوٹ کی نفسیات کیا ہے ؟؟ یعنی انسان جھوٹ کیوں بولتا ہے۔ ؟؟
==دروغ گئی کی ابتداء کیسے ہوتی ہے؟==
(contracted; show full)

مصنف اپنے معاشرے کی مثال پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پورے اخلاقی نظام سے واقف لوگ اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس کرتے ہیں چونکہ یہ جواب طلب کرسکتے ہیں اس لیے جواب دینے کے مکلف بھی ہیں، مصنف اپنی دلیل میں ایک تلخ مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان دوٹکڑے ہو
  گیا کوئی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار بھٹو صاحب ہیں، بھٹو صاحب کہتے ہیں کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں۔ اس کی ذمہ دار عوامی لیگ ہے، عوامی لیگ کو مغربی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے سے مسلسل شکایتیں تھیں۔ کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

(contracted; show full)
</div>
==جھوٹ کے سیاسی نام==
شاہنواز فاروقی کا سیاست میں دروغ گوئی اور جھوٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سیاست کے میدان میں جھوٹ کے احساس جرم کو کم کرنے کے لیے بڑی دلکش اصلاحات وضع کی گئی ہیں۔ مقامی سیاست میں جھوٹ کو حکمتِ عملی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ بین الاقوامی سیاست میں اسے ڈپلو میسی کہا جاتا ہے ہمارے انفرادی اور اجتماعی زندگی کی حکمت عملی اور ڈپلومیسی کے پاٹوں کے درمیان پس رہی ہے۔ نہ جانے کب تک پستی رہے گی۔؟؟؟؟؟

[[زمرہ:نامعلوم]]
[[زمرہ:مضامین]]
[[زمرہ:صحافت]]