Difference between revisions 2768490 and 2768491 on urwikiاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الصلواة و السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بفیضانِ نظر حضور صدرالصدور قطب الاقطاب اعلیٰ حضرت علامہ جیلانیؓ چاند پوری جانِ حسنؑ حضور سیدنا عبداللہ الاشتر المعروف بہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ(درگاہ شریف بمقام: کلفٹن کراچی) تحریر: سید اظہر علی علوی القادری ہمارے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت علامہ جیلانی چاند پوریؓ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں مختلف مواقع پر حضرت عبداللہ شاہ غازی ؓ کے بارے میں کچھ ارشادات عطا فرمائے تھے جو میری یاداشت میں محفوظ رہ گئے۔ میں نے چاہا کہ ان ارشادات کو ایک مضمون کی شکل میں لکھ دوں تاکہ بات ریکارڈ میں آجائے اور جن بھائیوں تک یہ ارشادات نہیں پہنچ سکے ہیں، ان کو بھی یہ مفید معلومات حاصل ہوجائیں۔ کراچی کے ساحل پر ایک نہایت قدیم ترین مزار شریف موجود ہے جس کو ہم حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درگاہ کے طور پر جانتے ہیں۔ آپؓ کا دربارِ اقدس صدیوں سے مرجع الخلائق ہے، عوام کی ایک بڑی تعداد عقیدت و محبت کے ساتھ یہاں حاضر ہوتی ہے اور صاحبِ مزار کے وسیلہ سے اللہ رب العزت کے حضور اپنے لئے دعا کی درخواست کرتی ہے اور مراد پاتی ہے۔ لیکن شاید بہت ہی کم لوگ صاحبِ مزار کے دردناک حالاتِ زندگی اور ان کے عظیم الشان حسب و نسب سے واقف ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے اس عظیم الشان ولی کے کچھ حالاتِ زندگی قلم بند کریں، شاید ہمارا نام بھی ان کے ادنیٰ ترین غلاموں میں شامل کرلیا جائے، انشاءاللہ تعالیٰ۔ اللہ رب العزت کے اس ولی کے مصائب پڑھ کر یا سن کر اگر کسی درد مند اور انصاف پسند کی آنکھیں اشک بار ہوجائیں تو قیامت کے دن یہی آنسو اس کی نجات کا سبب بنیں گے۔ معلوم ہوناچاہئیے کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جگر گوشۂ بتول فرزندِ رسول ﷺ پانچویں خلیفۂ راشد امیر المومنین حضرت امام حسن مجتبےٰ علیہ السلام کے سگے پوتے حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سگے پوتے ہیں۔ آپؓ حسنی حسینی سید ہیں۔ آپؓ کا سلسلۂ نسب چھ واسطوں سے سرکارِ دو عالم ﷺ سے مل جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ شاہ غازی ؓ کا شجرۂ نسب درج ذیل ہے: 1۔ حضورِ اکرم نورِ مجسم فخرِ بنی آدم حضرت احمدِ مجتبےٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم 2۔ خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور مولائے کائنات حضرت علی المرتضےٰ شیرِ خدا ابوتراب علیہ السلام 3۔ امامِ عالی مقام سیدنا مولا حسن مجتبےٰ علیہ السلام 4۔حضرت سیدنا حسن مثنیٰ علیہ السلام 5۔ حضرت سیدنا عبداللہ محض علیہ السلام 6۔ حضرت سید محمد مہدی (نفسِ ذکیہ) علیہ السلام 7۔حضرت سید عبدالاشتر علیہ السلام (المعروف بہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)⏎ ⏎ حضرت سیدنا حسن مثنیٰ علیہ السلام کی شادی امامِ عالی مقام مولا حسین علیہ السلام کی سب سے بڑی صاحبزادی حضرت فاطمتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا سے ہوئی تھی۔ واقعہ کربلا کے وقت حضرت سیدنا عبداللہ محض علیہ السلام اپنی والدہ ماجدہ کے شکمِ مبارک میں تھے، اس لئے مولا حسین علیہ السلام، حضرت سیدنا حسن مثنیٰ علیہ السلام کو ان کی اہلیہ حضرت فاطمتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی دیکھ بھال کےلئے چھوڑ گئے تھے۔ اس طرح نہ صرف حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلکہ تمام حسنی سادات حضرت سیدہ فاطمتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی وجہ سے حسنی حسینی دونوں نسبتوں کے حامل ہیں۔ حضرت سیدنا عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تین صاحبزادے تھے: 1۔ حضرت محمد مہدی (نفسِ ذکیہ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ 2۔ حضرت محمدابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ 3۔ حضرت محمد موسیَؐ الجَون رضی اللہ تعالیٰ عنہ (ہمارے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت علامہ شاہ جیلانی چاند پوریؓ حضرت سیدنا موسیَٔ الجَون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد ہیں) حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں عباسی بادشاہ منصور کی حکومت تھی۔ منصور وہ شخص ہے جس نے سادات بالخصوص ساداتِ حسنی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے یہاں تک کہ مولا حسن علیہ السلام کے ایک پوتے کو چونے کے ستون میں زندہ دفن کرادیا جبکہ ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ بے انتہا حسین و جمیل شہزادے تھے، ان کا جسم چاندی کی طرح چمکتا تھا اور رات کے اندھیرے میں جہاں سے گزرتے تھے روشنی ہوجاتی تھی، اسی لئے ان کا لقب دیباج تھا۔ مولا حسن علیہ السلام کے یہ پوتے جن کو چونے کے ستون میں زندہ چنوایا گیا یہ حضرت عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سگے پوتے تھے یعنی حضرت محمد بن ابراہیم بن عبداللہ محض رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اور حضرت عبداللہ شاہ غازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سگے چچا زاد بھائی تھے)۔ درندگی کی یہ مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پنجتن پاک علیہم السلام سے محبت کے دعویدار اور خود کو پنجتن پاک علیہم السلام کا غلام کہنے والوں کے دل اگر آلِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ڈھائے گئے مظالم پر نہیں تڑپتے اور ان کی آنکھیں اشک بار نہیں ہوتیں تو محبت کا یہ دعویٰ درست نہیں کہا جاسکتا۔ مو رخین نے بھی منصور کی اس سنگ دلی پر حیرت کا اظہار کیا ہے کیونکہ بنی امیہ تو آلِ رسول ﷺ کے کھلم کھلا دشمن تھے، منبر سے حضرت علی ؑ اور جنابِ سیدہ بی بی فاطمہ ؑ اور ان کی اولاد کو نعوذباللہ(نقلِ کفر کفرناباشد) گالیاں دیتے تھے لیکن عباسیوں اور علویوں میں تو قریبی رشتہ موجود تھا اور بنی امیہ کے دور میں عباسی اور علوی شیر و شکر تھے۔ منصور نے سادات پر اور بالخصوص حسنی سادات پر اتنے زیادہ ظلم کئے ہیں اور اتنا قتل و غارت کیا ہے کہ منصور کے جرائم کی فہرست یزید کے جرائم سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2768491.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|