Difference between revisions 2773716 and 2787790 on urwiki{{انضمام مضمون|سجاد ظہیر}} ''''[[سجاد ظہیر]]''' کی ہمہ جہت شخصیت زندہ قوموں کے لیے ہمیشہ باعث صدافتخار رہے گی۔ زمینی سطح پر ترقی پسند ادبی تحریک کے معمار کی حیثیت سے تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ دراصل ان کے یہاں آزادی کا ایسا تصور تھا جو ہر عام آدمی کا خواب بھی تھا ۔ وہ اسے شرمندہ�¿ تعبیر کرنا چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ زندگی کا اہم ترین حصہ اس تحریک کےلئے صرف کیاجس میں تمام انسانی برادری کی فلاح بہبود شامل تھی۔باضابطہ طور پر انہوںنے 1919میں تحریک آزادی میں حصہ ل(contracted; show full) سجّاد ظہیر کے پسندیدہ شاعروں میں حافظ سرفہرست تھے۔ ان کی تحریروں میں حافظ جابجا نظر آتے ہیں۔ 1942 میں ہی ”ذکر حافظ“ کے نام سے حافظ کی شاعری پر ان کا بیش بہا تحقیقی مقالہ شائع ہوااور اس کتاب کی اتنی اہمیت ہے کہ حافظ پر مستند گفتگو اس کے بغیر معتبر نہیں ہوسکتی۔ ”روشنائی“ جو ترقی پسند مصنّفین کی تاریخ سے منسوب ہے، سجّاد ظہیر کی مقبول ترین کتابوں میں ایک ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے مسلّم ہے کہ ترقی پسند تحریک کی مستند تاریخ کے ساتھ اس کی معنویت کا اس سے بہتر احاطہ اب تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ ”روشنائی“عوامی بیداری اور مقصد حیات کی تکمیل کے لیے ایک ضروری کتاب ہے۔ اب بھی نئی دنیا اس سے تحریک حاصل کر رہی ہے۔ محض سو برسوں میں نہ جانے کتنی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ ہر لمحہ دنیا میں تغیر آرہا ہے۔ ہمارا عہد اب کوئی سمت متعین نہیں کرتا بلکہ تغیر ہی کسی راہ کا تعین کرتی ہے۔ سجّاد ظہیر نے اس حقیقت کو زمین پر لانے کی کوشش کی تھی جو انسان کو اور خصوصی طور پر عام انسان کو پوری دنیامیں افضلیت عطا کر سکے۔انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ ترقی پسندی ہی ہمیشہ تغیرات کو معنویت سے روشناس کرواسکتی ہے۔ متعصب رویے تو تیز رفتار زندگی کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اب کسے فرصت ہے کہ مذہب، ذات ، فرقے کی فرسودہ روایتوں میںاپنے تابناک مستقبل کو دفن کرے۔ بس حقیقت نگار ہی نئی دنیا کا علمبردار ہوسکتا ہے۔ ایسے میں سجّاد ظہیر کا نظریہ ہی ہماری رہنمائی کے لیے معاون ہے۔ All content in the above text box is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike license Version 4 and was originally sourced from https://ur.wikipedia.org/w/index.php?diff=prev&oldid=2787790.
![]() ![]() This site is not affiliated with or endorsed in any way by the Wikimedia Foundation or any of its affiliates. In fact, we fucking despise them.
|