Difference between revisions 2827634 and 2832552 on urwiki

{{حذف|حقوق نسخہ کی پامالی}}
{{حقوق نسخہ|}}
=حافظ عبدالرحیم صاحب شہیدؒ=
[[File:حافظ عبدالرحیم شہید.jpg|thumb|'''حافظ عبدالرحیم''' شہیدؒ<br />
جہاد افغانستان کے نامور کمانڈر]]
(contracted; show full)]] میں حاصل کی۔ دس سال کی عمر میں [[قندھار]] شہر میں ہرات بازار کے دھنی نامی علاقے میں ایک مدرس امام مسجد سے دینی کتب کی تعلیم کے سلسلے کا آغاز کیا۔ دو سال بعد [[پاکستان]] کے سرحدی شہر [[چمن]] میں قاری محمد ولی صاحب کے مدرسے میں حفظ [[قرآن]] کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد [[پاکستان]] کے مشہور شہر [[کوئٹہ]] میں مدرسہ مظہرالعلوم '''[ جو اب شالدرہ مدرسے کے نام سے مشہور ہے]''' میں حفظ [[قرآن]] کا سلسہ جاری رکھا ۔
قرآن کریم کی حفظ کے بعد حافظ صاحب [[قندھار]] آئے اور دینی تعلیم کے حصول ک
یلئے لیے یہاں” لوویالے ” کے علاقے میں مولوی عبدالغفور صاحب کے مدرسے میں داخلہ لیا۔ ایک سال تک اس مدرسے میں حصول علم کے بعد [[پاکستان]] کارخ کیا اورمختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتے رہے ۔ [[1984ء]] میں آپ نے [[کستان]] کے شہر [[صوابی]] میں شیخ التفسیر مولانا عبدالہادی صاحب [“جو شاہ منصوربابا جی صاحب کے نام سے مشہور تھے“ ] سے قرآن کریم کی تفسیر پڑھی۔<ref name="shahamat-urdu.com"/>
===کمیونسٹ دورجہاد اور تکمیل تعلیم===
(contracted; show full)

==امریکا کے خلاف جہادی کاروائیوں کا آغاز==
حافظ عبدالرحیم صاحب کندھار کی سطح پر امریکا کے خلاف لڑنے والے سرکردہ مجاہدین میں سے ہیں۔ امارت اسلامی کی سقوط کے بعد مجاہدین نہایت مشکلات کا شکار تھے۔ امریکا کی بربریت اور ملکی سطح پر حالات کی دگرگوں صورتحال نے مجاہدین کو اسلحہ رکھنے اور کچھ عرصہ ک
یلئے لیے گوشہ نشینی پر مجبور کیا۔

لیکن اس کڑے وقت میں ایسے با عزم مجاہدین بھی تھے جو حالات سے نہیں گھبرائے بلکہ نہایت سخت ترین حالات میں بھی جدوجہد جاری رکھی ان اولوالعزم مجاہدین میں ایک شہید حافظ عبدالرحیم صاحب بھی تھے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کندھار کے سقوط کے بعد میں اپنے گھر واقع بولدک چلا آیا۔ دو دن آرام کے بعد تیسرے دن بندوق اٹھاکر اکیلا جہاد کی نیت سے گھر سے نکل آیا۔ سب سے پہلے انزرگی کے علاقے میں ایک 45 سالہ مجاہد بارکزی آکا سے ملاقات ہوئی اور انہیں اپنے جہاد کے ارادے کے بارے میں بتا دیا انہوں نے مکمل تعاون اور ساتھ جانے کی حامی بھرلی اور پھر ہم دونوں یہاں سے دوسرے مجاہدین کی تلاش اور امریکا کے خلاف عملی جہاد کی راہ ہموار کرنے کیلئے لیے جدوجہد شروع کی۔

حافظ صاحب کے قریبی ساتھی ملا شیخ محمد آخند کہتے ہیں: کہ کندھار کی سقوط کے بعد جب رمضان کا آخری عشرہ جاری تھا حافظ صاحب گھر تشریف لائے۔چونکہ وہ امریکا کے خلاف جہادی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ اس لیے امریکی کاسہ لیسوں نے ان کی گھر میں موجودگی کی اطلاع پاکر ان کے گھر پر چھاپہ مارا تاکہ وہ انہیں گرفتار کرسکے لیکن اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت سے وہ ان ظالموں کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنا گھر بولدک کے علاقے” وت” سے لوئی کاریز کے علاقے منتقل کر لیا۔ [[عید الفطر]] کے چھٹے روز میں ان کے گھر گیا، حافظ صاحب نے مجھ سے کہا کہ امریکا کے خلاف جہاد کرنا ہے اگر آپ کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہے تو وہ مجھے دے دو۔<ref name="shahamat-urdu.com"/>
==مولوی عبدالباقی کی زبانی==
 مولوی عبدالباقی صاحب کہتے ہیں :کہ آغاز جہاد میں حافظ صاحب اکیلے تھے۔ رات کو خفیہ طور پر لوگوں کو جہاد کی دعوت دیتے بعد میں ان کے ایک چچا زاد بھائی ملا عبدالباری نے بھی ان کا ساتھ دیا اور اس راہ میں ا ن کے راہی بنے اور اب دونوں موٹر سائیکل پر مسلح گشت کرتے رہتے۔ دن پہاڑوں اور کھنڈر پر گذارتے اور رات کو لوگوں کو جہاد کی دعوت دیتے اور جہاد کیلئے لیے اسلحہ تلاش کرتے رہے اور کئی ماہ تک آپ نے خفیہ طور پر یہ مشن جاری رکھا ۔ حافظ صاحب کے فرزند مولوی حمداللہ کہتے ہیں کہ اس وقت میرے والد مہینے میں صرف ایک دن گھر تشریف لاتے۔ آدھی رات کو گھر آتے اور پھر صبح خفیہ طور پر گھر سے نکل جاتے۔ کیونکہ اس وقت حالات بہت خراب تھے جبکہ امریکی اور ان کے کاسہ لیس اہلکار بھی حافظ صاحب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوئے تھے۔

===ہڈہ پہاڑ میں جہادی مرکز===
حافظ عبدالرحیم صاحب امریکی جارحیت کے ابتدائی مہینوں میں دعوت جہاد میں مصروف تھے، ساتھیوں کے لئیےاسلحہ اور جنگی وسائل کا بھی بندوبست کرتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے مجاہدین کی ایک چھوٹی جماعت تیار کرلی، جس میں اس وقت کے مشہور اور بہادر مجاہد شہید عبدالغنی جو تور غنی کے نام سے مشہور تھے بھی شامل تھے۔ اس وقت حافظ صاحب نے ایک جہادی مرکز بنانے کا ارادہ کر لیا۔
====حافظ صاحب کی مالی قربانیاں====
چونکہ حافظ صاحب کے ساتھ پیسوں اور دوسرے مالی وسائل کی شدید کمی تھی اس لیے [[۱۴۲۳ھ]] شعبان کے مہینے میں اپنے گھر کے بستر،برتن اور دوسرا ضروری سامان اٹھا کر ضلع بولدک سے ملحقہ ہڈہ پہاڑ کے علاقے میں ایک خفیہ جہادی مرکز بنایا۔ اس جہادی مرکز میں شروع میں حافظ صاحب کی قیادت میں صرف پانچ مجاہدین رہائش پزیر تھے۔ 
====پانی کی قلت====
پہاڑی اور بنجر زمین ہونے کے ناطے یہاں پانی ناپید تھا اور مجاہدین اس پانی سے استفادہ کرتے جو پچھلی بارشوں کی وجہ سے جوہڑوں میں جمع ہوتا تھا چونکہ یہ پانی پینے کے قابل نہیں تھا صرف وضو، برتن اورکپڑے وغیرہ دھونے کے کام آتا تھا اس لیے مجاہدین نے ایک مخلص شخص کو اجرت پر پانی لانے کیلئے لیے راضی کیا جو ہر چار دن بعد ماشینگزو کے علاقے سے گدھوں پر پانی لادتا اور مجاہدین تک پہنچاتا۔
===امریکیوں کیخلاف جہاد کی تیاری===
اس مرکز سے حافظ صاحب نے سب سے پہلے اپنی جدوجہد کا آغاز اس طرح کیا کہ رات کو اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ میدانی علاقوں میں آباد مختلف گاؤں میں گشت کیلئے لیے نکل جاتے۔ جن لوگوں کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں انہیں گھر سے باہر بلا کر اپنا کام چھوڑنے اور توبہ کرنے کی تلقین کرتے۔ جس میں انہیں کافی حد تک کامیابی ملی۔
===مساجد میں جہاد کی دعوت===
 ماہ رمضان میں مساجد میں تراویح کے کے بعد لوگوں کو دعوت جہاد دیتے اور لوگوں سے کہتے کہ کفار نے ہمارے ملک پر جارحیت کی ہے اس کے خلاف جہاد ہم سب پر فرض ہے۔ انہیں بتاتے کہ کفار کا ساتھ دینے کیلئے لیے ان کی صفوں میں شامل نہیں ہونا۔ اس وقت حافظ صاحب کے ساتھیوں کی تعداد 20 تک پہنچ چکی تھی جو رات کو گھر گھر جاتے ،لوگوں جہاد کی دعوت اور کفار کا ساتھ دینے سے منع کرتے اور رات کے آخری پہر واپس اپنے جہادی مرکز ہڈہ پہاڑ پہنچ جاتے۔<ref name="shahamat-urdu.com"/>

==دعوت جہاد سے عملی جہاد کا سفر==
===قومی جرگہ سے دعوت جہاد===
۴ ذوالقعدہ ۱۴۲۳ھ کو بولدک کے علاقے سیبت میں ایک بڑا قومی جرگہ جاری تھا۔ جب حافظ صاحب کو پتہ چلا تو انہوں جہادی دعوت کیلئے لیے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنے 25 مسلح ساتھیوں سمیت وہاں پہنچ گئے اور اس جرگے سے جہاد کے موضوع پر ایک پر جوش تقریر کی اور لوگوں کوامریکا کے خلاف جہاد میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
===امریکیوں کیخلاف پہلی کارروائی===
(contracted; show full)
حافظ صاحب اور تین شہداء کے جسد خاکی جنگ کے میدان میں رہ گئے۔ واقعے کے ایک دن کے بعد محلے کے بزرگوں نے حافظ صاحب کو اسی علاقے میں ہی سپرد خاک کیا۔ لیکن جب امریکی وحشیوں اور ان کے زرخرید غلاموں کو پتہ چلا تو انہوں نے دو دن کے بعد حافظ صاحب کا جسد خاکی نکال کر قندھار شہر لایا اور پھر ایک دن کے بعد حافظ صاحب کی جسد کے ان کے ورثاء کے حوالے کی گئی۔ جنہوں نے بعد میں انہیں ضلع بولدک علاقے پاِیزو میں ماشینگزو قبرستان میں سپرد خاک کیا ۔
====اللہ کی راہ میں خر چ کرنے کا جذبہ====
جہاد کی راہ میں یہاں تک قربانی ک
یلئے لیے تیار ہوتے کہ اگر کبھی جہادی ضروریات کیلئے لیے سامان کی خریداری کامعاملہ ہوتا تو گھر کا سامان بیچ کر جہاد کی ضروریات رفع کرتے۔ آپ کے ایک مجاہد ساتھی کے مطابق کہ امریکی جارحیت کے پہلے سالوں میں حافظ صاحب نے کہا کہ زمین بیچنے کیلئے لیے کوئی گاہک تلاش کرو تاکہ ان پیسوں سے ساتھیوں کیلئے لیے جہادی ضرورت کا سامان خرید سکوں۔<ref name="shahamat-urdu.com"/>

== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}

[[زمرہ:خودکار ویکائی]]