Difference between revisions 2844501 and 3176613 on urwiki

{{نولکھائی درکار صفحات}}
{{صفائی}}
بسم اللہ الرحمن الرحیم
										تحریر: سید کوثر عباس موسوی

[email protected]
	
گر تو می خواہی مسلمان زیستن		نیست ممکن جزبقرآن زیستن(علامہ محمد اقبال)
{{[[قرآن]] کریم کا بروشسکی زبان میں پہلا اور واحد ترجمہ}}
جناب [[غلام الدین غلام ہنزائی]] کا شمار [[شمالی علاقہ جات]] [[گلگت]] میں [[اسماعیلیہ فرقہ]] کے بر جستہ علماء اور [[بروشسکی زبان]] کے محققین اور صاحب دیوان شعراء میں ہوتا ہے۔آپ تقریبا سترہ کتابوں کے مولف یا مترجم ہیں [[بروشسکی زبان]] میں کلام الٰہی کا ترجمہ آپ کی تازہ ترین کاوش ہے جو قرآنی تعلیمات اور [[بروشسکی زبان]] و ادب کے حوالے سے ایک گرانمایہ اضافہ ہے ۔[[قرآن]] مجید کا یہ ترجمہ قرآنی علوم پر کام کرنے والے بروشسکی زبان کے محققین اور طلباءہ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے۔قرآنی علوم کے ماہرین خصوصا بروشسکی زبان جاننے والے علماء بخوبی جانتے ہیں قرآن مجید جیسی عربی زبان کی فصیح وبلیغ الہٰامی کتاب کا بروشسکی جیسی تہی دامن زبان میں ترجمہ کرنا کتنا مشکل ،محنت طلب اور وقت طلب کام ہو سکتاہے۔مگر اس مشکل اور اہم کام کو جناب غلام الدین ہنزائی نے چند سالوں کی محنت سے بروشوقوم کے لیے آسان بنادیا۔پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بلتی،بروشسکی،شینا،کھوار اور وخی زبانے بولی جاتی ہیں۔ان میں سے بلتی اور کھوار زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ پہلے ہی ہوچکاتھا ۔اور شینا زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ اپنے تکمیل کے آخری مراحل سے گزر  رہاہے امیدہے کہ بہت ہی جلدقرآن مجید کا یہ ترجمہ بھی شایع ہوکر منظر عام پر آئے گا ۔لیکن اس سے پہلے جناب غلام الدین ہنزائی کی کاوشوں سے بروشسکی زبان کو بھی کلام الٰہی کااعجاز وبرکات لینے کا شرف حاصل ہوا ہے جس پر صرف غلام الدین ہنزائی ہی نہیں بلکہ بروشوقوم مبارک باد کے مستحق ہے۔کیونکہ فاضل مترجم نے قرآن مجید کا بروشسکی زبان میں ترجمہ کرکے نہ صرف بروشسکی زبان وادب کی خدمت کیا ہے بلکہ کلام الٰہی کوبروشوقوم تک ان کی اپنی زبان میں پہنچانے کا فریضہ بھی ادا کیا ہے۔جناب غلام الدین ہنزائی کواس زبردست اور تاریخی کارنامہ انجام دینے پر اس کا حقیقی اجر تو وہی (خداوند تعالٰی) دے گا جس کے کلام کا انہوں نے ترجمہ کیا ہے ۔لیکن اس تاریخی موقع پر شمالی علاقہ جات کے مشاہیرعلم وقلم نے بھی جناب غلام الدین ہنزائی کوخوب داد دیا ہے ۔
ہم یہاں پر شمالی علاقہ سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے بعض علماء اور دانشوروں کی رائے کو بیان کرتے ہیں . جناب فداعلی ایثار صاحب فاضل مترجم کو اس عظیم کارنامہ انجام دینے پر داد تحسین دیتے ہوئے لکھتے ہیں’’بروشوقوم کی جانب سے آپ بے پناہ تبریکات کے مستحق ہیں کہ آپ نے اس قوم کی علمی وادبی حوالے سے تنگ دامن زبان کو بھی ان زبانوں کی فہرست میں شامل کیا ،جن کا دامن قرآنی تراجم کے متاعِ بے بہاسے مالامال ہے ۔ہر چند کہ بروشسکی زبان تخلیقِ ادب کے ابتدائی مراحل سے گزر  رہی ہے ،مگر جوں جوں یہ زبان ادبی بلوغت کی منزلیں طے کرتی جائے گی۔توں توں بروشوقوم میں یہ میلان اور رغبت بھی بڑھتی جائے گی کہ وہ اپنی مادری زبان میں ترجمہ قرآن مجید سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرے اور تمام آنے والے بروشونسل کے لوگ جناب غلام الدین صاحب کی اس خدمت ترجمہ قرآن کو منت گزار نہ نظر سے دیکھ لیں گے آپ کی یہ لازوال خدمت ترجمہ قرآن بروشسکی زبان کے لیے یقینا ایک علمی وادبی خدمت متصور ہوگی‘‘۔
(contracted; show full)قرآن فہمی عام ہو جائے گی جس کااجر یقینا فاضل مترجم کوملے گا،خداوند متعال ان کی توفیقات میں مزید اضافہ کرے۔آپ نے جس خلوص اور جذبہ ایمانی کے ساتھ اس عظیم فریضہ کو انجام دیا ہے اس سے نہ صرف قرآنی تعلیمات اور بروشسکی زبان وادب کی خدمت ہوئی ہے بلکہ آپ نے یہ عظیم کارنامہ انجام دے کر اپنی علمی اور ادبی حیثیت کو بھی ممتاز بنادیاہے ۔کیونکہ قرآن مجید جیسی عربی زبان کی فصیح وبلیغ الہٰامی کتاب کا بروشسکی جیسی تنگ دامن زبان میں ترجمہ کرنا جوئے شیر لانے سے زیادہ مشکل کام ہے ۔جناب شیرباز علی برچہ صاحب کے بقول ’’باوجود اس
  کے مترجم نے قرآن پاک کا ترجمہ کرتے وقت اس کم مائیگی کا کہیں احساس ہونے نہیں دیا‘‘۔ بروشسکی زبان میں قرآن مجید کے ترجمے کی افادیت کے حوالے سے ذہنوں میں ایک سوال ابھرتاکہ بروشسکی ترجمہ پڑھنے میں دقت ہوتی ہے ۔(جناب فدا علی ایثار صاحب کے بقول)ہر چندکہ بروشسکی زبان تخلیق ادب کے ابتدائی مراحل سے گزر  رہی ہے مگر جوں جوں یہ زبان ادبی بلوغت کی منزلیں طے کرتی جائے گی ۔توں توں بروشوقوم میں یہ میلان اور رغبت بھی بڑھتی جائے گی کہ وہ اپنی مادری زبان میں ترجمہ قرآن مجید سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرے۔ 
بہر حال یہ ایک مقدس دینی فریضہ تھا جسے فاضل مترجم نے نہایت ہی احسن طریقے سے انجام دیاہے اب بروشسکی زبان جاننے والے علماء اور دانشوروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مقدس کام میں مزید نکھار پیدا کرنے کے لیے اپنی تجاویز سے جناب مترجم کوآگاہ کرے ۔انسان خطاونسیان کا پتلا ہے اگر اس ترجمے میں کہیں کوئی کمی بیشی نظر آئے تو بھی جناب مترجم کو آگاہ کریں تاکہ اگلے ایڈیشن میں اس کی تصحیح کی جاسکے۔
ہماری نظراس ترجمے کی چند خصوصیات یہ ہیں:
٭	اس ترجمے کی سب سے پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ بروشسکی زبان میں قرآن مجیدکا پہلا اور واحدترجمہ ہے ۔	
٭	مترجم کے بقول’’قرآن کریم کا ترجمہ کرتے وقت مروجہ بروشسکی زبان کو ترجیح دی گئی ہے ‘‘۔
٭	قرآن مجید کے عربی متن کو حظ طہ عثمان میں جبکہ بروشسکی ترجمہ کو اس  کے اپنے رسم الخط میں تحریر کیا گیاہے۔ 
٭	متن قرآن مجید کو دائیں صفحے پر جبکہ ترجمہ کو اس  کے مقابل بائیں صفحے پر درج کیاہے۔
٭	دونوں طرف آیت کا نمبر درج ہے اس سے متعلقہ یامطلوبہ آیت تلاش کرنے میں سہولت رہتی ہے۔
٭	ترجمہ کے آخر میں بروشسکی زائد حروف وعلامات کا تعارف اور مختصر گرائمربھی شامل کیا گیاہے تاکہ بروشسکی ترجمہ کو سمجھنے اور صحیح 
 پڑھنے میں قارئین کے لیے آسانی رہے۔
٭	لفظی ترجمہ کےی بجائے ہر ہر آیت کا بامحاورہ ترجمہ کیا ہے جو عام قارئین کے لیے آسان اور قابل تفہیم ہے۔
٭	اس ترجمے کی ایک خصوصیت فاضل مترجم کے ایزادات کا برمحل قوسین میں استعمال ہے۔جسے آیات کا مفہوم واضح ہونے کے علاوہ ان 
 کا باہمی ربط وتعلق بھی کھل کر سامنے آجاتاہے۔
٭	قرآن مجید کا متن ۴۰۶ صفحات اور ترجمہ بھی ۴۰۶ صفحات پر درج ہے اسی طرح متن اور ترجمہ دونوں ۸۰۲۱ صفحات پر مشتمل ہے۔
قرآن مجید کے اس ترجمے کے مطالعے کے دوران مذکورہ بالا تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ کچھ غلطیاں بھی نظر آئی ان سب کا اس مختصر مکالے میں ذکر کی گنجائش نہیں ہے ۔انشاء اللہ بہت جلدی اس ترجمے کے بارے میں ایک اورمفصل تحقیقی مقالے میںان تمام خوبیوں اور خامیوں کو بیان کرنے کو کوشش کی جائے گی ۔

[[زمرہ:بروشسکی تراجم قرآن]]