Difference between revisions 2953621 and 3120039 on urwiki

'''خلیل فرحتؔ۱۶؍اپریل ۱۹۳۴ء؁ کو بمقام کارنجہ ضلع واشم(مہاراشٹر) میں پیدا ہوئے'''۔شرف تلمذ خود کسی سے نہیں کی۔ انہوں نے اسی ضمن میںمجھے لکھا ہے کہ،[http://khalilfarhat.yolasite.com/]<ref>[http://khalilfarhat.yolasite.com/ Khalil Farhat Karanjvi<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref>

==    ’میں استادی شاگردی کا قائل نہیں۔ اس لیے اپنے ذوق ِسلیم کی رہنمائی میں شعری سفر جاری ہے۔ شاعری کی تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔‘‘ ==
    ان کی محبوب صنف سخن ’’غزل ‘‘ہے’’تضامین، قطعات ،پیروڈی ‘کا ایک وافر ذخیرہ موجود ہے۔مگر ابھی تک کوئی شعری مجموعہ طبع نہیں ہوا۔ البتہ ان کے بیٹے وسم فرحتؔ کارنجوی صاحب نے اطلاع دی ہے کہ خلیل فرحتؔ صاحب کا دیوان بعنوان ’’زخم  ِہنر‘ ‘اشاعت کی منزلیں طے کر  رہا ہے۔اور بہت جلد منظر عام پر آجائے گا۔انہوں نے مجھے ۲۸؍جنوری ۲۰۰۴ء؁ کو خط لکھتے ہوئے ایسی کئی مفید اطلاعات رقم کی ہیں ، خود مجھے طرفہ قریشی صاحب کے تعلق سے کچھ اطلاعات درکار تھیں۔ خلیل فرحتؔ صاحب سے ان کے مراسم تھے ،میں نے مالک رام کے تذکرۂ ماہ و سال کو بھی دیکھا اور بشارت علی خاں فروغ کی ’وفیات مشاہیر اردو ‘ کو بھی دیکھا۔ ان میں سے کسی میں بھی طرفہ صاحب کا ذکر نہیں۔تذکرہ معاصرین ۲ اور ۴ میں بھی نہیںہے۔۱ اور ۳ میں ہو۔ طرفہ قریشی کا تعلق بھنڈارہ  (مہاراشٹر ) سے تھا ۔سیماب ؔصاحب کے ممتاز شاگرد تھے۔ ابتدا میں انہوںنے مولانا انور کامٹوی سے اصلاح لی تھی۔ خلیل صاحب نے مجھے طرفہ صاحب کے کچھ عکس بھجوائے ہیں۔ایک خط جو طرفہ صاحب نے ۴ دسمبر ۱۹۶۳ء کو لکھا تھا۔

    ’’ سچائی اور صداقت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے، حق اورانصاف سے انسان کام لے تو ظالم ایک دن خود ہی پست حوصلہ ہوجاتا ہے۔ آپ بھی حق کا ساتھ دیں ،رزق دینے والا خدا ہے ۔۔۔ کتابوں اور رسائل کا غائر مطالعہ کیجئے اور جو پیچیدہ بات فنی پوچھنی ہو مجھ سے پوچھئیے ۔۔۔۔ صاحب سے آپکو فائدہ نہیں پہونچتا نہ پہونچے ۔۔۔۔ ، میں جمعہ کو بلاس پور جا  رہا ہوں، ۷ دسمبر ۱۹۶۳ء کو وہاں آل انڈیا مشاعرہ ہے ۔ اتوار کی رات میں غالباً واپس ناگپور پہونچونں گا۔بلاس پور والو ں نے مجھے ۵۰ روپئے دیے ہیں ، ہرچند روپئے کم ہیں،  پھر بھی وقت سے فائدہ اٹھانا مناسب سمجھا۔‘‘دبستان سیماب میں طرفہ قریشی کی ایک خاص اہمیت ہے۔

====    خلیل صاحب کی مراسمت نند لال طالب کاشمیری شاگرد رشید علامہ سیماب ؔاکبر آبادی سے بھی رہی ہے۔ خلیل صاحب کو فنِ تضمین سے بھی دلچسپی رہی ہے ۔طالب صاحب نے ’آئینۂ تضمین ‘ کے تحت ایک انتخاب تیار کیا تھا چنانچہ اسی ضمن میں انہوں نے خلیل صاحب کو خط لکھا تھا۔ ====
(contracted; show full)

    انہیں غزل سے خصوصی نسبت رہی ہے مگر کئی اور اصناف شعری پر قدرت کاملہ حاصل ہے۔ قطعات اور پیروڈی لکھنے میں انہیں زیادہ خوشی میسر آئی ہے ۔غزل انکے مزاج و اطوار سے قدرے زیادہ قریب ہے۔  غزل کی اپنی روایت اور اپنی شناخت کی تاریخ بھی ہے اور تہذیب بھی ۔یہ وہ صنف ہے جو اپنی ایمایت کی بنیاد پر دوسری اصناف کے تقابل میں کہیں زیادہ وقعت و رفعت رکھتی ہے۔اور اسی بنائے خصوصی پر اپنی حاکمیت قائم رکھتی اور آج بھی غزل کا سکہ جاری و ساری ہے۔دلوں کو متحیر کرلینے اور عقلی منازلت کے کئی درجات کا حصول اس
  کی باطنہ قوت کا مظہر ہے۔اسی لیے غز ل کا ہر اچھا شعر اپنی کوئی نہ کوئی خوبی ٔ خاص کا مظہر ہوتا ہے۔غزل کا یہی رنگ و آہنگ فرحت ؔکی گفتگو میں، خاموشی میں اور چشم بینی میں بھی موجود ہے۔انہوں نے غزل کی بنیادی سرشت کو ہی نہیں ’’عصر ‘‘کو بھی کسی رو سے کبھی بھی غیر حاضر نہیں کیا بلکہ عصر اور اس سے متعلق ہر فکری و ذہنی روش کو گویائی عطا کی ۔معاشرتی خدو خال ، غم و آلام، حیات و کائنات اور انسانی خصلتوں سے متعلقہ ہر خفی و جلی حسیت کو بھی نمورنگ کیا۔ان کی غزلوں سے زندگی کا نور، طہارت و شرافت اور محبت کے عناصر ہم رشتہ ہیں۔ ملاحظہ ہو اشعار    ؎

    حیران ہوں میں فرحت ؔ یہ  دیکھ کہ نظارہ

     اک چھوٹے سے کنکر نے دریا کا سکوں چھینا

     مفلسی میں بھی نہ اپنی شانِ خودداری گئی

    با  رہا پاؤں  کی  ٹھوکر  میں  خزینہ  آگیا

    صداقتوں پہ زمیں اور تنگ کیا  کرتے

    وہاں کے لوگ منافق تھے جنگ کیا  کرتے

     دعا کو ہاتھ اٹھاتے نہ  ہم تو کیا کرتے

(contracted; show full)    حیات  جہدِ مسلسل کا نام ہے فر حتؔ

    جمود سے بھی مقدر کہیں بدلتا ہے

== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}

[[زمرہ:PHOTO|تصویر خلیل فرحت کارنجوی]]